Arain international community

Arain international community Informative videos , picture & News

❤️ ماہ نور صفدر کا نکاح 💐✨وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی صاحبزادی ماہ نور صفدر کا اذان جبار آرائیں کے ساتھ سادگی اور ...
13/09/2026

❤️ ماہ نور صفدر کا نکاح 💐✨

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی صاحبزادی ماہ نور صفدر کا اذان جبار آرائیں کے ساتھ سادگی اور خاندانی روایات کے مطابق نکاح ہوگیا۔

لاہور جاتی اُمرا میں ہونے والی تقریب میں شریف خاندان اور صرف قریبی عزیز و اقارب نے شرکت کی۔
دلہا ،دلہن کی یادگار تصویری جھلکیاں ❤️🌸

میاں خالد حبیب الٰہی ارائیں صاحب بہت خوبایسے لوگوں کا اس سے بھی برا حال ہونا چاہیے
11/09/2026

میاں خالد حبیب الٰہی ارائیں صاحب بہت خوب
ایسے لوگوں کا اس سے بھی برا حال ہونا چاہیے

دعائے مغفرت و ایصالِ ثوابآج میری محترمہ والدہ ماجدہ کو ہم سے بچھڑے ایک برس بیت گیا۔ وقت گزر جاتا ہے، مگر ماں کی جدائی کا...
30/08/2026

دعائے مغفرت و ایصالِ ثواب

آج میری محترمہ والدہ ماجدہ کو ہم سے بچھڑے ایک برس بیت گیا۔ وقت گزر جاتا ہے، مگر ماں کی جدائی کا دکھ دل میں ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ 🤲🏻

تمام احباب سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ میاں تنویر ساحل کی والدہ محترمہ کی روح کے ایصال ثواب، مغفرت اور درجات عالیہ میں بلندی کے لیے:

ایک مرتبہ سورۃ الفاتحہ
تین مرتبہ سورۃ الاخلاص
اول و آخر درودِ پاک

پڑھ کر ان کے لیے خصوصی دعا فرمائیں۔

اللہ تعالیٰ والدہ محترمہ کی کامل مغفرت فرمائے۔ ان کی قبر کو نور سے بھر دے۔ جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ تمام مرحومین کے ساتھ ان کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں ان کے لیے صدقۂ جاریہ بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین۔ 🤲🏻

آپ کا مخلص
*میاں تنویر ساحل*
سیکرٹری جنرل RUJ سینٹرل پنجاب
سینئر نائب صدر PMA گوجرانوالہ

10/08/2026

14 اگست پاک ڈونر کی جانب سے جابریہ مرکزی بلڈ بنک میں بلڈ ڈونیشن کیمپ کا انعقاد کیا جا رہا ہے تمام پاکستانی کمیونٹی سے درخواست ہے کہ بلڈ ڈونیشن کیمپ میں آئیں اور اپنے اپنے خون کے عطیات دیں. شکریہ

Pakistan
03/08/2026

Pakistan

مبارکاں لکھ لکھ مبارکاں ڈاکٹر انوش مسعود پنجاب کی پہلی آئی جی پنجاب تعینات نوٹیفیکیشن جاری
03/08/2026

مبارکاں لکھ لکھ مبارکاں
ڈاکٹر انوش مسعود
پنجاب کی پہلی آئی جی پنجاب تعینات نوٹیفیکیشن جاری

چوہدری عبداللہ طاہر آرائیں شہید ،، ایک شخص نہیں، ایک عہد خدمت کا خاتمہاربوں کے اثاثوں کے باوجود عاجزی، کشادہ دلی اور خدم...
31/07/2026

چوہدری عبداللہ طاہر آرائیں شہید ،، ایک شخص نہیں، ایک عہد خدمت کا خاتمہ

اربوں کے اثاثوں کے باوجود عاجزی، کشادہ دلی اور خدمتِ خلق میں ہمیشہ پیش پیش رہنے والی شخصیت بزدلانہ ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بن گئی

