Desi in Europe

Desi in Europe I am a desi, I am in Europe,love italy but Pakistan is in my heart Politics,Humor,Truth۔
Sono un paesano pakistano in Italia۔

آج یورپ میں ایک بہت بڑی تبدیلی آئی ہے اور پاکستانی گروپوں میں بہت سے لوگ پوچھ رہے ہیں کہ یہ کونسا نیا قانون آیا ہے، کیا ...
12/06/2026

آج یورپ میں ایک بہت بڑی تبدیلی آئی ہے اور پاکستانی گروپوں میں بہت سے لوگ پوچھ رہے ہیں کہ یہ کونسا نیا قانون آیا ہے، کیا ہم سب کو نکال دیا جائے گا، کیا سب کچھ بدل گیا؟ تو بھائیو اور بہنو، آج میں آپ کو سیدھی اور سچی بات بتاتا ہوں بغیر کسی گھبراہٹ کے۔ آج 12 جون 2026 سے یورپی یونین کا نیا قانون نافذ ہوا ہے جس کا نام ہے EU Pact on Migration and Asylum یعنی یورپی پناہ اور ہجرت کا معاہدہ۔ یہ قانون اچانک نہیں آیا، یہ 2024 میں پاس ہوا تھا اور دو سال کی تیاری کے بعد آج سے لاگو ہوا ہے۔ اب بات کرتے ہیں اصل بات کی کہ یہ قانون ہے کیا۔ پہلی بات یہ کہ جو شخص یورپ کی سرحد پر پہنچے گا اس کی فوری جانچ ہوگی، انگلیوں کے نشانات لیے جائیں گے، پہچان ہوگی، اور ایک مرکزی ڈیٹابیس میں سب کچھ ریکارڈ ہوگا جسے Eurodac کہتے ہیں، یعنی اگر کوئی ایک ملک میں نہیں بنا تو دوسرے میں جا کر نئے سرے سے کوشش کرنا پہلے سے بھی مشکل ہو جائے گا۔ دوسری بات یہ ہے کہ اب ذمہ داری صرف Italy یا Greece جیسے سرحدی ممالک پر نہیں ہوگی، باقی یورپی ممالک بھی مدد کریں گے، کچھ لوگوں کو قبول کریں گے، پیسے دیں گے، یا سہولتیں فراہم کریں گے، اسے Solidarity Pool کہا جاتا ہے۔ تیسری بات یہ کہ جن لوگوں کی پناہ کی درخواست بہت کمزور ہو، ان کا فیصلہ سرحد پر ہی جلدی کر دیا جائے گا اور واپسی بھی تیز ہوگی۔ اب سب سے اہم سوال جو آپ کے ذہن میں ہے کہ جو لوگ پہلے سے یہاں ہیں ان کا کیا ہوگا؟ بھائی، جو لوگ پہلے سے یورپ میں ہیں، جن کے کیسز چل رہے ہیں، جن کے پرمیسو ہیں، ان پر یہ قانون فوری طور پر لاگو نہیں ہوتا، پرانے کیسز پرانے اصولوں کے تحت چلتے رہیں گے۔ یہ قانون نئے آنے والوں کے لیے نیا نظام ہے۔ خلاصہ یہ کہ یورپ نے immigration کو مزید منظم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، سرحدیں پہلے سے سخت ہوں گی، ڈیٹا زیادہ شیئر ہوگا، اور ایک ملک سے دوسرے ملک بھاگنا مشکل ہوگا۔ یہ کوئی قیامت نہیں ہے لیکن یہ بھی نہ سمجھیں کہ کچھ ن

آج صبح کام پر جاتے ہوئے ذہن میں ایک عجیب سوال آیا کہ بھائی یہ AI کا زمانہ ہے، چند سیکنڈ میں انسان جیسی تصویر بن جاتی ہے،...
11/06/2026

