Media Plus Communications

Media Plus Communications Advertising, Branding and marketing agency for some of finest brands and businesses. Since 1999. At Media Plus, we believe today is for better tomorrow.

Media Plus, founded in 1998, is the first agency in Telangana to offer Advertising, Public Relations and a modern auditorium - all under one roof. Media Plus has a peerless portfolio of turn-key services in Print Advertising and Media Management. We are proud to have been the lifeline of several businesses in their challenging times and many more then in their infancy!

18 years down the timeline,

today Media Plus has opened its wings to higher skies and wider reach with the infusion of young minds and the expertise of veteran journalists. As a full-fledged advertising and PR agency, Media Plus boasts a communication network that sprawls all across the nation. We have re-invented our Media and PR system to conferences, symposiums, seminars and meetings and make them matter. We have also expanded our linguistic department to offer services in English, Urdu, Telugu and Hindi languages. At Media Plus, we work hard to meet deadlines, deliver beyond expectations and do overwhelming justice to your investment. With several government, non-government, public and private organizations from various verticals forming our clientele, we have expanded our services to make Media Plus a single-window media house for all your publicity, media and press needs including the scripting and design of advertisements, brochures, banners, magazines and even multimedia presentations tailored to your business needs.We take joy in delivering turn-key solutions to your Press and Media needs.

Some moments of light don't happen above us.They happen among us. On Stage.In Events.Let's make your events a little mor...
17/02/2026

Some moments of light don't happen above us.
They happen among us.
On Stage.
In Events.

Let's make your events a little more happening.
Media Plus Auditorium, Gunfoundry, Hyderabad

For bookings, call or WhatsApp us at 096528 28710

Want a picture-perfect venue for your next event? We've got it covered!Great lighting and elegant interiors are two of t...
02/09/2025

Want a picture-perfect venue for your next event? We've got it covered!
Great lighting and elegant interiors are two of the many things at Media Plus Auditorium that make your event a little more happening!

For bookings, DM, call or WhatsApp us at +91-9652828710

You've got brilliance. We've got ambience.Let's make your next event a little more happening.Book your next event at Med...
29/08/2025

You've got brilliance. We've got ambience.
Let's make your next event a little more happening.

Book your next event at Media Plus Auditorium,. For bookings and enquiries, DM or WhatsApp 96528 28710.

ہریانہ۔کشمیر: الیکشن2024کے بعدڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز، حیدرآباد۔ فون :9395381226  جموں و کشمیر اور ہریانہ کے اسمبلی ان...
09/10/2024

