08/03/2026
عمران خان کے علاوہ یہ
پی ٹی آئی کی سیاست نے ہزاروں نوجوانوں کو اپنے جال میں پھنسایا ہوا ہے۔خان صاحب اگر باہر ہوتا تو اس طرح کبھی نہیں ہوتا۔
کبھی “شعور” کے نعرے سے، کبھی “تبدیلی” کے وعدے سے، اور کبھی “حقیقی آزادی” کے خواب دکھا کر انہیں سڑکوں پر لایا گیا۔ آج وہی نوجوان جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے ہیں، ان کی زندگیاں تباہ ہو چکی ہیں، اور ان کے خاندان اداس اور پریشان۔
ایک ایسے نوجوان جسے دیکھ کر دل غمگین ہو جاتا ہے جو اپنی ماں کا آخری دیدار تک نہ کر سکا۔ وہ ماں جس نے اسے پال کر بڑا کیا، اس کی خدمت کے لیے ترس رہی ہو گی۔
اب انہی نوجوانوں سے چند سیدھے سوالات ہیں:
• تم نے ریاست کے خلاف یہ سب کس کے لیے کیا تھا؟
• تمہیں اس کا بدلہ کیا ملا؟ سوائے جیل، مقدمات، اور
خاندان کی آنکھوں میں آنسوؤں کے؟
تم نے جن کے لئے یہ سب کیا کیا انہیں آپ سے کوئی ہمدردی ہے؟
ادھر تمہارے ایم این ایز، ایم پی ایز اور بڑے لیڈر پارلیمنٹ میں بیٹھ کر آرام کی زندگی گزار رہے ہیں۔ نہ ان کی جیب خالی ہوئی، نہ ان کے بھائی جیلوں میں ہیں۔ صرف غریب گھرانوں کے بیٹے، مزدوروں اور نچلے طبقے کے نوجوان جیلوں میں پڑے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی سابقہ حکومت نے بھی ان “اپنے” نوجوانوں کی کوئی خاطر خواہ مدد نہیں کی، نہ آج تک ان کا احوال پوچھا گیا۔
اب بھی وقت ہے، بھائیوں!
اپنی آنکھیں کھولو۔
اپنی روزی روٹی کمانے کی طرف لوٹو۔
مزدوری کرو، محنت کرو، والدین کی خدمت کرو۔
یہی سب سے بڑا جہاد ہے جو آج کے دور میں ممکن ہے۔
عمران خان ہو یا سہیل آفریدی، کوئی بھی تمہیں ایک وقت کا کھانا بھی مستقل طور پر نہیں دے سکتا۔
تمہاری زندگی تمہارے ہاتھ میں ہے—اسے ضائع مت کرو۔
خود کو، اپنے گھر کو اور اپنے مستقبل کو بچاؤ۔