Sitara Marketing

Sitara Marketing Property Services

29/10/2023

ڈائیوو روڈ فیصل آباد
3.5 مرلہ پلاٹ
انویسٹرز ریٹ پر دستیاب
فوری رجسٹر ی

ستارہ مارکیٹنگ لایا ہے آپکے لئے ایک شاندار موقع ....اسلام آباد کے بہترین علاقے میں کمرشل دکانیں خریدیںاور اچھے رینٹل ویل...
04/08/2022

ستارہ مارکیٹنگ
لایا ہے آپکے لئے ایک شاندار موقع ....

اسلام آباد کے بہترین علاقے میں کمرشل دکانیں خریدیں
اور اچھے رینٹل ویلیوز کے ساتھ 10سالہ ایگریمنٹ پر منافع کمائیں۔۔
یقینی ری سیل ویلیو بمعہ منافع کے ساتھ مارکیٹ کے حساب سے ۔۔
مزید معلومات کے لیے اعتماد کے ساتھ ہمارے ساتھ رابطہ کریں شکریہ..........03451110345

#کرایہ #دوکان #راولپنڈی

03/08/2022

پراپرٹی فروخت کرنے سے متعلق ہدایات

1۔اپنی پراپرٹی کسی اشد ضرورت کے بغیر سیل نہ کریں۔

2۔اگر آپ کسی ضرورت کے تحت سیل کر رہے ہیں تو مارکیٹ ریٹ سے بہت زیادہ قیمت نہ مانگیں ورنہ مستقبل میں اکثر اوقات یہی پراپرٹی بہت کم قیمت میں سیل کرنی پڑتی ہے۔

3۔بہت جلدی بیچنے کی کوشش نہ کریں کیونکہ پراپرٹی فورا نہیں بکتی عموما..

4۔کوشش کریں کہ بہت زیادہ ڈیلرز کو نہ بتائیں۔

5۔اگر آپ لکھ کر اشتہار لگانا چاہتے ہیں تو اس مکان یا پلاٹ پر اشتہار نہ لگائیں بلکہ کسی چوک میں بینر لگا دیں کہ اس ایریا میں مکان یا پلاٹ برائے فروخت ہے۔

6۔ڈیلر سے کمیشن پہلے طے کر لیں۔

7۔جو پیمنٹ ملنی ہے اس کے استعمال کی پلاننگ پہلے سے کر لیں ورنہ پیسے ادھر ادھر خرچ ہو کر ضائع نہ ہو جائے۔

8۔کوشش کریں کہ جائداد کے بدلہ کچھ نا کچھ جائداد ضرور خرید لیں۔
اس طرح کی مزید انفارمیشن کے لیے ہمارے پیج کو لائک اور فالو کریں۔شکریہ

In
For





۔

17/04/2022

زمین خریدنے بیچنے اور پراپرٹی کے دیگر معاملات میں بہنوں کا حصہ اور بھائیوں کی آپس میں چپقلش کے اتنے واقعات ہیں کہ انسانی فطرت کا کھیل کھل کر آپ کے سامنے آ جاتا ہے۔

تقریباً پندرہ سال پہلے کی بات ہے، پراپرٹی کی قیمتیں اس وقت کے حساب سے یکدم بڑھ رہی تھیں۔ ان دنوں میں میرے ایک پراپرٹی ڈیلر دوست نے میری انویسٹمنٹ سے ایک مکان خریدنا تھا۔ میں اتفاق سے پاکستان میں تھا تو اس نے ریکوئسٹ کی کہ پیمنٹ کے وقت آپ بھی موجود ہوں تو بہتر ہوگا۔

اس مکان کے مالکان ایک بھائی اور ایک بہن تھے۔ بہن دوسرے شہر سے لاہور آئی تھی، صرف اس مکان کی سیل پر دستخط کرنے اور اپنا حصہ وصول کرنے۔

میرا ڈیلر دوست، فروخت کنندہ کا ڈیلر، خود فروخت کرنے والے بہن اور بھائی، اور میں، کل پانچ افراد اس کمرے میں موجود تھے۔ جب بہن کو پتہ چلا کہ میں اس مکان کا خریدار ہوں تو اس نے مجھ سے ریکوئسٹ کی کہ میں ایک منٹ اس کی بات علیحدگی میں سن لوں۔

