Hunza News Online

Hunza  News Online Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Hunza News Online, Advertising/Marketing, Aliabad.

It covers international, national and local news, Talk shows, analysis, debates, sports, education, tourism, sports, social and public issues, national resources, women's issues and achievements,

ڈاکٹر ظہور اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ تومور کا معاملہ: جب دونوں نے معافی مانگ لی تو بات ختم کیوں نہیں؟سوشل میڈیا پر گزشتہ دن...
11/09/2026

ڈاکٹر ظہور اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ تومور کا معاملہ:
جب دونوں نے معافی مانگ لی تو بات ختم کیوں نہیں؟

سوشل میڈیا پر گزشتہ دنوں ڈاکٹر ظہور اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ تومور کے درمیان ایک معاملہ زیرِ بحث رہا۔ دونوں جانب سے سخت الفاظ اور الزامات سامنے آئے، جس کے بعد اب دونوں صاحبان نے ایک دوسرے سے معافی مانگ کر معاملہ ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔

میری نظر میں اس معاملے میں غلطی کسی ایک فریق کی نہیں بلکہ دونوں جانب سے ہوئی۔ لیکن قابلِ تعریف بات یہ ہے کہ دونوں نے اپنی غلطی کو تسلیم کرتے ہوئے ایک دوسرے سے معافی مانگی۔ یہی ایک مہذب معاشرے کا راستہ ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ جب معاملہ دو افراد کے درمیان تھا، دونوں فریق آپس میں بات کر چکے، ایک دوسرے سے معافی مانگ چکے اور معاملہ ختم کرنے پر آمادہ ہیں، تو پھر سوشل میڈیا کے بعض ’’فلسفروں‘‘ کو اسے مزید طول دینے کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے؟

سوشل میڈیا پر ہر معاملے کو اپنی اپنی پسند اور سیاسی یا ذاتی وابستگی کے مطابق دیکھنے کے بجائے کبھی یہ بھی سوچنا چاہیے کہ اگر متاثرہ فریق خود ایک دوسرے کو معاف کر چکے ہیں تو ہمیں بھی اس معاملے کو ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

ایک اہم وضاحت بھی ضروری ہے۔ دستیاب وضاحت کے مطابق سوشل میڈیا ایکٹوسٹ ڈاکٹر ظہور کے پرائیویٹ کلینک میں ایک بچے کا چیک اپ کروانے کے سلسلے میں گئے تھے، یہ معاملہ کسی سرکاری ہسپتال میں پیش آنے کا نہیں تھا۔ اس فرق کو واضح کیے بغیر واقعے کو سرکاری ادارے یا سرکاری ذمہ داری سے جوڑنا درست تاثر نہیں دیتا۔

اختلاف رائے ہر معاشرے میں ہوتا ہے، لیکن اختلاف کو ذاتی دشمنی بنانے کے بجائے اگر بات چیت، اعترافِ غلطی اور معافی پر ختم کر دی جائے تو یہی بہتر راستہ ہے۔

دونوں صاحبان نے ایک دوسرے کو معاف کر دیا ہے، اب سوشل میڈیا کے تماشائیوں اور فلسفروں سے بھی گزارش ہے کہ اس معاملے کو مزید ہوا دینے کے بجائے یہیں ختم کریں۔

غلطی انسان سے ہوتی ہے، لیکن اپنی غلطی تسلیم کرکے معافی مانگ لینا کمزوری نہیں بلکہ کردار کی مضبوطی ہے۔

چند روز قبل ہنزہ کے ایک سرکاری ہسپتال میں پیش آنے والا ایک واقعہ سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بنا رہا، جس میں ایک کم عمر ویل...
11/09/2026