ہریانہ۔کشمیر: الیکشن2024کے بعد
ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز، حیدرآباد۔ فون :9395381226
جموں و کشمیر اور ہریانہ کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی نے شاندار مظاہرہ کیا ہے۔ ہریانہ میں اس نے کانگریس کے حلق سے کامیابی چھین لی ہے۔ جبکہ جموں و کشمیر میں اگرچہ کہ اپنی پہلی حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہی مگر جموں علاقہ میں اس نے 29نشستوں پر کامیابی حاصل کی جو اس کی بہت بڑی کامیابی سمجھی جائے گی۔ اس کے علاوہ جموں و کشمیر میں مجموعی طور پر 26فیصد ووٹ حاصل کئے۔ حالانکہ کشمیر سے اسے صرف 2.2فیصد ووٹ ملے۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ کشمیر میں ابھی بی جے پی کو اپنے خوابوں کو پورا کرنے کے لئے دو الیکشن اور انتظار کرنا پڑے گا۔ دوسری طرف حکومت تشکیل دینے والی نیشنل کانفرنس اور کانگریس اتحاد نے 23فیصد ووٹ حاصل کئے۔ جموں میں پہلے ہی سے ہندوتوا لہر رہی اور اس مرتبہ الیکشن میں اسے کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ ہندوتوا تحریک کو تقویت ملتی جارہی ہے۔ ہریانہ میں کانگریس کی کامیابی کے امکانات اس قدر روشن تھے یا ظاہر کئے گئے تمام ایجنسیوں نے اپنے ایگزٹ پول میں ہریانہ میں کانگریس کے حکومت کی پیشن گوئی کی تھی۔ مگر آخر وقت تک تختہ پلٹ گیا۔ کانگریس نے اپنی شکست کی ذمہ داری الیکشن کمیشن پر ڈالی ہے۔ اگر ہریانہ کی کانگریس کی امکانی چیف منسٹر کے عہدہ کے دعویدار شلیجا نے دوٹوک لہجہ میں کہا کہ پارٹی کو نئے سرے سے اپنی شکست کا جائزہ لینا ہوگا اور پوری دیانت داری کے ساتھ محاسبہ کرنا ہوگا۔ اگرچہ کہ کانگریس ورکرس نے گاؤں گاؤں پھرکر انتخابی مہم چلائی مگر تمام محنتیں ضائع ہوگئیں۔ ہریانہ میں کانگریس کی کامیابی اس لئے یقینی سمجھی جارہی تھی کہ کسان اور جاٹ برادری کا بظاہر اسے ساتھ نظر آرہا تھا۔ مگر انتخابی نتائج سے اندازہ ہوگیا کہ کسانوں کا غصہ پولنگ کے دن شاید ختم ہوگیا تھا۔ ہریانہ میں تیسری بار اقتدار اور جموں و کشمیر میں بہتر مظاہرے نے نریندر مودی کی امیج کو بڑی حد تک بحال کیا جو حالیہ لوک سبھا انتخابات میں متاثر ہوا تھا۔ راہول گاندھی کا جو امیج بنا تھا وہ اسمبلی انتخابات میں متاثر ہوگیا۔ ان دو ریاستوں میں بی جے پی اور اس کی اتحادی جماعتوں کی کامیابی کے بعد مہاراشٹرا کے عنقریب ہونے والے انتخابات میں پارٹی کو یقینی طور پر فائدہ ہوسکتا ہے۔ دیویندر فڈنویس نے انتخابی نتائج کے بعد طنزیہ ریمارک کیا ہے کہ راہول گاندھی کے اپوزیشن لیڈر بننے کے بعد عوام نے انہیں سبق سکھایا ہے۔
ہریانہ میں ونیش پھوگاٹ کی کامیابی کو اہمیت دی جارہی ہے کہ کیوں کہ بی جے پی کی تمام طاقتیں ونیش پھوگاٹ کو شکست دینے کیلئے ایک ہوگئی تھیں۔ ونیش پھوگاٹ نے ریسلنگ فاؤنڈیشن کے صدر کے خلاف عوامی احتجاج کیا تھا۔ اولمپکس مقابلوں میں شاندار مظاہرہ کے باوجود وہ 100 گرام وزن کے اضافہ کی وجہ سے سیمی فائنل مقابلہ میں شرکت کے لئے نااہل قرار دی گئی تھی۔ عام طور پر یہ سمجھا جارہا تھا کہ ونیش پھوگاٹ کو میڈلس سے محروم کرنے کے بی جے پی کا کوئی نہ کوئی رول ضرور ہے۔ ونیش پھوگاٹ میڈل سے محروم ضرور ہوئیں مگر انہیں ہندوستانی عوام کے علاوہ دنیا بھر کے اسپورٹس مین کی ہمدردی حاصل ہوئی۔ ہریانہ میں ان کا شاندار استقبال کیا گیا اور جولانا اسمبلی حلقہ سے کانگریس کی ٹکٹ پر وہ 6000 ووٹوں سے کامیاب ہوئیں۔ ہریانہ اسمبلی انتخابات میں پانچ مسلم امیدواروں کی کامیابی بھی اہم ہے۔ جہاں تک جموں و کشمیر کا تعلق ہے دس سال میں پہلی بار اسمبلی الیکشن ہوئے جبکہ جموں و کشمیر مرکز کے زیر انتظام علاقے بن گئے ہیں۔
