MJI zon

MJI zon Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from MJI zon, Social Media Agency, .

18/10/2025
ہمارے معاشرے میں کچھ چیزیں غلط پھیلائی ہوئی ہیں جیسے ہمارے ہاں ظالم شخص کو بھیڑئے سے تشیبح دی جاتی ہے ، یا ایسا شخص جو خ...
06/07/2024

ہمارے معاشرے میں کچھ چیزیں غلط پھیلائی ہوئی ہیں جیسے ہمارے ہاں ظالم شخص کو بھیڑئے سے تشیبح دی جاتی ہے ، یا ایسا شخص جو خواتین کا ریپ کر دے اسے بھی بھیڑیا کہا جاتا یے، جو والد اپنی بیوی بیٹیوں پر ظلم کرے اسے بھی بھیڑیئے سے تشبیح دی جاتی یے۔۔
جبکہ ترک اپنے بچوں کو بجائے شیر کہنے کے بھیڑیا کہتے کیونکہ وہ ماں باپ کی خدمت کرتا یے۔۔۔
بلکہ ہمارے معاشرے میں اگر سب بھیڑیئے بن جائیں تو معاشرے میں انقلاب آجائے۔۔
سب سے بڑھ کر ہم غلام قوم ہیں جبکہ بھیڑیا آزاد جانور ہے جو اپنی آزادی سے کبھی کمپرومائز نہیں کرتا جبکہ ہم پہلے گورے اب کالے انگریزوں کے غلام ہین۔۔

بھیڑیے میں ایسی خصوصیات ہیں جو اور جانور میں نہیں۔
بھیڑیا ایک انتہائی منتظم ، نیک خصلت اور عزت نفس سے مالا مال درندہ ہے۔

بھیڑیا ﻭﺍﺣﺪ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﭘﺮ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮭﯽ ﺳﻤﺠﮭﻮﺗﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ اور ﮐﺴﯽ کا ﻏﻼﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻨﺘﺎ۔ ﺟﺒﮑﮧ ﺷﯿﺮ ﺳﻤﯿﺖ ﮨﺮ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﮐﻮ ﻏﻼﻡ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ۔
جانوروں کے شاہی خاندان سے تعلق ہونے کی نسبت سے بھیڑیا مردار کھانے کو عیب سمجھتا ہے۔

بھیڑیا دیگر جانوروں کی طرح زواج محارم میں ملوث نہیں ہوتا ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮬﯽ ﺑﮭﯿﮍﯾﺎ ﻣﺤﺮﻡ ﻣﺆﻧﺚ ﭘﺮ ﺟﮭﺎﻧﮑﺘﺎ ﮬﮯ ﯾﻌﻨﯽ ﺑﺎﻗﯽ ﺟﺎﻧﻮﺭﻭﮞ ﺳﮯ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﮐﮧ ﺑﮭﯿﮍﯾﺎ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺎﮞ ﺍﻭﺭ ﺑﮩﻦ ﮐﻮ ﺷﮩﻮﺕ ﮐﯽ ﻧﮕﺎﮦ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﺗﮏ نہیں۔ ﺑﮭﯿﮍﯾﺎ ﺍﭘﻨﯽ ﺷﺮﯾﮏ ﺣﯿﺎﺕ ﮐﺎ ﺍﺗﻨﺎ ﻭﻓﺎﺩﺍﺭ ﮬﻮﺗﺎ ﮬﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﺆﻧﺚ ﺳﮯ ﺗﻌﻠﻖ ﻗﺎﺋﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ۔ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﻣﺆﻧﺚ بھیڑیا ﺑﮭﯽ ﺑﮭﯿﮍیئے ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻭﻓﺎﺩﺍﺭﯼ ﮐﺮﺗﯽ ﮬﮯ۔ ﺑﮭﯿﮍﯾﺎ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﻭﻻﺩ ﮐﻮ ﭘﮩﭽﺎﻧﺘﺎ ﮬﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻣﺎﮞ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﭖ ﺍﯾﮏ ﮬﯽ ﮬﻮﺗﮯ ﮬﯿﮟ۔

ﺑﮭﯿﮍیئے ﮐﻮ ﻋﺮﺑﯽ ﻣﯿﮟ “ﺍﺑﻦ ﺍﻟﺒﺎﺭ” ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮬﮯ، ﯾﻌﻨﯽ “ﻧﯿﮏ ﺑﯿﭩﺎ” اس لیئے ﮐﮧ جب اس کے ﻭﺍﻟﺪین ﺑﻮﮌﮬﮯ ﮬﻮﺟﺎﺗﮯ ﮬﯿﮟ ﺗﻮ یہ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺷﮑﺎﺭ ﮐﺮﺗﺎ ﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﺎ ﭘﻮﺭﺍ ﺧﯿﺎﻝ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮬﮯ۔