چند روز قبل ہنزہ کے ایک سرکاری ہسپتال میں پیش آنے والا ایک واقعہ سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بنا رہا، جس میں ایک کم عمر ویلاگر لڑکے نے ہسپتال میں مبینہ عدم سہولیات اور غفلت کے حوالے سے ویڈیو بنائی، جس میں ڈاکٹر ظہور کو بھی ٹیگ کیا گیا۔ اس واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے ڈاکٹر ظہور نے وضاحت کی کہ وہ لڑکا محض ایک عام مریض نہیں بلکہ ان کا ہمسایہ ہے اور اس کے والد بھی طویل عرصے سے ان کے پیشنٹ رہے ہیں، دونوں خاندانوں کے مابین گھریلو مراسم ہیں۔ ڈاکٹر ظہور کے بقول انہوں نے اس لڑکے کا بہتر علاج بھی کیا اور اسے سمجھایا بھی، مگر باوجود اس کے لڑکے نے ان کے سامنے ہی انہیں ٹیگ کرکے ویڈیو بنانا شروع کردی۔ اس عمل پر ڈاکٹر ظہور کو ناگوار گزرا اور وہ جذباتی ہوگئے، تاہم بعد ازاں انہوں نے نہ صرف ذاتی طور پر بلکہ سوشل میڈیا پر بھی لڑکے اور اس کے اہلِ خانہ سے معذرت کرلی۔
حرف حق
قلم: سید اسد اللہ غازی

یہ تھا ڈاکٹر ظہور کا اپنا موقف، جسے سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ان کی شخصیت اور خدمات کا پس منظر بھی سامنے رکھا جائے۔
ڈاکٹر ظہور میرے اپنے ہمسائے ہیں، اور میں انہیں بچپن سے جانتا ہوں۔ انتہائی ذہین، علاقے کا درد رکھنے والے، بڑوں کا احترام اور چھوٹوں سے شفقت ان کی سرشت میں شامل ہے۔ ڈاکٹر ظہور اسپیشلسٹ ہیں اور بہت سے دوسرے ڈاکٹروں کی طرح چاہتے تو نجی کلینک چلا کر کروڑ پتی بن سکتے تھے، مگر انہوں نے ہنزہ میں ماہر ڈاکٹروں کی کمی دیکھتے ہوئے یہیں رہ کر عوام کی خدمت کرنے کو ترجیح دی۔ اس بے لوث خدمت پر ہنزہ کے عوام کو ان کے شکرگزار ہونا چاہیے۔
ذاتی مشاہدے کی بنیاد پر یہ بھی عرض ہے کہ جب کبھی ہسپتال جانا ہوا، ڈاکٹر ظہور کو سرکاری اوقات ختم ہونے کے بعد بھی چار بجے تک مریضوں کا چیک اپ کرتے دیکھا، جبکہ عمومی رجحان یہی ہے کہ دو بجتے ہی ڈیوٹی سمیٹ لی جاتی ہے۔ اپنے نجی کلینک میں بھی وہ مناسب فیس وصول کرتے ہیں۔ بہرحال وہ بھی انسان ہیں، ان کے بھی جذبات ہیں، اور جب کوئی بھی شخص محض موبائل اٹھا کر کسی باعزت انسان کی تضحیک پر اتر آئے تو خون کا کھولنا ایک فطری ردعمل ہے۔ اس کے باوجود ڈاکٹر ظہور نے بڑے دل کا مظاہرہ کیا، ورنہ چاہتے تو اپنے عہدے کا سہارا لے کر اس لڑکے کے خلاف قانونی کارروائی کرسکتے تھے، کیونکہ سرکاری املاک میں ہر کسی کو ویڈیو بنانے کی اجازت نہیں ہوتی۔ اگر واقعی کوئی مسئلہ موجود تھا تو اسے اجاگر کرنا بجا اور درست عمل ہے، مگر اس کا ایک طریقہ اور ضابطہ ہونا چاہیے۔
اصل مسئلہ یہیں سے شروع ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا کے موجودہ دور میں ان پڑھ افراد بھی راتوں رات "رائٹر" اور "وی لاگر" بنے بیٹھے ہیں۔ اے آئی سے چند سطریں لکھوا کر، بس اسے موضوع کی جانب چند اشارے دے کر، مکمل تحریر تیار کرلی جاتی ہے۔ پھر یہی لوگ معاشرے کے ہر پہلو پر مصنوعی ذہانت سے حاصل کردہ ماہرانہ رائے اپنے نام کے ساتھ سوشل میڈیا پر شیئر کرکے فخر محسوس کرتے ہیں۔
حالانکہ کسی بھی خبر یا ایشو کو میڈیا یا سوشل میڈیا پر پیش کرنے کے کچھ اصول اور ضابطے ہوتے ہیں۔ مگر اب اے آئی سے "فیض یاب" ان نودولتی علماء کو کون سمجھائے، جن کے اپنے گھر میں کوئی ان کی بات نہیں سنتا، مگر وہ خود کو کالم نویس اور صحافی کہلوانے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔
جس طرح ایم بی بی ایس مکمل کرنے کے فوراً بعد کسی ڈاکٹر کو ہاؤس جاب کیے بغیر مریض چیک کرنے کی اجازت نہیں ہوتی، اور جس طرح کوئی وکیل کسی سینئر کے ساتھ عملی تربیت اور پریکٹس کے بغیر بار کونسل کا رکن نہیں بن سکتا اور نہ ہی خود کو پریکٹسنگ وکیل کہلوا سکتا ہے، بالکل اسی طرح صحافت کا بھی ای ک اصول اور ضابطہ ہے۔ صحافت کوئی ایسا شعبہ نہیں کہ جس میں بغیر تربیت، بغیر تحقیق اور بغیر ذمہ داری کے کوئی بھی شخص کود پڑے۔
بدقسمتی سے اس ملک میں رول آف لاء کا فقدان ہے۔ اگر قانون کی گرفت مضبوط ہو تو ہر پوسٹ، ہر ویڈیو اور ہر الزام کا جواب دہ وہی شخص ٹھہرے جو اسے پوسٹ کرتا ہے۔ جب تک یہ احتساب کا نظام قائم نہیں ہوتا، معاشرے میں ایسے واقعات بار بار جنم لیتے رہیں گے، اور باکردار، مخلص اور خدمت گزار افراد کو بلاوجہ تضحیک کا سامنا کرنا پڑتا رہے گا۔

Information Department Gilgit-Baltistan

گلگت بلتستان کے دارالحکومت گلگت کے نواحی علاقے دنیور سے ایک ایسی خبر سامنے آئی ہے جس نے پورے معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا ہے...
09/09/2026

گلگت بلتستان کے دارالحکومت گلگت کے نواحی علاقے دنیور سے ایک ایسی خبر سامنے آئی ہے جس نے پورے معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ایک معصوم بچی کے ساتھ زیادتی کا مقدمہ درج ہوا، اور بدقسمتی کی انتہا یہ کہ اس گھناؤنے فعل میں خود اس کا باپ ملوث پایا گیا، جس نے اپنے ایک ساتھی کے ساتھ مل کر اپنی ہی اولاد پر یہ ظلم روا رکھا۔ یہ خبر پڑھ کر ہر باشعور انسان کا دل لرز اٹھتا ہے، کیونکہ باپ کا رشتہ محبت، حفاظت اور امان کی علامت سمجھا جاتا ہے، اور جب یہی رشتہ درندگی کا لبادہ اوڑھ لے تو معاشرے کے اجتماعی ضمیر پر سوالیہ نشان لگ جاتا ہے۔
حرفِ حق
بقلم: سید اسد اللہ غازی

بڑھتا ہوا رجحان، بڑھتی ہوئی تشویش
افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں۔ گزشتہ برسوں میں گلگت بلتستان میں زیادتی اور جنسی استحصال کے مقدمات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ایک ایسا خطہ جہاں روایتی طور پر خاندانی نظام مضبوط، رشتوں میں احترام اور برداشت کا کلچر غالب سمجھا جاتا تھا، وہاں اس طرح کے واقعات کا سامنے آنا اس بات کا غماز ہے کہ کہیں نہ کہیں ہمارے معاشرتی ڈھانچے میں دراڑیں پڑ رہی ہیں۔
بے راہ روی کی چند وجوہات
اس بگاڑ کے پیچھے کئی عوامل کارفرما نظر آتے ہیں:
انٹرنیٹ کا غلط استعمال: جس سہولت کو علم، آگاہی اور ترقی کے لیے استعمال ہونا چاہیے تھا، وہ اکثر فحش مواد تک آسان رسائی کا ذریعہ بن گئی ہے، خاص طور پر نوجوان نسل کے لیے۔
ثقافتی اقدار سے دوری: اپنی صدیوں پرانی روایات اور مقامی کلچر کو پسِ پشت ڈال کر فلمی اور افسانوی دنیا کی چکاچوند کی طرف بڑھتی رغبت نے اخلاقی حدود کو کمزور کیا ہے۔
سوشل میڈیا کا بے جا استعمال: نوجوان لڑکے لڑکیوں میں جسمانی نمائش اور توجہ حاصل کرنے کا رجحان بڑھا ہے، جو بالواسطہ طور پر معاشرتی حساسیت کو متاثر کر رہا ہے۔
رشتوں میں احترام کی کمی: عزت، احترام اور حیا پر مبنی جو فاصلے رشتوں کو محفوظ بناتے تھے، وہ سکڑتے جا رہے ہیں۔
کیا یہ صرف ہمارا مسئلہ ہے؟
یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ جنسی استحصال کوئی ایسا عارضہ نہیں جو صرف پسماندہ یا ترقی پذیر معاشروں تک محدود ہو۔ عالمی سطح پر ہونے والی تحقیق، جس میں سائنسی جریدے دی لانسیٹ کا حالیہ مطالعہ شامل ہے جو 204 ممالک کے اعداد و شمار پر مبنی ہے، بتاتا ہے کہ دنیا بھر میں ہر پانچ میں سے ایک عورت اور ہر سات میں سے ایک مرد اپنے بچپن میں کسی نہ کسی صورت جنسی زیادتی کا شکار ہو چکا ہے۔ حیران کن طور پر جن ممالک میں لڑکیوں کے خلاف اس نوعیت کے واقعات کی شرح سب سے زیادہ ریکارڈ کی گئی، ان میں سولومن آئی لینڈز، آئیوری کوسٹ، چلی، کوسٹاریکا اور بھارت جیسے ممالک شامل ہیں، جبکہ لڑکوں کے حوالے سے آئیوری کوسٹ اور بنگلہ دیش سرِفہرست رہے۔ اسی طرح دنیا کی سب سے زیادہ بدعنوان اقوام کی فہرست میں جنوبی سوڈان، صومالیہ، وینزویلا اور شام جیسے نام نمایاں ہیں، جبکہ عدم برداشت کے حوالے سے کیے گئے عالمی سروے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقہ اور بعض ایشیائی خطوں میں رواداری کی سطح خاصی کم ہے۔
ان اعداد و شمار کا مقصد اپنے معاشرے کے گناہ کو کم کرنا ہرگز نہیں، بلکہ یہ سمجھنا ہے کہ برائی کی جڑیں انسانی کمزوری میں ہیں، خواہ وہ کسی بھی خطے یا معاشرے میں پروان چڑھے۔ ہاں، یہ ضرور ہے کہ جن معاشروں نے قانون کی بالادستی، مؤثر تفتیشی نظام اور بروقت سزا کو یقینی بنایا، وہاں ان جرائم کی روک تھام میں نسبتاً بہتری آئی۔
راستہ کیا ہے؟
یہ درست ہے کہ ہمارا معاشرہ مکمل طور پر بگڑ نہیں گیا، اور آج بھی اکثریت شرافت اور اخلاق کی امین ہے۔ چند گمراہ افراد کے فعل کو پورے معاشرے پر محمول کرنا انصاف نہیں۔ مگر اس بات سے انکار بھی ممکن نہیں کہ برائی کی طرف رفتار بڑھی ہے، اور اسے بروقت روکنا ہر فرد، ہر خاندان اور ریاست کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
اس کے لیے ضروری ہے کہ:
والدین اور اساتذہ بچوں کی تربیت میں مذہبی و اخلاقی اقدار کو ترجیح دیں۔
انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے استعمال پر معاشرتی و قانونی سطح پر شعوری نگرانی ہو۔
قانون سازی مضبوط اور عملدرآمد یقینی بنایا جائے، تاکہ مجرم کو قرارِ واقعی سزا ملے۔
عدالتی نظام تیز رفتار اور شفاف ہو، جہاں انصاف بروقت ملے۔
جب تک رول آف لاء پر مبنی نظامِ انصاف قائم نہیں ہوتا، اور مجرموں کو عبرتناک سزائیں نہیں دی جاتیں، محض نوحہ خوانی سے حالات نہیں بدلیں گے۔ یہ وقت ہے کہ ہم بحیثیت قوم اپنے حصے کا کردار ادا کریں، ورنہ آنے والی نسلیں ہم سے یہ سوال ضرور کریں گی کہ جب برائی سر اٹھا رہی تھی، تب ہم کہاں تھے۔
حرفِ حق — سید اسد اللہ غازی



