02/11/2021
چراغ تلے میں یوسفی صاحب نے لکھا ہے:
ایک مفکر کہتا ہے کہ عظیم انقلابات کی کوئی تاریخ نہیں ہوتی - تم دیکھو گے زبردست تبدیلیاں ہمیشہ دبے پاؤں آتی ہیں - تاریخی کیلنڈر میں ان کا کہیں ذکر نہیں - سب جانتے ہیں کہ سکندر نے کس سن میں کونسا ملک فتح کیا - لیکن یہ کوئی نہیں بتا سکتا کہ بن مانس کون سے سن میں انسان بنا - اتنا تو اسکول کے بچے بھی بتا دیں گے کہ سقراط نے کب زہر کا پیالہ اپنے ہونٹوں سے لگایا لیکن آج تک کوئی مورخ یہ نہیں بتا سکا کہ ۔۔۔ لڑکپن کس دن رخصت ہوا - لڑکی کس ساعت نایاب میں عورت بنی - جوانی کس رات ڈھلی ۔۔۔ ادھیڑ پن کب ختم ہوا ۔۔۔ اور بڑھاپا کس گھڑی شروع ہوا .....!!
اپنے آس پاس لازمی دیکھا کریں۔ دنیا بدل رہی ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ بہت بدل جائے اور آپ وہیں کہ وہیں رہ جائیں۔
مجھے یاد ہے کہ جب میں نے کرپٹوکرنسی کے حوالے سے فیس بک پر پہلی پوسٹ لکھی تھی تو ایک بڑی تعداد تھی جو اسے جُوا، ناجائز، حرام اور فراڈ وغیرہ کہتی تھی۔
بہت سے ایسے تھے جو کہتے کہ ہمیں اس کی ضرورت نہیں۔
آج کل دیکھتا ہوں تو حیرت ہوتی ہے کہ ان میں سے بہت سے لوگ کرپٹو میں بہت زیادہ شدت سے ایکٹیو ہیں۔
یقیناً یہ اچھی بات ہے۔ لیکن اس کے برعکس کچھ ایسے نادان بھی ہیں جو اب تک اسے کسی دیوانے کا خواب سمجھ کر خود خوابِ خرگوش میں مبتلا ہیں۔
دنیا ایک گلوبل ولیج "تھی" یہ پُرانی بات ہے۔ دنیا ایک ورچول ولیج بن رہی ہے۔ حالیہ اپڈیٹ یہی ہے۔ فیس بک میٹاورس اسی کی ایک چھوٹی سی مثال ہے۔
آنے والے دس سالوں میں کیشئیرز سے لے کر اکاؤنٹینٹس، ویٹرز سے لے کر ڈرائیورز اور انجینئیرز سے لیکر ڈاکٹروں تک نوکریوں کا اتنا بڑا بحران پیدا ہوگا جو آج تک کی انسانی تاریخ نے تصور بھی نہیں کیا۔
خصوصاً غیر تخلیقی نوعیت کے محنت و مشقت طلب چھوٹے چھوٹے کاموں کو کرنے کے لیے انسانوں کی ضرورت سرے سے ختم ہو چکی ہوگی۔
بہت بڑی حد تک تخلیقی نوعیت کے کام بھی آٹومیٹ ہوچکے ہیں اور ہو رہے ہیں۔ گرافک ڈیزائننگ، وڈیو ایڈٹنگ، ویب ڈویلپمنٹ وغیرہ بھی ستر سے اسی فی صد تک آٹومیٹ ہوچکی ہیں اور رہی سہی کسر آنے والے دو چار سالوں میں پوری ہوجائے گی۔
ہاتھ کے کاریگروں کا کام کیڈ اور کیم سے بڑی حد تک ہوجاتا ہے۔ لیکن اس میں بھی جدت کی انتہا تھری ڈی پرنٹنگ ہے جو دو سے تین سال میں اپنی انتہائی شکل کو پہنچ چکی ہوگی۔
لیکن اگر آپ کا طرزِ زندگی اور زاویہ نظر اب بھی وہی ہے جو 2005 میں تھا تو آپ انتہائی مشکل زندگی کے لیے تیار رہیں۔ کیونکہ آنے والا دور بڑا سفاک ہونے والا ہے جس میں بقا کی جد جہد بھی بہت مشکل ہو جائے گی۔
-مزمل شیخ بسمل