پارلیمانی انتخابات میں بی جے پی کو خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی تھی مگر اسمبلی انتخابات میں اس نے تمام حساب چکتا کردیا۔ جموں و کشمیر کے عوام ابتداء ہی سے مسائل کا شکار رہے ہیں۔ مسلم اکثریتی آبادی والی یہ ریاست پہلے راجہ ہری سنگھ کے مظالم کا شکار بنے۔ ہندوستان کی تقسیم کے بعد ہند پاک کے درمیان پہلی جنگ اور کشمیر کی تقسیم نے حالات کو اور بھی بگاڑ دیا۔ پاکستان نے مسلم آبادی کے مذہبی جذبات کا استحصال کیا اور اس کا خمیازہ کشمیری مسلمانوں کو نسل درنسل بھگتنا پڑا۔ ہر سیاسی جماعت نے یہاں کے عوام کا استحصال کیا۔ ٹائمز آف انڈیا کے ایک تحقیقاتی مضمون کی مطابق جموش و کشمیر کی تاریخ میں پانچ وزرائے اعظم، 13چیف منسٹرس اور 11گورنرس رہے۔ مہر چندر مہاجن اکتوبر 1947ء مارچ 1948ء تک پہلے وزیر اعظم رہے۔ شیخ محمد عبداللہ جو شیر کشمیر کے نام سے مشہور ہوئے 48سے 53 تک وہ وزیر اعظم رہے۔ ہندوستان جب جمہوریہ بن گیا تب دفعہ 370کے تحت جموں و کشمیر کو خصوصی موقف عطا کیا گیا۔ 1953ء سے 1963ء تک بخشی غلام محمد،خواجہ شمس الدین، غلام محمد صادق وزیر اعظم کے عہدہ پر قائم رہے۔ سید میر قاسم 1971ء میں پہلے چیف منسٹر بنے۔ اور شیخ محمد عبداللہ نے مسز اندرا گاندھی سے معاملت کے بعد 1975ء میں چیف منسٹر کا عہدہ سنبھالا۔ جموں و کشمیر کی تباہی و بربادی میں گورنرس نے انتہائی منفی رول ادا کیا۔ یہ ہمیشہ سے مرکز کے ایجنٹ رہے ہیں جن کا کام ریاستی معاملات میں دخل اندازی اور مرکز کی ایماء پر حکومتوں کا تختہ الٹنا اور گورنر راج کی سفارش کرنا رہا ہے۔ جموں و کشمیر کو دہشت گردوں کے مرکز کے طور پر گورنر جگموہن نے تبدیل کیا۔ 198ء میں پہلی بار وہ گورنر بنے تو ریاست کی تاریخ میں پہلی بار ہندوؤں کو دہشت گردوں کے ہاتھوں ہلاک کا سلسلہ شروع ہوا جس کی وجہ سے ریاست میں صدر راج نافذ ہوا۔ 1989ء میں وہ دوسری بار کشمیری عوام پر مسلط کئے گئے تو پاکستانی تربیت یافتہ انتہا پسند کشمیر میں داخل ہوئے اور تبھی سے کشمیری پنڈتوں نے ریاست سے نقل مکانی شروع کی۔ چیف منسٹر کی حیثیت سے فاروق عبداللہ ہو ا مفتی سعید محبوبہ مفتی، غلام نبی آزاد یا عمر عبداللہ کسی نے کشمیر کے حالات کو بہتر بنانے کی کوشش نہیں کی۔ پاکستان کے تربیت یافتہ عسکریت پسند ہنگامہ آرائی کرتے رہے۔ میڈیا پروپگنڈہ کرتا رہا۔ فوج اور سیکوریٹی فورسس کے جوان نوجوانوں اور کشمیری خواتین پر مظالم ڈھاتے رہے۔ جانے کتنے بار کرفیو نافذ رہا۔کشمیری عوام بالخصوص مسلمان مظالم سہتے رہے۔ بی جے پی کی مرکزی حکومت نے دفعہ 370 برخواست کیا۔ کشمیریوں سے ان کا خصوصی موقف چھین لیا گیا۔ ریاست کو مرکز کے زیر انتظام علاقہ میں تبدیل کیا گیا۔ اور اب مرکز کے زیر انتظام علاقہ میں انتخابات ہوئے تو عمر عبداللہ جو کہ چیف منسٹر کا عہدہ سنبھالیں گے۔ انہیں یقین ہے کہ مرکزی حکومت جموں و کشمیر کے ریاستی موقف کو بحال کرے گی۔نیشنل کانفرنس اور کانگریس اتحاد سے تشکیل دی جانے والی حکومت مرکز سے کسی قسم کے ٹکراؤ کے حق میں نہیں ہے‘ اور انہوں نے یہ کہہ دیا ہے کہ مرکز سے ٹکراکر کچھ حاصل ہونے والا نہیں ہے۔ خوشگوار تعلقات کے ذریعہ ریاست کی ترقی کے لئے کام کئے جاسکتے ہیں۔
