21/01/2026
سعودی عرب آنے کا ارادہ ہے؟
تو پہلے یہ غلط فہمی دماغ سے نکال دو کہ کوئی تمہارا انتظار کر رہا ہے۔ یہاں نہ کوئی ماموں کام آتا ہے، نہ دوست، نہ جان پہچان۔ ہر بندہ اپنی روٹی کی جنگ میں اکیلا کھڑا ہے۔ یہاں آنے کا مطلب ہے اکیلا ہو جانا۔ نہ کوئی پوچھنے والا، نہ سننے والا بھوک لگے گی تو خود برداشت کرو گے، پیاس لگے گی تو خود انتظام کرو گے۔ یہاں کسی کو تمہارے حالات سے ہمدردی نہیں، کیونکہ ہر ایک خود حالات سے لڑ رہا ہے۔ ایئرپورٹ پر اترتے ہی یہ امید رکھنا کہ لوگ استقبال میں کھڑے ہوں گے، نوکریوں کی پلیٹیں اٹھا کر منتیں کریں گے— یہ سب بیوقوفی ہے، خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔ یہ خوابوں کی دنیا نہیں، یہ امتحان گاہ ہے۔ پہلا سال تو انسان صرف یہ سیکھتا ہے کہ سانس کیسے لینی ہے، سمجھ کیسے بوجھ بن جاتی ہے، اور خاموشی کیسے ہنر بن جاتی ہے۔ پیسہ کمانا؟ وہ بعد میں، اگر نصیب اور ہمت نے ساتھ دیا تو۔ یہ مت سمجھو کہ یہاں انسانیت مر چکی ہے، سچ یہ ہے کہ یہاں انسانیت کے پاس وقت نہیں بچا۔ ہر کوئی اپنے زخم چھپا کر کام کر رہا ہے۔ اگر تم مضبوط نہیں ہو، اگر تم تنہائی، ذلت، انتظار اور ناقدری برداشت نہیں کر سکتے،
تو مت آؤ۔ اور اگر آ گئے ہو تو یاد رکھو: یہاں روتا وہی ہے جو کمزور ہوتا ہے، اور جیتتا وہی ہے جو خاموشی سے سب کچھ سہہ لیتا ہے