آج صبح کام پر جاتے ہوئے ذہن میں ایک عجیب سوال آیا کہ بھائی یہ AI کا زمانہ ہے، چند سیکنڈ میں انسان جیسی تصویر بن جاتی ہے، فلمیں بن رہی ہیں، گانے بن رہے ہیں، ہر چیز خودبخود ہو رہی ہے، تو پھر آج تک کوئی ٹوم اور جیری جیسا کارٹون کیوں نہیں بن سکا جو دادا کو بھی ہنسائے، پوتے کو بھی اور درمیان میں بیٹھے باپ کو بھی۔ یہ سوال جتنا سادہ لگتا ہے اتنا ہے نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ ٹوم اور جیری صرف ایک کارٹون نہیں تھا، وہ ایک احساس تھا۔ اس میں ایک لفظ بھی نہیں بولا جاتا تھا لیکن پوری دنیا کی ہر زبان والا اسے سمجھتا تھا، کیونکہ اس میں جو زبان تھی وہ انسانی جذبات کی زبان تھی۔ ہار کے بعد اٹھنا، بار بار کوشش کرنا، دشمن کے ساتھ بھی ضرورت پڑنے پر مل کر لڑنا، یہ سب کچھ بغیر ڈائیلاگ کے اتنے خوبصورت انداز میں دکھایا گیا کہ آج ستر سال بعد بھی یوٹیوب پر اس کی ویڈیوز کروڑوں ویوز لے رہی ہیں۔ آج کے کارٹون بنانے والوں کے پاس ٹیکنالوجی بہت ہے لیکن صبر نہیں ہے۔ ٹوم اور جیری کے ایک ایک سیکنڈ کے سین پر گھنٹوں محنت ہوتی تھی، ہاتھ سے ہر فریم بناتے تھے، آواز کی ٹائمنگ پر دنوں کام ہوتا تھا۔ آج کمپنیاں تین سیزن نکالنے کی جلدی میں ہوتی ہیں اور معیار کی فکر کسی کو نہیں۔ دوسری بات یہ کہ اس زمانے کے بنانے والوں نے یہ نہیں سوچا کہ یہ بچوں کے لیے ہے یا بڑوں کے لیے، انہوں نے بس انسانوں کے لیے بنایا۔ آج ہر چیز کو خانوں میں ڈال دیا گیا ہے، یہ چار سال کے بچے کے لیے ہے، یہ آٹھ سال والے کے لیے، یہ teenagers کے لیے، اور جب آپ محدود سوچ کر بناتے ہیں تو محدود ہی بنتا ہے۔ ٹوم اور جیری میں بلی اور چوہے کی لڑائی صرف لڑائی نہیں تھی، وہ زندگی کا استعارہ تھی، کہ طاقتور ہمیشہ نہیں جیتتا، کہ چھوٹا ذہین ہو تو بڑے کو مات دے سکتا ہے، کہ آج ہارے تو کل پھر اٹھو، اور یہ فلسفہ چاہے پاکستان کا بچہ ہو یا اٹلی کا بوڑھا، سب کو ایک جیسا لگتا ہے کیونکہ یہ صرف کارٹون کا فلسفہ نہیں، یہ زندگی کا فلسفہ ہے۔ AI بہت کچھ بنا سکتا ہے لیکن روح نہیں ڈال سکتا، اور ٹوم اور جیری کی اصل طاقت اس کی روح تھی جو ہاتھوں سے بنی تھی، محنت سے بنی تھی، اور سب سے بڑھ کر محبت سے بنی تھی۔ آپ میں سے کتنوں نے آج بھی کبھی کبھی ٹوم اور جیری دیکھا ہے؟ کمنٹ میں بتائیں۔

آج صبح فجر کے بعد میں نے اپنے گاوں کی ایک پرانی تصویر دیکھی جس میں دادا جی صحن میں چارپائی پر بیٹھے قرآن پڑھ رہے تھے اور...
11/06/2026