اوکاڑہ: چوہدری عبداللہ طاہر آرائیں شہید صرف اوکاڑہ کی ایک معروف سیاسی، کاروباری اور ڈیرہ دار شخصیت کا نام نہیں تھے بلکہ وہ اپنی عاجزی، ملنساری، کشادہ دلی اور خدمتِ خلق کے حوالے سے ایک منفرد پہچان رکھتے تھے۔

ان کے پاس بے شمار وسائل اور اربوں روپے کے اثاثے ہونے کے باوجود ان کی شخصیت میں غرور، تکبر یا رعونت کا شائبہ تک نظر نہیں آتا تھا۔ وہ انتہائی سادہ مزاج، نرم گفتار اور ملنسار انسان تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ان کا ڈیرہ 32/2L اوکاڑہ صرف ایک سیاسی یا کاروباری مرکز نہیں بلکہ ہر خاص و عام کے لیے کھلا دروازہ تھا۔

جو شخص بھی ان سے ملنا چاہتا، وہ باآسانی ان تک پہنچ سکتا تھا۔ عام آدمی ہو یا سیاسی کارکن، دوست ہو یا ضرورت مند، ان کے دروازے پر کسی کو اپنی حیثیت ثابت کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔ ان کی شخصیت کی اصل خوبصورتی یہی تھی کہ انہوں نے دولت اور اختیار کو اپنے اور عوام کے درمیان دیوار نہیں بننے دیا۔

دولت بہت تھی، مگر دل اس سے بھی بڑا تھا

چوہدری عبداللہ طاہر آرائیں شہید کی زندگی اس بات کی مثال تھی کہ انسان کی اصل پہچان اس کے اثاثے نہیں بلکہ اس کا کردار ہوتا ہے۔

وہ ایک بڑے کاروباری اور صاحبِ حیثیت شخص ہونے کے باوجود عام لوگوں کے ساتھ انتہائی محبت اور خلوص سے پیش آتے۔ خدمتِ خلق کے کاموں میں ان کی دلچسپی محض رسمی نہیں تھی بلکہ ضرورت مندوں کی مدد کرنا اور لوگوں کے مسائل سننا ان کی شخصیت کا نمایاں پہلو تھا۔

ان کا ڈیرہ ان لوگوں کے لیے بھی دستیاب تھا جن کے پاس نہ کوئی سیاسی عہدہ تھا، نہ کوئی بڑا کاروبار اور نہ ہی کوئی بااثر سفارش۔

یہی وجہ ہے کہ ان کی اچانک اور المناک موت نے نہ صرف ان کے خاندان، دوست احباب اور سیاسی رفقا بلکہ ان تمام لوگوں کو صدمے سے دوچار کر دیا ہے جو انہیں ایک انسان دوست شخصیت کے طور پر جانتے تھے۔

سیاست میں بھی فعال کردار

چوہدری عبداللہ طاہر آرائیں شہید کی سیاسی وابستگی پاکستان تحریک انصاف سے تھی اور وہ این اے 136 اوکاڑہ سے سابق امیدوار بھی رہ چکے تھے۔

سیاست میں ان کی موجودگی محض انتخابی سرگرمیوں تک محدود نہیں تھی بلکہ ان کا وسیع سماجی حلقہ اور عوامی رابطہ بھی ان کی سیاسی شناخت کا اہم حصہ تھا۔

ایک ایسے وقت میں جب سیاست میں عام طور پر عہدہ، اثر و رسوخ اور طاقت کو اہمیت دی جاتی ہے، چوہدری عبداللہ طاہر کی شخصیت میں عاجزی اور لوگوں سے براہ راست رابطہ انہیں منفرد بناتا تھا۔

بزدلانہ قتل نے کئی سوالات کھڑے کر دیے

ان کا قتل ایک انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت واقعہ ہے۔

کسی بھی انسان کی جان لینا صرف ایک خاندان سے اس کے فرد کو چھیننا نہیں ہوتا بلکہ اس کے بچوں، والدین، بہن بھائیوں، دوستوں اور پورے معاشرتی حلقے کو ایک ایسے صدمے سے دوچار کرنا ہوتا ہے جس کا ازالہ ممکن نہیں۔

