10/01/2025
کہانی اور سبق:
ایک دن ایک ویران میٹرو اسٹیشن کے کونے میں ایک دبلا پتلا، پریشان حال لڑکا قلم بیچتے ہوئے بھیک مانگ رہا تھا۔
ایک مصروف کاروباری شخص وہاں سے گزرا اور جلدی میں اس لڑکے کے کمرے میں ایک ڈالر ڈال کر میٹرو میں سوار ہو گیا۔ لیکن کچھ لمحوں کے بعد، اس نے سوچا اور دوبارہ اتر کر لڑکے کے پاس واپس آیا۔
اس نے چند قلم اٹھائے اور معذرت خواہانہ لہجے میں کہا:
"میں قلم لینا بھول گیا تھا جو میں خریدنا چاہتا تھا۔"
پھر اس نے کہا:
"تم بھی میری طرح ایک کاروباری ہو، اور تمہاری مصنوعات کی قیمت بھی بہت مناسب ہے۔"
یہ کہہ کر وہ اگلی میٹرو میں سوار ہو گیا۔
کئی سال بعد، ایک سماجی تقریب میں، ایک نوجوان، صاف ستھری پوشاک میں ملبوس، اس کاروباری شخص کے پاس آیا اور کہا:
"آپ مجھے شاید نہ پہچانیں، اور میں آپ کا نام تک نہیں جانتا، لیکن میں آپ کو کبھی نہیں بھول سکتا۔"
پھر اس نے کہا:
"آپ وہ شخص ہیں جنہوں نے مجھے خود پر اعتماد اور اپنی عزتِ نفس واپس دلائی۔ میں سمجھتا تھا کہ میں محض ایک بھکاری ہوں جو قلم بیچتا ہے، لیکن آپ نے آ کر مجھے بتایا کہ میں ایک کاروباری ہوں۔"
سبق:
ایک دانا شخص نے کہا:
"بہت سے لوگ اس سے زیادہ حاصل کر لیتے ہیں جو وہ خود کو قابل سمجھتے ہیں، کیونکہ کسی نے انہیں یقین دلایا کہ وہ کر سکتے ہیں۔"
نرم اور حوصلہ افزا الفاظ صدقہ ہیں۔
آپ کی باتیں کسی کی زندگی کو سنوار سکتی ہیں یا بگاڑ سکتی ہیں۔ اس لیے اپنے الفاظ کو نرمی اور احتیاط سے منتخب کریں۔