شادی کی تاریخ طے ہوئی تو میں مستقبل کی سوچوں میں گم اپنے زندگی کے نئے مرحلے کی زمہ داریوں کیلئے فکر مند تھا۔
جوانی… جہاں انسان کی صرف عمرہی نہیں بلکہ احساس میں بھی تبدیل ہونے لگتا ہے۔
نئے رشتے میں بندھنے سے پہلے رشتوں سے متعلق میرے ذہن میں کئی سوال جنم لے رہے تھے ۔
اسی سوچ میں ڈوبا ہوا تھا کہ دادا میرے پاس آکر بیٹھ گئے…
شاید وہ میری پریشانی کو پہلے سے سمجھ چکے تھے۔
میں نے آہستہ سے ان کی طرف دیکھا اور کہا:
"دادا جی… انسان کو اپنے خونی رشتوں سے آخر چاہیے کیا ہوتا ہے؟"
وہ کچھ دیر خاموش رہے…
پھر بولے:
"بیٹا… انسان رشتوں سے چیزیں نہیں مانگتا… وہ کیفیت مانگتا ہے۔"
"وہ چاہتا ہے کہ اس کے احساسات کو بغیر کہے سمجھا جائے… اسے مشین نہیں انسان سمجھا جائے۔"
پھر انہوں نے کہا:
"ایک باپ… صرف دینے والا ہاتھ نہیں ہوتا۔"
"وہ ایک اصول ہوتا ہے… ایک معیار… ایک سایہ جو گرنے سے پہلے سنبھال لے۔"
"باپ کا مطلب صرف ذمہ داری نہیں… بلکہ انصاف بھی ہے۔"
"کہ وہ اولاد میں فرق نہ کرے… نہ محبت میں، نہ نظر میں، نہ دعاؤں میں۔"
پھر ان کی آواز مزید گہری ہو گئی:
"اور ماں…"
"ماں صرف جنم دینے اور پالنے والی نہیں ہوتی… وہ وجود کی پہلی پناہ گاہ ہوتی ہے۔"
"ماں وہ دعا ہے جو انسان کو دنیا کے شر سے محفوظ رکھتی ہے۔"
وہ آگے مزید بولے:
"ایک بھائی… صرف خون کا حصہ نہیں ہوتا۔"
"وہ ایسا بازو ہوتا ہے جو تمہیں گرانے کے لیے نہیں… بلکہ تھامنے کے لیے بنایا گیا ہوتا ہے۔"
"بھائی کا کردار مقابلہ بازی نہیں ہونا چاہیے… بلکہ یہ کہ وہ تمہیں بلندی پر اٹھنے میں مدد دے۔"
پھر وہ ٹھہرے…
اور بولے:
"ایک بہن…"
"وہ محبت کی وہ خاموش شکل ہے جسے الفاظ کی ضرورت نہیں ہوتی۔"
"وہ تمہاری کامیابی پر شور نہیں کرتی… لیکن تمہاری ناکامی پر بھی تمہیں غم ذدہ نہیں ہونے دیتی۔ تمہاری خوشی پر ماں کے بعد سب سے زیادہ خوشی تمہاری بہن ہوگی۔"
میں خاموش سنتا رہا…
پھر انہوں نے کہا:
"تم نے اب تک ایک بیٹے اور ایک بھائی کا رشتہ نبھایا ہے ۔۔۔ بیٹا تم اب نئے رشتوں کو نبھاؤ گے تو تمھاری پرانے رشتوں سے مزید توقعات ہوں گی، اپنے صبر کو مضبوط بنانا۔"
"بیٹا… اگر رشتے صحیح ہوں تو وہ انسان کو بوجھ نہیں دیتے… آسانی دیتے ہیں۔"
"وہ انسان کو دوسروں کے دروازے پر نہیں لے جاتے… بلکہ اپنے گھر کے اندر مضبوط رکھتے ہیں۔"
"بیٹا خون کے رشتوں میں حسد نہیں ہونا چاہیے یہ بیماری خون کو سیاہ کر دیتی ہے ۔۔"
پھر وہ رک گئے…
اور جیسے زندگی کا خلاصہ بول دیا ہو:
"بیٹا… مرد ذمہ داری سے بھاگنا نہیں چاہتا… لیکن وہ چاہتا ہے اسے تنہا بھی نہ چھوڑا جائے۔"
"اسے حوصلہ بھی ملے… اور عزت بھی۔"
"اسے گرنے پر ڈانٹا نہ جائے… بلکہ سنبھالا جائے۔"
"ایک عورت چاہتی کہ اس کی آواز سنی جائے… اس کی عزت اہم ہوتی ہے اس کی خاموشی کو کمزوری نہ سمجھا جائے… اس کی فطرت کو سمجھا جائے۔"
"رشتے اگر احترام پر کھڑے ہوں تو گھر جنت بن جاتا ہے…۔"
حضرت علیؓ نے فرمایا:
"لوگوں کے ساتھ ایسے رہو کہ اگر تم مر جاؤ تو وہ تم پر روئیں، اور اگر تم زندہ رہو تو وہ تمہارے ساتھ سکون پائیں۔"
دادا نے میری طرف دیکھا اور آہستہ سے کہا:
"بیٹا… اصل رشتے وہ نہیں ہوتے جو تمہیں اپنے ساتھ باندھ کر رکھیں…"
"اصل رشتے وہ ہوتے ہیں جو تمہیں ٹوٹنے سے پہلے سنبھال لیں۔"
"اگر خونی رشتے آسانی بن جائیں… تو اللہ اس گھر میں اپنی رحمت سے برکت اور سکون پیدا کر دیتا ہے۔"
"اور اگر وہی رشتے بوجھ بن جائیں… تو اس گھر میں اجنبیت جنم لیتی ہے۔"
پھر انہوں نے کہا:
"یاد رکھنا… رشتے ساتھ رہنے کا نام نہیں… ایک دوسرے کا احساس رکھنے کا نام ہیں۔"
میں خاموش تھا…
مگر میرے اندر کی الجھن آہستہ آہستہ ایک سکون میں بدل رہی تھی۔
اور پہلی بار مجھے احساس ہوا کہ
رشتے اگر صحیح ہوں… تو انسان کا ہر قدم درست سمت میں بڑھنے لگتا ہے۔
Be the first to know and let us send you an email when Tourism Lovers posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.