میں اس کے ساتھ اس خالی مکان کے دوسرے کمرے میں چلا گیا۔ وہاں جاتے ہی وہ انتہائی لجاجت سے بولنے لگی، بھائی صاحب، آپ کا تعارف جیسے ڈیلر نے کروایا ہے، مجھے آپ بھلے آدمی لگتے ہیں، میری ایک درخواست ہے آپ سے، امید ہے آپ پوری کرینگے۔ ۔ ۔ میں خاموشی سے اسکا چہرہ دیکھ رہا تھا اور اندازہ کر رہا تھا کہ وہ کیا کہنے والی ہے۔ مکان کی قیمت طے ہو چکی تھی، کاغذات بن چکے تھے، قیمت میں کمی بیشی کا سوال نہیں تھا۔ ۔ ۔ تو پھر وہ کیا درخواست کرنے والی تھی، میرا ذہن سمجھنے سے قاصر تھا۔

اس نے ہاتھ جوڑتے ہوئے درخواست کی کہ میرے حصے کی رقم آپ نے سب کے سامنے مجھے دینی ہے میرے بھائی کو نہیں دینی۔ اور اسکے بعد آپ نے اسی وقت مجھے رکشا منگوا کر دینا اور تقریباً آدھ گھنٹا انتظار کرنا ہے جب تک میں اس رکشے پر بیٹھ کر چلی نہ جاؤں۔ آپ نے میرے بھائی کے پاس بیٹھے رہنا ہے۔

دوستو! اس واقعے کے وقت بھی میں ایک جہاندیدہ آدمی تھا۔ دنیا گھوم چکا تھا۔ طرح کے لوگ دیکھ چکا تھا۔ مگر زمین جائیداد پر انسانی رشتوں کی بےبسی، بے حسی، اور بھائی بہن کے رشتے کی پائمالی کو اس طرح قریب سے دیکھنا، پھر بھی ایک شاکنگ تجربہ تھا۔ ۔ ۔ ایک کاروباری کی بجائے کچھ دیر کے لیے میرے اندر کا لکھاری میرے سر کو جکڑ کر بیٹھ گیا۔ ۔ ۔ میں نے چشم تصور سے اس عورت اور اسکے بھائی کو آٹھ نو سال کی عمر میں ایک دوسرے کے ساتھ کھیلتے دیکھا، لڑتے جھگڑتے اور روٹھتے مناتے دیکھا ۔ ۔ ۔ مگر آج وہی بھائی اپنی شادی شدہ بہن کو اس کا جائز حصہ دینے کی بجائے کچھ نہ کچھ چھیننے کے در پے تھا۔ ۔ ۔ اور وہ بہن کسی ڈاکو یا تھانیدار سے نہیں، ۔ ۔ اپنے ہی سگے بھائی سے خوفزدہ تھی ۔ ۔ ۔ کہ وہ اس کا حصہ بھی چھین لے گا۔ ۔ ۔

ہم نے ایسا ہی کیا، اور وہ پیسے لے کر فوری رخصت ہو گئی، بھائی نے اسکو روکنے کی کوشش کی، مگر ہم نے اسکو باتوں میں لگا کر بٹھا لیا۔

ان تمام برسوں میں تقریباً ہر تیسری چوتھی پراپرٹی پر میں نے بھائیوں کی آپسی لڑائی یا ضد دیکھی ہے۔ مشترکہ جائیداد پر بڑے بھائی کے بے ایمانی، یا چھوٹے کی ہٹ دھرمی سے کسی تیسرے خریدار کو تو فائدہ پہنچ جاتا ہے، مگر میں نے دیکھا ہے کہ بھائی اس بات پر بھی خوش ہوتے ہیں کہ اس کے دوسرے بھائی کو تو فائدہ نہیں پہنچا اس ڈیل سے۔ شہری جائیداد ہے تو کارنر والی سائیڈ لینے کا جھگڑا، اور دیہی جائیداد ہے تو ایک دوسرے کے راستے بند کر دینے کی ضد ۔ ۔ ۔ اخیر ایسے معاملات کی یہی ہوتی ہے کہ کوئی تیسرا فائدہ اٹھا جاتا ہے اور دونوں یا سارے بھائی محض بےبرکت پیسہ حاصل کرتے ہیں۔ جو چند سالوں بعد نمٹ جاتا ہے۔ ۔ ۔ اور ایک ویران قبرستان کی مٹی باقی رہ جاتی ہے، جو انکا انتظار کر رہی ہوتی ہے۔

