02/11/2025
طالبان کی حماقت سزا افغانوں کو!!!!
جنگ ہمیشہ دو برابر طاقتوں کے درمیان لڑی جاتی ہے، اپنے سے کئی گنا زیادہ طاقتور ملک کے ساتھ تو فٹبال اور کرکٹ کا میچ بھی کھیلا جائے تو انجام بھیانک ہوتا ہے، اگر پاکستان چاہتا تو ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے خلاف آمریکی ہیلی کاپٹرز گرا سکتا تھا، مگر اس کے بعد کے بھیانک انجام سے واقف تھا، ایک دن کے لئیے تو حماس نے بھی حملہ کرکے کچھ اسرائیلی چوکیوں پر کھڑے ہو کر آذان دی دی تھی مگر اس کے بعد اسرائیل نے غزہ کو ملبے کا ڈھیر بنا دیااور لاکھوں فلسطینی شہید کر دئیے بدلے میں حماس نے صرف چند اسرائیلی فوجی مار دئیے،
پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک طویل اور مشکل گزار بارڈر ہے، بارڈر پر آپ پوری بٹالین یا فوجی ساز و سامان ہر وقت کھڑا نہیں کر سکتے، چوکیوں پر موجود 2/3 سپاہیوں پر لاؤ لشکر کے ساتھ حملہ کر کے انہیں شہید کر کے لاش کی بے حرمتی کرکے، کابل میں شہید کی وردی کو لہرا کر جاہل طالبان نے اپنی جہالت کا مظاہرہ تو کر لیا، مگر اس کے بعد کے انجام کیا ہو گئے، ،،؟؟ پاکستان نے صرف ایک دن کی بمباری سے افغانستان کو رونے پر مجبور کر دیااور ساتھ ساتھ پاکستان میں مقیم 40 لاکھ افغانوں کو فوری ملک بدر کرنے کا اٹل فیصلہ کر لیا، یہ خاندان پاکستان میں بہترین کاروبار کر کے ایک خوشحال زندگی گزار رہے تھے، مگر جاہل طالبان کے ایک عمل نے انہیں 50 سال پیچھے دھکیل دیا، انہیں ان کی زندگی بھر کی جمع پونجی سے محروم کر دیا، ان کے بچوں خاص کر لڑکیوں کو اندھیروں میں دھکیل دیا، کیونکہ افغانستان جا کر ان کی بچیاں سکول سے بھی محروم ہو جاینگی،
اس کے علاوہ پاکستان اگر جنگ بندی کے لیئے آمادہ نا ہوتا تو اس وقت تک طالبان ایک بار پھر کابل و قندھار چھوڑ کر پہاڑوں میں فرار ہوتے، افغان باشندے اس وقت اپنی بددعاؤں میں پاکستان سے زیادہ افغان طالبان کو یاد رکھیں کیونکہ ان کے ایک گھٹیا عمل نے ان کی زندگی برباد کر دی،