Islah E muaashrah

Islah E muaashrah muashre ki islaah K liye

17/10/2024

अज़ीज़ नौजवानों को एक अहम नसीहत

✍ शेख़ अब्दुस्सलाम सलफी़ حفظہ اللہ
(अमीर, सूबाई जमीयत अहले हदीस मुंबई)
•─════﷽════─•
❍ इमाम इब्न तैमिय्यह رحمۃ اللہ علیہ फ़रमाते हैं कि:
’’مَنْ لَمْ يَعْرِفْ إلَّا الْخَيْرَ فَقَدْ يَأْتِيهِ الشَّرُّ فَلَا يَعْرِفُ أَنَّهُ شَرٌّ، فَإِمَّا أَنْ يَقَعَ فِيهِ وَإِمَّا أَنْ لَا يُنْكِرَهُ كَمَا أَنْكَرَهُ الَّذِي عَرَفَهُ. وَلِهَذَا قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رضي اللہ عنہ إنَّمَا تُنْقَضُ عُرَى الْإِسْلَامِ عُرْوَةً عُرْوَةً إذَا نَشَأَ فِي الْإِسْلَامِ مَنْ لَمْ يَعْرِفْ الْجَاهِلِيَّةَ‘‘.
वह शख़्स जो सिर्फ खै़र को जानता है, जब शर उसके सामने आए तो वह उस शर को पहचानने से क़ासिर होता है। नतीजा यह होता है कि या तो वह उस शर में मुब्तला हो जाएगा, या उसका इंकार उस जुरअत और बसीरत से नहीं कर पाएगा, जैसा कि वह शख़्स करता है जिसने शर को और उसकी ख़तरनाकी को पहचाना हो।
इसी हक़ीक़त को बयान करते हुए उमर बिन ख़त्ताब رضی اللہ عنہ ने फ़रमाया था कि: ’’इस्लाम की कड़ियां एक-एक करके उस वक़्त टूटती चली जाएंगी, जब ऐसे लोग इस्लाम में परवान चढ़ेंगे जो जाहिलिय्यत की हक़ीक़त से नाआश्ना होंगे‘‘। [मजमूउल फ़तावा: 10/301]
☞ मालूम हुआ कि जो शख़्स खै़र और शर दोनों को नहीं जानता, वह खै़र पर कैसे अमल करेगा? और शर से कैसे बचेगा?
☞ अगर वह सिर्फ खै़र को जानता है और शर के दाइयों को नहीं पहचानता तो शर उस पर ग़ालिब आ जाएगा।
☞ इस लिए यह ज़रूरी है कि हम जानें कि अहले इल्म कौन हैं? और अहले इल्म कौन नहीं हैं? ताकि हम दीन उनसे हासिल करें जिनके इल्म की गवाही उलमा और उम्मत ने दी हो।
❍ सलफ़ सालिहीन फ़रमाया करते थे कि:
’’إِنَّ هَذَا الْعِلْمَ دِينٌ، فَانْظُرُوا عَمَّنْ تَأْخُذُونَ دِينَكُمْ‘‘.
यह इल्म दीन है, लिहाज़ा इस इल्म दीन को हासिल करने से पहले देख लो कि तुम किनसे इल्म हासिल कर रहे हो।
[मुक़द्दमा सहीह मुस्लिम]
☞ यानी देख लो कि वह सिखाने वाला अहले सुन्नत में से है या नहीं? अगर वह अहले बिदअत में से है तो दीन भी उससे न सीखो।
❍ इब्न सीरीन رحمۃ اللہ علیہ फ़रमाते हैं कि:
’’لَمْ يَكُونُوا يَسْأَلُونَ عَنِ الْإِسْنَادِ، فَلَمَّا وَقَعَتِ الْفِتْنَةُ قَالُوا: سَمُّوا لَنَا رِجَالَكُمْ فَيُنْظَرُ إِلَى أَهْلِ السُّنَّةِ فَيُؤْخَذُ حَدِيثُهُمْ، وَيُنْظَرُ إِلَى أَهْلِ الْبِدَعِ فَلَا يُؤْخَذُ حَدِيثُهُمْ‘‘.
पहले लोग इसनाद के बारे में सवाल नहीं करते थे, लेकिन जब फ़ितना (मक़्तल उस्मान बिन अफ़्फ़ान رضی اللہ عنہ) वाक़े हुआ, तो कहा जाने लगा कि: हमें अपने रावियों के नाम बताओ, फिर देखा जाता कि अगर वह अहले सुन्नत में से हैं, तो उनकी हदीस क़ुबूल की जाती, और अगर वह अहले बिदअत में से होते, तो उनकी हदीस क़ुबूल न की जाती‘‘।
[मुक़द्दमा सहीह मुस्लिम]
☞ क्योंकि वह दीन के नाम पर कोई नई चीज़ सिखा देगा, वह दीन में बिदअत दाखिल कर देगा और यूं दीन बर्बाद हो जाएगा।

