Naveed Ahmad Khan Kanjoo PTI BWP

Naveed Ahmad Khan Kanjoo PTI  BWP .NaveedkanjooOfficial
🔅P.h.d

11/05/2026

ملک میں یہ کیا خرامی پن چل رہا ہے؟
بلکل ٹھیک کہا تھا الطاف حسین نے۔
🤦🤦
کلاشنکوف کلاشنکوف کلاشنکوف

میری شیروانی کی جیب میں سارے سکے کھوٹے نکلےخیرات دیتے ہوئے ھم اپنے  ھاتھ کٹوا بیٹھے  (نواب آف بہاولپور سر صادق محمد خان ...
03/05/2026

میری شیروانی کی جیب میں سارے سکے کھوٹے نکلے
خیرات دیتے ہوئے ھم اپنے ھاتھ کٹوا بیٹھے
(نواب آف بہاولپور سر صادق محمد خان عباسی)
بہاولپور کے ساتھ نا انصافیاں
جب پاکستان وجود میں آیا تو مملکت خداداد ریاست بہاولپور اور پاکستان کے درمیان 4 اکتوبر 1947 کو الحاق کا معاہدہ ھوا تھا جس میں دو ممالک کے سربراہان کے طور پر نواب آف بہاولپور سر صادق محمد خان عباسی اور قائد اعظم نے دستخط کیے۔ اس معاہدے کی رو سے ریاست بہاولپور کو بطور ایک آزاد یونٹ تسلیم کیا گیا۔ اور ساتھ ہی ریاست کی سالمیت اور نواب آف بہاولپور اور نسل در نسل ان کے جان نشینوں کی سربراہی اور نوابی کو تسلیم کرتے ہوئے قائم رکھا گیا۔ صرف تین محکمہ جات امور خارجہ، دفاع اور کرنسی پاکستان یعنی وفاق کے حوالے کیے گئے تھے۔ امور داخلہ سمیت باقی تمام معاملات و محکمہ جات نواب صاحب کے تابع تھے۔ اور ان کو تمام اختیارات پورے طور پر حاصل تھے۔ چنانچہ بہاولپور میں اپنا آزاد ہائی کورٹ، کابینہ، وزارت، سیکرٹریٹ اور ریاست کے تمام محکمہ جات ریاست کے نئے دستور کے مطابق قائم ہوئے۔ افواج ریاست بہاولپور کے کمانڈر ان چیف کا اعزاز بھی نواب آف بہاولپور کے پاس رہا۔ بہاولپور سول سروسز کا باضابطہ ملازمت بھی ریاست بہاولپور کا علیحدہ رہا
قارئینِ کرام، 1947 کو جب پاکستان وجود میں آیا تو ساتھ ہی مشکلات اور پریشانیوں کا سیلاب اُمڈ آیا۔ ہندوستان نے پاکستان کے حصے کا زرِ مبادلہ 1 ارب روپے جو کہ آج کل کے حساب سے 100 کھرب بنتے ہیں، پاکستان کے حصے کا تیار شدہ اور اچھا ساز و سامان رکھ لیا۔ پاکستان کو نا قابلِ استعمال اور کھٹارا سامان اور جہاز دیے۔ دنیا کی سب سے بڑی انسانی ہجرت ہوئی اور لاکھوں کی تعداد میں مسلمان قافلے ہندوستان سے لٹے پھٹے، کٹے پھٹے، بے سرو سامانی کی حالت میں پہنچے۔ جو سکھوں اور ہندوؤں کے ہاتھوں قتل ہوئے ان کی تعداد تو الگ تھی، لیکن ہجرت کرنے والے 15 لاکھ کے قریب آدمی پہنچے جن کو سنبھالنا آباد کرنا بڑا چیلنج تھا۔ دفتری استعمال کے لیے اسٹیشنری اور فرنیچر تک نہیں تھا اور مشرقی اور مغربی پاکستان کی فوج، پولیس اور باقی سرکاری ملازمین کی تنخواہ دینے کے پیسے نہیں تھے۔ خزانہ بالکل خالی تھا۔ وطنِ عزیز کی حالت لولے لنگڑے اور کنگلے ملک کی سی تھی
