A I LOT SHOT Kapde

A I LOT SHOT Kapde CLothMarketing

10/01/2025

کہانی اور سبق:

ایک دن ایک ویران میٹرو اسٹیشن کے کونے میں ایک دبلا پتلا، پریشان حال لڑکا قلم بیچتے ہوئے بھیک مانگ رہا تھا۔
ایک مصروف کاروباری شخص وہاں سے گزرا اور جلدی میں اس لڑکے کے کمرے میں ایک ڈالر ڈال کر میٹرو میں سوار ہو گیا۔ لیکن کچھ لمحوں کے بعد، اس نے سوچا اور دوبارہ اتر کر لڑکے کے پاس واپس آیا۔

اس نے چند قلم اٹھائے اور معذرت خواہانہ لہجے میں کہا:
"میں قلم لینا بھول گیا تھا جو میں خریدنا چاہتا تھا۔"
پھر اس نے کہا:
"تم بھی میری طرح ایک کاروباری ہو، اور تمہاری مصنوعات کی قیمت بھی بہت مناسب ہے۔"

یہ کہہ کر وہ اگلی میٹرو میں سوار ہو گیا۔
کئی سال بعد، ایک سماجی تقریب میں، ایک نوجوان، صاف ستھری پوشاک میں ملبوس، اس کاروباری شخص کے پاس آیا اور کہا:
"آپ مجھے شاید نہ پہچانیں، اور میں آپ کا نام تک نہیں جانتا، لیکن میں آپ کو کبھی نہیں بھول سکتا۔"

پھر اس نے کہا:
"آپ وہ شخص ہیں جنہوں نے مجھے خود پر اعتماد اور اپنی عزتِ نفس واپس دلائی۔ میں سمجھتا تھا کہ میں محض ایک بھکاری ہوں جو قلم بیچتا ہے، لیکن آپ نے آ کر مجھے بتایا کہ میں ایک کاروباری ہوں۔"

سبق:

ایک دانا شخص نے کہا:
"بہت سے لوگ اس سے زیادہ حاصل کر لیتے ہیں جو وہ خود کو قابل سمجھتے ہیں، کیونکہ کسی نے انہیں یقین دلایا کہ وہ کر سکتے ہیں۔"

نرم اور حوصلہ افزا الفاظ صدقہ ہیں۔
آپ کی باتیں کسی کی زندگی کو سنوار سکتی ہیں یا بگاڑ سکتی ہیں۔ اس لیے اپنے الفاظ کو نرمی اور احتیاط سے منتخب کریں۔

حرم مکی پہونچے تو حریمِ کعبہ کی کنجی کے امین ہوئے، دارالعلوم گئے تو دیوبند نے صدارت کا دم بھرا، عرب میں گیا تو عجم کی مح...
31/12/2024

حرم مکی پہونچے تو حریمِ کعبہ کی کنجی کے امین ہوئے، دارالعلوم گئے تو دیوبند نے صدارت کا دم بھرا، عرب میں گیا تو عجم کی محبت کو بکھیرا، تبلیغ کو اٹھایا تو عالَم میں مانوس بنادیا، وہ اقبال کا عکس تھا تو الیاس کا آئینہ، دیوبند نے اپنا صدر مانا تو ندوہ نے شیخ تسلیم کیا، لکھنے پر آیا تو اسلامی تصورات کو واضح کیا، داعی کو چھاپا تو عربوں کو پڑھایا، تعمیر کو لکھا تو حیات کو مکمل کردیا، “ماذا خسر العالم “ سے اسلامی دنیا پر مسلمانوں کے عروج وزوال کی داستان رقم کی ، تو وہیں ، دعوت وعزیمت کی تاریخ ` کو قلم بند کرکے مجددین کا غیر منقطع سلسلہ ثابت کیا ، پرانے چراغ کی لو سے کاروان مدینہ ` کو تڑپایا، تو شرق اوسط کی ڈائری` میں ایمان کی باد بہاری ` کو چلایا، وہ اردو میں مہارت رکھتا تھا تو عربیت میں ید طولیٰ،
مفکر ایسا مانو کہ مستقبل کو کھلی آنکھوں دیکھ رہا ہو، دور اندیش ایسا کہ بعد کے حوادثات کو صدی پہلے بیان کردیا، پرواز ایسی کہ ملت کو ثریا کا سبق سنایا، آنکھیں تو غلامی میں کھولی مگر آزادی کا سورج طلوع کرکے حریت کا سبق سکھا گیا،۔۔۔۔!! اس کی آواز میں ایک سوز تھا ساز تھا، تڑپ تھی لچک تھی، جس سے جہاں ہندیوں کو جگایا تو عربوں کو خوب تڑپایا،
وہ کیا تھا۔۔؟ کون تھا۔۔؟ ہمارے ادراک کی اتنی حد ہی نہیں۔۔۔۔!!!
یومِ وفات مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی رحمہ للہ۔
۳۱دسمبر