✺ अल्लाह से दुआ है कि रब्बुल आलमीन! हमें फ़ितनों के इस दौर में साबित क़दम रखे, और हमें मुअतबर उलमा से जुड़े रहने की तौफ़ीक़ दे, इल्म हम उन्हीं से सीखें जिनके इल्म की गवाही उलमा ने दी है और जिन्हें उम्मत ने क़ुबूल किया है। और अल्लाह हमें उनसे बचने की तौफ़ीक़ दे जिनके इल्म को उम्मत ने मुस्तरद कर दिया है, और जिनका इल्म उम्मत और जमाअत के लिए ख़तरा है।
ऐ रब्बुल आलमीन! हमें हमेशा तेरे सही दीन और तेरे नबी ﷺ की सुन्नत पर क़ायम रख, सहाबा किराम के मस्लक और तरीक़े पर चलने की तौफ़ीक़ अता फ़रमा। और जब भी हमारी मौत आए, हमें इसी दीन पर मौत दे। आमीन।

[ख़ुत्बा-ए-जुमा 4 अक्टूबर 2024 से एक इक्तिबास]
┈┉┅━━━❁━━━┅┉┈

17/10/2024

❁ *`علم سے نفع اٹھانا اور اس پر عمل کرنا`* ❁

روایت ہے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے

*`رسول اللہ ﷺ نے فرمایا`*

جس نے علم کو علماء پر فخر کرنے، اور بیوقوفوں سے بحث و تکرار کرنے، اور لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے سیکھا، اللہ اسے جہنم میں داخل کرے گا۔

*`سنن ابن ماجہ : 260 ( الشيخ الألباني : حسن )`*
𓏼𓏼𓏼𓏼𓏼𓏼𓏼𓏼𓏼𓏼𓏼𓏼𓏼𓏼𓏼𓏼𓏼𓏼𓏼𓏼𓏼𓏼𓏼𓏼𓏼

♥️ 🟩ㅤ 📩 📤
ˡᶦᵏᵉ ᶠᵒˡˡᵒʷᵉʳ ˢᵃᵛᵉ ˢʰᵃʳᵉ

*`جـــــزَاڪــــم الله خَـــــــــيْراً`*

https://youtu.be/Q55AIjDDqA4_DQS Media Presents_*KHUTBA-E-JUMA*2nd May 2024*الیکشن اور مسلمان**Election aur Musalman*by ...
07/05/2024

https://youtu.be/Q55AIjDDqA4
_DQS Media Presents_
*KHUTBA-E-JUMA*
2nd May 2024

*الیکشن اور مسلمان*
*Election aur Musalman*
by _Shaikh Shaikh Sarfaraz Faizi_
Website : *dqsmedia.com*

*youtube.com/DQSMedia*

Facebook: https://m.facebook.com/dqsmedia

Abdul Ahad Sanabili #خطبہ...

