05/03/2026
ڈاکٹر نے الٹرا ساؤنڈ کے بعد زویا کے شوہر احد کو اکیلے میں بلایا اور دروازہ آہستہ سے بند کر دیا۔ کمرے میں چند لمحوں کی خاموشی رہی، پھر ڈاکٹر نے دھیمی آواز میں کچھ کہا۔ احد کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ آنکھوں میں حیرت، پھر غصہ اور پھر ایک عجیب سا خوف اُتر آیا۔
بارہ سال کی طویل شادی کے بعد وہ دونوں پہلی بار اولاد کی خوشخبری سننے آئے تھے۔ زویا کی آنکھوں میں خواب تھے، لبوں پر شکر کا ورد۔ لیکن جب احد کیبن سے باہر نکلے تو ان کا چہرہ فق تھا۔ انہوں نے زویا کی طرف دیکھا بھی نہیں۔ زویا نے مسکراتے ہوئے پوچھا،
“کیا ہوا؟ سب ٹھیک ہے نا؟”
احد نے سرد لہجے میں کہا، “گھر چل کر بات کرتے ہیں۔”
راستے بھر کار میں خاموشی چھائی رہی۔ زویا کا دل کسی انجانے خوف سے دھڑک رہا تھا۔ گھر پہنچتے ہی احد نے دراز سے کچھ کاغذات نکالے اور میز پر رکھ دیے۔ زویا کے قدموں تلے زمین نکل گئی۔ وہ طلاق کے کاغذات تھے۔
“یہ کیا ہے احد؟” زویا کی آواز کانپ گئی۔
احد چیخ اٹھے، “ڈاکٹر نے بتایا ہے کہ تمہارے پیٹ میں جو بچہ ہے وہ… وہ نارمل نہیں ہے! اس میں شدید نقص ہے۔ وہ کبھی عام زندگی نہیں گزار سکے گا۔ میں ایسی زندگی نہیں چاہتا۔ میں اپنی باقی زندگی کسی معذور بچے کی ذمہ داری نہیں اٹھا سکتا!”
زویا جیسے پتھر کی مورت بن گئی۔ چند لمحوں بعد اس نے ہمت کر کے کہا، “لیکن وہ ہمارا بچہ ہے، احد! بارہ سال بعد اللہ نے ہمیں یہ نعمت دی ہے۔ کیا ہم اسے صرف اس لیے رد کر دیں کہ وہ مختلف ہوگا؟”
احد نے غصے سے مٹھی بھینچی۔ “میں نے فیصلہ کر لیا ہے۔ یا تو اس بچے کو گرا دو، یا پھر مجھے آزاد کر دو۔”
زویا کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ اس نے آہستہ سے کاغذات اٹھائے، دیکھا، اور میز پر واپس رکھ دیے۔ “میں اپنی اولاد کو نہیں مار سکتی، احد۔ تم جانا چاہتے ہو تو جا سکتے ہو۔”
چند دنوں میں احد گھر چھوڑ کر چلے گئے۔ رشتے داروں نے زویا کو سمجھانے کی کوشش کی، “ایسی زندگی بہت مشکل ہوگی۔ اکیلی عورت، اوپر سے خاص بچہ…” مگر زویا کے دل میں ایک عزم جاگ چکا تھا۔ وہ ہر حال میں اپنے بچے کو جنم دے گی۔
مہینے گزرتے گئے۔ زویا نے قرآن کی تلاوت کو اپنا سہارا بنایا۔ راتوں کو جاگ جاگ کر اپنے رب سے دعا کرتی، “یا اللہ! اگر یہ امتحان ہے تو مجھے صبر بھی دے دے۔”
وقت آیا اور زویا نے ایک بیٹے کو جنم دیا۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ بچے کو پیدائشی طور پر دل کا مسئلہ ہے اور اس کی جسمانی نشوونما بھی سست ہوگی۔ زویا نے بچے کو سینے سے لگا لیا۔ اس نے اس کا نام “حسن” رکھا، کہ شاید اس کی زندگی بھی حسنِ صبر سے بھر جائے۔
شروع کے سال بہت مشکل تھے۔ اسپتالوں کے چکر، مہنگی دوائیں، تنہا ماں کی جدوجہد۔ احد نے کبھی پلٹ کر خبر نہ لی۔ زویا نے سلائی کڑھائی شروع کر دی، گھروں میں ٹیوشن پڑھانے لگی۔ تھکن سے چور ہو جاتی مگر حسن کی مسکراہٹ اس کی ساری تھکن دور کر دیتی۔
