JAAG

JAAG Our shared insights based on real life experiences, information and ideas.

10/02/2026

#

اللہ تعالی نے نبوت کا سلسلہ ہمارے پیارے نبی خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر ختم کر دیا۔ ہمیں قرآن جیسی زندگی و جاوید کتاب کتاب عطا کیا لیکن ہم قران کو بھول گئے۔ ہم حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے زندگی میں مسلمان تھے اور پھر آہستہ آہستہ بہت سارے گروہوں میں بٹ گئے اس وقت مسلمانوں کا غلبہ تھا مسلمان عرب کی صحراؤں سے لے کر یورپ کے محلوں تک پہنچ گئے۔ تقریباً آدھی دنیا فتح کر لی اور یہ سب کچھ ہوا ان کے اتحاد ،ایمان اور تقویٰ کی وجہ سے لیکن پھر کیا ہوا اب کہاں ہے مسلمان؟
مسلمانوں کو کئی صدیوں سے بہت سے فرقوں میں تقسیم کیا گیا ہے اور یہ فرقہ واریت کی آگ نے مسلمانوں کو بہت دھڑوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ اسلام میں کبھی بھی فرقہ واریت کو اہمیت نہیں دی گئی نہ حدیث کی کتابوں میں ایسا کچھ ہے نہ قرآن میں ایسا ہے بلکہ قرآن میں تو واضح کہا گیا ہے کہ فرقہ واریت مت کرو فرقوں میں مت بٹو۔
فرق کا مطلب وہ پتا ہوتا ہے جو درخت سے الگ ہو کے جدا ہو جائے تو جو گروپ بھی جماعت اسلام سے الگ ہو جائیں اس کو فرقہ بولتے ہے۔
بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آج کل ہم کوئی دیوبندی ہے کوئی بریلوی ہے کوئی اہل حدیث ہے کوئی شیعہ ہے کوئی فلاں ہے اور کوئی فلاں ہے لیکن کوئی بھی مسلمان نہیں ہے۔ کیونکہ جب آپ نے بول دیا کہ میں اہل حدیث ہوں ، دیوبندی ہوں ، بریلوی ہوں ، پنج پیری ہوں تو اپ نے ایک فرق پیدا کر دیا اپ نے ایک الگ نام دیا اپنے آپ کو اور اللہ نے اپ کو مسلم (مسلمان) کا نام دیا ہے۔ یہ بڑی افسوس کی بات ہے کہ آج کل ہم ان سارے جماعتوں کے نام لیتے ہیں لیکن کوئی بھی مسلمان کا نام نہیں لیتا زبان سے لیتے ہیں لیکن دل سے نہیں لیتے کیونکہ میں نے دیکھا ہے کہ دیوبندی اہل حدیث سے نفرت کرتا ہے اہل حدیث دیوبندی سے نفرت کرتا ہے اور یہ سارے ایک دوسرے سے نفرت کرتے ہیں یہ سارے ایک دوسرے کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے اور ایک دوسرے کے پیچھے ہر وقت باتیں کرتے رہتے ہیں تو ایسا تو نہیں ہو سکتا نا مسلمان ہو تو آپ اختلاف کر سکتے ہیں آپ نفرت نہیں کر سکتے۔ یہ چیز بہت زیادہ دل دہلا دینے والی چیز ہے اس سے آج کے مسلمان بہت بٹ گیا ہے اس خمار سے باہر ا جاؤ اور اپنے آپ کو مسلم پکارا کرو آپ جس طرح سے بھی نماز پڑھتے ہو آپ جو بھی نیک کام کرتے ہو آپ کی نیت اللہ کے لیے ہونی چاہیے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کس طریقے سے کرتے ہو لیکن فرق اس سے پڑھتا ہے کہ آپ کیوں کرتے ہو اگر مقصود آپ کو اللہ کی رضا حاصل کرنا ہو اور اللہ کی خشیت ہو تو ضرور آپ کامیاب لوگوں میں ہو اور اگر مقصود آپ کا صرف دکھاوا ہو یا کوئی اور معاملہ ہو تو پھر آپ کے سارے عبادات فضول ہیں۔
فرقوں میں بٹنا یا فرقوں میں تقسیم ہونا اسلام نہیں ہے اسلام یہ ہے کہ بس آپ مسلمان ہو اور جو بھی قرآن اور سنت کی تعلیمات ہو اسی پہ آپ عمل پیرا ہو۔ قران میں بہت واضح فرقہ واریت کی رد کی گئی ہے اور کئی جگہوں پہ کی گئی ہے اور یہ صاف کہا گیا ہے کہ فرقہ واریت سے اجتناب کرو۔ میری بھی آپ لوگوں سے گزارش ہے کہ جب آپ مسلمان ہیں تو سب سے پہلے آپ نے فرقہ واریت کو رد کرنا ہے یعنی فرقہ فرقہ نہیں کرنا کہ میں فلاں فرقے سے ہوں میں فلاں فرقے سے ہوں۔ اس سے مسلمانوں میں نفرتیں بڑھتی ہیں اور نفرت کی جو آگ ہوتی ہے اس سے کبھی بھی مسلمان یا کبھی بھی کوئی قوم ایک نہیں ہو سکتی تو خدارا اس آگ سے خود کو بھی اور امت کو بھی بچانے کی کوشش کریں۔
شکریہ