آج صبح فجر کے بعد میں نے اپنے گاوں کی ایک پرانی تصویر دیکھی جس میں دادا جی صحن میں چارپائی پر بیٹھے قرآن پڑھ رہے تھے اور ان کے ہونٹ آہستہ آہستہ ہل رہے تھے، آنکھیں پڑھنے میں مگن تھیں، اور چہرے پر ایک عجیب سا سکون تھا جو میں نے کبھی کسی اور جگہ نہیں دیکھا، یہ دیکھ کر ذہن میں ایک سوال آیا جو شاید آپ میں سے بہت سوں کے دل میں بھی کبھی نہ کبھی آیا ہوگا کہ دادا جی کو عربی سمجھ نہیں آتی، ترجمہ نہیں پڑھتے، تو پھر یہ روزانہ کی تلاوت کا کیا فائدہ ہے؟ اور یہ سوال صرف میرا نہیں، آج کل کے بہت سے پڑھے لکھے نوجوان یہی کہتے ہیں کہ بغیر سمجھے پڑھنا تو بس رسم ہے، کوئی روحانیت نہیں، کوئی علم نہیں، کوئی فائدہ نہیں۔ لیکن میں آج آپ سے ایک بات کرنا چاہتا ہوں جو اس سوال کے دونوں پہلوؤں کو سامنے رکھتی ہے۔ پہلی بات یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص قرآن کا ایک حرف پڑھتا ہے اسے ایک نیکی ملتی ہے اور ایک نیکی دس گنا ہوتی ہے، آپ نے یہ بھی فرمایا کہ الف لام میم تین حرف ہیں یعنی تیس نیکیاں۔ اب یہ نہیں فرمایا کہ صرف سمجھ کر پڑھنے والے کو نیکی ملے گی، بلکہ حرف پڑھنے کا ثواب ہے اور یہ بات بالکل صریح ہے۔ دوسری بات یہ کہ قرآن صرف معنی کی کتاب نہیں، یہ کلامِ الٰہی ہے اور اس کے الفاظ میں خود ایک تاثیر ہے، ایک نور ہے، ایک شفا ہے جو عربی زبان کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ اللہ نے خود فرمایا کہ ہم نے اس قرآن کو عربی میں نازل کیا تاکہ تم سمجھو، یعنی سمجھنا مقصود ہے، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ جو نہیں سمجھتا اس کی تلاوت بے کار ہے۔ تیسری بات جو سب سے اہم ہے وہ یہ کہ بغیر سمجھے پڑھنا اور سمجھ کر پڑھنا دونوں کا اپنا اپنا مقام ہے، لیکن جب صرف ثواب کی نیت سے روزانہ پڑھا جائے اور کبھی یہ جاننے کی کوشش نہ کی جائے کہ اللہ نے اس میں کیا حکم دیا ہے، کیا وعدہ کیا ہے، کیا تنبیہ کی ہے، تو پھر ہم قرآن کے ساتھ ایک بہت بڑا حق ادا نہیں کر رہے۔ قرآن صرف برکت کے لیے گھر میں رکھنے کی کتاب نہیں، یہ زندگی گزارنے کا دستور ہے، یہ بتاتا ہے کہ رزق حلال کمانا ہے، بیوی بچوں کے ساتھ کیسا برتاؤ کرنا ہے، دھوکہ کیوں حرام ہے، سود کیوں تباہی ہے، قبر کے بعد کیا ہوگا۔ اور جب ہم صرف دیکھ کر پڑھتے رہیں اور کبھی ایک صفحہ ترجمے سے نہ پڑھیں تو ہم اس دستور سے بے خبر رہتے ہیں جو ہماری دنیا اور آخرت دونوں سنوار سکتا تھا۔ میں اپنے ان بزرگوں کو غلط نہیں کہتا جو فجر کے بعد تلاوت کرتے ہیں، اللہ ان کی نیت اور محنت کو قبول فرمائے، لیکن میں اپنے ان نوجوانوں سے یہ ضرور کہنا چاہتا ہوں جو یہ سوچ کر قرآن بالکل چھوڑ بیٹھے ہیں کہ سمجھتے نہیں تو پڑھیں کیوں، تم سے بڑی غلطی ہو رہی ہے کیونکہ اگر تمہیں سمجھنا ہے تو پڑھو بھی اور ترجمہ بھی دیکھو، لیکن پڑھنا بند مت کرو۔ آج اردو ترجمے کے ساتھ قرآن ہر موبائل پر مفت موجود ہے، روزانہ صرف ایک آیت کا مطلب پڑھ لو، ایک مہینے میں تم محسوس کرو گے کہ زندگی کے بارے میں تمہاری سوچ بدلنے لگی ہے۔ قرآن پڑھنے میں نور ہے، سمجھنے میں ہدایت ہے، اور دونوں کو اکٹھا کرنے میں وہ کامیابی ہے جس کی ہمیں دنیا میں بھی ضرورت ہے اور آخرت میں بھی۔

