04/09/2025
اگر اصیل مرغے جنگلوں میں کھلے رہتے تو انکی نسل ختم ہو جاتی؟
میری رائے میں ایسا ہرگز نا ہوتا بلکہ ایسی صورت میں اصیل زیادہ مظبوط، نڈر اور لڑاکو الغرض کہ خالص اصیل ہوتے۔
وہ کیسے، آئیں مل کر اس بات پر غور کرتے ہیں۔
دیکھیں، اصیل مرغا کوئی دنیا کا اکلوتا پرندہ یا جانور نہیں ہے جسکی فطرت میں اللہ نے حاکمیت اور سرداری کی لڑائی میں آخری سانس تک لڑ جانا رکھا ہے بلکہ دنیا کی ایسے بہت سے جانور مثلا شیر، چیتا، کتا، بندر، گھوڑا، بارہ سینگا، بھیڑیا اور بہت سارے ایسے پرندے مثلا مرغا، کبوتر، تیتر اور بیشمار ایسے چرند و پرند ہیں جو کی اپنے کنبے یا قبیلے کا سربراہ ہوتا ہے اور کسی اور نر کو اپنے قبیلے اور علاقے کے قریب بھی نہیں پھٹکنے دیتا اور اگر کوئی نر قبیلے پر قبضے کی کوشش کرے تو پھر لڑائی ہوتی ہے جو دونوں میں سے کسی ایک کی موت یا پسپائی پر اختتام پذیر ہوتی ہے اور جیتتا وہی ہے جو زیادہ مظبوط دل، جسم اور اعصاب کا مالک ہو اور پھر ایسے پرندے یا جانور کی جو نسل بنتی ہے اسکو باپ کی خوبیاں وراثت میں ملتی ہیں اور یقین کریں کہ اگر اصیل جنگلوں میں آزاد پھرتے ہوتے تو وہ ناپید ہو جانے کے بجائے زیادہ خالص اور اصیل ہوتے مگر وہ کیا ہے نا کہ ہم انسان جب تک اچھے خاصے پھلتے پھولتے قدرتی ایکو سسٹم میں انگلی کر کے اسکی ماں بہن ایک نا کر دیں تو ہمیں آرام کہاں آتا ہے؟
لو پھر، ہم نے سب سے پہلے اصیلوں کو پنجروں میں قید کر کے غیر اصیلوں کے ساتھ کراس کروا کے مختلف رنگ اور نسلیں بنائیں جن کو ہم نے میرٹھی، امروہے، لاثانی، کمالیہ بریڈ جیسے نام دیے اور ایسے ایسے رنگ بنائے کہ آسٹریلین طوطے بھی شرما جائیں اور سونے پر سہاگہ یہ ہوا کہ ہم نے مرغوں کو پستے بادام کھلانے کے ساتھ ساتھ نیروبیان کے ٹیکے لگا کر اور مرغوں کو مصنوعی کیل لگا کر لڑانا شروع کر دیا جس سے مقابلہ طاقت اور جگرے کے دم پر خود کو ایلفا میل ثابت کرنے کے بجائے مرغے اور جوئے بازوں کے نصیب اور تکے پر آگیا جسکا فائدہ اصیلوں کو کم اور جنگلی ٹرلوں کو زیادہ ہوا کیونکہ انکے جسم زرا ہلکے ہونے کی وجہ سے انکے اندر اڑنے کی پھرتی اور جنگلوں میں سروائیو کرنے کی وجہ سے زہانت اور مکاری یعنی مرغے کے نیچے چھپ جانا، کندے چیرنا اور چک نا دینے کی صلاحیت اصیلوں سے زیادہ ہے جسکی وجہ سے وہ ایک دو منٹ کے اندر اندر اچھے سے اچھے اصیل کو بھی میدان میں مار دیتے ہیں اور جوئے با