Surat No. 6 Ayat NO. 133 سورة الْاَنْعَام حاشیہ نمبر :101 ” تمہارا رب بے نیاز ہے “ یعنی اس کی کوئی غرض تم سے اٹکی ہوئی ن...
27/01/2026

Surat No. 6 Ayat NO. 133
سورة الْاَنْعَام حاشیہ نمبر :101 ” تمہارا رب بے نیاز ہے “ یعنی اس کی کوئی غرض تم سے اٹکی ہوئی نہیں ہے ، اس کا کوئی مفاد تم سے وابستہ نہیں ہے کہ تمہاری نافرمانی سے اس کا کچھ بگڑ جاتا ہو ، یا تمہاری فرماں برداری سے اس کو کوئی فائدہ پہنچ جاتا ہو ۔ تم سب مل کر سخت نافرمان بن جاؤ تو اس کی بادشاہی میں ذرہ برابر کمی نہیں کر سکتے ، اور سب کے سب مل کر اس کے مطیع فرمان اور عبادت گزار بن جاؤ تو اس کے ملک میں کوئی اضافہ نہیں کر سکتے ۔ وہ نہ تمہاری سلامیوں کا محتاج ہے اور نہ تمہاری نذر و نیاز کا ۔ اپنے بے شمار خزانے تم پر لٹا رہا ہے بغیر اس کے کہ ان کے بدلہ میں اپنے لیے تم سے کچھ چاہے ۔ ” مہربانی اس کا شیوہ ہے ۔“ یہاں موقع و محل کے لحاظ سے اس فقرے کے دو مفہوم ہیں : ایک یہ کہ تمہارا رب تم کو راہ راست پر چلنے کی تلقین کرتا ہے اور حقیقت نفس الامری کے خلاف طرز عمل اختیار کرنے سے جو منع کرتا ہے ، اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ تمہاری راست روی سے اس کا کوئی فائدہ اور غلط روی سے اس کا کوئی نقصان ہوتا ہے ، بلکہ اس کی وجہ دراصل یہ ہے کہ راست روی میں تمہارا اپنا فائدہ اور غلط روی میں تمہارا اپنا نقصان ہے ۔ لہذا یہ سراسر اس کی مہربانی ہے کہ وہ تمھیں اس صحیح طرز عمل کی تعلیم دیتا ہے جس سے تم بلند مدارج تک ترقی کرنے کے قابل بن سکتے ہو ، اور اس غلط طرز عمل سے روکتا ہے جس کی بدولت تم پست مراتب کی طرف تنزل کرتے ہو ۔ دوسرے یہ کہ تمہارا رب سخت گیر نہیں ہے ، تم کو سزا دینے میں اسے کوئی لطف نہیں آتا ہے ، وہ تمھیں پکڑنے اور مارنے پر تلا ہوا نہیں ہے کہ ذرا تم سے قصور سرزد ہو اور وہ تمہاری خبر لے ڈالے ۔ درحقیقت وہ اپنی تمام مخلوقات پر نہایت مہربان ہے ، غایت درجہ کے رحم و کرم کے ساتھ خدائی کر رہا ہے ، اور یہی اس کا معاملہ انسانوں کے ساتھ بھی ہے ۔ اسی لیے وہ تمہارے قصور پر قصور معاف کرتا چلا جاتا ہے ۔ تم نافرمانیاں کرتے ہو ، گناہ کرتے ہو ، جرائم کا ارتکاب کرتے ہو ، اس کے رزق سے پل کر بھی اس کے احکام سے منہ موڑتے ہو ، مگر وہ حلم اور عفو ہی سے کام لیے جاتا ہے اور تمھیں سنبھلنے اور سمجھنے اور اپنی اصلاح کر لینے کے لیے مہلت پر مہلت دیے جاتا ہے ۔ ورنہ اگر وہ سخت گیر ہوتا تو اس کے لیے کچھ مشکل نہ تھا کہ تمھیں دنیا سے رخصت کر دیتا اور تمہاری جگہ کسی دوسری قوم کو اٹھا کھڑا کرتا ، یا سارے انسانوں کو ختم کر کے کوئی اور مخلوق پیدا کر دیتا ۔