کاش انسان اپنی زندگی ہی میں سمجھ سکے کہ اپنوں کو دینے میں فائدہ ہی فائدہ ہے، اور محض اپنا فائدہ سوچنا اور دوسروں سے زیادتی میں نقصان ہی نقصان ہے۔

منقول

05/04/2020

🇵🇰

رئیل اسٹیٹ وکنسٹرکشن پیکیچ

#1پراپرٹی کی خریداری پر نان فائیلر کی پابندی ختم (کوئی سوال نہی ہوگا

#پہلےمکان کی فروخت پر ( CGT )ختم
یعنی کوئی ٹیکس نہی

#خرید اور فروخت پر ٹیکس کم اور فکس
یعنی مختلف ریٹ ٹیکس کی ناسمجھ آنے والے معملات ختم (فیکس ٹیکس مناسب اور آسان

#کنسٹریکشن میں استعمال تمام ایٹم پر (وید ہولڈینگ ٹیکس) ختم علاوہ سیمنٹ وسریا
یعنی تعمیراتی سامان کے ریٹ کم مکان,بلڈینگ بنانے میں آ سانی

#کیپٹل ویلیو ٹیکس میں کمی
سٹام ڈیوٹی ٹیکس میں 3فیصد کمی
یعنی 500 گز پلاٹ کے خریدار اگر پہلے ٹرانسفر خرچہ ٹوٹل 5لاکھ تھا اب تقریباً 2لاکھ ہوگا

#رئیل اسٹیٹ وکنسٹریکشن کو صنعت(انڈسٹری) کا درجہ ملا بورڈ تشکیل ہوگا
یعنی اب رئیل اسٹیٹ اور بلڈرز باقی ملکی صنعت کی طرح حکومتی سطح بجٹ باقی حکومتی کاروباری معملات میں اسٹیک ہولڈر ہو گئ.

#رئیل اسٹیٹ وکنسٹریکشن سے وبسطہ قانونی معملات کے لیے الگ سول بینچ تشکیل دی جاے گی
یعنی قانونی پیچیدہ معملات بہتر اور آسان انصاف پر معبنی جلد حل ہوگے

# سرکاری ادارہ نعقشہ, مختلف NOC, NDC سے صرف اور صرف 45 دن میں کلیر کرانے کے پابند. ون ونڈو اپریشن کی ہدایت

#بینک سے آسان اور منافع کم کرکے ہاوس لون یعنی کم منافع پر بینک سے اقساط پر مکان وغیرہ خرید سکتے ہے

اس کے علاوہ بہت سے بہتر اقدامات

30/12/2019

زمین کی پیمائش

پنجاب میں استعمال ہونے والی بنیادی زمینی پیمانے درج ذیل ہیں:

ایک کرم 5.5 فٹ کے برابر
ایک مرلہ 9 مربع کرم کے برابر (272.25 مربع فٹ) (30.25 گز)
ایک کنال 20 مرلہ کے برابر (5,445 مربع فٹ)
ایک کلہ 8 کنال کے برابر (43,560 مربع فٹ = 1 ایکڑ)
ایک بیگھا 4 کنال کے برابر
ایک مربع 25 کلہ کے برابر (1,089,000 مربع فٹ = 25 ایکڑ)
دو قدیم پیمانے