حسن واقعی مختلف تھا۔ وہ دیر سے بولتا، آہستہ چلتا، لیکن اس کی آنکھوں میں ایک خاص چمک تھی۔ وہ دوسروں کے دکھ کو فوراً محسوس کر لیتا۔ اگر کوئی رو رہا ہو تو خاموشی سے جا کر اس کا ہاتھ تھام لیتا۔
ایک دن محلے میں ایک فلاحی تنظیم آئی جو خاص بچوں کے لیے اسکول چلاتی تھی۔ زویا نے حسن کو وہاں داخل کروا دیا۔ شروع میں لوگ ترس کھاتے، کچھ طنز کرتے، مگر حسن کی معصوم مسکراہٹ سب کو اپنا بنا لیتی۔
سال گزرتے گئے۔ حسن نے آہستہ آہستہ پڑھنا سیکھ لیا۔ وہ تصویریں بناتا تو جیسے دل کے رنگ کاغذ پر بکھر جاتے۔ اس کے اساتذہ نے کہا کہ اس میں آرٹ کی غیر معمولی صلاحیت ہے۔
ایک دن شہر میں خصوصی بچوں کی آرٹ نمائش کا انعقاد ہوا۔ حسن کی بنائی ہوئی ایک تصویر—جس میں ایک ماں اپنے بچے کو سینے سے لگائے کھڑی تھی اور اوپر آسمان سے نور برس رہا تھا—سب کی توجہ کا مرکز بن گئی۔ تصویر کا عنوان تھا: “ماں میرا سایہ ہے”۔
اس نمائش میں کئی اہم شخصیات بھی آئی ہوئی تھیں۔ انہی میں احد بھی تھے، جو اب ایک بڑے کاروباری شخص بن چکے تھے۔ وہ محض اتفاقاً وہاں آئے تھے۔ جب ان کی نظر اس تصویر پر پڑی تو وہ ٹھٹک گئے۔ تصویر کے نیچے لکھا تھا: “فنکار: حسن زویا۔”
احد کے قدم کانپنے لگے۔ وہ تصویر کے قریب گئے۔ تصویر میں ماں کے چہرے کی جھلک زویا سے ملتی تھی۔ ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
اسی لمحے اسٹیج پر اعلان ہوا کہ اس سال کا پہلا انعام حسن کو دیا جا رہا ہے۔ زویا اپنے بیٹے کا ہاتھ تھامے اسٹیج پر آئی۔ وہ پہلے سے زیادہ مضبوط اور باوقار لگ رہی تھی۔ حسن نے مائیک پکڑا اور آہستہ آواز میں کہا،
“میری امی نے کبھی مجھے بوجھ نہیں سمجھا۔ انہوں نے کہا کہ میں اللہ کا تحفہ ہوں۔ اگر وہ نہ ہوتیں تو میں کچھ بھی نہ ہوتا۔”
ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ احد کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ انہیں یاد آیا وہ دن جب انہوں نے طلاق کے کاغذات تھمائے تھے، صرف اس لیے کہ بچہ “نارمل” نہیں ہوگا۔
تقریب کے بعد احد ہچکچاتے ہوئے زویا کے پاس آئے۔ “زویا… مجھے معاف کر دو۔ میں ڈر گیا تھا۔ میں کمزور پڑ گیا تھا۔”
زویا نے سکون سے ان کی طرف دیکھا۔ “احد، معافی اللہ سے مانگو۔ میں نے تمہیں اسی دن آزاد کر دیا تھا جس دن تم نے ہمیں چھوڑا تھا۔”
حسن نے معصومیت سے پوچھا، “امی، یہ کون ہیں؟”
زویا نے نرم لہجے میں کہا، “بیٹا، یہ تمہارے ابو ہیں۔”
حسن نے مسکرا کر احد کا ہاتھ تھام لیا۔ “آپ کو میری تصویر پسند آئی؟”
احد پھوٹ پھوٹ کر رو پڑے۔ “بیٹا، یہ دنیا کی سب سے خوبصورت تصویر ہے۔”
اُس لمحے احد کو احساس ہوا کہ اصل نقص بچے میں نہیں تھا، بلکہ ان کے اپنے دل میں تھا۔ انہوں نے ایک نعمت کو خوف کی وجہ سے ٹھکرا دیا تھا۔ لیکن اللہ نے زویا کو وہ ہمت دی کہ وہ اکیلے بھی پہاڑ جیسی مشکلات کا سامنا کر گئی۔
کہانی کا سبق یہی تھا کہ اولاد کامل ہو یا مختلف، وہ اللہ کی امانت ہوتی ہے۔ اصل معذوری جسم کی نہیں، سوچ کی ہوتی ہے۔ زویا نے ثابت کر دیا کہ ماں کا حوصلہ کسی بھی کمی کو طاقت میں بدل سکتا ہے، اور حسن نے دنیا کو دکھا دیا کہ محبت سے بڑا کوئی معجزہ نہیں۔