تفھیم القرآن ( مولانا مودودی رحمۃ اللہ)

20/01/2026

ھمارے حکمران اور ھم عوام
جس طرح کسی قوم کے حکمران ھوتے ھیں اسطرح قوم کا مجموعی کردارھوتا ھے- ھم اکثر حکمرانوں کی نالایقی کا رونا روتے ھیں لیکن کھبی یہ نھیں سوچتے کہ ھمارا کردار کیا ھے؟
آئے ھم اپنی مجموعی کردار پہ روشنی ڈالتے ھیں اور اسی روشنی میں اپنے حکمرانوں کی کارکردگی کا جایزہ لیتے ھیں- سب سے پہلی بات اور اھم بات یہ ھے کہ حکمران کون ھوتے ھیں؟ حکمران اسی معاشرے کے فرد ھوتے ھیں جو ھمارے اسی معاشرے میں زندگی گزارتے ھیں اور اسی معاشرے میں پلے بڑھے ھوتے ھیں-
ھمارا معاشرہ آج جس زوال کا شکار ھے وہ آپ سب کے سامنے ھیں- ایسی کوئی برائی باقی نھیں ھے جو ھمارے معاشرے میں موجود نھیں- چوری ، بےایمانی ،جھوٹ ،رشوت اور ھر قسم کا ظلم اس معاشرے کا حصہ ھے۔ ریڑھے والے سے لے کر بڑھی صنعتوں تک سب جگہوں پر جھوٹ ،بےایمانی اور دھوکے سے کاروبارھوتا ھے۔ھر قسم کی میلاوٹ ھمارے اِس معاشرے میں جایز ھے اگر کوئی کاروباری جتنا زیادہ جھوٹ اور فریب سے اپنا سودا بیچتا ھے تو ھم اُس کو اُتنا ھی ھوشیارسمجھتے ھیں اور اُس کو سر عام سراہتے ھیں کہ یہ بندہ بہت زیادہ سمجھدار ھیں اور ھم یہ بھی سوچتے ھیں کہ ایسے ھی لوگ کاروبار کر سکتےھیں۔
چوری کی بات کی جائے توگھر کے چھوٹے بچے سے لے کر علاقے کےبڑھے تک سب جھاں موقع ملتا ھے اپنے ھاتھ صاف کر لیتا ھے۔ جتنا بڑھا چور ھوتا ھے اُتنا بڑھا ھی اُس کا رتبہ ھوتا ھے۔ اِس وجہ سے چوری ھمارے معاشرے میں چھوٹی سطح پر قدرے بری سمجھی جاتی ھے لیکن اگر آپ بڑی چوری کرتے ھو تو آپ کی عزت بڑھ جاتی ھے اور لوگ آپ کو اپنا حکمران تک بنا دیتے ھیں اور یہ سب کو پتہ ھوتا ھے کہ کون کیا ھے لیکن اپنے اِس معاشرے کی منافقت کو دیکھ لو؟ جھوٹ تو جس کثرت سے ھمارے معاشرے میں بولا جاتا ھے اِس کی مثال ھی کوئی نھیں۔ ھمارے گھروں ،محلوں،بازاروں،عدالتوں،سرکاری و نجی اداروں اور پارلیمان میں سرعام جھوٹ بولا جاتا ھے۔ بچے اپنے والدین سے ،بھائی اپنے بھائیوں سے ،والدین اپنے بچوں سے اور سب ایک دوسرے سے روز جھوٹ بولتے ھیں۔ اِسی طرح معاشرے میں پڑوسی ،محلےدار اور رشتےدار ایک دوسرے سے جھوٹ بولتے ھیں۔ بازاروں کی حالت تو سب پہ عیاں ھے کہ کاروباری طبقہ اور دوکاندار کس قسم کے جھوت کا سہارا لیتے ھیں۔ جھوٹ جیسے ھمارے معاشرے کا تکیہ کلام بن گیا ھوجتنا اچھا جھوٹ بولا جاتا ھے اُتنا ھی اچھا بِکتا ھے۔جھوٹے وعدوں کی تو چاروں اور ٹیلے لگے ھوتے ھیں اور سب سے بڑا کاروبار بھی انھیں ٹیلوں کا ھوتا ھے۔
بدعنوانی اور رشوت خوری سے ھمارا معاشرہ بالکل خالی نھیں۔ اپنے کام نکالنے کے لیے ھم نےچپڑاسی سے لے کربڑے افسروں تک خود رشوت کےاتنے عادی بنادیے ھیں کہ اِس کے بغیرکسی کام کا ھم سوچتے بھی نھیں۔
اب یہ سب برائییاں جس معاشرے میں ھواُس معاشرے نکلے حکمرانوں سے ھم کیا توقع رکھ سکتے ھیں؟ ھمارے حکمران ھمارے معاشرتی کردار کے چلتے پھرتے نمونے ھیں اور اِس کی زمہ داری ھم عوام پر ھی آتی ھے جب تک ھمارے کردار میں ایمانداری ،خلوص اور اپنے سے زیادہ دوسروں کی فکر پروان نھیں چڑھےگی ھمارا معاشرہ زوال پزیر اور حکمران نالایق ھی بنے گے۔
تم نے بھی سنی ھوگی بڑی عام کہاوت ھے
انجام کا ھو خطرہ آغاز بدل ڈالو (اقبال رح )
تحریر: ریاض احمد خان