ایک بیسا = 15 مربع کرم؛ 12 بیسا = 1 کنال (605 گز)
ایک بیگھا = 20 بیسا - 1008 مربع یارڈ - 842.68 مربع میٹر (1000 گز)
تمام علاقوں میں ایک جیسی میعاری پیمائش کے لیے کرم یا گتھا 66 انچ مانا جاتا ہے۔
ایک مربع کرم یا سرسائی = 3.3611111 مربع گز
نو (9) سرساہیاں یا ایک مرلہ = 30.249999 مربع گز (30.25 مربع گز)
20 مرلے یا ایک کنال = 604.99996 مربع گز (605 مربع گز)
160 مرلے یا 8 کنال = 4839.99998 مربع گز (4840 مربع گز)
بعض متحدہ علاقوں میں معیاری پیمائش علاقائی ہے، جس کو کچھ غیر متحد علاقے امرتسر، گوادر اسپور (سوائے، شاہ پور ہل سرسلی اور پٹھانکوٹ تحصیل میں چک اندر)، فیروز پور (سوائے فیزاکہ)،اور فرید کوٹ کی سابق شاہی ریاست، اس کے علاوہ لاہور پاکستان کے لیے بھی۔
ایک کرم = 60 انچ
ایک مربع کرم= 2.777777 مربع گز
9 سرسائی یا ایک مرلہ = 24.999999 مربع گز (25 مربع گز)
20 مرلہ یا ایک کنال = 499.9999 مربع گز (500مربع گز)
193.60 مرلہ (9کنال ایک ایکڑ ) = 4880 مربع گز 13 مرلہ 5 سرسائی*

مرلہ کی قدر میں مختلف علاقوں میں اختلاف ہے۔ راولپنڈی اور اس کے نواح میں اس کی قدر 272 مربع فُٹ (25.27 مربع میٹر) بتائی جاتی ہے، جبکہ کچھ علاقوں (بمطابق رسول انجینرنگ کالج) میں 225 مربع فُٹ (20.903 مربع میٹر) سمجھی جاتی ہے۔
ایکڑ کی بین الاقوامی قدر 4046.85642 مربع میٹر سمجھی جاتی ہے۔۔

کرُو ۔ دیسی نظام سے زمین ناپنے کی بنیادی اکائی "کرُو" یا "کرُوں" ہے۔ اردو میں اس کو "کُرم" یا "کرُم" کہتے ہیں۔ ایک کرو برابر ہوتا ہے دو قدم کے۔ جدید حساب کتاب میں ایک کرم ساڑھے پانچ فٹ سے کچھ کم (65 یا ساڑھے 65 انچ) ہوتا ہے۔
سرسائی ۔ ایک مربع کرُو کو ایک سرسائی کہا جاتا ہے۔
مرلہ ۔ نو سرسائی مل کر ایک مرلہ تشکیل پاتی ہیں۔ یعنی تین کرو ضرب تین کرو کا رقبہ۔ یہ 272 جمع ایک بٹا چار مربع فٹ بنتا ہے۔ شہروں میں 250 مربع فٹ کو ایک مرلہ کہا جانے لگا ہے۔ بلکہ بعض جگہ اس سے بھی کم کا سننے میں آنے لگا ہے۔
کنال ۔ اصل دیسی نظام میں 20 مرلے مل کر ایک کنال تشکیل دیتے ہیں۔ البتہ شہروں میں 16 مرلہ رقبے کو بھی ایک کنال قرار دیا جاتا ہے۔
بیگھہ ۔ دو کنال کے برابر
ایکڑ (یا کِلہ) ۔ آٹھ کنال کے برابر
مربعہ ۔ پچیس کِلوں کے برابر
زمینی پیمایش ۔۔ قسط 2
Plot measurement in Pakistan (Marla, Feet, Yard, Metre)
پلاٹ کی پیمائش
پاکستان میں پلاٹ کی پیمائش کے بہت سے طریقے رائج ہیں کچھ علاقوں میں یہ پیمائش فٹ میں کی جاتی ہے کچھ میں گز میں بعض علاقوں میں میٹر میں جبکہ زیادہ تر علاقوں میں مرلے میں کی جاتی ہے مرلہ جو کہ 272.25 فٹ کا ہوتا ہے بعض علاقوں میں 225 اور 250 فٹ کا بھی ہوتا ہے اسلئے لوگ کنفیوز ہو جاتے ہیں۔ اس مسئلے کے حل کیلئے آپ پلاٹ کی پیمائش کسی بھی پیمانے میں آسانی سے کر سکیں ۔۔ بہتر ہے کہ