ﺑﮭﯿﮍﺋﮯ ﺟﺐ ﺍﯾﮏ ﺟﮕﮧ ﺳﮯ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺟﮕﮧ ﺟﺎ ﺭﮨﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﻭﮦ کارواں ﻣﯿﮟ کچھ یوں ﭼﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ؛
ﺳﺐ ﺳﮯ ﺁﮔﮯ ﭼﻠﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﺑﮭﯿﮍیئے ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺩﻭﺳﺮﮮ ﭘﺎﻧﭻ ﻣﻨﺘﺨﺐ ﻃﺎﻗﺘﻮﺭ ﺟﻮ ﺑﻮﮌﮬﮯ، ﺑﯿﻤﺎﺭ ﺑﮭﯿﮍﯾﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ بطورِ ابتدائی طبی امداد ‏(ﻓﺮﺳﭧ ﺍﯾﮉ) ﺗﻌﺎﻭﻥ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮬﯿﮟ۔
ﺍﻥ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﻃﺎﻗﺘﻮﺭ، ﺩﺷﻤﻦ ﮐﮯ ﺣﻤﻠﮯ ﮐﺎ ﺩﻓﺎﻉ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ (ہنگامی دستہ) ﭼﺎﮎ ﻭ ﭼﻮﺑﻨﺪ ﺑﮭﯿﮍیئے ﮨﻮﺗﮯ ﮬﯿﮟ۔
ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﻗﯽ ﻋﺎﻡ ﺑﮭﯿﮍیئے ﮨﻮﺗﮯ ﮬﯿﮟ۔
ﺳﺐ ﮐﮯ ﺁﺧﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯿﮍﯾﻮﮞ ﮐﺎ ﻣﺴﺘﻌﺪ ﻗﺎﺋﺪ ﮨﻮﺗﺎ ﮬﮯ ﺟﻮ ﺳﺐ ﮐﯽ ﻧﮕﺮﺍﻧﯽ ﮐﺮﺭﮬﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮬﮯ ﮐﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﮈﯾﻮﭨﯽ ﺳﮯ ﻏﺎﻓﻞ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮬﺮ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺩﺷﻤﻦ ﮐﺎ ﺧﯿﺎﻝ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮬﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻋﺮﺑﯽ ﻣﯿﮟ ‏”ﺍﻟﻒ” انگریزی میں الفا ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﮐﯿﻼ ”1000 (ہزار)” ﮐﮯ ﺑﺮﺍﺑﺮ ہوتا ﮨﮯ۔

اب بتائو ہمارے معاشرے میں کسی کی اوقات ہے بھیڑے جیسا بننے گی۔۔
جب آپ کسی ظالم شخص کو بھیڑئے سے تشبیع دے رہے ہوتے ہیں تو آپ بھیڑئے جیسے نیک صفت جانور کی بے عزتی کر رہے ہوتے ہیں۔۔
بلکہ پاکستانیوں کو بھیڑئے سے تشبیع دینا بھیڑئے کی گستاخی ہے۔۔

الجزائر  سے تعلق رکھنے والی عرب دنیا کی ایک نامورمقبول ترین اینکر اور صحافی خدیجہ بنتِ قنہ  اپنے دورہ امریکہ کے بارے میں...
05/07/2024