01/09/2020
17/08/2016
27/06/2016

بیوی اور شوہر کی محبت
کسی جگہ ایک بوڑھی مگر سمجھدار اور دانا عورت رہتی تھی جس کا خاوند اُس سے بہت ہی پیار کرتا تھا۔
دونوں میں محبت اس قدر شدید تھی کہ اُسکا خاوند اُس کیلئے محبت بھری شاعری کرتا اور اُس کیلئے شعر کہتا تھا۔
عمر جتنی زیادہ ہورہی تھی، باہمی محبت اور خوشی اُتنی ہی زیادہ بڑھ رہی تھی۔
جب اس عورت سے اُس کی دائمی محبت اور خوشیوں بھری زندگی کا راز پوچھا گیا
کہ آیا وہ ایک بہت ماہر اور اچھا کھانا پکانے والی ہے؟
یا وہ بہت ہی حسین و جمیل اور خوبصورت ہے؟
یا وہ بہت زیادہ عیال دار اور بچے پیدا کرنے والی عورت رہی ہے؟
یا اس محبت کا کوئی اور راز ہے؟
تو عورت نے یوں جواب دیا کہ
خوشیوں بھری زندگی کے اسباب اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی ذات کے بعد خود عورت کے اپنے ہاتھوں میں ہیں۔ اگر عورت چاہے تو وہ اپنے گھر کو جنت کی چھاؤں بنا سکتی ہے اوراگر یہی عورت چاہے تو اپنے گھر کو جہنم کی دہکتی ہوئی آگ سےبھی بھر سکتی ہے۔
مت سوچیئے کہ مال و دولت خوشیوں کا ایک سبب ہے۔ تاریخ کتنی مالدار عورتوں کی کہانیوں سے بھری پڑی ہے جن کے خاوند اُن کو اُنکے مال متاب سمیت چھوڑ کر کنارہ کش ہو گئے۔
اور نا ہی عیالدار اور بہت زیادہ بچے پیدا کرنے والی عورت ہونا کوئی خوبی ہے۔ کئی عورتوں نے دس دس بچے پیدا کئے مگر نا خاوند اُنکے مشکور ہوئے اور نا ہی وہ اپنے خاوندوں سے کوئی خصوصی التفات اور محبت پا سکیں بلکہ طلاق تک نوبتیں جا پہنچیں۔
اچھے کھانا پکانا بھی کوئی خوبی نہیں ہے، سارا دن کچن میں رہ کرمزے مزے کے کھانے پکا کر بھی عورتیں خاوند کے غلط معاملہ کی شکایت کرتی نظر آتی ہیں اور خاوند کی نظروں میں اپنی کوئی عزت نہیں بنا پاتیں۔
تو پھر آپ ہی بتا دیں اس پُرسعادت اور خوشیوں بھری زندگی کا کیا راز ہے؟ اور آپ اپنے اورخاوند کے درمیان پیش آنے والے مسائل اور مشاکل سے کس طرح نپٹا کرتی تھیں؟
اُس نے جواب دیا: جس وقت میرا خاوند غصے میں آتا تھا اور بلا شبہ میرا خاوند بہت ہی غصیلا آدمی تھا، میں اُن لمحات میں ( نہایت ہی احترام کے ساتھ) مکمل خاموشی اختیار کر لیا کرتی تھی۔ یہاں ایک بات واضح کر دوں کہ احترام کےساتھ خاموشی کا یہ مطلب ہے کہ آنکھوں سے حقارت اور نفرت نا جھلک رہی ہو اور نا ہی مذاق اور سخریہ پن دکھائی دے رہا ہو۔ آدمی بہت عقلمند ہوتا ہے ایسی صورتحال اور ایسے معاملے کو بھانپ لیا کرتا ہے۔
اچھا تو آپ ایسی صورتحال میں کمرے سے باہر کیوں نہیں چلی جایا کرتی تھیں؟
اُس نے کہا: خبردار ایسی حرکت مت کرنا، اس سے تو ایسا لگے گا تم اُس سے فرار چاہتی ہو اور اُسکا نقطہ نظر نہیں جاننا چاہتی، خاموشی تو ضروری ہے ہی، اس کے ساتھ ساتھ خاوند جو کچھ کہے اُسے نا صرف یہ کہ سُننا بلکہ اُس کے کہے سے اتفاق کرنا بھی اُتنا ہی اشد ضروری ہے۔ میرا خاوند جب اپنی باتیں پوری کر لیتا تو میں کمرے سے باہر چلی جایا کرتی تھی، کیونکہ اس ساری چیخ و پکار اور شور و شرابے والی گفتگو کے بعد میں سمجھتی تھی کہ اُسے آرام کی ضرورت ہوتی تھی۔ کمرے سے باہر نکل کر میں اپنے روزمرہ کے گھریلو کام کاج میں مشغول ہو جاتی تھی، بچوں کے کام کرتی، کھانا پکانے اور کپڑے دھونے میں وقت گزارتی اور اپنے دماغ کو اُس جنگ سے دور بھگانے کی کوشش کرتی جو میری خاوند نے میرے ساتھ کی تھی۔
