29/05/2026
💔 جب بستیاں اجڑتی ہیں تو اِنسانیت روتی ہے: دھرم کی راجنیتی اور ایمان کا امتحان
باندرہ کے ’غریب نگر‘ میں چلنے والا یہ بلڈوزر صرف غریبوں کے آشیانوں پر نہیں، بلکہ اِنسانیت، اِنصاف اور آئینی حقوق کے جنازے پر چلا ہے۔ ریلوے کی زمین کا بہانہ بنا کر دہائیوں سے آباد اِنسانی بستی کو ملبے کا ڈھیر بنا دینا اور خدا کے گھر (مسجد) کو شہید کر دینا کس درجے کی اخلاقی گراوٹ ہے؟
ایک طرف غریبوں کے سروں سے چھت چھینی جا رہی ہے، اور دوسری طرف حکومت کی اپنی خاموشی اور جانبدارانہ کارروائیاں یہ سوال اٹھانے پر مجبور کرتی ہیں کہ آخر وقف کی اُن قیمتی زمینوں پر سے قبضہ کب ہٹے گا جن پر سرکاری عمارتیں اور دیگر منصوبے کھڑے ہیں؟ کیا قانون کی لاٹھی صرف کمزور اور غریب پر ہی چلنے کے لیے ہے؟
یہ منظر نامہ اِس تلخ حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ کس طرح مسلمانوں کو سیاسی طور پر حاشیے پر دھکیلنے اور اُنہیں دوسرے درجے کا شہری محسوس کرانے کی منظم کوششیں کی جا رہی ہیں۔ الیکشن کے وقت مسلمانوں کے نام پر ووٹ بٹورنا، راجنیتی چمکانا اور بعد میں اُنہی کو بے یار و مددگار چھوڑ دینا، یہاں کی سیاست کا ایک افسوسناک ٹرینڈ بن چکا ہے۔ لیکن یاد رکھیے، جب زمینی سہارے چھن جاتے ہیں، تو آسمان والے کا سہارا اور مضبوط ہو جاتا ہے۔
میرے عزیز ناظرین اور فیملی! اِس ویڈیو کو دیکھ کر اپنے دلوں کو ٹوٹنے نہ دیں۔ یہ وقت انیزائٹی (بے چینی) میں مبتلا ہونے کا نہیں، بلکہ اپنے اِیمان �