07/01/2026

نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ، کوئی دن ایسا نہیں جاتا کہ جب بندے صبح کو اٹھتے ہیں تو دو فرشتے آسمان سے نہ اترتے ہوں ۔ ایک فرشتہ تو یہ کہتا ہے کہ اے اللہ ! خرچ کرنے والے کو اس کا بدلہ دے ۔ اور دوسرا کہتا ہے کہ اے اللہ ! بخیل کے مال کو تلف کر دے ۔
بخآری 1442
انسان کو اس دنیا میں بھیجنا ایک ازمائش ہے اور ان ازمائشوں میں سب سے بڑی ازمائش جو ہے وہ مال کی ہے یعنی اللہ تعالی جسے چاہے مال دیتا ہے اور جسے چاہے اس کو نہیں دیتا تو جن کو مال دیا ہوا ہے ان کو اس کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ ان کو مال ملا ہے اور وہ کس طریقے سے اس مال کو خرچ کرتے ہیں تو ان کو اپنے مال سے خرچ کرنا چاہیے یعنی جتنا وہ چاہے کیونکہ اتنے بڑے نوازشات اللہ تعالی کی طرف سے ان پر ہوئی ہیں ۔
یہ مال میں سے غریبوں کا مسکینوں کا یتیموں کا حق ہوتا ہے تو یہ حدیث بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے کہ جن کے پاس مال ہوتا ہے اور وہ خرچ کرتے ہیں تو ان کے مال میں برکت ہوتی ہے ان کی زندگی میں برکت ہوتی ہے اور جن کو مال دیا گیا ہے اور وہ خرچ نہیں کرتے تو ان کے مال کو تلف کیا جاتا ہے اور ان کی زندگی اورمال میں برکت نہیں ہوتی ہمیں چاہیے کہ ہم اس حدیث کی پیروی کریں تو ہمارے پاس جتنے مال ہو اس میں سے ہمیں ضرور جو غریب ہوتے ہیں جو مسکین ہوتے ہیں ان کا حصہ کرنا چاہیے کہ ان کا حصہ اس میں موجود ہو تو یہ حدیث کا بہت بڑا ایک مقصد ہے کہ اپ لوگوں تک پہنچے اور اپ لوگ اپنے مال سے ان غریبوں کے جو اپ کے ارد گرد رہتے ہیں ان مسکینوں کے جو اپ کے ارد گرد رہتے ہیں جو اپ کی رشتہ داروں میں ہوتے ہیں ان پہ اپ خرچ کرو ان کی اپ دادرسی کرو اور ان تک اپ کی مدد پہنچ سکے تو یہ اپ تک پہنچانا بہت ضروری ہے خدارا اس کے لیے اپ لوگ بھی کوشش کریں اور اپنے مال سے خرچ ۔کیا کریں