تو آپ اس ماحول میں کیا کرتی تھیں؟ کئی دنوں کیلئے لا تعلقی اختیار کرلینا اور خاوند سے ہفتہ دس دن کیلئے بول چال چھوڑ دینا وغیرہ؟
اُس نے کہا: نہیں، ہرگز نہیں، بول چال چھوڑ دینے کی عادت انتہائی گھٹیا فعل اور خاوند کے ساتھ تعلقات کو بگاڑنے کیلئے دو رُخی تلوار کی مانند ہے۔ اگر تم اپنے خاوند سے بولنا چھوڑ دیتی ہو تو ہو سکتا ہے شروع شروع میں اُس کیلئے یہ بہت ہی تکلیف دہ عمل ہو۔ شروع میں وہ تم سے بولنا چاہے گا اور بولنے کی کوشش بھی کرے گا۔ لیکن جس طرح دن گزرتے جائیں گے وہ اِس کا عادی ہوتا چلا جائے گا۔ تم ایک ہفتہ کیلئے بولنا چھوڑو گی تو اُس میں تم سے دو ہفتوں تک نا بولنے کی استعداد آ جائے گی اور ہو سکتا ہے کہ تمہارے بغیر بھی رہنا سیکھ لے۔ خاوند کو ایسی عادت ڈال دو کہ تمہارے بغیر اپنا دم بھی گھٹتا ہوا محسوس کرے گویا تم اُس کیلئے آکسیجن کی مانند ہو اور تم وہ پانی ہو جس کو پی کر وہ زندہ رہ رہا ہے۔اگر ہوا بننا ہے تو ٹھنڈی اور لطیف ہوا بنو نا کہ گرد آلود اور تیز آندھی۔
اُس کے بعد آپ کیا کیا کرتی تھیں؟
اُس عورت نے کہا: میں دو گھنٹوں کے بعد یا دو سے کچھ زیادہ گھنٹوں کے بعد جوس کا ایک گلاس یا پھر گرم چائے کا یک کپ بنا کر اُس کے پاس جاتی، اور اُسے نہایت ہی سلیقے سے کہتی، لیجیئے چائے پیجیئے۔ مجھے یقین ہوتا تھا کہ وہ اس لمحے اس چائے یا جوس کا متمنی ہوتا تھا۔ میرا یہ عمل اور اپنے خاوند کے ساتھ گفتگو اسطرح ہوتی تھی کہ گویا ہمارے درمیان کوئی غصے یا لڑائی والی بات ہوئی ہی نہیں۔
جبکہ اب میرا خاوند ہی مجھ سے اصرار کر کے بار بار پوچھتا تھا کہ کیا میں اُس سے ناراض تو نہیں ہوں۔جبکہ میرا ہر بار اُس سے یہی جواب ہوتا تھا کہ نہیں میں تو ہرگز ناراض نہیں ہوں۔ اسکے بعد وہ ہمیشہ اپنے درشت رویئے کی معذرت کرتا تھا اور مجھ سے گھنٹوں پیار بھری باتیں کرتا تھا۔
تو کیا آپ اُس کی ان پیار بھری باتوں پر یقین کر لیتی تھیں؟
ہاں، بالکل، میں اُن باتوں پر بالکل یقین کرتی تھی۔ میں جاہل نہیں ہوں۔
کیا تم یہ کہنا چاہتی ہو کہ میں اپنے خاوند کی اُن باتوں پر تو یقین کر لوں جو وہ مجھ سے غصے میں کہہ ڈالتا تھا اور اُن باتوں پر یقین نا کروں جو وہ مجھے پر سکون حالت میں کرتا تھا؟
تو پھر آپکی عزت اور عزت نفس کہاں گئی؟
کاہے کی عزت اور کونسی عزت نفس؟ کیا عزت اسی کا نام ہے تم غصے میں آئے ہوئے ایک شخص کی تلخ و ترش باتوں پر تو یقین کرکے اُسے اپنی عزت نفس کا مسئلہ بنا لومگر اُس کی اُن باتوں کو کوئی اہمیت نا دو جو وہ تمہیں پیار بھرے اور پر سکون ماحول میں کہہ رہا ہے!
میں فوراً ہی اُن غصے کی حالت میں دی ہوئی گالیوں اور تلخ و ترش باتوں کو بھلا کر اُنکی محبت بھری اور مفید باتوں کو غور سے سنتی تھی۔
جی ہاں، خوشگوار اور محبت بھری زندگی کا راز عورت کی عقل کے اندر موجود تو ہے مگر یہ راز اُسکی زبان سے بندھا ہوا ہے.

Address

Kauwapur Jainagra
Balrampur
271205

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Islah E muaashrah posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share