پلاٹ کا رقبہ معلوم کرنے کیلئے چاروں طرف کی پیمائش فٹ میں دیں

زمین کی ناپ کرنے کا طریقہ
فٹ یعنی feet کے ذریعے یا لمبائی ناپنے والے فیتہ کے
ذریعے
پہلے زمین کی دونوں لمبائیوں کو ناپ کر دو سے تقسیم کریں
پھر زمین کی دونوں چوڑائیوں کو ناپ کر دو سے تقسیم کریں
اب ان دونوں کے جو جواب آئیں ان دونوں کو آپس میں ضرب دیں
اب ضرب کے بعد نکلنے والے جواب کو 272 سے تقسیم کریں
جواب مرلہ کی شکل میں حاضر ہے
دوسرا طریقہ
یہ طریقہ صرف زمین کے ایریا کا اندازہ لگانے کیلیے ہے اور اس طریقے سے زیادہ باریکی سے ناپ نہی کی جا سکتی بس تقریباً کی حد تک اندازہ لگایا جا سکتا ہے
دونوں لمبائیوں کے کرم گن کر دو سے تقسیم کریں
دونوں چوڑائیوں کے کرم گن کر دو سے تقسیم کریں
ان دونوں کے جواب کو آپس میں ضرب دیں
اب ضرب سے ملنے والے جواب کو 9 سےتقسیم کریں
جواب مرلے کی شکل میں حاضر ہے
( ایک کرم سے مراد نارمل قد کے آدمی کے دو قدم )
اپنی زمین کی ناپ خود کریں اور دوستوں سے شیر کرنا نہ بھولیں اور مجھے دعاؤں میں یاد رکھیں۔۔

شجرہ (زمین)

شجرہ (زمینوں کے سیاق میں) پاکستان میں کسی گاؤں کے اُس نقشے کو کہتے ہیں جسے گاؤں کے کھیتوں یا دوسری زمینوں کی پٹیوں کے قانونی مالکان اور حکومتی کاموں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

گاؤں کا شجرہ پورے گاؤں کو زمین کی پٹیوں میں تقسیم کرتا ہے، ان تمام پٹیوں کو مختلف نمبر دیے جاتے ہیں۔ گاؤں کا پٹواری ہر پٹی کے لیے ایک خسرہ بھی رکھتا ہے جس میں متعلقہ پٹی کے مالک کا نام اور اگائی جانے والی فصل کا اندراج کیا جاتا ہے۔۔

30/12/2019

زمین کی ناپ تول , پیمائش کیسے کریں.....


پنجاب میں استعمال ہونے والی بنیادی زمینی پیمانے درج ذیل ہیں:

ایک کرم 5.5 فٹ کے برابر
ایک مرلہ 9 مربع کرم کے برابر (272.25 مربع فٹ) (30.25 گز)
ایک کنال 20 مرلہ کے برابر (5,445 مربع فٹ)
ایک کلہ 8 کنال کے برابر (43,560 مربع فٹ = 1 ایکڑ)
ایک بیگھا 4 کنال کے برابر
ایک مربع 25 کلہ کے برابر (1,089,000 مربع فٹ = 25 ایکڑ)
دو قدیم پیمانے

ایک بیسا = 15 مربع کرم؛ 12 بیسا = 1 کنال (605 گز)
ایک بیگھا = 20 بیسا - 1008 مربع یارڈ - 842.68 مربع میٹر (1000 گز)
تمام علاقوں میں ایک جیسی میعاری پیمائش کے لیے کرم یا گتھا 66 انچ مانا جاتا ہے۔
ایک مربع کرم یا سرسائی = 3.3611111 مربع گز
نو (9) سرساہیاں یا ایک مرلہ = 30.249999 مربع گز (30.25 مربع گز)
20 مرلے یا ایک کنال = 604.99996 مربع گز (605 مربع گز)
160 مرلے یا 8 کنال = 4839.99998 مربع گز (4840 مربع گز)
بعض متحدہ علاقوں میں معیاری پیمائش علاقائی ہے، جس کو کچھ غیر متحد علاقے امرتسر، گوادر اسپور (سوائے، شاہ پور ہل سرسلی اور پٹھانکوٹ تحصیل میں چک اندر)، فیروز پور (سوائے فیزاکہ)،اور فرید کوٹ کی سابق شاہی ریاست، اس کے علاوہ لاہور پاکستان کے لیے بھی۔
ایک کرم = 60 انچ
ایک مربع کرم= 2.777777 مربع گز
9 سرسائی یا ایک مرلہ = 24.999999 مربع گز (25 مربع گز)
20 مرلہ یا ایک کنال = 499.9999 مربع گز (500مربع گز)
193.60 مرلہ (9کنال ایک ایکڑ ) = 4880 مربع گز 13 مرلہ 5 سرسائی*