زندگی میں شاید سب کچھ برداشت کیا جا سکتا ہے، لیکن غربت کا بوجھ ایک ایسی حقیقت ہے جو انسان کی خودداری اور عزتِ نفس کو کچل...
31/12/2024

زندگی میں شاید سب کچھ برداشت کیا جا سکتا ہے، لیکن غربت کا بوجھ ایک ایسی حقیقت ہے جو انسان کی خودداری اور عزتِ نفس کو کچل دیتی ہے،
جب آپ کے پاس وسائل نہ ہوں تو دنیا کا رویہ یکسر بدل جاتا ہے، کبھی کبھی ایسا لگتا ہے کہ جیسے آپ کے پاس کہنے کو کچھ نہیں بچتا،
آپ کی بات کا وزن کم ہو جاتا ہے، اور لوگ آپ کو اس نظر سے دیکھتے ہیں جیسے آپ میں کوئی کمی ہو، شاید غربت ایک ایسا عیب ہے جو ہر خوبی کو چھپا دیتا ہے۔
کیا یہ دنیا واقعی اتنی بےرحم ہے؟ کیا یہ واقعی ضروری ہے کہ انسان کی قدر کا معیار صرف اس کی جیب میں رکھا گیا پیسہ ہو؟ اور پھر ایک حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے یہ احساس ہوتا ہے کہ اس دنیا میں زندہ رہنے اور اپنی عزت کو برقرار رکھنے کے لیے پیسہ ایک بنیادی ضرورت بن چکا ہے۔۔۔!!!

26/12/2024
‏بھیک دینے سے غریبی ختم نہیں ہوتیحصہ اول "ہم نے دو نوعمر بچوں کو لیاایک کو پرانے کپڑے پہنا کر بھیک مانگنے بھیجااور دوسرے...
26/12/2024

‏بھیک دینے سے غریبی ختم نہیں ہوتی

حصہ اول

"ہم نے دو نوعمر بچوں کو لیا
ایک کو پرانے کپڑے پہنا کر بھیک مانگنے بھیجا
اور دوسرے کو مختلف چیزیں دے کر فروخت کرنے بھیجا،
شام کو بھکاری بچہ آٹھ سو
اور مزدور بچہ ڈیڑھ سو روپے کما کر لایا.
اس سماجی تجربے کا نتیجہ واضح ہے۔
دراصل بحیثیت قوم، ہم بھیک کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں
اور محنت مزدوری کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں.

ہوٹل کے ویٹر، سبزی فروش اور چھوٹی سطح کے محنت کشوں کے ساتھ ایک ایک پائی کا حساب کرتے ہیں
اور بھکاریوں کو دس بیس بلکہ سو پچاس روپے دے کر سمجھتے ہیں کہ جنت واجب ہوگئی.
ہونا تو یہ چاہئے کہ مانگنے والوں کو صرف کھانا کھلائیں
اور مزدوری کرنے والوں کو ان کے حق سے زیادہ دیں.
ہمارے استاد فرماتے ہیں کہ بھکاری کو اگر آپ ایک لاکھ روپے نقد دے دیں تو وہ اس کو محفوظ مقام پر پہنچا کر اگلے دن پھر سے بھیک مانگنا شروع کر دیتا ہے.

