21/07/2025
💔 ایک اور بیٹی ہار گئی، پگڑیاں جیت گئیں 💔
ڈیڑھ سال پہلے ایک جوڑے نے پسند کی شادی کی...
محبت کی، نکاح کیا، ایک نئے سفر کا آغاز کیا۔
لیکن قبیلے والوں کو یہ محبت گوارا نہ ہوئی۔
دعوت دی — مگر یہ کھانے کی نہیں، "غیرت" دکھانے کی دعوت تھی۔
🥀
ایک سنسان میدان میں لے جا کر کھڑا کیا گیا...
⚔️ جہاں 19 بلوچ مرد موجود تھے،
ان میں سے 5 کے ہاتھوں میں لوڈڈ بندوقیں تھیں۔
🌺 24 سالہ شیتل... بڑی سی چادر میں لپٹی ہوئی،
🕊️ ہاتھ میں قرآن تھامے…
پُرسکون قدموں سے قتل گاہ کی طرف بڑھتی ہے۔
وہ کہتی ہے:
"صرف گولی مارنے کی اجازت ہے... اس کے علاوہ کچھ نہیں"
🩸 مگر کب کسی نے اس کی اجازت لی تھی؟
نہ آنکھوں میں التجا...
نہ لبوں پر چیخ...
نہ پاؤں کانپے...
صرف خاموشی تھی — ایسی کہ چیخیں بھی ہار مان جائیں۔
پھر... 9 گولیاں چلیں 🔫
اور شیتل... خاموشی سے امر ہو گئی۔ 🌹
پھر زرک کی باری آئی...
💔 اسے دوگنا گولیاں ماری گئیں...
صرف اس لیے کہ اس نے اپنے دل کی بات مانی تھی۔
اور یوں... "غیرت" کو "سکون" ملا۔
🙄 قبیلے کی وہی غیرت،
جو اپنی ہی بیٹی کو بے غیرت مردوں کے مجمعے کے سامنے میدان میں لا کھڑا کرتی ہے۔
یہ غیرت نہیں، وحشت ہے...
یہ دستور نہیں، درندگی ہے!
زمانے کے چلن سے برسرِ پیکار عورت ہوں
سو ہر اک مرحلے پر جبر سے دوچار عورت ہوں
مرے اندر نمو پاتی ہیں آنے والی نسلیں بھی
خدا کے بعد میں تخلیق کا کردار عورت ہوں
🌸
📢 اس ظلم پر خاموشی بھی گناہ ہے!
شیئر کریں تاکہ ہر دل تک پہنچے...
🕯️ ایک اور شیتل کو بچانے کے لیے۔