09/03/2023
اسلام علیکم!
آج 10مارچ ھے لیکن کالم 8 مارچ
عورت کے عالمی دن پر لکھنے کی جسارت کر رھی ھوں وہ بھی اس لیے کہ یہ دن پوری دنیا میں منایا جاتا ھے اس دن عورت کی خدمات کو ، ذات و صفات کو یا پھر قدرت کی طرف سے عطا کردہ خوبیوں کو سراہا جاتا ہے اور اس طرح سراہا جاتا ہے کہ جیسے اللہ تعالیٰ کیطرف سے اس طرح سراہنے پر کوئی انعام رکھا گیا ہو۔۔لیکن 8 مارچ کے بعد 9 مارج کی صبح کا سورج طلوع ہوتے ہی عورت کی عظمت کو خیر باد کہہ دیا جاتا ہے۔اور پھر وہ ہی بنت حوا کی کہانی شروع ہو جاتی ہے ہر گھر ہر کوچے ہر گلی ہر محلے اور ہر بستی و شہر میں عورت کی درد بھری داستانیں آپ کو دیکنے اور سننے کو ملتی ہیں۔۔۔میں یہ پوچھنا یا کہنا چاہتی ہوں کہ کیا عورت صرف ایک دن کے لئے آسمان سے اترتی ہے کہ اسے ایک دن خراج تحسین پیش کیا جاے۔۔وہ تو ہر گھر میں ماں،بہن،بیوی اور بیٹی کے روپ میں موجود ہے جو اپنی ساری زندگی اپنے باپ ، بھائیوں ،کبھی شوہر اور بیٹوں کے لیے قربان ہو جاتی ہے یا کر دی جاتی ہےاور اس کی دی ہوی قربانی کو اس کا فرض اور قرض بتایا یا سمجھاجاتا ہے تو پھر ایک دن ہی کیوں اس کو منایا جائے کیا آپ کو لگتا ہے کہ یہ صحیح ہے؟ ہمارے پیغمبر محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم سردار دو جہاں نے والدہ کے روپ میں ان کو عزت بخشی بیوی کے روپ میں عورت کو محبت اور عزت دی بہن کو عزت دی بیٹی کو جگر کا ٹکڑا کہا نیز ہر رنگ و روپ میں عورت کو ایک اعلیٰ مقام عطا کیا۔۔۔جو ان سے پہلے نہ کسی نے دیا نہ ان آج یہ اعلیٰ تعلیم یافتہ دنیا دے سکتی ہے۔۔۔بس ایک دن عورت کے حقوق پر لمبے چوڑے لیکچر سنا کر دنیا اپنے فرائض سے دستبردار ہو جا تی ہے اور عورت کے حقوق ادا کر دیتی ہے۔میں زیادہ کچھ نہیں کہوں گی بس اتنا کہ اپنے اپنے گھروں میں ہر رشتے میں موجود عورت کی عزت کریں اور ان کے حقوق کی پاسداری کریں یہ زیادہ بہتر ہے 8 مارچ عورت کا عالمی دن منانے سے۔ اس سے اللہ اور اس کا رسول بھی خوش ھو گا اور قران و سنت کے مطابق زندگی بسر ھو گی سب کی۔۔۔اللہ تعالیٰ ہمیں ہمارے اعمال صحیح کرنے میں ھماری مدد فرمائے (آمین )