پاکستان میں آج کل ایک لڑکی فریحہ فاروخ کی ویڈیو بہت وائرل ہو رہی ہے جس میں وہ کہتی ہے کہ اسے بریانی قورمہ نہاری دال چاول...
10/06/2026

پاکستان میں آج کل ایک لڑکی فریحہ فاروخ کی ویڈیو بہت وائرل ہو رہی ہے جس میں وہ کہتی ہے کہ اسے بریانی قورمہ نہاری دال چاول پسند نہیں اور بکرے کا گوشت بھی نہیں کھاتی اور ساتھ میں یہ بھی کہا کہ لڑکیاں بکرا کھاتے ہوئے کیا ہی لگیں گی۔ بس پھر کیا تھا پورا پاکستانی سوشل میڈیا اس پر ٹوٹ پڑا اور ٹرولنگ کا ایک نیا دور شروع ہو گیا۔ لیکن یار میں سوچتا ہوں کہ ذرا رکو اور ایک سیکنڈ سوچو۔ ہاں اس نے بکرے والی بات تھوڑی عجیب کہی یہ میں مانتا ہوں لیکن کھانے کی پسند ناپسند تو ہر انسان کی الگ ہوتی ہے اور یہ کوئی جرم نہیں ہے۔ میں خود پاکستان میں رہتے ہوئے کدو کریلے بھنڈی دال کالی توری یہ سب نہیں کھاتا تھا اور جب گھر میں یہ بنتا تھا تو میں بھی منہ بناتا تھا۔ کیا اس وقت کسی نے مجھے ٹرول کیا؟ نہیں۔ کیونکہ میں مرد تھا اور سوشل میڈیا پر نہیں تھا۔ یہی اصل بات ہے۔ پاکستان میں اگر کوئی لڑکی اپنی رائے دے اپنی پسند ناپسند بتائے تو فوری طور پر اسے سبق سکھانے کے لیے پوری قوم تیار ہو جاتی ہے۔ اب یہاں یورپ میں رہتے ہوئے میں دیکھتا ہوں کہ لوگ ایک دوسرے کی کھانے کی پسند ناپسند پر اتنا وقت ضائع نہیں کرتے۔ کسی کو pizza پسند نہیں تو ٹھیک ہے کسی کو pasta نہیں کھانا تو کوئی بات نہیں۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ لڑکی کو بکرے والی بات اس انداز میں نہیں کہنی چاہیے تھی کیونکہ اس میں دوسروں کو judge کرنے کا پہلو تھا۔ لیکن اس ایک بات کے لیے اسے گالیاں دینا اسے دھمکیاں دینا اور ہر پلیٹ فارم پر ٹرول کرنا بھی کوئی سمجھداری نہیں ہے۔ ہم پاکستانی بریانی کھانے پر ایک دوسرے سے لڑتے ہیں کہ کراچی والی بہتر ہے یا لاہور والی اور جب کوئی بریانی ہی نہیں کھاتا تو اسے دشمن سمجھ لیتے ہیں۔ یار چھوڑو اسے اس کی زندگی جینے دو اور اپنی بریانی خود کھاؤ

06/06/2026

آج 2 جون ہے، اٹلی کا یوم جمہوریہ، وہ دن جب 1946 میں اس ملک کے عوام نے بادشاہت کو ٹھکرا کر جمہوریہ کا انتخاب کیا، اور آج ...
02/06/2026