چوہدری عبداللہ طاہر آرائیں شہید کے قتل کی بھرپور مذمت کی جانی چاہیے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اس واقعے کی مکمل، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی جائیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ قتل کے محرکات سامنے لائے جائیں، واقعے میں ملوث ملزمان کی شناخت کی جائے اور اگر کسی نے منصوبہ بندی، سہولت کاری یا معاونت کی ہے تو اسے بھی قانون کے مطابق کٹہرے میں لایا جائے۔

آرائیں کمیونٹی کے بااثر افراد اپنا کردار ادا کریں

یہ وقت آرائیں کمیونٹی کے بیوروکریٹس، پولیس افسران، سیاستدانوں، وکلا، کاروباری شخصیات اور دیگر بااثر افراد کے لیے بھی اپنے اجتماعی کردار پر غور کرنے کا ہے۔

پنجاب اور وفاق کے اعلیٰ اداروں اور ایوانوں میں آرائیں کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد مختلف اہم عہدوں پر موجود ہیں۔ ان تمام شخصیات سے اپیل ہے کہ وہ اس واقعے کو محض ایک شخص کے قتل کا معاملہ سمجھ کر نظرانداز نہ کریں۔

وہ اپنے اپنے دائرۂ اختیار میں رہتے ہوئے اس واقعے کی شفاف تحقیقات، انصاف کی فراہمی اور متاثرہ خاندان کی قانونی و اخلاقی معاونت کے لیے آواز بلند کریں۔

یہ کسی ایک خاندان کا مسئلہ نہیں۔

یہ انسانی جان کے احترام، قانون کی بالادستی اور انصاف کے نظام پر عوام کے اعتماد کا مسئلہ ہے۔

یہ صرف آرائیں کمیونٹی کا نہیں، انسانیت کا نقصان ہے

چوہدری عبداللہ طاہر آرائیں شہید کے قتل سے آرائیں کمیونٹی یقیناً ایک اہم شخصیت سے محروم ہوئی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ایک انسان کا ناحق قتل پوری انسانیت کا نقصان ہوتا ہے۔

ایک ایسا شخص جو اپنے وسائل کے باوجود عاجزی اختیار کرے، جس کا دروازہ عام آدمی کے لیے کھلا ہو اور جو خدمتِ خلق میں اپنا حصہ ڈالتا رہے، اس کا اس دنیا سے یوں چلے جانا ایک بڑا سانحہ ہے۔

ان کی زندگی ان لوگوں کے لیے ایک مثال ہے جو سمجھتے ہیں کہ دولت انسان کو دوسروں سے دور کر دیتی ہے۔ چوہدری عبداللہ طاہر نے ثابت کیا کہ انسان چاہے کتنا ہی صاحبِ حیثیت کیوں نہ ہو، وہ عاجزی، محبت اور خدمت کو اپنی پہچان بنا سکتا ہے۔

انصاف ہی اصل خراجِ عقیدت ہے

آج چوہدری عبداللہ طاہر آرائیں شہید کے لیے سب سے بڑا خراجِ عقیدت یہی ہوگا کہ ان کے قتل کے ذمہ دار عناصر کو قانون کے مطابق انصاف کے کٹہرے تک پہنچایا جائے۔

تعزیتی بیانات، مذمتی قراردادیں اور چند روزہ احتجاج اپنی جگہ، مگر اصل ضرورت انصاف کی ہے۔

ریاستی اداروں کو یہ پیغام دینا ہوگا کہ کسی شہری کی جان سستی نہیں اور کوئی قاتل قانون سے بالاتر نہیں۔

اگر تحقیقات غیرجانبدارانہ ہوں، اصل محرکات سامنے لائے جائیں اور ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا ملے تو یہ نہ صرف شہید کے خاندان کے لیے انصاف ہوگا بلکہ معاشرے میں قانون کی بالادستی پر اعتماد بھی مضبوط ہوگا۔

ایک دعا، ایک یاد

چوہدری عبداللہ طاہر آرائیں شہید آج ہمارے درمیان موجود نہیں، مگر ان کی عاجزی، کشادہ دلی، عوام سے محبت اور خدمتِ خلق کی یادیں ان سے وابستہ لوگوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔

اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے، ان کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور سوگوار خاندان، عزیز و اقارب اور تمام اہلِ تعلق کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔

اللہ پاک اپنے حبیب حضرت محمد ﷺ کے صدقے چوہدری عبداللہ طاہر آرائیں شہید کی کامل مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔

اور ریاستِ پاکستان سے یہی مطالبہ ہے کہ اس المناک واقعے کی شفاف تحقیقات کرکے ذمہ دار عناصر کو قانون کے مطابق کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔

چوہدری عبداللہ طاہر آرائیں شہید کی جدائی کا دکھ اپنی جگہ، مگر ان کے لیے حقیقی انصاف ہی ان کی زندگی اور خدمات کا سب سے بڑا خراجِ عقیدت ہوگا۔

میاں تنویر ساحل
چیئرمین میڈیا سیل مہر ویلفیئر سوسائٹی پاکستان

لمحہ فکریہ ارائیں فیملی کی سرکردہ شخصیات کے قتل اوکاڑہ میں دس سال، تین قتل، ایک ہی سوال: اگلی باری کس کی؟حاجی چوہدری خال...
31/07/2026

لمحہ فکریہ
ارائیں فیملی کی سرکردہ شخصیات کے قتل
اوکاڑہ میں دس سال، تین قتل، ایک ہی سوال: اگلی باری کس کی؟

حاجی چوہدری خالد محمود عرف گوگا بلے مار، ڈاکٹر محمد اشرف آرائیں اور اب چوہدری عبداللہ طاہر — کیا ماضی کے قتل کے مقدمات سے کوئی سبق نہیں لیا گیا؟

اوکاڑہ: اوکاڑہ ایک بار پھر خونریزی کے ایک ایسے واقعے سے دوچار ہے جس نے شہریوں اور خصوصاً آرائیں برادری میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ چوہدری عبداللہ طاہر آرائیں کا قتل ایک تازہ سانحہ ضرور ہے، مگر اس کے پیچھے موجود سوالات کہیں زیادہ پرانے ہیں۔

گزشتہ تقریباً دس برس کے دوران آرائیں برادری سے تعلق رکھنے والی تین اہم شخصیات کے قتل کے واقعات سامنے آ چکے ہیں۔ 2015 میں حاجی چوہدری خالد محمود عرف گوگا بلے مار کو اوکاڑہ منڈی میں نماز کی ادائیگی کے بعد مسجد سے باہر نکلتے ہوئے قتل کیا گیا۔ 2020 میں چیئرمین یونین کونسل 29، مسلم لیگ ن کے چیئرمین ڈاکٹر محمد اشرف آرائیں کو دن دیہاڑے بس اسٹینڈ میں ان کے دفتر کے باہر قتل کر دیا گیا، جبکہ اب 2026 میں چوہدری عبداللہ طاہر آرائیں بھی قتل کر دیے گئے۔

تین واقعات، ایک طویل عرصہ اور کئی سوالات۔

آخر ان قتلوں کے محرکات کیا تھے؟ کیا تمام مقدمات میں پیش رفت ہوئی؟ کیا ملزمان اور ان کے مبینہ سہولت کار قانون کے کٹہرے تک پہنچے؟ اور سب سے بڑھ کر، کیا ان واقعات کو روکنے کے لیے کوئی مؤثر حکمت عملی بنائی گئی؟

کیا ہر قتل کے بعد چند دن کا شور ہی کافی ہے؟

یہ ہمارے معاشرے کا ایک تلخ پہلو ہے کہ کسی بااثر یا معروف شخص کے قتل کے فوراً بعد احتجاج، مذمت، تعزیت اور انصاف کے مطالبات زور پکڑتے ہیں، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ آوازیں مدھم پڑ جاتی ہیں۔

پھر ایک نیا سانحہ ہوتا ہے، نئے سوالات اٹھتے ہیں اور چند دن بعد ایک بار پھر خاموشی چھا جاتی ہے۔

اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو سوال صرف یہ نہیں ہوگا کہ قاتل کون ہیں؟

بلکہ سوال یہ بھی ہوگا کہ معاشرے نے جرم کے خلاف اپنی اجتماعی قوت کیوں کھو دی؟

برادری کو انتقام نہیں، اتحاد اور قانون چاہیے

ایسے واقعات کے بعد جذبات بھڑکنا فطری امر ہے، مگر کسی بھی مہذب معاشرے میں قتل کا جواب مزید قتل نہیں ہوسکتا۔