منقول

25/12/2024

سوال۔ منافق انسان ہر کسی کو دوست ہی کیوں کہتا ہے

جواب۔ منافق انسان ہر کسی کو دوست اس لیے کہتا ہے تاکہ وہ دوسروں کا اعتماد جیت سکے اور ان کے قریب رہ کر اپنے مفادات حاصل کر سکے۔ اس کے پیچھے چند اہم وجوہات ہو سکتی ہیں:

1. ظاہری اچھائی کا تاثر دینا: منافق لوگ خود کو نرم دل اور اچھا انسان دکھانے کے لیے دوسروں کو دوست کہتے ہیں، چاہے وہ دل سے ایسا نہ سمجھتے ہوں۔

2. اپنے فائدے کے لیے تعلقات بنانا: وہ جانتے ہیں کہ ہر کسی سے بنا کر رکھنے سے ان کے کام آسان ہوں گے، چاہے وہ سماجی حیثیت ہو، مالی فائدہ، یا کسی اور قسم کا تعاون۔

3. ٹکراؤسے بچنا: منافق لوگ عام طور پر تنازعات سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں اور ہر کسی کو خوش رکھنے کی کوشش کرتے ہیں، چاہے وہ اپنے اصولوں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔

4. دھوکہ دینے کی عادت: منافقت کا مقصد اکثر دوسروں کو اپنے جال میں پھنسانا ہوتا ہے، اور "دوستی" کا لیبل ان کے لیے یہ کام آسان کر دیتا ہے۔
ایسے لوگ وقتی طور پر کامیاب ہو سکتے ہیں، لیکن سچائی زیادہ دیر چھپی نہیں رہتی۔

25/12/2024

اے زہے غزہ!

از قلم: محمد فہیم الدین بجنوری
23 جمادی الاخری 1446ھ 25 دسمبر 2024ء

اسرائیل نے اپنی اس آخری باری میں نیل سے فرات تک کا خواب سجایا تھا، اس کی تعبیر کے لیے اسے اسباب کا بھی کوئی مسئلہ نہیں تھا، دنیا اپنے تمام وسائل کے ساتھ پشت پناہ تھی، اس کی کھینچی ہوئی لکیر میں کوئی طاقت لائق چیلنج نہیں تھی، اس کے آہنی گرز کے سامنے عرب ریاستیں محض ریت کا تودہ تھیں؛ اسرائیل عظیم اسرائیل بننے ہی والا تھا کہ درمیان میں غزہ آگیا۔

غزہ جسے یہودیوں نے لقمۂ تر سمجھا تھا وہ سد سکندری ثابت ہوا، آپ پچھتر سالہ تاریخ کا جائزہ لیں اور تجزیہ کر کے بتائیں کہ صہیونیت کا سیلاب کہاں رکا ہوا ہے؟ عظیم اسرائیل کا طوفان کس بھنور میں پھنسا ہے؟ اسرائیل کی ٹانگ کس نے پکڑی ہوئی ہے؟ کس کی جواں مردی نے یہودی رتھ جام کر رکھا ہے؟ کون ہے جو سپر پاور کو ناکوں چنے چبوا رہا ہے؟ یہ اور ان جیسے درجنوں سوالات کے جواب میں فلسطین اور بالخصوص غزہ آتا ہے۔

عظیم اسرائیل تو کجا! غزہ نے تو جاری جنگ کی فتح بھی صہیونی حلق کا کانٹا بنا دی، نیتن یاہو نے جس فتح کامل کو ہدف قرار دیا ہے غزہ نے اسے بلی کا خواب بنا دیا، ایک سال سے زائد جاری جنگ میں یہ چند نفوس ہنوز غیر مفتوح ہیں، دنیا جانتی ہے کہ روزانہ سو معصوموں کا قتلِ عام اسرائیل کی فتح نہیں ہے، اگر مذاکرات میں غزہ شرائط زیر غور ہیں تو یہ بالیقین غزہ فتح ہے۔

ایران سپلائی منقطع ہو گئی، جن کا خورد ونوش سنگین ناکہ بندی کی زد میں ہے، ان کو اسلحہ دینے کی جسارت یا فنکاری کون دکھا سکتا ہے؟ حزب اللہ "شیخ اپنی اپنی دیکھ" کی حالت میں ہے، اس پر معاہدے کی خلاف ورزی کی تلوار لٹک رہی ہے، دمشق تبدیلی نے اس کا ذائقہ بھی بد مزہ کیا ہوا ہے، غزہ ہر سو پہرے میں ہے، پھر ان کے پایہ ثبات کا راز کیا ہے؟ نیتن یاہو ظلم کی چکی خوب پیسنے کے بعد بھی قیدیوں کی بھیک مانگنے پر مجبور کیوں ہے؟ جن شرائط کو وہ اسرائیل کی قومی خود کشی سمجھتا ہے ان پر غور کرنے کے لیے بھی آمادہ کیوں کر ہے؟