یہ مسائل ہندوستان اور کانگریس پارٹی کے پیدا کردہ تھے تاکہ جلد یا دیر بعد پاکستان دوبارہ ہندوستان کے ساتھ مل جائے۔ ایسے میں ریاست بہاولپور کے نواب سر صادق محمد خان عباسی نے آگے بڑھ کر پاکستان کو سہارا دیتے ہوئے دامے، درمے، سخنے پاکستان کی نہ صرف مدد فرمائی بلکہ اپنے خزانے کے منہ کھول دیے۔ جبھی تو قائد اعظم محمد علی جناح نے انہیں محسن پاکستان کا خطاب عطا فرمایا۔
اسی کے علاوہ ایک اور دور اندیش رہنما کے طور پر قائد اعظم کو مستقبل کی ضروریات اور پریشانیوں کا بھی ادراک تھا، اس لیے ریاست بہاولپور سے الحاق کا معاہدہ کرتے وقت ان کے پیش نظر درج ذیل اہم باتیں تھیں:
ریاست بہاولپور 565 ریاستوں میں رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑی ریاست ہے جس کا رقبہ 45,588 مربع کلومیٹر ہے۔
مالی لحاظ سے ریاست بہاولپور برصغیر پاک و ہند کی 565 ریاستوں میں سے سب سے زیادہ امیر ترین اور خوشحال ترین ریاست ہے۔
فوجی لحاظ سے تمام ریاستوں سے سب سے بڑی، منظم اور جدید ٹریننگ یافتہ فوج رکھتی ہے۔
ریاست بہاولپور انفراسٹرکچر کے حساب سے برصغیر پاک و ہند کی تمام ریاستوں سے خود کفیل اور مضبوط ہے۔
اس کے دارالخلافہ میں ایک درجن کے قریب سینکڑوں کمرے، بڑے بڑے ہالز اور وسیع و عریض رقبہ جات پر مشتمل شاہی محلات اور شاہی عمارات ہیں جو مستقبل میں حکومتی دفاتر کے لیے کافی ہو سکتے ہیں، ایوانِ صدر اور وفاقی سیکرٹریٹ کے لیے بھرپور کافی ثابت ہوں گے۔ ریاست کا عدالتی نظام پچھلے 200 سالوں سے بہاولپور شہر ریاست بہاولپور کا دارالخلافہ چلا آ رہا ہے۔ شہر بہاولپور کے ارد گرد دور دور تک وافر مقدار میں زرعی رقبہ پڑا ہوا ہے جو کہ مستقبل کی رہائشی ضروریات، کالونیوں اور دفاتر کے لیے کافی ثابت ہوگا۔ سب سے بڑھ کر جو بات سب سے اہم اور حوصلہ افزا ہے وہ یہ کہ ریاست بہاولپور کا والی اور تاجدار نواب سر صادق محمد خان عباسی سخی، ہمدرد، عوام دوست، عوام پیروکار، اسلامی سوچ رکھنے والا، خدا خوفی کرنے والا، وطن عزیز کا خیر خواہ ہے۔ ریاست بہاولپور کے مقابلے میں اس وقت پاکستان کے کسی بھی بڑے شہر حتیٰ کہ لاہور، کراچی میں ایسی کوئی سہولت نہ تھی۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ بہاولپور شہر پاکستان کے تقریباً وسط میں واقع ہے۔ ان باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے قائد اعظم نے معاہدہ الحاق میں دیگر شرائط اور معاملات کے ساتھ درج ذیل باتیں بھی طے کیں کہ وطن عزیز پاکستان کا دارالخلافہ بہاولپور ہوگا۔ منظم سب سے بڑی جدید ٹریننگ یافتہ فوج رکھنے کی وجہ سے چیف آف آرمی سٹاف بہاولپور سے ہوگا۔ مربوط منظم اور کامیاب عدالتی نظام کی وجہ سے چیف جسٹس آف پاکستان بہاولپور سے ہوگا۔ لیکن افسوس صد افسوس وطن کی آزادی کے صرف 13 ماہ بعد ہی 11 ستمبر 1948 کو قائد اعظم نے وفات فرمائی اور پھر قائد اعظم کے بقول جو انہوں نے یہ بات اکثر اپنے ذاتی معالج کرنل الٰہی بخش کو کہا کرتے تھے کہ
میری شیروانی کی جیب میں سارے سکے کھوٹے نکلے۔
اس بات کے مصداق، قائد اعظم کی وفات کے بعد آنے والے حکمرانوں نے نواب صاحب اور قائد اعظم کے درمیان ان معاہدہ جات کی پاسداری نہ کی اور مکر گئے، بلکہ ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے اس وقت کے حکمرانوں اور نام نہاد لیڈروں نے نواب سر صادق محمد خان عباسی کے احسانات کو یکسر فراموش کرتے ہوئے اور پسِ پشت ڈالتے ہوئے ریاست بہاولپور اور ان کے والی نواب سر صادق محمد خان عباسی کو پیچھے دھکیلنے اور کارنر پر کرنے کے لیے سازشوں کا جال پھیلانا شروع کر دیا اور پھر آخر کار پہلی سازش کرتے ہوئے 29 اپریل 1951 کو ریاست بہاولپور کی ریاستی حیثیت ختم کر کے گورنمنٹ آف پاکستان اور ریاست بہاولپور کے درمیان ایک معاہدے کے تحت ریاست بہاولپور کو صوبے کا درجہ دے دیا گیا تھا۔ اس معاہدے پر نواب آف بہاولپور سر صادق محمد خان عباسی اور گورنر جنرل پاکستان خواجہ ناظم الدین نے دستخط کیے۔ اس طرح سے وطنِ عزیز کے ساتھ الحاق کے بعد کچھ عرصے تک بھی ریاست بہاولپور باقاعدہ طور پر ریاست کی حیثیت سے کام کرتی رہی اور نواب صاحب بدستور اس کے مطلق العنان نواب اور حکمران تھے لیکن ایک سازش کے تحت زیادتی اور ناانصافی کرتے ہوئے اسے صوبہ بنا دیا گیا۔ جب 29 اپریل 1951 کو بہاولپور کی ریاستی حیثیت کو ایک سازش اور احسان فراموشی کے *تحت صوبے کا درجہ دیا گیا، 13 ماہ بعد یعنی 21 مئی 1952 کو بہاولپور صوبائی اسمبلی کے باقاعدہ انتخابات ہوئے جن میں سے مسلم لیگ کے نو امیدوار بلا مقابلہ اور چھبیس مقابلہ کر کے کامیاب ہوئے۔ کل 35 جبکہ حزبِ اختلاف کے 11 اور جماعتِ اسلامی کے دو اور آزاد امیدوار، کل 49 ممبران منتخب ہوئے۔ون* یونٹ قیام کے بعد صوبہ بہاولپور کو ون یونٹ میں ضم کر دیا گیا ۔ون یونٹ کے خاتمے کے بعد بھی صوبہ بہاولپور آج تک بحال نہیں ہو سک