آج 2 جون ہے، اٹلی کا یوم جمہوریہ، وہ دن جب 1946 میں اس ملک کے عوام نے بادشاہت کو ٹھکرا کر جمہوریہ کا انتخاب کیا، اور آج اسی جمہوریہ کی سرزمین پر ہم جیسے لاکھوں stranieri اپنی زندگی گزار رہے ہیں۔ ہم پاکستانی، بنگلادیشی، مراکشی، سینیگالی، سری لنکن، ہم سب جو اپنے اپنے ملکوں سے نکلے اور اس خوبصورت زمین پر آ کر بسے، آج کے دن ہمیں ایک لمحہ رک کر سوچنا چاہیے کہ اٹلی نے ہمیں کیا دیا۔ جب ہم پاکستان میں تھے تو لوڈشیڈنگ آٹھ آٹھ دس دس گھنٹے کی ہوتی تھی، گرمیوں میں پنکھا بھی نہیں چلتا تھا اور یہاں اٹلی میں پہلی بار جب میں نے بجلی کا بل دیکھا تو میں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ یہ بجلی چوبیس گھنٹے ایسے ملے گی جیسے سانس ملتی ہے، بغیر سوچے بغیر مانگے۔ پاکستان میں نل کھولو تو یا تو پانی آتا ہی نہیں یا آئے تو اس میں مٹی ہوتی ہے، یہاں اٹلی میں نل کا پانی اتنا صاف ہے کہ پی سکتے ہو، یہ چھوٹی بات نہیں ہے، یہ وہ نعمت ہے جس کی قدر صرف وہی جانتا ہے جس نے کبھی گندا پانی پیا ہو۔ یہاں سڑک پر چلو تو سڑک ملتی ہے، ہسپتال جاؤ تو ڈاکٹر ملتا ہے، بیمار پڑو تو علاج ملتا ہے، بوڑھے ہو تو پنشن ملتی ہے، کام کرو تو حق ملتا ہے، یہ وہ چیزیں ہیں جن کے لیے پاکستان میں لوگ ساری زندگی لڑتے رہتے ہیں اور پھر بھی نہیں ملتیں۔ اٹلی نے ہمیں صرف روٹی نہیں دی، اس نے ہمیں عزت دی۔ یہاں کوئی تمہاری ذات نہیں پوچھتا، کوئی تمہارا قبیلہ نہیں دیکھتا، کوئی یہ نہیں کہتا کہ تم فلاں علاقے کے ہو اس لیے تمہیں نوکری نہیں ملے گی۔ یہاں اگر تم محنت کرو تو مہینے کے آخر میں پیسہ اکاؤنٹ میں آتا ہے، کوئی مالک تمہیں دھوکہ نہیں دے سکتا کیونکہ قانون تمہارے ساتھ ہے۔ ہاں یہ سفر آسان نہیں تھا، ہم میں سے کئی لوگوں نے بہت کچھ جھیلا، سمندر پار کیا، جنگلات میں بھوکے رہے، ٹھنڈ میں کانپے، لیکن جب اس زمین پر قدم پڑا تو کچھ نہ کچھ ملا ضرور۔ کسی کو کام ملا، کسی کو چھت ملی، کسی کو پرمیسو ملا، کسی کو بس ایک موقع ملا اور اسی ایک موقع سے اس نے اپنی پوری زندگی بدل لی۔ آج کے دن ہم اٹلی کو صرف مبارکباد نہیں دیتے، ہم اس کا شکریہ ادا کرتے ہیں، دل سے، اس ملک کا جس نے ہمیں اپنایا جب ہمیں کسی اپنے کی ضرورت تھی۔ Buona Festa della Repubblica Italia، تم ہمارے دوسرے گھر ہو، اور اس گھر کی قدر ہم stranieri سے بہتر کوئی جانتا #بہترزندگی

آج اٹلی کے صوبے Calabria سے ایک ایسی خبر آئی ہے جسے پڑھ کر دل بیٹھ گیا اور شرم سے سر جھک گیا۔ Amendolara نامی گاؤں کے قر...
02/06/2026

