04/07/2026
پاکستان فٹبال میں کیوں پیچھے ہے؟ — کیپ ورڈ سے سیکھنے کی ضرورت
حال ہی میں 2026 فیفا ورلڈ کپ کے راؤنڈ آف 32 میں ایک چھوٹے سے جزیرہ نما ملک کیپ ورڈ (Cape Verde) نے عالمی چیمپیئن ارجنٹینا کے خلاف شاندار مقابلہ کررہا ہے۔ دنیا بھر میں اس ٹیم کی تعریف کی جا رہی ہے کیونکہ تقریباً پانچ سے چھ لاکھ آبادی رکھنے والا یہ ملک پہلی بار ورلڈ کپ میں پہنچا اور ناک آؤٹ مرحلے تک رسائی حاصل کی۔
اس کے برعکس پاکستان کی آبادی تقریباً 26 کروڑ ہے، مگر ہماری قومی فٹبال ٹیم ابھی تک فیفا ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی نہیں کر سکی۔ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اتنی بڑی آبادی رکھنے والا ملک فٹبال میں پیچھے کیوں ہے؟
اس کی سب سے بڑی وجوہات کمزور فٹبال نظام، نوجوان کھلاڑیوں کے لیے مناسب اکیڈمیوں کی کمی، گراس روٹ سطح پر ٹیلنٹ کی تلاش نہ ہونا، انفراسٹرکچر کی کمی، اور انتظامی مسائل ہیں۔ کئی سال تک پاکستان میں فٹبال کی سرگرمیاں بھی متاثر رہیں، جس سے نوجوان کھلاڑیوں کی ترقی رک گئی۔
دوسری طرف کیپ ورڈ نے اپنی محدود آبادی اور وسائل کے باوجود منظم منصوبہ بندی، مضبوط کوچنگ، باقاعدہ لیگ سسٹم، اور نوجوان کھلاڑیوں پر سرمایہ کاری کی۔ بیرون ملک کھیلنے والے اپنے کھلاڑیوں سے بھی بھرپور فائدہ اٹھایا، جس کے نتیجے میں وہ عالمی سطح پر اپنی شناخت بنانے میں کامیاب ہوا۔
پاکستان کے پاس ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں۔ اگر ملک میں اسکول اور کالج کی سطح پر فٹبال کو فروغ دیا جائے، جدید اکیڈمیاں قائم کی جائیں، شفاف انتخاب کا نظام بنایا جائے اور کھلاڑیوں کو مسلسل بین الاقوامی مقابلے فراہم کیے جائیں تو پاکستان بھی مستقبل میں عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل کر سکتا ہے۔
کیپ ورڈ کی کامیابی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ کامیابی صرف آبادی یا وسائل سے نہیں بلکہ بہتر منصوبہ بندی، مستقل محنت اور مضبوط نظام سے حاصل ہوتی ہے۔ اگر ایک چھوٹا سا جزیرہ نما ملک دنیا کی بہترین ٹیموں کا مقابلہ کر سکتا ہے تو پاکستان بھی ضرور کامیاب ہو سکتا ہے، بشرطیکہ ہم اپنے فٹبال نظام کو مضبوط بنائیں اور نوجوان ٹیلنٹ کو صحیح مواقع فراہم کریں۔
پاکستان میں فٹبال کا مستقبل روشن ہو سکتا ہے، لیکن اس کے لیے صرف ٹیلنٹ کافی نہیں بلکہ ایک مضبوط نظام، بہتر قیادت اور طویل المدتی منصوبہ بندی بھی ضروری ہے۔ کیپ ورڈ کی مثال ہمارے لیے ایک سبق ہے کہ چھوٹے ممالک بھی بڑے خواب پورے کر سکتے ہیں۔ :::