الجزائر سے تعلق رکھنے والی عرب دنیا کی ایک نامورمقبول ترین اینکر اور صحافی خدیجہ بنتِ قنہ اپنے دورہ امریکہ کے بارے میں ایک قص٘ہ بتاتی ہیں کہ وہ ایک سپر اسٹور میں شاپنگ کے بعد کاونٹر پر ادائیگی کے لیئے اپنی باری کی منتظر تھیں کہ اسی دوران ایک باحجاب مسلمان خاتون ایک بڑا سا بکس کھینچتے ہوئے اسٹور کے اندر داخل ہو گئیں۔ بکس غالبا گھاس کاٹنے والی مشین کا تھا ۔ خاتون کے چہرے پر تھکاوٹ کے آثار نمایاں تھے ۔
وہ خاتون، کاونٹر پر کھڑی ایک ملازمہ کے پاس چلی گئیں اور بڑے ادب کے ساتھ کہنے لگیں کہ یہ مشین آپ سے کل دیگر اشیا کے ساتھ 500 ڈالر کی خرید کر لے گئی تھیں ۔
کیشئر خاتون نے پوچھا :--
کیا آپ اسے واپس کرنا چاہتی ہو!
مسلمان خاتون :-- نہیں ۔
کیشر خاتون :-
کیا آپ نےیہ مشین کسی دوسرے اسٹور پر اس سے کم قیمت میں فروخت ہوتے دیکھی ہے تو ہماری پالیسی آپکو بقیہ رقم دینے کی بھی پابند ہے، مگر اسکے لیئے آپ کو دوسرے اسٹور کی قیمت کا ثبوت دکھانا ہو گا ۔
مسلمان خاتون کہنے لگیں کہ ان وجوہات میں سے کچھ بھی نہیں ۔ بلکہ میں نے کل آپ سے دیگر اشیاء کے ساتھ یہ مشین خریدی تھی جس کی ادائیگی کریڈٹ کارڈ کے ذریعے کر دی گئی ۔ پھر اس سامان کو اٹھا کر میں اپنی رہائش گاہ پر لے گئی جو یہاں سے تقریبا دو گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے ۔ لیکن جب گھر پہنچی اور بل چیک کیا اور دیکھا تو مجھے معلوم ہوا کہ آپ نے مجھ سے دیگر اشیاء کی قیمت تو وصول کرلی ہے مگر اس مشین کی قیمت اس بل میں لگانا بھول گئی ہیں ۔
یہ بات سنتے ھی کیشیر ملازمہ نے اٹھ کر ان خاتون کو گلے لگا لیا اور آنکھوں میں اترتے آنسوں کو جذب کرنے کی کوشش کرتے ہوئے جذبات سے مخمور لہجے میں کہنے لگی کہ پھر کس چیز نے آپکوچار گھنٹے کی مسافت طے کرنے اور ملازمت سے چھٹی لے کر یہاں آنے پر مجبور کر دیا۔؟
مسلمان خاتون نے بڑی سادگی سے بولا:-- کہ "امانت داری نے" ۔ اور پھر انگریزی میں اسے امانت کے بارے میں اسلامی تعلیم اور حوالے کی تشریح کرنے لگی ۔
یہ سن کر ملازمہ اٹھ کر شیشے کے کیبن میں بیٹھی ہوئی مینجر خاتون کے پاس چلی گئی ۔
مینیجر خاتون نے ملازمہ کو کہا :--
ھم سن نہیں رھے تھے مگر اس کی باڈی لینگویج سے اس کے تاثرات بتا رھے تھے کہ وہ کچھ خاص انداز سے کچھ کہے جا رھی ہے ۔ ملازمہ نے توقف کیا ۔ تو مینجر خاتون اپنی نشست سے اٹھی اور باہر آ گئی ۔
اسٹور کے تمام اسٹاف کو جمع کر لیا جس کے ساتھ کسٹمرز بھی جمع ہو گئے۔ انہیں اس مسلمان خاتون کی امانت داری کے بارے بتانے لگیں ۔ مسلمان خاتون خاموش کھڑی رھی۔ جس کے چہرے پر حیا کی پرچھائیاں بکھری ہوئی تھیں ۔
یہ سننے کے بعد اسٹاف نے مسلمان خاتون سے اسلام میں امانت اور دیانت داری کے بابت سوالات کیئے۔ جسکے جوابات اس نے بڑے نپے تلے انداز میں دینی معلومات کی روشنی میں دے دیئے ۔
مینجر خاتون نے مسلمان خاتون کو مشین گفٹ کرنے کی پیشکش کر دی جسے انہوں نے بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ رد کرتے ہوئے کہا کہ اس کے لیئے مشین سے زیادہ اہمیت ثواب کی ہے ۔ وہ قیمت کی ادائیگی کرکے شکریہ ادا کرنے کے ساتھ ھی اسٹور سے باہر نکل گئیں ۔
اس واقعے کو سپراسٹور میں موجود درجنوں کسٹمرز نے بھی دیکھا جو حجاب پہنے ایک دل آویز مسکراہٹ اور ایمانی قوت کے ھالے میں گھری ہوئی سپر اسٹور سے نکل کر رخصت ہو نے والی خاتون کو بڑی حیرت سے دیکھ رہے تھے ۔
خدیجہ بنت قنہ کہتی ہیں کہ یہ سن کر اور دیکھ کر اپنے مسلمان ہونے پر مجھے بڑا فخر محسوس ہوا اور الل٘ہ تعالی' کا شکر ادا کیا۔
لا الہ الااللہ محمد رسول
پڑھنے کے بعد اگر انسان کے اندر دو خوبیاں ہوں،
1: خوف خدا
2: اچھے اخلاق
معاشرہ اس شخص کی قدر بھی کرتا ہے، اور یہ دو خوبیاں مرنے کے بعد انسان کو جنت میں لے جانے کا سبب بھی ہیں۔
ان شاء اللّٰہ ۔

02/07/2024

دور غلامی کی بات ہے پنجاب کے درجنوں پیروں نے اکٹھ کیا اور وقت کے ایک بڑے ولی اللہ کے پاس پہنچے اور کہا حضور یہ کیا؟ اب ہم پر فرنگی راج کریں گے؟

اس ولی اللہ نے روحانی دنیا میں پرویش کیا اور شہنشاہ جارج کے سر سے تاج اتار کر پھینک دیا غرض سات بار تاج اتار کر پھینکا اور سات بار جارج کے سرپر کوئی طاقت تاج دوبارہ رکھ دیتی