06/01/2026

اِنَّ اللہَ یَرْفَعُ بِھٰذَا الْکِتَابِ اَقْوَاماً وَیَضَعُ بہ اٰخَرِیْن۔
رواہ مسلم
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا یقینا اللہ تعالی اس کتاب یعنی کلام اللہ کے ذریعے کتنے لوگوں کو بلند کرتا ہے اور اس کے ذریعے کتنے لوگوں کو پست کرتا ہے۔

تو یہ حدیث آپ کے مطابق قرآن ہی ہے جو ہماری پستی اور بلندی کا ذریعہ بن سکتا ہے آج کل جو ہمارے مسلمانوں کے حالات ہیں تو یہی وجہ ہے کہ ہم نے قرآن کو پس پشت ڈالا ہوا ہے۔
جیسا کہ اقبال کہہ رہا ہے
کہ تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کر

تو ہم نے قرآن کو پیچھے دھکیلا ہے اس کا مطلب بہت گہری طریقے سے آپ نے سوچنا ہے کہ کیا ہم قرآن نہیں پڑھتے قرآن تو ہم بہت زیادہ پڑھتے ہیں قرآن تو ہمارے سینوں میں بہت زیادہ یعنی کتنے حفاظ ہیں جن کے سینے میں قرآن مجید محفوظ ہے لیکن اس سے قطعا یعنی کوئی میری شکایت نہیں ہے یہ تو بہت بڑی فضیلت کی بات ہے کہ کوئی بندہ جو ہے وہ حفظ کر لے قرآن کورس پورا قرآن جو ہے اس کے سینے میں موجود ہو یہ تو بہت بڑی فضیلت ہے لیکن اصل جو چیز ہے وہ یہ ہے کہ اس قرآن کو سمجھنا بہت زیادہ ضروری ہے اس قرآن کو اپنی زندگی میں اپنانا اپنی زندگی جو ہے وہ اسی قرآن کے تحت گزارنا بہت بڑی بات ہے اور سب سے کامیابی والی بات یہی ہے کیونکہ قرآن جب شروع ہوتا ہے جو خدا کے ثنا و تسبیح کے بعد پھر ہم دعا کرتے ہیں پہلی صورت میں پھر اس کے بعد جو سورۃ البقرہ کا آغاز کیا ہے کہ یہ کتاب ہے یعنی یہ ایک عیسائی بات کر رہا تھا جو بعد میں مسلمان ہوا کہ اسی بات نے اسی آیت نے کہ یہ کتاب ہے مجھے سوچنے پر مجبور کر دیا یعنی یہ کتنی بڑی بات ہے یار یہ کتاب ہے یعنی کوئی شک کوئی شبہ نہیں بعد میں لکھا بھی ہوا ہے کہ کوئی شک و شبہ نہیں اس میں اور یہی کتاب ہے ہدایت کے لیے اور ہم نے اسی کتاب کو پس پشت ڈالا ہوا ہے اسی کتاب کو ہم نہیں سمجھتے باقی ہر چیز کی یعنی خواہ وہ سائنس کا فیلڈ ہو جو بھی ارٹس کا فیلڈ ہو اس کو سمجھنے میں ہم بہت زور دیتے ہیں کہ سمجھو لیکن صرف واحد قرآن ہی ایسی کتاب ہے جس کو ہم سمجھنے سے قاصر ہیں اور جس میں ہم یہ زور نہیں دیتے کہ اس کو سمجھا جائے حالانکہ جو اللہ کی طرف سے ہر مسلمان کی طرف آیا ہے ہر مسلمان کی طرف صرف یہ نہیں ہے کہ یہ صرف چند ایک مسلمانوں کے لیے آیا ہے ہر فرد ہر مرد و عورت ہر بچے بڑے کے لیے یہ قرآن آیا ہے اور ہر اس انسان سے جو احکامات اس میں ہے اس کا اس کے بارے میں اس سے پوچھا جانا ہے تو ہمارے لیے کتنا ضروری ہے اس کو سمجھنا یہ اس بات سے اپ اندازہ لگائیں کہ اگر اپ کو کوئی بندہ کوئی ایسا خط بھیجے جو کسی اور زبان میں ہو تو اپ تو ضرور اس کو ٹرانسلیٹ کرنا چاہو گے اس کو ترجمہ کرنا چاہو گے کہ مجھے پتہ چلے کہ یہ بندے نے مجھے کیا بھیجا ہے اور مطلب افسوس کی بات ہے بہت بہت بڑی افسوس کی بات ہے کہ ہمارے خالق نے جس نے ہمیں بنایا جس نے ہمیں تخلیق فرمایا جس نے ہمارے لیے اتنی زیادہ سہولیات اتنی زیادہ یعنی احسان ہم پہ کیا ہے کہ ہمیں زندگی دی ہمیں سپیس دیا ہمیں ٹائم دیا ہمیں سانسیں دے رہا ہے ہماری صحت اچھی ہے ہمیں کھانا دے رہا ہے یعنی جو جو ہمیں مل رہا ہے وہ ہمیں دے رہا ہے فری میں اور اسی کی طرف سے ایک خط ایا ہے قرآن کی شکل میں اور اسی کو ہم سمجھنا نہیں چاہتے اسی کو ہم ایسے پڑھ تو رہے ہیں تو یہ تو مطلب یہ تو جیسے میں کہوں نعوذ باللہ یہ تو ایک قسم کا مطلب اپ کہہ سکتے ہیں بہت بڑا مذاق ہے
تو یہ جو حدیث ہے اس کا آپ مفہوم سمجھ لیں اس کا اپ
مطلب سمجھ لیں کہ قرآن ہی کی وجہ سے قوم تباہ ہوتی ہے اسی قرآن کی وجہ سے اور اسی کی وجہ سے بلندی پر پہنچتی ہے اب میں یہ نہیں کہتا کہ مغربی تہذیب جو ہے اس نے قرآن کو چرایا ہے لیکن اس نے جو مغربی تہذیب ہے وہ جو وہاں پر جو احکامات ہیں جو وہ نظام چلا رہا ہے وہ تقریبا نوے فیصد یعنی ان کے عقائد کو چھوڑ کے جو ان کے معاملات اخلاقیات چل رہے ہیں وہ تو نوے فیصد قرآن کے مطابق ہے تو آپ دیکھیں ان کو کہ وہ دنیا کی امامت تو وہ کر رہے ہیں تو یہی تو قرآن بتا رہا ہے یہی تو اپ علیہ السلام بتا رہا ہے اور یہی قرآن کا بھی پہ یہ دعویٰ ہے کہ آپ اس کتاب کو دیکھیں آپ مجھے پڑھیں آپ مجھے سمجھیں آپ اس کتاب کو اپنائیں آپ کامیابی پاؤ گے تو آپ سمجھ لیں کہ جو مسلمان آج کل ہے وہ کیوں زوال پذیر ہے اور وہ کیوں زوال کے شکار ہیں یہی وجہ ہے قرآن کو انہوں نے پیچھے چھوڑ دیا ہوا ہے تو تبھی تو ہم جو مسلمان خوار ہے اور مغرب ہمارے اوپر ایک سلطنت قائم کیا ہوا ہے آج کل کوئی بھی کام ہم مغرب کے بغیر نہیں کر سکتے خواہ وہ کوئی بھی کام ہو تو یہی تو ایک کمال ہے ان کا کہ وہ لوگ اپنے نظام کو درست چلا رہے ہیں قرآن کے حساب سے چلا رہے ہیں حالانکہ ان کے عقائد صحیح نہیں ہیں لیکن جو معاملات ہیں اخلاقیات ہیں اسی کے لحاظ سے تو وہ لوگ صحیح جا رہے ہیں تو ہم قرآن کو صرف پڑھتے ہیں اور قرآن دنیا میں سب سے زیادہ بغیر سمجھے پڑے جانے والا کتاب ہے تو یہ بہت افسوس کی بات ہے تو ہمیں آپنے آنے والی نسلوں کو قرآن کا علم دینا چاہیے ان کو قرآن کی سمجھ دینی چاہیے کہ قرآن کی ایک ایک آیت میں بہت بڑی بڑی گہرائی چھپی ہوئی ہوتی ہے تو اس کو ہم نے اپنی نسلوں کو پہنچانا ہے اور ہمیں قران کو پکڑنا ہے قران کو پیچھے نہیں دھکیلنا اس کو آگے رکھنا ہے تب ہی ہم مسلمان اگے بڑھ سکتے ہیں اور دنیا و آخرت کی فلاح پا سکتے ہیں ۔
الحمدللہ رب العالمین

