Nasim khushi

Nasim khushi news media blogger

20/01/2026

#

20/01/2026

جون ایلیا
عمر گزرے گی امتحان میں کیا
داغ ہی دیں گے مجھ کو دان میں کیا

میری ہر بات بے اثر ہی رہی
نقص ہے کچھ مرے بیان میں کیا

مجھ کو تو کوئی ٹوکتا بھی نہیں
یہی ہوتا ہے خاندان میں کیا

اپنی محرومیاں چھپاتے ہیں
ہم غریبوں کی آن بان میں کیا

خود کو جانا جدا زمانے سے
آ گیا تھا مرے گمان میں کیا

شام ہی سے دکان دید ہے بند
نہیں نقصان تک دکان میں کیا

اے مرے صبح و شام دل کی شفق
تو نہاتی ہے اب بھی بان میں کیا

بولتے کیوں نہیں مرے حق میں
آبلے پڑ گئے زبان میں کیا

خامشی کہہ رہی ہے کان میں کیا
آ رہا ہے مرے گمان میں کیا

دل کہ آتے ہیں جس کو دھیان بہت
خود بھی آتا ہے اپنے دھیان میں کیا

وہ ملے تو یہ پوچھنا ہے مجھے
اب بھی ہوں میں تری امان میں کیا

یوں جو تکتا ہے آسمان کو تو
کوئی رہتا ہے آسمان میں کیا

ہے نسیم بہار گرد آلود
خاک اڑتی ہے اس مکان میں کیا

یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتا
ایک ہی شخص تھا جہان میں کیا

26/09/2025

❤️❤️❤️

وہ یوں ملا بظاہر خفا خفا سا لگانجانے کیوں وہ مجھے باوفا سا لگاسلام اس نے نہ لیا مگر مزاج پوچھایہ بے رخی کا سلیقہ بھی کچھ...
23/09/2025

وہ یوں ملا بظاہر خفا خفا سا لگا
نجانے کیوں وہ مجھے باوفا سا لگا

سلام اس نے نہ لیا مگر مزاج پوچھا
یہ بے رخی کا سلیقہ بھی کچھ بھلا سا لگا۔
Nasim Akhtar Chotu

20/09/2025

ये कौन राह में बैठे हैं मुस्कुराते हैं
मुसाफ़िरों को ग़लत रास्ता बताते हैं
तेरे लगाये हुए ज़ख़्म क्यों नहीं भरते
मेरे लगाये हुए पेड़ सूख जाते हैं
कोई तुम्हारा सफ़र पर गया तो पूछेंगे
के रेल गुज़रे तो हम हाथ क्यों हिलाते हैं
तहज़ीब हाफ़ी❤️😑

16/09/2025

16/09/2025

Address

Giridih
825322

Telephone

+919065183380

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Nasim khushi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Nasim khushi:

Share