Fun , Entertainment And Information

  • Home
  • Fun , Entertainment And Information

Fun , Entertainment And Information Marketing

1. The invitation code is [445 957 095].Copy the whole text to the clipboard.2. Tap the link below to open/install Snack...
06/05/2021

1. The invitation code is [445 957 095].Copy the whole text to the clipboard.2. Tap the link below to open/install Snack. (recommend way)

Gunakan SnackVideo dan dapatka uang.

The invitation code is [445 957 095].Copy the whole text to the clipboard.2. Tap the link below to open/install Snack. (...
06/05/2021

The invitation code is [445 957 095].Copy the whole text to the clipboard.2. Tap the link below to open/install Snack. (recommend way)

Gunakan SnackVideo dan dapatka uang.

17/07/2017
06/06/2016

Ramadan Mubark to all................

21/05/2016

ذولفقار علی بھٹو نے مادر ملت فاطمہ جناح کو اتنخابات میں ہرانے کے لیے ان پر تہمت تک لگائی اور انکے خلاف تقریر کرتے ہوئے یہ معنی خیز جملہ کہا کہ " اس نے شادی کیوں نہیں کی ہے؟ " ۔۔ کہا جاتا ہے کہ بھٹو کا یہ شرمناک الزام سن کر پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے کچھ غیر ملکی صحافی رو پڑے تھے کہ یہ کیسی قوم ہے جو اس خاتوں پر بہتان لگا رہی ہے جس کو یہ مادر ملت یعنی " قوم کی ماں " کہتے ہیں ۔ قائد ملت کی بہن پر یہ تہمت اس جمہوری چیمپئن کے چہرے پر وہ داغ ہے جو کبھی نہیں مٹ سکے گا!

65ء کی جنگ کے حوالے سے انتہائی لبرل اور فوج مخالف سمجھے جانے والے نجم سیٹھی کے مطابق یہ بھی بھٹو کی اقتدار ھوس کا ہی نتیجہ تھا ان کے الفاظ یہ ہیں " طارق علی کافی مشہورسٹوڈنٹ لیڈر تھے۔ انہوں نے اس وقت بھٹو سے 65 کی جنگ کے بارے میں پوچھا جب وہ ایوب خان کو چھوڑ چکے تھے کہ یہ جنگ آپ نے کیوں کی تھی؟ اور آپ نے کی تھی یا انڈیا نے ؟ ۔۔۔۔ بھٹو نے جواب دیا کہ ہم نے کی تھی۔ مجھے یقین تھا کہ اگر ہارتے ہیں تو ایوب خان گر جائیگا، ایوب خان گرے گا تو میرا راستہ کھل جائیگا۔ جیت گئے تو ہیرو بن جائنگے کیونکہ میں ہی وزیر خارجہ تھا۔ دونوں صورتوں میں میری جیت تھی"۔۔

محض اپنا راستہ صاف کرنے کے لیے ذولفقار علی بھٹو نے پورے پاکستان کو داؤ پر لگا دیا۔ اگر پاک فوج اپنی جانوں پر نہ کھیلتی تو شائد ہم لاہور ہار جاتے۔

شیخ مجیب جب اگرتلہ سازش میں پکڑا گیا اور ایوب خان اس کو غداری کے جرم میں سزا دینے لگا تو اس کو چھڑانے کے لیے بھٹو نے ملک گیر مہم چلائی اور بدترین حالات میں انتخابات کا مطالبہ کر دیا۔ لیکن جب مجیب نے انتخابات میں کلین سویپ کیا اور بھٹو کے مقابلے میں دگنے ووٹ لے لیے تو بھٹو نے اقتدار اس کے حوالے کرنے سے انکار کردیا اور اس کو غدار قرار دیا اور یہ مشہور نعرہ لگایا " ادھر تم ادھر ہم
اسکے باوجود جب کچھ لوگوں نے شیخ مجیب کے ڈھاکہ میں بلائے گئے قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کی بات کی تو بھٹو نے دھمکی دی کہ " جو ڈھاکہ گیا میں اسکی ٹانگیں توڑ دونگا"۔۔۔۔! ۔۔۔۔۔۔۔۔ بنگال الگ ہوا ۔۔۔۔۔ بچے ہوئے پاکستان پر بھی بھٹو کی جمہوری حکومت نہ بن سکی اور بھٹو تین سال تک کے لیے سول "مارشل لا" ایڈمنسٹریٹر بن گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس حوالے سے روئیداد خان اپنی یاداشتوں میں لکھتے ہیں کہ " بھٹو نے مجھے رات کو دس بجے بلایا اور کہا کہ مجھے امید ہے کہ آپ جاگ رہے ہونگے۔ میں نے کہا کہ کتاب پرھ رہا ہوں ۔۔ کہنے لگا یہ ٰیحیی نے کیا کر دیا۔ اس نے مجھ سے پوچھے بغیر ڈھاکہ اجلاس کی تاریخ طے کر لی۔ یہ تاریخ غلط فکس کی گئی ہے۔ اس کو چینج کراؤ۔ میں نے کہا کیسے؟ بنگالی تو مان گئے ہیں۔۔ بھٹو نے کہا بہت آسان ہے۔ ڈھاکہ میں ایک لاء اینڈ آرڈر کی صورت حال پیدا کراؤ۔ ٹیر گیس ہوگی، لاٹھی چارج ہوگی، کچھ لوگ مرینگے۔ تاریخ تبدیل ہوجائیگی۔"
روئیداد خان کے مطابق بھٹو نہیں چاہتے تھے کہ ڈھاکہ میں اجلاس ہو۔

