10/02/2026
#
اللہ تعالی نے نبوت کا سلسلہ ہمارے پیارے نبی خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر ختم کر دیا۔ ہمیں قرآن جیسی زندگی و جاوید کتاب کتاب عطا کیا لیکن ہم قران کو بھول گئے۔ ہم حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے زندگی میں مسلمان تھے اور پھر آہستہ آہستہ بہت سارے گروہوں میں بٹ گئے اس وقت مسلمانوں کا غلبہ تھا مسلمان عرب کی صحراؤں سے لے کر یورپ کے محلوں تک پہنچ گئے۔ تقریباً آدھی دنیا فتح کر لی اور یہ سب کچھ ہوا ان کے اتحاد ،ایمان اور تقویٰ کی وجہ سے لیکن پھر کیا ہوا اب کہاں ہے مسلمان؟
مسلمانوں کو کئی صدیوں سے بہت سے فرقوں میں تقسیم کیا گیا ہے اور یہ فرقہ واریت کی آگ نے مسلمانوں کو بہت دھڑوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ اسلام میں کبھی بھی فرقہ واریت کو اہمیت نہیں دی گئی نہ حدیث کی کتابوں میں ایسا کچھ ہے نہ قرآن میں ایسا ہے بلکہ قرآن میں تو واضح کہا گیا ہے کہ فرقہ واریت مت کرو فرقوں میں مت بٹو۔
فرق کا مطلب وہ پتا ہوتا ہے جو درخت سے الگ ہو کے جدا ہو جائے تو جو گروپ بھی جماعت اسلام سے الگ ہو جائیں اس کو فرقہ بولتے ہے۔
بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آج کل ہم کوئی دیوبندی ہے کوئی بریلوی ہے کوئی اہل حدیث ہے کوئی شیعہ ہے کوئی فلاں ہے اور کوئی فلاں ہے لیکن کوئی بھی مسلمان نہیں ہے۔ کیونکہ جب آپ نے بول دیا کہ میں اہل حدیث ہوں ، دیوبندی ہوں ، بریلوی ہوں ، پنج پیری ہوں تو اپ نے ایک فرق پیدا کر دیا اپ نے ایک الگ نام دیا اپنے آپ کو اور اللہ نے اپ کو مسلم (مسلمان) کا نام دیا ہے۔ یہ بڑی افسوس کی بات ہے کہ آج کل ہم ان سارے جماعتوں کے نام لیتے ہیں لیکن کوئی بھی مسلمان کا نام نہیں لیتا زبان سے لیتے ہیں لیکن دل سے نہیں لیتے کیونکہ میں نے دیکھا ہے کہ دیوبندی اہل حدیث سے نفرت کرتا ہے اہل حدیث دیوبندی سے نفرت کرتا ہے اور یہ سارے ایک دوسرے سے نفرت کرتے ہیں یہ سارے ایک دوسرے کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے اور ایک دوسرے کے پیچھے ہر وقت باتیں کرتے رہتے ہیں تو ایسا تو نہیں ہو سکتا نا مسلمان ہو تو آپ اختلاف کر سکتے ہیں آپ نفرت نہیں کر سکتے۔ یہ چیز بہت زیادہ دل دہلا دینے والی چیز ہے اس سے آج کے مسلمان بہت بٹ گیا ہے اس خمار سے باہر ا جاؤ اور اپنے آپ کو مسلم پکارا کرو آپ جس طرح سے بھی نماز پڑھتے ہو آپ جو بھی نیک کام کرتے ہو آپ کی نیت اللہ کے لیے ہونی چاہیے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کس طریقے سے کرتے ہو لیکن فرق اس سے پڑھتا ہے کہ آپ کیوں کرتے ہو اگر مقصود آپ کو اللہ کی رضا حاصل کرنا ہو اور اللہ کی خشیت ہو تو ضرور آپ کامیاب لوگوں میں ہو اور اگر مقصود آپ کا صرف دکھاوا ہو یا کوئی اور معاملہ ہو تو پھر آپ کے سارے عبادات فضول ہیں۔
فرقوں میں بٹنا یا فرقوں میں تقسیم ہونا اسلام نہیں ہے اسلام یہ ہے کہ بس آپ مسلمان ہو اور جو بھی قرآن اور سنت کی تعلیمات ہو اسی پہ آپ عمل پیرا ہو۔ قران میں بہت واضح فرقہ واریت کی رد کی گئی ہے اور کئی جگہوں پہ کی گئی ہے اور یہ صاف کہا گیا ہے کہ فرقہ واریت سے اجتناب کرو۔ میری بھی آپ لوگوں سے گزارش ہے کہ جب آپ مسلمان ہیں تو سب سے پہلے آپ نے فرقہ واریت کو رد کرنا ہے یعنی فرقہ فرقہ نہیں کرنا کہ میں فلاں فرقے سے ہوں میں فلاں فرقے سے ہوں۔ اس سے مسلمانوں میں نفرتیں بڑھتی ہیں اور نفرت کی جو آگ ہوتی ہے اس سے کبھی بھی مسلمان یا کبھی بھی کوئی قوم ایک نہیں ہو سکتی تو خدارا اس آگ سے خود کو بھی اور امت کو بھی بچانے کی کوشش کریں۔
شکریہ