04/04/2026
بہاولپور میں خواجہ سراؤں کی کو نشہ آور کیپسول فراہم کرنے میں بعض میڈیکل اسٹور کے ملوث ہونے کا انکشاف بہاولپور شہر میں بڑ...
31/03/2026

بہاولپور میں خواجہ سراؤں کی کو نشہ آور کیپسول فراہم کرنے میں بعض میڈیکل اسٹور کے ملوث ہونے کا انکشاف بہاولپور شہر میں بڑھتے ہوئے ہراسانی کے واقعات نے ایک نیا اور تشویشناک رخ اختیار کر لیا ہے، جہاں بعض خواجہ سراؤں کی سرگرمیوں کے ساتھ ایک منظم نیٹ ورک کے ملوث ہونے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ ان انکشافات نے شہریوں میں خوف و بے چینی کی لہر دوڑا دی ہے۔تفصیل کے مطابق چند خواجہ سرا مبینہ طور پر نشہ آور کیپسول کے استعمال کے بعد سڑکوں پر نکلتے ہیں اور شہریوں، خصوصاً شریف خاندانوں کو نشانہ بنا کر ان سے زبردستی رقم طلب کرتے ہیں۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ رقم نہ دینے کی صورت میں شہریوں کو سرِعام ہراساں اور بے عزت کیا جاتا ہے اہم انکشاف یہ سامنے آیا ہے کہ بعض میڈیکل اسٹورز مبینہ طور پر ان افراد کو نشہ آور کیپسول فراہم کر رہے ہیں، جس کے بعد یہ افراد غیر معمولی اور جارحانہ رویہ اختیار کرتے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر اس سپلائی چین کو نہ روکا گیا تو ایسے واقعات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے مقامی افراد نے اس صورتحال کو انتہائی خطرناک قرار دیتے ہوئے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) بہاولپور سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ نہ صرف ہراسانی میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے بلکہ ان میڈیکل اسٹورز کی بھی مکمل تحقیقات کی جائیں جو مبینہ طور پر نشہ آور ادویات فراہم کر رہے ہیں عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس پورے نیٹ ورک کو بے نقاب کر کے ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے، تاکہ شہر میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنایا جا سکے اور شہری خود کو محفوظ محسوس کر سکیں

28/03/2026

‏جوائنٹ فیملی میں بیوی کے لئے چیز لے کر جانا ایسے ہی ہے
جیسے آبنائے ہرمز سے جہاز گزارنا ‎😁

22/03/2026

کل رات لاہور سے اسلام آباد آتے ہوئے موٹروے پولیس نے بھیرہ کے قریب 2500 روپے کا چلان کر دیا اور چالان کرنے کی وجہ پوچھی گئی تو پولیس افسر نے بتایا کہ
موٹروے پر سپیڈ لمٹ 120 سے کم کر کے 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کر دی گئی ہے

اور سپیڈ لمٹ کم کرنے کی وجہ؟ پوچھنے پر پولیس افسر نے بتایا کہ دنیا اس وقت حالت جنگ میں ہے اس لیے فیول کی بچت کے لیے گورنمنٹ کی طرف سے یہ پالیسی بنائی گئی ہے
(میرے چہرے پر حیرانگی کے تاثرات دیکھ کر)پولیس افسر نے مثال دے کر بتاتے ہوئے مجھے یہ بات سمجھائی٫
کہ دیکھیں سر ،
آپ لاہور سے موٹروے پر چڑھے ہیں اسلام آباد تک جاتے ہوئے اگر آپ 120 کی سپیڈ پر جاتے تو اپ کا پانچ لیٹر ایکسٹرا خرچ ہونا تھا اور اب آپ 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے جائیں گے تو اپ کے فیول کی بچت ہو جائے گی تو اپ کے فائدے کے لیے ہی یہ کیا گیا ہے

میرا 1500 بچانے کے چکر میں 2500 کا چالان کر دیا
قومیں اسی طرح ترقی کرتی ہیں،ٹیکنالوجیہ
Copy

امریکیوں نے ایٹمی ملک کے شہریوں کو  انکے اپنے ملک  میں گولیوں سے بھون ڈالا۔(کراچی)
04/03/2026

امریکیوں نے ایٹمی ملک کے شہریوں کو انکے اپنے ملک میں گولیوں سے بھون ڈالا۔
(کراچی)

03/03/2026

‏سب سے بڑی بریکنگ نیوز ۔۔۔۔🚨

ایران نے اعلان کیا ہے کہ ابنائے حامس میں سے سوائے چائنہ کے کسی کا شپ نہیں گزر سکتا

03/03/2026

😢😢

03/03/2026

کراچی امریکی سفارتخانے پر حملے میں پی ٹی آٸ کا ہاتھ نکلا 😳

03/03/2026

News Alert ⚠️ sudia arabia

Address

Bahawalpur

Telephone

+923100009999

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Naveed Ahmad Khan Kanjoo PTI BWP posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share