ولی اللہ بہت پریشان ہوئے اور دہل گئے روحانی دنیا سے واپس مادی دنیا میں پرکٹ ہوئے اور پیروں سے کہا

میں نے سات مرتبہ جارج کے سر سے تاج اتار کر پھینکا اور ساتوں مرتبہ بارگاہ رسالت کے حکم سے جارج کے سر پر دوبارہ کسی نے تاج رکھ دیا اس لیے انگریز راج پر تنقید سے بچو یہ راج بارگاہ رسالت کے حکم سے انکو ملا ہے

یہ واقعہ ڈیپ اسٹیٹ صوفی ازم کو جاننے والے بہت سے لوگ جانتے ہیں اور دور غلامی میں یہ واقعہ اکثر پیروں کی طرف سے مریدین کو سنا کر انگریز راج کو لیجیٹی مائز کیا جاتا تھا میں خود یہ واقعہ کئی بابوں کے منہ سے سن چکا ہوں اس سے ایک ملتا جُلتا واقعہ دیوبندی اکابرین نے بھی گھڑا کے انگریز کے خلاف کیسے لڑیں خضر علیہ السّلام تو انگریز کے لشکر کی طرف سے لڑتے ہیں

لیکن کیا آپ کو پتا ہے یہ واقعہ کیوں گھڑا گیا؟
کیونکہ بیشتر گدّیاں انگریز سرکار کے پے رول پر تھیں اور لاکھوں ایکڑ جاگیریں انگریز ان گدّیوں کو الاٹ کر چکا تھا اور انہیں اُس وقت لاکھوں روپوں میں وظیفے دیتا تھا اور یہ پیر انگریز کے لیے خشکیوں اور صحراؤں میں انگریز کے دشمنوں سے لڑتے تھے اور یہ جاگیریں وہ بنیادی وجہ تھیں جس وجہ سے پیروں نے یہ من گھڑت واقعہ گھڑا تاکہ مذہبی عقیدت کی پھکّی سے جاہل مریدوں کو خاموش کروا سکیں اور انگریز راج کو اللہ کا حکم ثابت کردیں تاکہ انگریز کے دشمنوں کو جب ہم ماریں تو جاہل مرید ہمیں ایجنٹ نہ کہیں بلکہ انگریز کے دشمنوں کو اللہ کا دشمن سمجھیں

آپ نے اوریا مقبول جان کا حضورﷺ کی بارگاہ سے باجوہ صاحب کی اپوانٹمنٹ والا خواب تو سنا ہوگا؟

آپ نے جناح صاحب کو حضورﷺ کی بارگاہ سے حکم پر پاکستان بنانے کے لیے انگلینڈ سے واپس آنے کا واقعہ بھی سنا ہوگا

آپ نے نواب آف قلات کے حضورﷺ کی بارگاہ سے حکم پر قلات کو پاکستان میں شامل کرنے کا واقعہ بھی سنا ہوگا؟

آپ نے بشریٰ مانیکا اور عمران خان کے نکاح کی بشارت کا واقعہ بھی سنا ہوگا؟

پھر آپ نے طارق جمیل صاحب کے منہ سے جنید جمشید کے حضورﷺ کی بارگاہ میں جانے اور حضورﷺ کی طرف سے طارق جمیل صاحب کے دوست کو یہ پیغام پہنچانے کا واقعہ بھی طارق جمیل صاحب سے سنا ہوگا کہ طارق جمیل سے کہنا تمہارا دوست ہمارے پاس پہنچ چکا ہے

پھر آپ نے داتا صاحب کا علامہ اقبال کے گھر جانے اور خواجہ معین الدین چشتی کی طرف سے لسی فروش بن کر علامہ اقبال اور داتا علی ہجویری کو لسّی گھوٹ کر پیش کرنے کا واقعہ بھی پڑھا ہوگا؟

حیران ہوئے؟ اب آپ سوچیں گے یہ ماڈرن پریکٹس ہے ؟ نہیں نہیں آپ نے یہ پچھلی ایک صدی میں ہوئی بشارتوں کے واقعے تو سنے ہیں لیکن کیا آپ نے یہ واقعات سنے ہیں؟

محمود غزنوی سے جب سومنات فتح نہیں ہورہا تھا تو ایک بزرگ نے اپنا کرتا انہیں دیا کہ اس کو مصلّیٰ بنا کر جو دعا کرو گے پوری ہوگی لہٰذا محمود نے گجرات میں جا کر کرتا بچھا کر سومنات فتح کرنے کی دعا کی اور وہ پوری ہوئی فتح کے بعد جب غزنوی نے بزرگ کو کُرتا واپس کیا تو بُزرگ نے پوچھا کیا دعا کی تھی؟ غزنوی نے کہا سومنات فتح کرنے کی۔ بُزرگ رو پڑے اور بولے تُو احمق صرف ایک مندر فتح کرنے کی دعا مانگ آیا خدا کی قسم اگر تُم اس کُرتے پر سجدہ کرکے خدا سے پورے ہند کے مسلمان ہونے کی دعا مانگتے تو وہ بھی پوری ہوجاتی 😂

