20/09/2025
میرا ماضی میرا ایمان نہیں؛ اسلام قبول کرنے والی متنازعہ فلم اسٹار کا ناقدین کو جواب
جاپان کی سابق متنازعہ فلم اسٹار رے لل بلیک (کاے اساکورا) نے اسلام قبول کرنے کے بعد اپنے اوپر ہونے والی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ میرا ماضی میرے ایمان کی پہچان نہیں ہے۔
سابق جاپانی اسٹار رے لل بلیک (کاے اساکورا) نے رواں سال رمضان المبارک میں اسلام قبول کرنے کے بعد سوشل میڈیا پر خاصی توجہ حاصل کی ہے خصوصاً ملائیشیا میں جہاں ان کی افطار کرتے اور مساجد کا دورہ کرتے ویڈیوز وائرل ہوئیں۔
اساکورا نے رمضان المبارک کے دوران روزے رکھنے اور روایتی مسلم لباس پہن کر مسجد جانے کے لمحات کو ٹک ٹاک پر شیئر کیا جہاں سے ان کے اسلام کی جانب سفر کی جھلکیاں عوام کے سامنے آئیں۔ اس کے بعد انہوں نے باقاعدہ اعلان کیا کہ وہ اسلام قبول کر چکی ہیں۔
ان کی اسلام میں دلچسپی کا آغاز اکتوبر میں ملائیشیا کے ایک دورے سے ہوا جہاں انہوں نے حجاب پہنا، مقامی کھانے جیسے ناسی کندرچکھے اور مسلم برادری سے قریبی روابط قائم کیے۔ بعد ازاں انہوں نے اپنے تجربات پر مبنی ایک تفصیلی گفتگو سنگاپور کے پوڈکاسٹر زار اسماعیل کے ساتھ انٹرویو میں کی۔
اس سے بھی قبل اگست میں کوالالمپور کے ایک دورے کے دوران وہ مسجدوں میں جانے کی خواہش کے تحت حجاب پہن کر مقامی مسلمانوں سے ملنے گئیں۔
اس حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ وہ لوگ میرے ساتھ بے حد محبت سے پیش آئے جیسے میں ان کی اپنی ہوں اور انہوں نے مجھے کھلے دل سے خوش آمدید کیا۔
سابق اسٹار نے اپنے ماضی پر ہونے والی تنقید کے جواب میں واضح کیا کہ ان کے پرانے ویڈیوز اب ان کے کنٹرول میں نہیں اور وہ ماضی کی زندگی کو پیچھے چھوڑ چکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میرا ماضی میرے ایمان کی پہچان نہیں۔ میرا تعلق اب اللہ سے ہے کسی انسان سے نہیں۔
اگرچہ کچھ افراد نے ان پر تنقید کی لیکن بڑی تعداد میں مسلمانوں نے ان کے اس روحانی سفر کو سراہا۔ بہت سے لوگوں نے انہیں کھجوریں، اسلامی کتب، اور مکہ مکرمہ سے لایا گیا جائے نماز تحفے میں دیا۔
کاے اساکورا کی کہانی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ایمان کا سفر ذاتی ہوتا ہے اور ماضی انسان کے حال یا مستقبل کے ایمان کو محدود نہیں کرتا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اب ایک نئے راستے پر گامزن ہیں جہاں ان کا تعلق صرف اور صرف اللہ تعالیٰ سے ہے۔