11/09/2026
ڈاکٹر ظہور اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ تومور کا معاملہ:
جب دونوں نے معافی مانگ لی تو بات ختم کیوں نہیں؟
سوشل میڈیا پر گزشتہ دنوں ڈاکٹر ظہور اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ تومور کے درمیان ایک معاملہ زیرِ بحث رہا۔ دونوں جانب سے سخت الفاظ اور الزامات سامنے آئے، جس کے بعد اب دونوں صاحبان نے ایک دوسرے سے معافی مانگ کر معاملہ ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔
میری نظر میں اس معاملے میں غلطی کسی ایک فریق کی نہیں بلکہ دونوں جانب سے ہوئی۔ لیکن قابلِ تعریف بات یہ ہے کہ دونوں نے اپنی غلطی کو تسلیم کرتے ہوئے ایک دوسرے سے معافی مانگی۔ یہی ایک مہذب معاشرے کا راستہ ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ جب معاملہ دو افراد کے درمیان تھا، دونوں فریق آپس میں بات کر چکے، ایک دوسرے سے معافی مانگ چکے اور معاملہ ختم کرنے پر آمادہ ہیں، تو پھر سوشل میڈیا کے بعض ’’فلسفروں‘‘ کو اسے مزید طول دینے کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے؟
سوشل میڈیا پر ہر معاملے کو اپنی اپنی پسند اور سیاسی یا ذاتی وابستگی کے مطابق دیکھنے کے بجائے کبھی یہ بھی سوچنا چاہیے کہ اگر متاثرہ فریق خود ایک دوسرے کو معاف کر چکے ہیں تو ہمیں بھی اس معاملے کو ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
ایک اہم وضاحت بھی ضروری ہے۔ دستیاب وضاحت کے مطابق سوشل میڈیا ایکٹوسٹ ڈاکٹر ظہور کے پرائیویٹ کلینک میں ایک بچے کا چیک اپ کروانے کے سلسلے میں گئے تھے، یہ معاملہ کسی سرکاری ہسپتال میں پیش آنے کا نہیں تھا۔ اس فرق کو واضح کیے بغیر واقعے کو سرکاری ادارے یا سرکاری ذمہ داری سے جوڑنا درست تاثر نہیں دیتا۔
اختلاف رائے ہر معاشرے میں ہوتا ہے، لیکن اختلاف کو ذاتی دشمنی بنانے کے بجائے اگر بات چیت، اعترافِ غلطی اور معافی پر ختم کر دی جائے تو یہی بہتر راستہ ہے۔
دونوں صاحبان نے ایک دوسرے کو معاف کر دیا ہے، اب سوشل میڈیا کے تماشائیوں اور فلسفروں سے بھی گزارش ہے کہ اس معاملے کو مزید ہوا دینے کے بجائے یہیں ختم کریں۔
غلطی انسان سے ہوتی ہے، لیکن اپنی غلطی تسلیم کرکے معافی مانگ لینا کمزوری نہیں بلکہ کردار کی مضبوطی ہے۔