شہاب الدین غوری کو پرتھوی راج چوہان نے کئی مرتبہ شکست دی تھی آخری شکست کے بعد حضرت معین الدین چشتی، شہاب الدین کے خواب میں آئے اور کہا ہم نے اجمیر تمہیں دیا شہاب نے فتح کے بعد جب اجمیر میں خواجہ اجمیری کو دیکھا تو حیران ہوگئے کہ یہ تو وہی بزرگ ہیں جنہوں نے مجھے فتح کی بشارت دی تھی 😂

اورنگزیب نے اپنے سگے بھائی اور شاہجہاں کے جانشین دارا شکوہ قادری کو دردناک موت دینے کے بعد دارا شکوہ کے مرشد سرمد کی گردن اڑائی تو سرمد کے کٹے دھڑ نے اپنی گردن اٹھائی اور بارگاہ رسالت میں جانے کا سوچا اتنے میں سرمد کے مرشد وہاں پہنچے اور کہا سرمد کہاں جا رہے ہو ؟ سرمد نے کہا اورنگزیب کی شکایت بارگاہ رسالت ص میں کرنے جا رہا ہوں مرشد نے کہا سرمد نہ جانا کیونکہ اورنگزیب پہلے ہی وہاں پہنچ چکا ہے چناچہ سرمد کا دھڑ ایک طرف سر ایک طرف گرا اور وہ وصال فرما گئے۔

یہاں ان تمام واقعات کا ذکر کروں تو دفتر بھر جائے گا

لبِّ لباب یہ کہ ہندوستانی/ مقامی مسلمانوں پر حکومت کرنے اور انکی زبانیں بند کرنے کا یہ آزمودہ نسخہ صدیوں سے استعمال ہورہا ہے اور آئندہ صدیوں تک استعمال ہوتا رہے گا اور موقع پرست ان بشارتوں کا سہارا لے کر عوام کے منہ بند کرواتے رہیں گے۔۔۔۔۔
منقول ۔

‏بھارت میں شائع ہونے والی کتاب ”کالکی اوتار“ نے دنیا بھر ہلچل مچا دی ہے۔ اس کتاب میں يہ بتایا گیا ہے کہ ہندووں کی مذہبی ...
30/06/2024

‏بھارت میں شائع ہونے والی کتاب ”کالکی اوتار“ نے دنیا بھر ہلچل مچا دی ہے۔ اس کتاب میں يہ بتایا گیا ہے کہ ہندووں کی مذہبی کتابوں میں جس "کالکی اوتار" کا تذکرہ ملتا ہے، وہ آخری رسول محمد صلی اﷲ علیہ وسلم بن عبداﷲ ہی ہیں۔
اس کتاب کا مصنف اگر کوئی مسلمان ہوتا، تو وہ اب تک جیل میں ہوتا اور اس کتاب پر پابندی لگ چکی ہوتی، مگر اس کے مصنف "پنڈت وید پرکاش" برہمن ہندو ہیں۔ اور وہ الہ آباد یونیورسٹی سے وابستہ ہیں۔ وہ سنسکرت زبان کے ماھر اور معروف محقق اسکالر ہیں۔
ڈاکٹر وید پرکاش نے کالکی اوتار کی بابت اپنی اس تحقیق کو ملک کے آٹھ مشہور ومعروف محقق پنڈتوں کے سامنے پیش کیا تھا، جو اپنے شعبے میں مستند گرادنے جاتے ہیں۔ ان پنڈتوں نے کتاب کے بغور مطالعے اور تحقیق کے بعد يہ تسلیم کیا ہے کہ کتاب میں پیش کيے گئے حوالے جات مستند اور درست ہیں۔
برھمن پنڈت وید پرکاش نے اپنی اس تحقیق کا نام ”کالکی اوتار“ یعنی تمام کائنات کے رہنما رکھا ہے۔ہندووں کی اہم مذہبی کتب میں دراصل ايک عظیم رہنما کا ذکر ملتا ہے۔ جسے ”کالکی اوتار“ کا نام دیا جاتا ہے، سو ڈاکٹر وید پرکاش گہری تحقیق کے بعد یہ دعویٰ کیا ھے کہ اس کالکی اوتار سے مراد حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم ہیں، جو مکہ میں پیدا ہوئے۔ چنانچہ ان کا کہنا ہے کہ تمام ہندو جہاں کہیں بھی ہوں، ان کو اب کسی اور کالکی اوتار کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ اس کیلئے انہیں محض اسلام قبول کرنا ہے، اور آخری رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلنا ہے، جو بہت پہلے اپنے مشن کی تکمیل کے بعد اس دنیا سے تشریف لے جا چکے ہیں۔
اپنے اس دعوے کی دليل میں پنڈت وید پرکاش نے ہندووں کی مقدس مذہبی کتاب”وید“ سے مندرجہ ذیل حوالے دلیل کے ساتھ پیش کیئے ہیں۔