06/01/2026

بچوں کی تربیت اور ھم
ساری مائیں سکول ماسٹر بنی ہوئی ہیں بچوں کو بس ڈنڈے ماری جاؤ بس ایسی بے وقوف ہیں کہ جتنی محنت یہ کھانے پر کرتے اپنے کپڑے کو سجانے پر کرتے اس کا سوا حصہ بچوں پر کریں ان کے بچے جنید بغدادی بن جائیں ۔

ایک واقعہ کہ حسن حسین کی کشتی ہو رہی ہے حسین چھوٹے تھے حسن بڑے تھے تو حسن دبا رہے ہوں گے حسین کو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حسین کو شاباش حسین حسین حسین زور لا حسین زور لا شاباش شاباش اماں بول بڑی فاطمہ جنت کی سردار یا رسول اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ساری شاباش حسین کو دیے جا رہے ہیں حسن کو نہیں دے رہے ہم نے کہا خاتون یہ جبرائیل میرے پاس کھڑا ہوا ہے یہ بھی حسین کو شاباش دے رہا ہے تو اس کے پیچھے میں بھی۔۔۔ حسین خوش تھے اس سے اور عجیب سنو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرض نماز پڑھا رہے ہیں فرض نماز فرض نماز نفل نہیں گھر میں نہیں مسجد میں جب سجدے میں گئے اور حسن نے چھلانگ لگائی اور کمر پہ جا کے بیٹھ گئے اور میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ لمبا کر دیا اتنا لمبا کیا کہ سجدے میں بڑے لوگ سوچنے لگے کہ کہیں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم فوت تو نہیں ہوگیا تو ایک صحابی جو قریب تھے انہوں نے ایسے ہاتھ آگے بڑھایا حسن کو اتارنے کے لیے تو میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بغلوں سے دیکھا کہ ایک ہاتھ آگے آ رہا ہے ہاتھ سے منع کیا بس میرے بچوں کو کچھ نہ کرو جب تک حسن نہیں اترے سجدے میں پڑے رہے اور ایک اور عجیب واقعہ سنو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی حضرت زینب کی بیٹی امامہ کو ظہر یا عصر کی نماز پڑھا رہے ہیں کہاں بٹھایا ہوا تھا کندھے پر بٹھایا ہوا تھا نماز پڑھا رہے تھے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں جانے لگے تو پکڑا اور ارام سے اس کو ساتھ بٹھایا پھر رکوع کیا قومہ کیا سجدہ کیا سجدے سے جب اٹھے تو پھر امامہ کو اٹھا کر کندھے پہ بٹھا کر پھر نماز شروع کر دی چار رکعت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے پڑھائے کہ نواسی یہاں بیٹھی ہوئی ہے۔

ایسا صرف ھمیں زندگی سکھانے کے لیے کیا کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری زندگی ھمارے لئے مشعلِ راہ ہے ۔اپنے بچوں سے پیار کرو۔ بچوں کو پیار اتنا دو کہ وہ آپ پر قربان ہوں ڈنڈا تھپڑ بدتمیزی اور ڈانٹ ڈپٹ دوریاں پیدا کر دیتی ھے۔ اپنے بچوں کو اپنا دوست بناؤ کہ وہ آپ سے ھر بات بنا ڈرے اور بنا ھچکچا کر شئرکر سکے ۔

01/06/2025

Surah Al Baqara verse 5-7 with translation

31/05/2025

Surah Al Baqara Verse (1-4) translation

This man Amir Al Mahdi Al Qazafi has shown the world the power of Twakkal. A true inspirational story of this Hajj journ...
30/05/2025

This man Amir Al Mahdi Al Qazafi has shown the world the power of Twakkal.
A true inspirational story of this Hajj journey by Amir from Libya🇱🇾

30/05/2025

Surah Al Fatiha with translation

Address

Abu Salam Al Rawda, As Salama

22230

Telephone

+966500328948

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when JAAG posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to JAAG:

  • Want your business to be the top-listed Advertising & Marketing Company?

Share