جموں و کشمیر کے پارلیمانی اور اسمبلی انتخابات کے نتائج میں حیرت انگیز تبدیلی دیکھی گئی۔جیل سے بارہمولہ پارلیمانی علاقہ کا الیکشن جیتنے والے انجینئر رشیدجنہیں کچھ دن کے لئے ضمانت پر رہا کیا گیا تھا‘جنہیں اسمبلی الیکشن میں بھی نیشنل کانفرنس کی شکست کا یقین تھا‘ انہیں اس وقت دھکا لگا جب ان کے اپنے بھائی خورشید احمد شیخ عوامی اتحاد پارٹی کے امیدوار کی حیثیت سے ہار گئے۔رشید انجینئر جنہوں نے پارلیمانی الیکشن میں جنہیں ہرایا تھا وہ اسمبلی الیکشن میں آسانی جیت گئے
الیکشن 2024ء میں شکست علیحدگی پسند عناصر کو ہوئی۔جماعت اسلامی کے سابق 10 ارکان کو شکست فاش ہوئی۔ ان میں جماعت کے سابق سکریٹری جنرل سیارریشی شامل ہیں‘ جنہیں سی پی ایم کے محمد یوسف تریگامی نے کولگام حلقہ سے ہرایا۔ یوسف تریگامی مسلسل پانچویں مرتبہ کولگام حلقہ سے کامیاب ہوئے ہیں۔جماعت اسلامی کے تائیدی امیدوار ماجد علی کو پی ڈی پی کے مقابلہ میں شکست ہوئی۔ افضل گرو جنہیں 2013ء میں پھانسی کی سزا دی گئی تھی‘ ان کے بھائی اعجاز احمد گروسوپور سے ہارگئے۔ علیحدگی پسند مولوی سرجان احمدواگے کو عمرعبداللہ نے گندربل سے شکست دی۔تحریک حریت سے کبھی وابستہ رہے ظفر حبیب ڈار جنہوں نے جموں اینڈ کشمیر اپنی پارٹی کے امیدوار کی حیثیت سے مقابلہ کیا۔ وہ بھی ہار گئے۔ جے کے ایل ایف کے سابق کمانڈر محمد فاروق خان عرف سیف اللہ جنہوں نے سماج وادی پارٹی کے امیدوار کی حیثیت سے مقابلہ کیا‘ نیشنل کانفرنس کی شمیم فردوس سے ہار گئے۔ وہ 1989 کے اُن اولین عسکریت پسندوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے مقبوضہ کشمیر میں عسکری تربیت حاصل کی آج انہیں اس بات پر افسوس ہے کہ وہ پڑوسی ملک کے آلہ کار بنے۔
جموں و کشمیر میں جس طرح عبداللہ خاندان تین نسلوں سے سیاست میں ہے‘ اسی طرح مفتی خاندان بھی اتنی ہی عرصہ سے میدان سیاست میں ہے۔مفتی سعید کشمیر کے چیف منسٹر بھی رہے اور مرکزی حکومت میں وزیر داخلہ بھی رہے۔ اور دلچسپ ہی نہیں‘ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ان کی اپنی بیٹی روبیاسعید کا عسکریت پسندوں نے اغوا کرلیا تھا۔ مفتی سعید کے بعد محبوبہ مفتی کو بھی ریاست کے چیف منسٹر کے طور پر خدمات انجام دینے کا موقع ملا۔ مفتی خاندان کی تیسری نسل التجا مفتی میدان میں اُتاری گئیں‘ جنہیں شکست کی تلخی ملی۔ پی ڈی پی کو صرف 3نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی۔جموں و کشمیر نے اروندکجریوال کے آنسو پوچھے۔ انہیں کم از کم ایک نشست پر کامیابی ضرور ملی ورنہ ہریانہ میں ان کا کوئی امیدوار کامیاب نہیں ہوسکاتھا۔جموں و کشمیر کے انتخابی نتائج جو بھی ہیں‘ یہاں کے عوام نے نئی امیدوں کے ساتھ اپنے دستوری حق کا استعمال کیا ہے۔ ان کے ساتھ انصاف ہونا چاہئے۔ ریاستی حکومت‘ مرکزی حکومت کے باہمی اشتراک سے کشمیر کو دوبارہ جنت ارضی بنانے کیلئے اقدامات کئے جانے چاہئیں