1۔ ”وید" کتاب میں لکھا ہے کہ
(( کالکی اوتار بھگوان کاآخری اوتار ہوگا، جو پوری دنیا کو راستہ دکھائے گا۔ ))
ان کلمات کا حوالہ دينے کے بعد پنڈت وید پرکاش لکھتے ہیں کہ اس پیش گوئی کا اطلاق صرف حضرت محمد صلی ﷲ علیہ وسلم کے معاملے میں درست ہو سکتا ہے۔

2۔”ویدوں“ کی پیش گوئی کے مطابق (( کالکی اوتار ايک جزیرے میں پیدا ہوں گے))
اور يہ عرب علاقہ ھی ہے، جسے جزیرة العرب کہا جاتا ہے۔

3۔ مقدس کتاب وید میں لکھا ہے کہ (( ”کالکی اوتار“ کے والد کا نام ’‘وشنو بھگت“ اور والدہ کا نام ”سومانب“ ہوگا۔))
جبکہ سنسکرت زبان میں ”وشنو“ ﷲ کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور” بھگت“ کے معنی غلام اور بندے کے ہیں۔ چنانچہ عربی زبان میں ”وشنو بھگت“ کا مطلب ﷲ کا بندہ یعنی ”عبد ﷲ“ ہوا۔
اور سنسکرت میں ”سومانب“ کا مطلب "امن" ہے, جو کہ عربی زبان میں ”آمنہ“ ہو گا، اور آخری رسول (صلی اﷲ علیہ وسلم) کے والد کا نام عبد ﷲ اور والدہ کا نام آمنہ ہی ہے۔

4۔وید کتاب میں لکھا ہے کہ
((”کالکی اوتار“ زیتون اور کھجور استعمال کرے گا۔ اور وہ اپنے قول وقرار میں سچا اور دیانتدار ہو گا۔ ))
اور يہ دونوں پھل حضور اکرم صلی ﷲ علیہ وسلم کو مرغوب تھے۔ جبکہ آپ سچائی اور دیانتداری میں تو اس حد تک معروف تھے کہ مکہ میں محمد صلی ﷲ علیہ وسلم کے لئے صادق اور امین کے لقب استعمال کيے جاتے تھے۔

5۔ ”وید “ کے مطابق ((”کالکی اوتار“ اپنی سر زمین کے معزز خاندان میں سے ہوگا))
اور يہ بھی محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کے بارے میں سچ ثابت ہوتا ہے کہ آپ قریش کے معزز قبیلے میں سے تھے، جس کی پورے عرب میں عزت اور شام وعراق میں پہچان تھی۔

6۔ہماری کتاب کہتی ہے کہ ((بھگوان ”کالکی اوتار“ کو اپنے خصوصی قاصد کے ذريعے ايک غار میں پڑھائے گا۔))
اس معاملے میں يہ بھی درست ہے کہ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم مکہ کی وہ واحد شخصیت تھے، جنہیں ﷲ تعالی نے غار حراء میں اپنے خاص فرشتے حضرت جبرائیل کے ذريعے تعلیم دی۔

7۔ ہمارے بنیادی عقیدے کے مطابق ((بھگوان ”کالکی اوتار“ کو ايک تیز ترین گھوڑا عطا فرمائے گا، جس پر سوار ہو کر وہ زمین اور سات آسمانوں کی سیر کر آئے گا۔))
اور محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کا ”براق پر معراج کا سفر“ اس پیش گوئی کا مصداق بن کر اسے آپ کی بابت ھی درست ثابت کرتا ہے؟

8۔ نیز لکھا ھے کہ
((ہمیں یقین ہے کہ بھگوان ”کالکی اوتار“ کی بہت مدد کرے گا اور اسے بہت قوت عطا فرمائے گا۔))
اور ہم یہ جانتے ہیں کہ جنگ بدر میں ﷲ نے محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کی فرشتوں سے مدد فرمائی۔

9۔ ہماری ساری مذہبی کتابوں کے مطابق یہ پیش گوئی ملتی ھے کہ
((” کالکی اوتار“ گھڑ سواری، تیز اندازی اور تلوار زنی میں ماہر ہوگا۔))