مادی دنیا کو دہشت زدہ کرنے والے اس راز کا نام ایمان ہے، قرآن کہتا ہے کہ کہ اگر تم مؤمن ہو تو سر بلندی تمھارا ہی مقدر ہے، نیتن یاہو کو ایران یا حزب اللہ کی کمک نہیں ایمان کی قوت نے ہزیمت دی ہے، وہ غزہ کو مقتل میں تبدیل کر کے ہاتھ پھیلاتا ہے کہ قیدیوں کی فہرست ہی دے دو، دنیا کا حقیقی سپر پاور عاجز و بے بس ہے، آبادی کو زیر وزبر کرنے والا قیدیوں کے نشان سے محروم ہے، قیدیوں کی واگزاری جاری جنگ کا محور ہے، جب تک یہ خواب تشنہ تعبیر ہے اسرائیل اپنے ماتھے سے شکست کی سیاہی مٹا نہیں سکتا۔

آخرش اسرائیل ہزیمت کی دہلیز پر ہے، اسے امید تھی کہ کمک ٹوٹنے پر یہ خود سپردگی کر دیں گے، قیدیوں کو تحفے، سوغات اور خیر سگالی کی صورت پیش کریں گے، اب یہ بے دست وپا ہیں؛ لیکن اس کو یہ معلوم نہیں تھا کہ ایمان سرنڈر نہیں ہوتا، وہ بے تیغ بھی لڑتا ہے اور بے دست وپا بھی، اے زہے غزہ! تو نے ثابت کردیا کہ ایمان زندہ اور تا بندہ ہے، تو نے ہمیں یاد دلایا کہ اللہ کی زمین ایمان کی چنگاری سے بالکلیہ محروم ہو جائے ایسا نہیں ہوگا، جب ایمان کی آگ ساری دنیا میں سرد ہو گئی تھی، اس وقت غزہ کے ناتواں جسم اور انتہائی توانا عزم نے اس کی مشعل اٹھائی اور لو کو سر بلند کیا، اتنا بلند کے فرعون وقت کی گردن ماند ہوگئی۔

24/12/2024
بچپن میں بہت بار ایسا ہوا کہ امی کچن میں ہمارے لیے ناشتہ بنا کر دے رہی ہوتی تھیں تو ہم بھائی چولہے کے پاس تماشہ لگا کر ک...
23/12/2024

بچپن میں بہت بار ایسا ہوا کہ امی کچن میں ہمارے لیے ناشتہ بنا کر دے رہی ہوتی تھیں تو ہم بھائی چولہے کے پاس تماشہ لگا کر کھڑے ہو جاتے تھے اور اپنا ہاف فرائی انڈا بنتے دیکھنا اس لیے ضروری سمجھتے تھے کہ کہیں انڈا فرائی ہوتے ہوے ٹوٹ نہ جائے اور ذردی باہر نہ نکل آئے۔
جب کبھی انڈا ٹوٹ جاتا تو میں ناراض ہو جاتا تھا اور امی سے کہتا تھا میں نے نہیں ٹوٹا ہوا انڈا کھانا مجھے نیا انڈا بنا کر دیں۔
امی کہتی تھیں!
کوئی بات نہیں بیٹا۔۔۔۔
آپ کا ٹوٹا ہوا انڈا میں کھا لیتی ہوں 😢
اور امی مجھے نیا انڈا بنا دیتی تھیں۔۔
آج انڈا فرائی کرتے ہوے جب انڈا ٹوٹ گیا تو دلوں کو جوڑنے والی ماں بہت یاد آئی۔
وہ ٹوٹے انڈے کھا لینے والی ماں جو بیٹے کا دل ٹوٹا ہر گز نہیں دیکھ سکتی تھی ہر وقت ہر پل یاد آتی ہے۔😢. ع ا ش ق ا ل ہ ی

Address

Surat And Mumbai
Surat
9664

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when A I LOT SHOT Kapde posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share