05/06/2026
پڑھے لکھے شعور اور
سماجی ذمہ داری کا امتحان۔۔؟
تحریر: غضنفر علی عباسی
پسِ منظر: گرمی کی شدت اور پہاڑوں کا بلاوا
میدانی علاقوں میں جب سورج سوا نیزے پر آتا ہے اور لو کے تھپیڑے زندگی کو اجیرن کر دیتے ہیں، تو انسانی جبلت آسودگی اور ٹھنڈک کی تلاش میں پہاڑوں کا رخ کرتی ہے۔ خاص طور پر عیدین اور دیگر تعطیلات کے موقع پر مری، سوات، گلیات اور مضافاتی صحت افزا مقامات کی طرف جانے والی سڑکوں پر گاڑیوں کا ایک لامتناہی سمندر उमڈ آتا ہے۔ یہ سفر، جو بنیادی طور پر ذہنی سکون، قدرت کی رعنائیوں سے لطف اندوز ہونے اور تپشِ موسم سے نجات کے لیے اختیار کیا جاتا ہے، بدقسمتی سے ہماری قومی نفسیات، اخلاقی گراوٹ اور فکری تضاد کا ایک مایوس کن آئینہ بن جاتا ہے۔
پڑھے لکھے طبقے کا تضاد: قانون کی پاسداری یا پامالی؟
اکثر سیانے اور بزرگ یہ بات دہراتے ہیں کہ *"اس ملک میں سب سے زیادہ قانون شکنی (وائلیشن) پڑھے لکھے لوگ کرتے ہیں۔"* ماضی میں شاید اس بات سے اختلاف کی گنجائش موجود تھی، کیونکہ مروجہ تصور یہ ہے کہ تعلیم انسان کو مہذب، صابر اور قانون کا احترام سکھاتی ہے۔ لیکن تفریحی مقامات پر لگنے والے ٹریفک جام اور وہاں کے مناظر کو دیکھ کر اس کڑوی حقیقت سے اتفاق کیے بغیر چارہ نہیں رہتا۔
ان سیاحوں میں اکثریت ان لوگوں کی ہوتی ہے جو:
* اعلیٰ تعلیمی ڈگریوں کے حامل ہیں۔
* جدید اور ماڈرن طرزِ زندگی گزارتے ہیں۔
* سوشل میڈیا پر جمہوریت، قانون کی بالادستی اور مغربی ممالک کے ڈسپلن کی مثالیں دیتے تھکتے نہیں ہیں۔
مگر جیسے ہی یہ طبقہ ہائی وے سے نکل کر پہاڑی راستوں پر پہنچتا ہے، ان کا سارا "ماڈرن پن" اور "تعلیم" دھواں بن کر اڑ جاتی ہے۔
ٹریفک جام: صبر و تحمل کا فقدان
پہاڑی راستوں کی اپنی ایک جغرافیائی حدود ہوتی ہیں۔ وہاں سڑکیں تنگ اور موڑ خطرناک ہوتے ہیں۔ ایسے میں اگر گاڑیوں کے ہجوم کی وجہ سے ٹریفک چند منٹوں کے لیے رک جائے، تو مہذب معاشروں میں لوگ اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں۔
> **سوچنے کا مقام:**
> پہاڑوں پر نہ تو میدانوں جیسی تپتی دھوپ ہوتی ہے، نہ دم گھونٹنے والی آلودگی اور نہ ہی حبس۔ اردگرد خوبصورت نظارے اور ٹھنڈی ہوا ہوتی ہے۔ ایسے خوشگوار ماحول میں اگر چند منٹ گاڑی میں بیٹھ کر صبر کر لیا جائے، تو اس میں کیا ہرج ہے؟ آپ وہاں کسی ایمرجنسی میں نہیں جا رہے، نہ ہی آپ نے آگے پہنچ کر کسی لگی ہوئی آگ کو بجھانا ہے!
>
لیکن ہوتا اس کے برعکس ہے۔ ہر شخص دوسرے سے آگے نکلنے کی دوڑ میں "لین" (Lane) توڑ کر گاڑی غلط سمت میں ڈال دیتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ چند منٹوں کا عام سا تعطل، گھنٹوں طویل اور اذیت ناک ٹریفک جام میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ یہ رویہ سراسر خود غرضی اور اخلاقی دیوالیہ پن کی عکاسی کرتا ہے۔
پہاڑی ثقافت اور میدانی کلچر کا ٹکراؤ
ایک اور اہم پہلو جس کی طرف توجہ دینا ضروری ہے، وہ پہاڑی علاقوں کے مقامی لوگوں کا استحصال اور ان کے کلچر کی توہین ہے۔ پہاڑوں پر بسنے والے لوگ عموماً انتہائی سیدھے سادھے، مہمان نواز، صابر اور پرامن ہوتے ہیں۔ ان کی زندگی کی رفتار دھیمی اور فطرت کے قریب ہوتی ہے۔
جب میدانی علاقوں کا سیاح پہاڑوں کو محض "عیاشی کا اڈہ" یا اپنی فرسٹریشن (Frustration) نکالنے کی جگہ سمجھ کر وہاں کا رخ کرتا ہے، تو وہ اپنے ساتھ میدانی علاقوں کا شور شرابا، غصہ، بدتمیزی اور گندگی بھی وہاں لے جاتا ہے۔
* مقامی آبادی کے حقوق کا خیال نہ رکھنا۔
* قدرتی چشموں اور راستوں کو کچرے سے بھر دینا۔
* اپنی گاڑیوں کے ہارن اور اونچی موسیقی سے پہاڑوں کے سکون کو غارت کرنا۔
یہ تمام حرکات ظاہر کرتی ہیں کہ ہم نے پڑھنا لکھنا تو سیکھ لیا ہے، لیکن "انسان" بننا اور دوسروں کے حقوق کا احترام کرنا نہیں سیکھا۔ اگر آپ پہاڑی کلچر اور وہاں کے اصولوں کا احترام نہیں کر سکتے، تو پھر آپ کو کسی بھی ناخوشگوار صورتحال یا مقامی لوگوں کے شدید ردعمل کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے، کیونکہ ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے۔
حاصلِ کلام: ڈھنگ سے آئیں، ڈھنگ سے جائیں
اللہ تعالیٰ نے اس ملک کو بے پناہ خوبصورتی اور نعمتوں سے نوازا ہے۔ ان نعمتوں سے لطف اندوز ہونا ہر شہری کا حق ہے، لیکن اس کا ایک طریقہ اور سلیقہ ہوتا ہے۔
اگر ہم واقعی پڑھے لکھے اور مہذب ہیں، تو ہمیں اپنے عمل سے اس کا ثبوت دینا ہوگا۔ سفر کی منصوبہ بندی کریں، صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں، ٹریفک قوانین کی پاسداری کو اپنی شان سمجھیں اور مقامی آبادی کے لیے زحمت کے بجائے رحمت بنیں۔ ڈھنگ سے آئیں، اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کریں، قدرت کے نظاروں کو دل میں بسائیں اور ڈھنگ سے، دوسروں کو راستہ دیتے ہوئے اپنے گھروں کو واپس لوٹیں۔ تعلیم کا مقصد صرف پیسہ کمانا یا گاڑی لینا نہیں، بلکہ اپنے کردار میں ڈسپلن اور اخلاق پیدا کرنا ہے۔
Ghazanfar Ali Abbasi