آج اٹلی کے صوبے Calabria سے ایک ایسی خبر آئی ہے جسے پڑھ کر دل بیٹھ گیا اور شرم سے سر جھک گیا۔ Amendolara نامی گاؤں کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر ایک مائنی وین کو آگ لگا دی گئی اور اس میں بند چار مزدور زندہ جل کر مر گئے، تین افغانی اور ایک پاکستانی، جبکہ ایک افغانی مزدور بڑی مشکل سے ٹوٹی کھڑکی سے نکل کر جان بچانے میں کامیاب ہوا۔ یہ سب لوگ Calabria کے کھیتوں میں موسمی مزدوری کرتے تھے، لیموں اور زیتون اُتارتے تھے، دن رات محنت کرتے تھے، یورپ کو سستی خوراک دیتے تھے، اور بدلے میں انہیں ملا کیا؟ آگ۔ اطالوی پولیس نے CCTV فوٹیج کی بنیاد پر 36 گھنٹوں کے اندر دو پاکستانیوں کو گرفتار کر لیا۔ فوٹیج میں صاف دکھائی دیتا ہے کہ دونوں نے گاڑی کے دروازے باہر سے بند کیے اور پھر اندر آگ لگانے والا مادہ پھینکا اور بھاگ گئے۔ بچنے والے افغانی نے اپنی گواہی میں بتایا کہ معاملہ پیسوں کا تھا، ٹرانسپورٹ کا حساب تھا، اور اختلاف اتنا بڑا نہیں تھا کہ چار انسان جلا کر مار ڈالے جائیں۔ زندہ بچنے والے نے صحافی کو بتایا کہ میں نے اپنی آنکھوں سے وہ منظر دیکھا جو زندگی بھر نہیں بھولوں گا، میں معجزے سے بچا۔ اب میں یہ پوسٹ اس لیے نہیں لکھ رہا کہ اپنی قوم کو گالی دوں یا اٹلی میں رہنے والے تمام پاکستانیوں کو شرمندہ کروں، اس لیے لکھ رہا ہوں کیونکہ خاموشی بھی ایک قسم کی شراکت ہوتی ہے۔ جو غلط کرے اسے غلط کہنا ضروری ہے چاہے وہ اپنا ہی ہو۔ پاکستان میں بھی کچھ لوگ کمزوروں پر ظلم کرتے ہیں اور اٹلی آ کر بھی وہی طبیعت لے کر آتے ہیں، نیا ملک ملتا ہے مگر ضمیر وہی پرانا رہتا ہے۔ یورپ آنے سے انسان نہیں بدلتا، تربیت اور خوف خدا سے بدلتا ہے۔ ان دونوں ملزموں کو اطالوی قانون کے تحت سخت سے سخت سزا ملنی چاہیے اور ہم پاکستانیوں کو بھی اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے کہ ہم باہر جا کر دنیا کو اپنی قوم کی کیا تصویر دکھا رہے ہیں۔ جو مزدور مرے وہ بھی مہاجر تھے جیسے ہم ہیں، وہ بھی کسی کے بیٹے تھے، کسی کے باپ تھے، وہ بھی ایک بہتر زندگی کی تلاش میں نکلے تھے اور یہاں انہیں زندہ جلا دیا گیا۔ اللہ ان مقتولوں پر رحم فرمائے، زندہ بچنے والے کو صحت اور حفاظت دے، اور ان ظالموں کو دنیا اور آخرت دونوں میں اس ظلم کا حساب دینا پڑے۔

2021 کے شروع میں جب میں نے گھر کا دروازہ بند کیا تو پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا کیونکہ اگر دیکھتا تو شاید قدم ہی نہ اٹھتے۔ ما...
28/05/2026

2021 کے شروع میں جب میں نے گھر کا دروازہ بند کیا تو پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا کیونکہ اگر دیکھتا تو شاید قدم ہی نہ اٹھتے۔ ماں کا چہرہ ذہن میں تھا، گھر کے حالات ذہن میں تھے، اور ایک دھندلا سا خواب تھا کہ کہیں ایسی جگہ پہنچنا ہے جہاں زندگی ہو، سکون ہو، کوئی مستقبل ہو۔ ہم چار کزن تھے، چاروں کی آنکھوں میں ایک ہی امید تھی اور چاروں کے دل میں ایک ہی ڈر تھا کہ آگے کیا ہوگا، لیکن یہ ڈر ہم نے ایک دوسرے سے چھپائے رکھا کیونکہ ایک کمزور پڑتا تو باقی تین نے سنبھالنا تھا۔