09/10/2024
03/10/2024

Watch National award-winning Bollywood actor Ashish Vidyarthi's review of Media Plus Auditorium ✨🎤and discover why it’s Hyderabad's top choice for standup comedy and others events! 🙌

🎥 Watch the video : https://youtu.be/oE-4mnNekg0

P.S: For bookings, call or WhatsApp us at +and +91-9652828710 or +91-7013634699

03/10/2024

Watch National award-winning Bollywood actor Ashish Vidyarthi's review of ✨🎤 Media Plus Auditorium ✨🎤and discover why it’s Hyderabad's top choice for standup comedy and others events! 🙌

🎥 Watch the video : https://youtu.be/oE-4mnNekg0

P.S: For bookings, call or WhatsApp us at +and +91-9652828710 or +91-7013634699

اویسی۔مدنی‘اپنے اپنے ظرفِ محبت کی بات ہےڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز، حیدرآًاد۔ فون:9395381226 مولانا محمود مدنی کے ایک چیا...
02/10/2024

اویسی۔مدنی‘اپنے اپنے ظرفِ محبت کی بات ہے
ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز، حیدرآًاد۔ فون:9395381226
مولانا محمود مدنی کے ایک چیانل کو دیئے گئے انٹرویو کے دوران بیرسٹر اسدالدین اویسی سے متعلق جن خیالات کا اظہار کیا گیا ان پر کافی تنقید ہورہی ہے۔ بلکہ جمعےۃ العلمائے ہند سے وابستہ بعض اہم شخصیات نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے جمعےۃ سے استعفیٰ بھی دیا ہے۔ محمود مدنی نے جن خیالات کا اظہار کیا کہ ان کے اپنے ہیں اور تعریف اس بات کی کی جانی چاہئے کہ انہوں نے اپنے خیالات کا کھل کر اظہار کیا۔ حالانکہ وہ انٹرویو لینے والے کے جال میں پھانس لئے گئے تھے۔ عام طور پر شاطر اور شرپسند قسم کے صحافی ایسا ہی کام کرتے ہیں۔ وہ لقمہ دے کر الفاظ اُگلواتے ہیں۔ اور پھر ان کی ٹی آر پی اور انٹرویو دینے والے کی مخالفت بڑھتی جاتی ہے۔ محمود مدنی سے اختلاف ہوسکتا ہے۔ مگر انہوں نے منافقت نہیں کی۔ اگرچہ کہ وہ اسد صاحب کی سیاست سے متعلق کئے گئے سوال ٹال سکتے تھے یا مبہم جواب دے سکتے تھے۔ جوبھی ہوا وہ موجودہ حالات میں ملی اتحاد کے لئے کچھ بہتر نہیں ہوا۔محمود مدنی نے اس سے پہلے بھی کئی بار اسد اویسی کے علاوہ اعظم خان کے خلاف کھل کر نہ صرف بیانات دیئے بلکہ انہیں مسلمانوں کا دشمن بھی قرار دیا تھا۔ 2017ء میں جب کسی صحافی نے اسد اویسی سے کہا کہ محمود مدنی نے ان کے خلاف بیان دیا ہے تو اسد اویسی کی اعلیٰ ظرفی اور حکمت اور بصیرت کا ثبوت ہے کہ انہوں نے اس صحافی سے کہا کہ وہ انہیں (اویسی) اور محمود مدنی کو آپس میں کیوں لڑانا چاہتے ہیں؟ پھر ا نہوں نے محمود مدنی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ جمعےۃ العلماء کے صدر کی حیثیت سے منتخب ہونے پر انہیں مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ اسدالدین اویسی کا یہ بیان ان کے مضبوط ہونے ثبوت تھا۔ محمود مدنی کا مخالف اویسی بیان شاید ان کی کمزوری یا مجبوری تھی۔ سات برس بعد محمود مدنی ایک بار پھر اپنی زبان اور اپنے جذبات پر کنٹرول نہ کرسکے۔ ان کے بیان پر لوگوں کی ناراضگی فطری ہے‘ مگر اس پر تعجب یا حیرت کی بات نہیں ہے‘ کیوں کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ اسد صاحب پر کسی نے کھل کر تنقید کی تو کسی نے دبے لفظوں میں‘ کسی نے ڈرائننگ روم کی محفلوں میں ان کی پالیسی پر تنقید کی‘ کسی نے انتخابی مہمات کے دوران تقاریر میں بھی اور اخباری بیانات کے ذریعہ بھی اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ہر ایک کو اپنے خیالات کے اظہار کا حق ہے۔ جب کبھی الیکشن کا موسم آیا‘ مجلس اتحادالمسلمین نے حیدرآباد کے علاوہ کسی اور حلقہ سے اپنے امیدوار اُتارے تب ان حلقوں سے الزامات کی بازگشت سنائی دیتی کہ آواز اٹھتی رہی کہ مسلم اور سیکولر ووٹس کی تقسیم کے لئے مجلس نے اپنے امیدوار کھڑا کئے۔ مہاراشٹرا، اترپردیش، راجھستان ہو یا کوئی اور ریاست مجلس نے اپنے امیدوار میدان میں اُتارے تو ملک بھر سے نام نہاد مسلم قائدین، اکابرین، مسلم ووٹس کو منتشر نہ کرنے کی غرض سے مجلس کو مقابلہ سے دستبرداری کا مشورہ دیتے رہے۔ حتٰی کہ مولانا سجاد نعمانی نے بھی اسد صاحب کے نام ایک کھلا خط میڈیا کے نام جاری کیا تھا۔ مجلسی قائدین کو بی جے پی کی بی ٹیم بھی کہا گیا۔ اسد صاحب کو کئی بار مختلف ریاستوں میں عوامی جلسوں میں وضاحت کرنی پڑی اور انہوں نے الزام عائد کرنے والوں کو اپنا الزام ثابت کرنے کیلئے چیالنج کیا تھا کہ وہ مدینہ طیبہ میں روضہ اقدس کے پاس قسم کھائیں۔ وہ (اویسی) الزام کو غلط ثابت کرنے کیلئے تیار ہیں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اسد صاحب سے متعلق اس قسم کے خیالات کا اظہار ہر دور میں ہوتا رہا۔ حالیہ الیکشن کے دوران کس کس نے کیا کیا نہ کہا۔ یہ اور بات ہے کہ الیکشن کے بعد جب ساری طاقتیں مل کر مجلس کو نقصان نہ پہنچاسکیں تو انہوں نے دوستی کرلی۔
محمود مدنی کے انٹرویو کے بعد اس بات کی مزید تصدیق ہوچکی ہے کہ اسدالدین اویسی ہندوستانی مسلمانوں کے واحد مسلم لیڈر ہیں جن سے نظریاتی اختلافات کے باوجود حیدرآباد سے کشمیر تک یکساں مقبولیت حاصل ہے۔ جن کی بعض پالیسیوں سے اختلافات ہوسکتا ہے مگر ان کی قائدانہ صلاحیت پر کوئی ا نگلی نہیں اٹھاسکتا۔ عوامی جلسہ ہو یا ایوان پارلیمان اسد الدین اویسی کی تقریر سن کر لوگ بے اختیار کہہ اٹھتے ہیں ”دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے“۔