آرائیں برادری سمیت اوکاڑہ کے تمام شہریوں کو چاہیے کہ وہ پرامن اور قانونی طریقے سے انصاف کے لیے متحد ہوں۔ قاتلوں کو سزا دلوانے کا راستہ عدالت اور قانون سے ہوکر گزرتا ہے، ذاتی انتقام سے نہیں۔

اگر ایک برادری اپنے کسی فرد کے قتل پر متحد ہو کر قانونی جدوجہد کرے، مقدمات کی پیروی کرے، پولیس سے جواب طلب کرے اور منتخب نمائندوں سے اپنی ذمہ داری پوری کرنے کا مطالبہ کرے تو یہ اجتماعی طاقت کسی بھی مجرمانہ نیٹ ورک کے لیے ایک واضح پیغام ہوسکتی ہے۔

پولیس اور انتظامیہ کے لیے بڑا امتحان

چوہدری عبداللہ طاہر کے قتل نے ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے سامنے ایک اہم امتحان کھڑا کر دیا ہے۔

صرف مقدمہ درج کرنا یا چند مشتبہ افراد کو حراست میں لینا کافی نہیں ہوگا۔ عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ قتل کے پیچھے اصل محرکات کیا تھے، منصوبہ بندی کس نے کی، سہولت کاری کس نے کی اور اگر کوئی بااثر شخص اس معاملے میں ملوث ہے تو کیا قانون اس تک بھی پہنچے گا؟

ساتھ ہی گزشتہ قتل کے مقدمات کی موجودہ صورتحال بھی عوام کے سامنے آنی چاہیے۔

اگلا نمبر کس کا؟

یہ جملہ کسی خوف یا افواہ کے طور پر نہیں بلکہ ایک انتہائی سنجیدہ سماجی سوال کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔

اگر ایک شہر میں وقفے وقفے سے اہم شہری قتل ہوتے رہیں اور ہر واقعے کے بعد کچھ عرصے میں اجتماعی توجہ ختم ہوجائے تو جرائم پیشہ عناصر کے خلاف ریاستی اور معاشرتی دباؤ کمزور پڑ سکتا ہے۔

اس لیے آج سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ "اگلا نمبر کس کا ہے؟"

اصل سوال یہ ہونا چاہیے:

"اگلا قتل روکنے کے لیے ریاست، پولیس، انتظامیہ اور معاشرہ آج کیا کر رہا ہے؟"

چوہدری عبداللہ طاہر کے اہل خانہ کو انصاف ملنا چاہیے، مگر اس سے بھی بڑھ کر اوکاڑہ کے ہر شہری کو یہ یقین ملنا چاہیے کہ اس کی جان قانون کی نظر میں قیمتی ہے۔

2015، 2020 اور 2026 کے واقعات کو محض تاریخوں میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔

اگر ماضی کے واقعات سے سبق نہ لیا گیا تو آنے والے دنوں میں یہی سوال مزید تلخ شکل اختیار کرسکتا ہے۔

اوکاڑہ کو مزید جنازے نہیں، قانون کی بالادستی چاہیے۔
مزید خاموشی نہیں، انصاف چاہیے۔
اور سب سے بڑھ کر، ایسا نظام چاہیے جس میں کسی شہری کو یہ خوف نہ ہو کہ اگلی باری شاید اس کی ہو۔

رپورٹ و تجزیہ: ساحل نیوز انٹرنیشنل

شادی مبارک
31/07/2026

شادی مبارک

چوہدری عبداللہ طاہر آرائیں آف اوکاڑہ  لاہور قاتلانہ حملے  میں جابحق ہو گئےانا للہ وانا الیہ راجعون
29/07/2026

چوہدری عبداللہ طاہر آرائیں آف اوکاڑہ
لاہور قاتلانہ حملے میں جابحق ہو گئے
انا للہ وانا الیہ راجعون

Address

Muhammad Bin Qasum Road
Al Farwaniyah
080000

Telephone

+923313246000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Arain international community posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share