پنڈت وید پرکاش نے اس پیش گوئی پر بڑا خوبصورت تبصرہ کیا ہے۔ جو بڑا اہم اور قابل غور ہے۔ وہ لکھتے ہیں :
"گھوڑوں،تلواروں اور نیزوں کا زمانہ بہت پہلے گزر چکاہے۔اب تو ٹینک، توپ اور میزائل جیسے ہتھیار استعمال میں ہیں۔ لہذا يہ عقل مندی نہیں ہے کہ ہم اس دور جدید میں تلواروں، نیروں اور برچھیوں سے مسلح‏”کالکی اوتار“ کا انتظار کرتے رہ جائیں۔ حالانکہ حقیقت يہ ہے کہ مقدس کتابوں میں ”کالکی اوتار“ کے واضح اشارے حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کے بارے میں ہیں جو ان تمام حربی فنون میں کامل مہارت رکھتے تھے۔ ٹینک، توپ اور مزائل کے اس دور میں گھڑ سوار، تیغ زن اور تیر انداز کالکی اوتار کا انتظار نری حماقت ھے۔
(Copied)

30/06/2024

40 سال کی عمر تک آپ کو یہ سب چیزیں سیکھ لینی چاہییں اور اپنے پہ اپپلائی کر لیں۔ ضرور پڑھیں 👇

1. کوئی آپ سے زیادہ پیسے کماتا ہے۔ یہ وہ اپنے لئے کماتا ہے اس لئے اس ریس میں نہ پڑیں۔ آپ اپنی زندگی پہ فوکس رہیں۔

2. خلفشار (distraction) کامیابی کا سب سے بڑا قاتل ہے۔ یہ آپ کے دماغ کو جامد اور تباہ کر دیتا ہے۔

3. ایسے لوگوں سے مشورہ نہ لیں جو وہاں نہیں جہاں تک آپ جانا چاہتے ہیں۔

4. کوئی بھی آپ کو مسائل سے نکالنے نہیں آ رہا۔ آپ کی زندگی 100% آپ کی ذمہ داری ہے۔

5. آپ کو موٹیویشن کے لئے سو کتابیں بھی کم ہیں۔ البتہ اگر آپ ڈسپلن اختیار کریں اور ایکشن لیں تو وہی کافی ہو گا۔

6. پریشان نہ ہوں اگر آپ ڈاکٹر، انجینئر، وکیل نہیں بن سکے۔ اگر چیز بیچنا سیکھ جاتے ہیں تو آپ صرف اگلے 90 دنوں میں زیادہ پیسہ کما سکتے ہیں۔

7. کوئی بھی آپ کی پرواہ نہیں کرتا۔ لہذا شرم، جھجھک چھوڑیں، باہر جائیں اور اپنے مواقع خود پیدا کریں۔

8. اگر آپ کسی کو اپنے سے زیادہ ذہین پاتے ہیں، تو اس کے ساتھ کام کریں، مقابلہ نہ کریں۔

9. تمباکو نوشی کا آپ کی زندگی میں 0 فائدہ ہے۔ یہ عادت صرف آپ کی سوچ کو کم کرے گی اور آپ کی توجہ کو کم کرے گی۔

10. سکون سب سے بری لت ہے اور ڈپریشن کا سستا ٹکٹ۔ اپنی طاقت آزماؤ اور ہر روز خود کو چلینج کریں۔

11. لوگوں کو اس سے زیادہ نہ بتائیں جس کی انہیں جاننے کی ضرورت ہے، اپنی رازداری کا احترام کریں۔

12. ہر قیمت پر شراب سے پرہیز کریں۔ اپنے حواس کھونے اور احمقانہ کام کرنے سے بدتر کوئی چیز نہیں۔

13. اپنے معیار کو بلند رکھیں اور کسی چیز کے لیے بس نہ کریں صرف اس لئے کہ وہ آسانی سے دستیاب ہے۔

14. آپ جو خاندان بناتے ہیں وہ اس خاندان سے زیادہ اہم ہے جس سے آپ آتے ہیں۔

15. خود کو 99.99% ذہنی مسائل سے بچانے کے لیے ذاتی طور پر کسی سے کچھ نہ لینے کی اپنی تربیت کریں۔

منقول

29/06/2024

دوسگے بھائیوں کے دو بڑے بڑے زرعی فارم ایک ساتھ واقع تھے۔ دونوں چالیس سال سے ایک دوسرے کے ساتھ اتفاق سے رہ رہے تھے۔ اگر کسی ایک کو اپنے کھیتوں کیلئے کسی مشینری یا کام کی زیادتی کی وجہ سے زرعی مزدوروں کی ضرورت ہوتی تو وہ بلا ججھک دوسرے بھائی کو کہہ کر اس کے وسائل استعمال کرلیتا تھا۔

ایک دن کرنا خدا کا ایسا ہوا کہ ان میں کسی بات پر اختلاف ہو گیا اور معمولی سی بات سے پیدا ہونے والا یہ اختلاف ایسا بڑھا کہ ان دونوں میں بول چال تک بند ہو گیا۔ چند ہفتوں بعد ایک صبح ایسی بھی آ گئی کہ وہ ایک دوسرے کے سامنے کھڑے گالی گلوچ پر اتر آئے اور پھر چھوٹے بھائی نے غصے سے بلڈوزر منگوایا اور شام تک دونوں گھروں کے درمیان ایک گہری اور لمبی کھائی کھود کر اس میں پانی چھوڑ دیا۔