ایوان پارلیمنٹ میں اس وقت جتنے بھی مسلم قائدین ہیں‘ ان میں یقینا اعلیٰ تعلیم یافتہ بھی ہیں اور اپنے اپنے علاقہ کے مقبول ترین قائد بھی‘ مگر جوبات اویسی میں ہے‘ وہ اوروں میں کہاں۔ جو دوسری جماعتوں سے وابستہ ہیں‘ انہیں اپنی قوم کے حقوق کے لئے زبان کھولنے کے لئے بھی ہائی کمان سے اجازت لینی پڑتی ہے۔ کبھی غلطی سے انہوں نے زبان کھولی تو انہیں اندرونی طور پر پارٹی ہائی کمان سے وارننگ مل جاتی ہے۔ اسد اویسی خود ہائی کمان ہیں‘ جو ہر پارٹی کے ہائی کمان سے راست ٹکرانے کی ہمت اور صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہر ایک فورم پر نہ صرف مسلمانوں کے لئے بلکہ دلتوں، عیسائیوں اور دوسری اقلیتوں کے لئے بھی آواز اٹھانے والی شخصیت ہیں جس کا اعتراف تلنگانہ کے چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے مسلمانوں کے ایک زبردست اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا اور کہا کہ ایوان پارلیمان میں سیاسی نظریاتی اختلافات کی بدولت انہیں اس بات کا فخر ہوتا رہا کہ ان کے شہر سے تعلق رکھنے والے اسد اویسی مظلوموں کے لئے آواز اٹھاتے ہیں۔ ایوان پارلیمنٹ میں بعض مسلم قائدین منتخب ہوبھی گئے ہیں تو ان میں سے کوئی بھی ایسا قائد اپنی جگہ مکمل نظر نہیں آتا۔ اپنے خلاف الزامات اور بہتان طرازیوں سے بے نیاز اسد اویسی نے ملک گیر سطح پر اپنی خدمات جاری رکھی ہیں۔ جہاں تک مولانا محمود مدنی کا تعلق ہے وہ ہندوستان کی قدیم ترین باوقار تنظیم جمعےۃ العلمائے ہند کے ایک دھڑے کے قائد ہیں‘ دوسرے دھڑے کے قائد ان کے سگے چچا مولانا ارشد مدنی ہیں۔ اِن چچا بھتیجے میں واقعی اختلاف ہے یا پھر ایک حکمت عملی کے طور پر انہوں نے جمعیت کو تقسیم کررکھا ہے تاکہ مختلف موقعوں پر جمعیت کے یہ دونوں دھڑے اپنی اپنی اہمیت ثابت کرتے ہوئے ارباب اقتدار و اپوزیشن سے اپنے مطالبات منواتے رہیں۔ جمعےۃ العلمائے ہند ہمیشہ سے کانگریس کی وفادار رہی۔ مولانا محمود مدنی کے والد اور دادا نہ صرف اکابرین میں شمار کئے جاتے ہیں بلکہ وہ مجاہدین آزادی بھی رہے اور ان کی خدمات ناقابل فراموش رہی ہیں۔ جمعےۃ کے ان دونوں گروپس کی سب سے بڑی طاقت مساجد ہیں۔ بیشتر مساجد کے ائمہ اور انتظامیہ کا تعلق کسی نہ کسی طرح سے جمعیت سے رہتا ہے۔ بغیر کسی وسائل کے یہ سینہ بہ سینہ اپنی بات پورے ہندوستان میں عام کرسکتے ہیں۔ مولانا ارشد مدنی اور مولانا محمود مدنی دونوں ہی کا اپنا مقام ہے۔ مذہبی گھرانوں سے تعلق ہونے کی وجہ سے یہ قابل احترام ہیں۔ اگرچہ کہ انہوں نے غیر ضروری طور پر عملی سیاست میں خود کو مشغول رکھا۔ ویسے یہ ضرورت بھی ہے اور مجبوری بھی۔ البتہ ملت کے دانشور حضرات کو چاہئے تھا کہ مدنی چچا بھتیجہ کو اس بات کا مشورہ دیتے کہ مدنی خاندان مذہبی قیادت سنبھالیں اور عملی سیاست‘ پیشہ ور سیاست دانوں کے حوالے کردیں۔ جمعےۃ اور دیگر مسلم تنظیموں کے باہمی اشتراک سے مسلمانوں کی ذہنی فکری، جسمانی تربیت کی ذمہ داری قبول کرے۔ عقائد کی اصلاح کرے مسلکی اختلافات سے قوم کو پاک و صاف کرنے کی کوشش کرے۔ اور مستند سیاسی جماعتیں جیسے مجلس اتحادالمسلمین، اے آئی یو ڈی ایف، مسلم لیگ مسلمانوں کی سیاسی طور پر بااختیار بنانے کا فریضہ انجام دے۔ جس طرح آر ایس ایس نے ہندوؤں کی ذہنی و فکری تربیت کرتے ہوئے ہندوستان کو کہاں سے کہاں پہنچادیا اور مسلم تنظیم اور جماعتیں آپس میں لڑجھگڑ کر آزادی کے وقت جہاں تھی اس سے بھی پستی میں گرادیا۔
ہندوستانی مسلمانوں کی قیادت کے لئے سبھی کے دل میں ارمان تڑپ رہے ہیں ان میں مذہبی شخصیات بھی ہیں‘ جو اپنے یوٹیوب چیانلس کے ذریعہ قوم کو نصیحت میں مصروف ہیں۔ مگر نہ تو ان کی عمر نہ ہی ان کی صلاحیت انہیں ہندوستانی مسلمانوں کی قیادت کی اجازت دیتی ہے۔ اس وقت اسد اویسی جو 55برس کے ہیں‘ ماشاء اللہ اپنی صحت، صلاحیت اور غیر معمولی مقبولیت کی بدولت ہندوستانی مسلمانوں کی قیادت کے اہل ہیں۔ کل ہند سطح پر ایک مجلس شوریٰ کا انتخاب کیا جائے جن کی رہنمائی اسد اویسی ہندوستانی مسلمانوں کی قیادت کرے۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ مسلمانوں کے مذہبی معاملات تک محدود ہے۔ اور اس میں شامل تمام اکابرین اپنے اپنے طور پر ملت کے انتشار کو ختم کرتے ہوئے انہیں متحد کرنے میں اہم رول دا کرسکتے ہیں۔
اس وقت ہی نہیں بلکہ ہر دور میں ہر مسئلک کا رہنما سب کے لئے قابل قدر قابل احترام ہونا چاہئے۔ بعض باتوں پر اختلاف ہوسکتا ہے۔ اللہ کی وحدانیت، خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر کوئی اختلاف نہیں ہوسکتا ہے۔یہی اٹل حقیقت ہمیں تسبیح کے دانوں کی طرح ایک دوسرے سے جوڑے رکھ سکتی ہے۔ بہرحال! محمود مدنی نے جو کہا ان کے خیالات ہیں‘ جو دل میں اسے زبان پر لایا اگرچہ کہ ایک اچھے انسان کی یہ نادانی ہے۔ حق گوئی کی تعریف کی جانی چاہئے۔ مگر شاطر عناصر کو اس کے استحصال کا موقع نہیں دیا جانا چاہئے۔

From scions of the royal family to iconoc sportstars and rockstar politicians we've had the privilege of hosting some of...
28/09/2024

From scions of the royal family to iconoc sportstars and rockstar politicians we've had the privilege of hosting some of the finest personalities at Media Plus Auditorium. Their presence? Our pride. Their impact? Unforgettable. And this is just the beginning of a legendary journey. 🙌✨

Address

#5-9-322/1, 4th Floor, Jamia Nizamia Complex, Opp. SBH Gunfoundry
Hyderabad
500001

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Media Plus Communications posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Media Plus Communications:

Share