پاکستان سے ایران کا سفر خود ایک الگ کہانی تھی۔ راستے ایسے کہ جن پر کوئی سرکاری گاڑی نہیں چلتی، لوگ ایسے جن پر بھروسہ کرنا پڑتا ہے کیونکہ اور کوئی چارہ نہیں ہوتا، اور ہر گھنٹے کے ساتھ احساس گہرا ہوتا جاتا تھا کہ ہم ایک ایسے راستے پر ہیں جہاں سے واپسی آسان نہیں۔ ایران میں سے گزرنا بھی آسان نہیں تھا، ہر جگہ چھپ کر چلنا، ہر جگہ ڈرتے ڈرتے قدم اٹھانا، یہ احساس کہ ہم کسی کے مہمان نہیں بلکہ کسی کی نظر میں مجرم ہیں۔

پھر وہ رات آئی جو میں کبھی نہیں بھولوں گا۔ ایران اور ترکی کا بارڈر کراس کرنے کی کوشش کر رہے تھے، رات کا اندھیرا تھا، پہاڑی علاقہ تھا، سانسیں روک کر قدم اٹھا رہے تھے کہ اچانک ٹارچوں کی روشنی پڑی اور ترکی آرمی نے گھیر لیا۔ جو ہوا اس کے لیے میں الفاظ ڈھونڈتا ہوں تو وہ ملتے نہیں کیونکہ کچھ تجربے الفاظ سے بڑے ہوتے ہیں۔ ایک فوجی نے پستول کا دستہ میرے سر پر مارا اور سر پھٹ گیا، خون بہنے لگا اور دماغ نے ایک لمحے کے لیے کام کرنا بند کر دیا۔ پھر میرا ہی موبائل اٹھا کر میرے منہ پر مارا تو ہونٹ پھٹ گیا۔ ہم چاروں کے ساتھ جو ہوا وہ انسانیت کے نام پر ایک سیاہ باب تھا لیکن اس وقت صرف یہ سوچ رہے تھے کہ اللہ کرے یہاں سے زندہ نکلیں۔اور پھر ہمت جوڑ کر دوبارہ کوشش کی۔ یہ سلسلہ چلتا رہا کیونکہ جو واپس جانے پر ملتا وہ اس درد سے زیادہ بھاری تھا۔

ترکی پہنچے تو وہاں پورا ایک سال گزرا۔ بارہ مہینے ایسی زندگی میں جہاں نہ کوئی قانونی حیثیت تھی نہ کوئی یقین کہ آگے بھی جا پائیں گے۔ کام کیا، وقت گزارا، پیسے جوڑے، حالات کا انتظار کیا۔ ترکی میں بھی آسانی نہیں تھی، غیر ملکی اور غیر قانونی ہونے کا بوجھ ہر روز کندھوں پر ہوتا تھا لیکن یہ بوجھ اٹھانا پڑتا تھا کیونکہ منزل ابھی دور تھی۔

ایک سال بعد جب ترکی سے آگے کی راہ لی تو اصل امتحان شروع ہوا۔ بلغاریہ، سربیا، ہنگری کے جنگل رات کو پار کیے جہاں نہ روشنی تھی نہ راستہ معلوم تھا بس ایک شخص آگے ہوتا تھا اور باقی اس کے قدموں کی آواز سنتے چلتے رہتے تھے۔ پہاڑ اتنے کہ ہم نے گنتی چھوڑ دی، ایک کے بعد ایک، جسم درد کرتا تھا لیکن رکنا ممکن نہیں تھا کیونکہ جو رک جائے وہ پیچھے رہ جائے۔ سردیوں کی راتیں تھیں، ٹھنڈ ایسی کہ ہڈیوں میں اتر جائے، اور ہم جنگلوں میں تھے، کھلے آسمان تلے تھے، کبھی کسی سڑک کے کنارے تھے۔ کوئی چھت نہیں، کوئی گرم بستر نہیں، بس ایک دوسرے کی گرمی اور اللہ پر بھروسہ۔