بھٹو سمجھ گئے تھے کہ جب تک مشرقی پاکستان، پاکستان کا حصہ ہے وہ کبھی وزیراعطم نہیں بن سکتے کیونکہ وہ کبھی مجیب سے نہیں جیت سکتے۔
اس لیے مارچ سے ستمبر تک بھٹو نے کچھ نہیں کیا جب پاک فوج ملک بچانے کے لیے دیوانہ وار لڑ رہی تھی۔ اگر اس وقت بھٹو سیاسی بھاگ دوڑ کرتے اور مجیب کو راضی کرلیتے تو شائد یہ سانحہ نہ ہوتا۔

پھر جب انڈیا نے حملہ کیا اور ملک ٹوٹنے کی نوبت آگئی تو وہ اس کو اقوم متحدہ میں روکنے کے بجائے کاغذات پھاڑ کر، اجلاس چھوڑ کر آگئے۔ اس نے بنگالیوں کو " سور کے بچو " کہہ کر مخاطب کیا۔ اسکی وہ تقریر آج بھی سنی جا سکتی ہے۔

پاکستان ٹوٹ گیا۔ بھٹو نے جناح کے پاکستان کو قتل کر دیا۔ محض اس لیے کہ اسکو اقتدار مل سکے۔ بلاآخر بھٹو کو اقتدار مل گیا۔ عوام کو پہلی بار ضروریات زندگی کی اشیاء جیسے آٹا اور چینی کے حصول کے لیے قطاروں مٰیں کھڑا ہونا پڑا اور انکو مہنگائی کے معنی معلوم ہوئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!

احمقانہ معاشی فیصلوں اور کمزور سفارت کاری نے ایسے معاہدات کروائے کہ پاکستان کو اپنے کئی سال کی چاول کی فصل شہنشاہ ایران کی ضمانت پر گروی رکھوانی پڑی اور شملہ معاہدے میں جنگ بندی لائن کو کنٹرول لائن قرار دیا گیا دوسرے لفظوں میں اپنے پانیوں کو انڈیا کے حوالے کرنا پڑا۔۔ وولر بیراج کے معاملے میں انڈیا کو نہ روکا جا سکتا ہاں جنرل ضیاء کے پیدا کیے گئے مجاہدین نے بعد میں اس پر حملے کر کے اسکی تنصیبات کو کئی بار تباہ کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

بعد میں بھی حالات کچھ اچھے نہ رہے بھٹو نے جس سوشلزم کا نعرہ لگایا تھا اس کے متعلق انکی اہلیہ نصرف بھٹو نے برملا اعتراف کیا تھا کہ یہ مارکسزم سے اخذ کیا گیا ہے (جس نے کروڑوں کو خدا کی ذات کا منکر کر دیا اور آج بھی کر رہے ہیں) اسکے نتیجے میں صتعتیں قومیا لی گئیں جس سے نہ صرف ملک سے سرمایہ نکل گیا بلکہ صنعتیں اور بعض ادارے ایسے تب

06/02/2016
08/01/2016
07/01/2016

We WithStand With

31/12/2015
04/09/2015

Address


Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Fun , Entertainment And Information posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

  • Want your business to be the top-listed Advertising & Marketing Company?

Share