08/09/2026

خبردار
گلتتے ژیھل ایپنومن کے میشاسکی بے انگلش لو گویمو ہیر استاد رحمدل بروشسکی گالیوں کو انگلش میں تفصیل سے بتاتے ہوئے ۔
ukreels viralreelschallenge fypシ usareels gilgitbaltistan Hunza buroshski

مشہور اسماعیلی سکالر، شاعر و ادیب فدا علی ایثار انتقال کر گئےگلگت بلتستان کے معروف علمی و ادبی حلقوں کی ایک معتبر شخصیت،...
08/09/2026

مشہور اسماعیلی سکالر، شاعر و ادیب فدا علی ایثار انتقال کر گئے

گلگت بلتستان کے معروف علمی و ادبی حلقوں کی ایک معتبر شخصیت، مشہور اسماعیلی سکالر، شاعر، ادیب اور الواعظ فدا علی ایثار لاہور میں انتقال کر گئے۔ ان کے انتقال کی خبر سے علمی، ادبی اور مذہبی حلقوں میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی۔

خاندانی ذرائع کے مطابق مرحوم کی میت آج صبح بذریعہ ہوائی جہاز سکردو منتقل کی جائے گی، جبکہ نمازِ جنازہ آج شام 4 بجے شاہ کریم ہاسٹل کے گراؤنڈ میں ادا کی جائے گی۔

فدا علی ایثار نے اپنی زندگی علم و آگہی، تدریس، تحقیق، شعر و ادب اور مذہبی و فکری خدمات کے لیے وقف کیے رکھی۔ وہ اسما عیلی کمیٹی میں علمی شخصیت کے طور صرف گلگت بلتستان تک محدود نہیں تھے بلکہ ملکی سطح پر بھی ان کی علمی، ادبی اور فکری خدمات کو قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔

07/09/2026

سکردو۔۔۔۔۔
ایس پی ایس میں منعقدہ آل بلتستان تقریری مقابلے میں قائد ملت پبلک سکول امیرآباد کی طالبہ مہناز فاطمہ تقریر پیش کررہی ہے۔

پریس ریلیزگلگت، ستمبر 2026براڈ پیک سمیت حالیہ کوہ پیمائی حادثات پر وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کا سخت نوٹس، ٹریکنگ و کوہ پیما...
05/09/2026

پریس ریلیز
گلگت، ستمبر 2026

براڈ پیک سمیت حالیہ کوہ پیمائی حادثات پر وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کا سخت نوٹس، ٹریکنگ و کوہ پیمائی قوانین اور ایس او پیز پر جامع نظرِثانی کا فیصلہ

وزیراعلیٰ گلگت بلتستان جناب امجد حسین نے رواں سال کوہ پیمائی کے دوران پیش آنے والے متعدد حادثات، بالخصوص براڈ پیک کے حالیہ واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ کوہ پیماؤں، ٹریکنگ گروپس، گائیڈز، پورٹرز اور دیگر متعلقہ افراد کی جان و سلامتی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔

وزیراعلیٰ کی ہدایت پر گلگت بلتستان حکومت نے 1999 کے ٹریکنگ رولز اینڈ ریگولیشنز، متعلقہ طریقہ کار، شرائط و ضوابط اور ایس او پیز کا جامع ازسرنو جائزہ لینے اور حالیہ حادثات میں ممکنہ غفلت یا انتظامی کوتاہی کی ذمہ داری کا تعین کرنے کے لیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔

کمیٹی کی سربراہی سیکریٹری فاریسٹ، وائلڈ لائف اینڈ پارکس سبطین احمد کریں گے جبکہ سیکریٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی ضمیر عباس بطور ممبر/کنوینر اور کمشنر بلتستان ڈویژن کمال خان بطور ممبر شامل ہوں گے۔

وزیراعلیٰ نے واضح کیا ہے کہ کمیٹی براڈ پیک حادثے میں ہونے والی ممکنہ کوتاہیوں کی ذمہ داری کا تعین کرنے کے ساتھ ساتھ موجودہ ٹریکنگ قوانین کا شق وار جائزہ لے گی اور ان میں موجود فرسودہ، غیر مؤثر یا نامکمل شقوں کی نشاندہی کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ پرمیٹ اور رجسٹریشن، بریفنگ و ڈی بریفنگ، لائژن آفیسرز اور ماؤنٹین گائیڈز کی ذمہ داریوں، حفاظتی سامان، پورٹرز کی اجرت و فلاح و بہبود، انشورنس، طبی سہولیات و انخلاء، مواصلاتی نظام اور ہنگامی رسپانس کے طریقہ کار کو موجودہ حالات اور بین الاقوامی حفاظتی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ناگزیر ہے۔

وزیراعلیٰ نے خاص طور پر لائژن آفیسرز، ماؤنٹین گائیڈز اور پورٹرز کے لیے موجودہ انشورنس کوریج کا ازسرنو جائزہ لینے اور موجودہ خطرات اور اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے حقیقت پسندانہ اور مؤثر انشورنس کوریج تجویز کرنے کی ہدایت کی ہے۔

انہوں نے مزید ہدایت کی کہ دور دراز اور محدود علاقوں میں سرچ اینڈ ریسکیو، ہیلی کاپٹر ایویکوایشن، موسم کی پیش گوئی اور ارلی وارننگ، مواصلات اور ہنگامی امداد کے انتظامات کا بھی جائزہ لے کر ایسے لازمی حفاظتی پروٹوکول وضع کیے جائیں جن سے مستقبل میں جانی نقصان کے امکانات کم سے کم ہوں۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ٹریکنگ اور کوہ پیمائی کے بڑھتے ہوئے رجحان کے پیش نظر اوپن اور ریسٹرکٹڈ زونز اور مختلف ٹریکس و پاسز کی موجودہ درجہ بندی کو بھی زمینی حقائق کے مطابق اپ ڈیٹ کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ٹریکنگ اور کوہ پیمائی کے شعبے میں ڈیجیٹل پرمیٹ و رجسٹریشن نظام، اداروں کے مابین مؤثر رابطہ کاری اور قوانین کا باقاعدہ وقفوں سے جائزہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔

وزیراعلیٰ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ گلگت بلتستان حکومت خطے کی کوہ پیمائی اور سیاحت کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ سیاحوں، کوہ پیماؤں، گائیڈز اور پورٹرز کے تحفظ اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔

کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 15 دن کے اندر جامع رپورٹ، سفارشات اور مجوزہ ترمیم شدہ قوانین و ایس او پیز کا مسودہ مجاز اتھارٹی کو پیش کرے۔

05/09/2026

ہنزہ ۔گرمیوں کی چھٹی خزاں کی نوید


Hunza Tv

کے کے ایچ روڈ مرتضیٰ آباد کے مقام پر لینڈ سلائیڈ کی وجہ سے بلاک ہوا تھا۔ انتظامیہ اور ایف ڈبیلیو او کی مشینری کے ذریعے ر...
05/09/2026

کے کے ایچ روڈ مرتضیٰ آباد کے مقام پر لینڈ سلائیڈ کی وجہ سے بلاک ہوا تھا۔ انتظامیہ اور ایف ڈبیلیو او کی مشینری کے ذریعے روڈ کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے.

Address

Aliabad
45010

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hunza News Online posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share