اگلے دن ایک ترکھان کا وہاں سے گزر ہوا تو بڑے بھائی نے اسے آواز دے کر اپنے گھر بلایا اور کہا کہ، "وہ سامنے والا فارم ہاؤس میرے بھائی کا ہے اور اس سے آج کل میرا جھگڑا چل رہا ہے۔ بھائی نے کل بلڈوزر سے میرے اور اپنے گھروں کا درمیانی راستے کھود کر پانی چھوڑ دیا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ میرے اور اس کے فارم ہاؤس کے درمیان تم آٹھ فٹ اونچی باڑ لگا دو تاکہ میں اس کی شکل تو دور کی بات ہے اس کا گھر بھی نہیں دیکھ سکوں اور دیکھو مجھے یہ کام جلد از جلد مکمل کرکے دو جس کی میں تمہیں منہ مانگی اجرت دوں گا۔"

ترکھان نے سر ہلاتے ہوئے کہا کہ، "مجھے پہلے آپ وہ جگہ دکھائیں جہاں سے میں نے باڑھ کو شروع کرنا ہے تاکہ ہم پیمائش کے مطابق ساتھ والے قصبہ سے ضرورت کے مطابق مطلوبہ سامان لا سکیں۔"

موقع دیکھنے کے بعد ترکھان اور بڑا بھائی ساتھ واقع ایک بڑے قصبہ میں گئے اور تین چار متعلقہ مزدوروں کے علاوہ ایک ٹرک پر ضرورت کا سامان لے کر واپس گھر آگئے، ترکھان نے اسے کہا کہ، "اب آپ آرام کریں اور یہ کام ہم پر چھوڑ دیں۔"

ترکھان اپنے مزدوروں/ کاریگروں سمیت سارا دن اور ساری رات کام کرتا رہا۔ صبح جب بڑے بھائی کی آنکھ کھلی تو اس کا منہ لٹک گیا کیونکہ وہاں آٹھ فٹ تو کجا ایک انچ اونچی بھی باڑ نام کی کوئی چیز موجود نہیں تھی۔ وہ پریشانی میں چھوٹے بھائی کی طرفسے پچھلے روز کھودی گئی کھائی کے قریب پہنچا تو یہ دیکھ کر اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں کہ وہاں تو ایک بہترین پل بنا ہوا ہے۔ جونہی وہ اس پل پر پہنچا تو اس نے دیکھا کہ پل کی دوسری طرف اس کا چھوٹا بھائی کھڑا اسکی طرف دیکھ رہا ہے، چند لمحے وہ خاموشی سے کھڑا، کبھی کھائی اور کبھی اس پر بنے ہوئے پل کو دیکھتا رہا اور پھر اس کے چہرے پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ ابھری، چند سیکنڈ بعد دونوں بھائی آہستہ آہستہ قدم اٹھاتے پل کے درمیان آمنے سامنے آ کھڑے ہوئے اور ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ دونوں بھائیوں کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور انہوں نے ایک دوسرے کو گرمجوشی سے گلے لگا لیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے دونوں بھائیوں کے بیوی بچے بھی خوشی کے مارے اپنے گھروں سے نکل کر بھاگتے اور شور مچاتے ہوئے پل پر اکٹھے ہو گئے اور دور کھڑا ہوا ترکھان یہ منظر دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔

اب بڑے بھائی کی نظر ترکھان کی طرف اٹھی جو واپسی کے لیئے اپنے اوزار سمیٹ رہا تھا، وہ بھاگ کر اس کے پاس پہنچا اور کہا کہ، "آپ کچھ دن ہمارے پاس مہمان بن کر ٹھہر جائیں۔" لیکن ترکھان یہ کہہ کر چل دیا کہ، "اسے ابھی اور بہت سے 'پُل' بنانے ہیں۔"

,, یقین مانیں اس طرح کی لڑائیوں میں معمولی سے توجہ درکار ہوتی ہے، اگر ہم بھائیوں سے ایک دوسرے کی شکایات سننے کی بجائے ان کے درمیان پل بنائیں تو یعقینا رشتوں کے درمیان دیواریں بننا بہت کم ہو سکتی ہیں۔۔۔

24/05/2023
24/05/2023
24/05/2023
24/05/2023

راہ انسانیت پروگرام ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے ہم کمزور ہیں ناتواں ہیں عاجز ہیں لیکن بے حس نہیں اور اللہ پاک نے ہمارے دلوں میں اپنا ترس بھرا ہے ان شاء اللہ ہمارے پروگرام کے ذریعے بہتر نئے انداز کے ساتھ نئے ولولہ کے ساتھ حقداروں تک پہنچیں گے اور ان کا حق ان تک بڑھیا اور ودیا انداز میں پہنچے گا

Address


Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when MJI zon posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

  • Want your business to be the top-listed Advertising & Marketing Company?

Share