29/07/2024
جموں و کشمیر پہاڑی کلچرل اینڈ ویلفیئر فورم کے جنرل سیکرٹری جناب رشید احمدمسعودی نے پہاڑی قبائل کے ایک مخلص اور ہمدرد ریٹائر ڈ آی۔جی۔پی راجہ اعجاز علی کو ایک علاقائی سیاسی جماعت جموں و کشمیر پیویلز کانفرنس کی پہاڑی سیاسی ونگ کا سرینگر میں ایک پارٹی میٹنگ کے دوران ریاستی چیرمین منتخب ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ بیان میں انہوں نے غلطی سے اپنے آپ کو جموں و کشمیر پہاڑی کلچرل اینڈ ویلفیئر فورم کا چیرمین ظاہر کیا ہے ۔ ان کی اس تحریری غلطی سے ریاست کے زائد از 25 لاکھ پہاڑی قبائل میں تشویش کی ایک لہر پیدا ہو چکی ہے اور وہ سوال کرتے ہیں کہ کیا فورم سکڑ کر اب صرف اوڑی اور بارہمولہ اضلاح تک محدود ہو چکی ہے جبکہ اسی میٹنگ میں نہ تو فورم کے چیئرمین ہی موجود تھے اور نہ ہی فورم کے دیگر ذعماں ۔ فورم کے ائین میں کوئی ایسی گنجائش ہے کہ بغیر فورم کے موجودہ چیئرمین کے عہدے سے مستفی ہونے کے اپنے چند سیاسی چمچوں کو لے کر کوئی بھی چیئرمین فورم بن جائے جو ریاست جموں کشمیر کے زائد از 25 لاکھ پہاڑی قبائل کی ایک غیر سیاسی نمائندہ فورم ہی نہیں بلکہ تحریک ہے ۔فورم کے آئین کے مطابق کسی بھی جماعت کا سیاسی آدمی فورم کا بنیادی رکن تو بن سکتا ہے لیکن ڈیلیگیٹ کارڈ کے بغیر وہ کوئی عہدہ حاصل نہیں کر سکتا اور پھر محترم راجہ صاحب نہ تو فورم کے بنیادی ممبر ہیں اور نہ ہی کارڈ ہولڈر اور نہ ہی چیئرمین نے فورم کے الیکشن کے لیے کوئی نوٹیفکیشن ایشو کی ہے چیئرمین فورم جناب شرافت صاحب اپنے عہدے پر قائم ہے اور ان کی تمام ریاستی صوبائی اور ضلعی اکائیاں ان کی بے لوث قیادت میں متحرک ہیں۔ اور پوری ریاست میں اپنا کام کاج پوری خوش اسلوبی سے سنبھالے ہوئے ہیں انہی کی بے لوث کاوشوں اور انتھک محنت کی وجہ سے جب سے پہاڑی قبائل کو شیڈیول ٹرایب کے زمرے میں لایا گیا ہے تب سے کچھ علاقائی سیاسی جماعت ہیں جو کل تک پہاڑی قبائل کا منہ لگنا نہیں چاہتی تھیں ایک بار پھر پہاڑی قبائل کو لاغر اور کمزور کرنے کی خاطرنت نئے طریقوں سے اپنے ایجنٹوں کو متحرک کرتے ہوئے فورم کے معاملات میں سرگرم ہو رہے ہیں اور پہاڑی قبائل کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ جیسے یہ سب انہی کی کاوشوں سے ہوا ہو ۔اسی طرح کچھ عرصے قبل راجوری شادرہ شریف کے مقام پر پہاڑی فورم کا توڑ کرنے کی خاطر ایک سیاسی فورم کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جس کا چیف پیٹرن ایڈوکیٹ مظفر حسین بیگ بنے اور اسی میٹنگ سے نکلا ہوا سیاسی پارٹیاں بدلنے والا ایک اور نام ترہگام کپواڑہ کا سعید رفیق شاہ جب کہ اس کا بھی پہاڑی فورم کے ساتھ دور کا بھی واسطہ نہیں وہ بھی نہ تو فورم کا ممبر ہے اور نہ ہی ڈیلیگیٹ کارڈ ہولڈر بھی خود کو کبھی فورم کا چیف سپوکس پرسن اور کبھی چیئرمین فورم ظاہر کرتے ہوئے اپنی سیاسی جماعتوں سے تعلق کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے غریب پہاڑی قبائل کی معصومیت کا استعمال کر رہا ہے بغیر کسی اتھارٹی کے اپنی کچھ موجودہ اور سابقہ سیاسی خواریوں کو شیڈیول ٹرایب کی پہچان کرائے جانے کی اتھارٹیوں کو بانٹ رہا ہے اور انہیں باور کرانا چاہتا ہے کہ ریاست کے لیفٹیننٹ گورنر نے ان کو یہ اختیار دیا ہے جس کو جس کی اڑ لے کر وہ غریب پہاڑی قبائل کے اسکولی بچوں اور مستحقین سے 100 روپے سے 500 روپے رشوت حاصل کرنے میں مشغول ہیں ایسے لوگ قوم کے ہمدر نہیں ہو سکتے قوم کے خود غرض اور لاچی لوگ ہی اپنے اغراض کی خاطر ان کا ساتھ دیتے ہیں۔