دو راتیں ایسی بھی آئیں جب قبرستان میں پناہ لینی پڑی۔ یہ لکھتے ہوئے بھی عجیب لگتا ہے لیکن یہ سچ ہے۔ جب اور کوئی جگہ نہ ہو، جب ہر طرف خطرہ ہو، جب بس یہی چھت ملے تو مردوں کی قبروں کے درمیان بیٹھ کر رات گزاری اور ان سے بھی دعا مانگی کہ بھائی تم تو جا چکے ہو، ہمیں جانے دو۔ تین تین دن بھوکے رہے۔ کھانا نہیں ملتا تھا، پیسے ختم ہو جاتے تھے، آگے بڑھنا ضروری ہوتا تھا۔ ان دنوں میں پاکستانی کھانے کو اتنا ترسے کہ خوابوں میں ماں کے ہاتھ کی دال اور روٹی آتی تھی اور آنکھ کھلتی تو منہ کا ذائقہ ایسا ہوتا جیسے ابھی کھایا ہو اور پھر احساس ہوتا کہ کچھ نہیں ہے۔

کئی بار دل کیا کہ بس واپس چلے جاتے ہیں۔ یہ جنت نہیں ملنی، جو ہے وہیں رہو۔ لیکن پھر پاکستان کے وہ حالات یاد آتے جن کی وجہ سے نکلے تھے، وہ تنگی یاد آتی، وہ بے بسی یاد آتی، اور لگتا کہ واپس جانا آگے جانے سے زیادہ مشکل ہے۔ تو بڑھتے رہے۔ ہمت ہوتی تھی پھر ٹوٹ جاتی تھی، پھر ملتی تھی پھر بکھر جاتی تھی۔ یہ سلسلہ ڈیڑھ مہینے چلتا رہا اور ہم نے خود سے صرف یہ کہا کہ یا زندہ بچیں گے یا اللہ حافظ، درمیان کا کوئی راستہ نہیں۔

2022 میں جب اٹلی کی سرزمین پر پہلا قدم رکھا تو میں کچھ بول نہیں سکا۔ بس بیٹھ گیا اور آنکھیں بھر آئیں۔ وہ سارے جنگل، وہ سارے پہاڑ، وہ قبرستان کی راتیں، وہ بھوک، وہ پستول کا دستہ، وہ خون، وہ ٹھنڈ، سب کچھ ایک لمحے میں آنکھوں کے سامنے سے گزر گیا اور لگا کہ شاید یہی وہ پھل ہے جس کے لیے یہ سب سہا تھا۔ آج اٹلی میں ہوں، کام کر رہا ہوں، زندگی گزار رہا ہوں۔ آسان نہیں ہے یہاں بھی، لیکن جو گزر چکا اس کے سامنے یہاں کی مشکلات مشکل لگتی ہی نہیں۔ جو شخص قبرستان میں رات گزار چکا ہو اسے کسی اور چیز سے ڈر نہیں لگتا۔

27/05/2026

*بغیر فریزر کے گوشت محفوظ رکھنے کا طریقہ !*
گوشت کے کلو، کلو کے شاپر بنالیں، شاپروں پر ہلکی سی گانٹھ لگا دیں
تاکہ ہوا لگتی رہے۔ اب شاپر ان گھروں میں پہنچادیں جنہوں نے قربانی نہیں کی یہ گوشت قیامت تک خراب نہیں ہو گا۔

پیج دیسی ان یورپ کی جانب سے سب کو دلی عید مبارک۔
26/05/2026

پیج دیسی ان یورپ کی جانب سے سب کو دلی عید مبارک۔

Indirizzo

Pordenone
Pordenone
33170

Notifiche

Lasciando la tua email puoi essere il primo a sapere quando Desi in Europe pubblica notizie e promozioni. Il tuo indirizzo email non verrà utilizzato per nessun altro scopo e potrai annullare l'iscrizione in qualsiasi momento.

Condividi