مرلہ کی قدر میں مختلف علاقوں میں اختلاف ہے۔ راولپنڈی اور اس کے نواح میں اس کی قدر 272 مربع فُٹ (25.27 مربع میٹر) بتائی جاتی ہے، جبکہ کچھ علاقوں (بمطابق رسول انجینرنگ کالج) میں 225 مربع فُٹ (20.903 مربع میٹر) سمجھی جاتی ہے۔
ایکڑ کی بین الاقوامی قدر 4046.85642 مربع میٹر سمجھی جاتی ہے۔۔

کرُو ۔ دیسی نظام سے زمین ناپنے کی بنیادی اکائی "کرُو" یا "کرُوں" ہے۔ اردو میں اس کو "کُرم" یا "کرُم" کہتے ہیں۔ ایک کرو برابر ہوتا ہے دو قدم کے۔ جدید حساب کتاب میں ایک کرم ساڑھے پانچ فٹ سے کچھ کم (65 یا ساڑھے 65 انچ) ہوتا ہے۔
سرسائی ۔ ایک مربع کرُو کو ایک سرسائی کہا جاتا ہے۔
مرلہ ۔ نو سرسائی مل کر ایک مرلہ تشکیل پاتی ہیں۔ یعنی تین کرو ضرب تین کرو کا رقبہ۔ یہ 272 جمع ایک بٹا چار مربع فٹ بنتا ہے۔ شہروں میں 250 مربع فٹ کو ایک مرلہ کہا جانے لگا ہے۔ بلکہ بعض جگہ اس سے بھی کم کا سننے میں آنے لگا ہے۔
کنال ۔ اصل دیسی نظام میں 20 مرلے مل کر ایک کنال تشکیل دیتے ہیں۔ البتہ شہروں میں 16 مرلہ رقبے کو بھی ایک کنال قرار دیا جاتا ہے۔
بیگھہ ۔ دو کنال کے برابر
ایکڑ (یا کِلہ) ۔ آٹھ کنال کے برابر
مربعہ ۔ پچیس کِلوں کے برابر
زمینی پیمایش ۔۔ قسط 2
Plot measurement in Pakistan (Marla, Feet, Yard, Metre)
پلاٹ کی پیمائش
پاکستان میں پلاٹ کی پیمائش کے بہت سے طریقے رائج ہیں کچھ علاقوں میں یہ پیمائش فٹ میں کی جاتی ہے کچھ میں گز میں بعض علاقوں میں میٹر میں جبکہ زیادہ تر علاقوں میں مرلے میں کی جاتی ہے مرلہ جو کہ 272.25 فٹ کا ہوتا ہے بعض علاقوں میں 225 اور 250 فٹ کا بھی ہوتا ہے اسلئے لوگ کنفیوز ہو جاتے ہیں۔ اس مسئلے کے حل کیلئے آپ پلاٹ کی پیمائش کسی بھی پیمانے میں آسانی سے کر سکیں ۔۔ بہتر ہے کہ

پلاٹ کا رقبہ معلوم کرنے کیلئے چاروں طرف کی پیمائش فٹ میں دیں

زمین کی ناپ کرنے کا طریقہ
فٹ یعنی feet کے ذریعے یا لمبائی ناپنے والے فیتہ کے
ذریعے
پہلے زمین کی دونوں لمبائیوں کو ناپ کر دو سے تقسیم کریں
پھر زمین کی دونوں چوڑائیوں کو ناپ کر دو سے تقسیم کریں
اب ان دونوں کے جو جواب آئیں ان دونوں کو آپس میں ضرب دیں
اب ضرب کے بعد نکلنے والے جواب کو 272 سے تقسیم کریں
جواب مرلہ کی شکل میں حاضر ہے
دوسرا طریقہ
یہ طریقہ صرف زمین کے ایریا کا اندازہ لگانے کیلیے ہے اور اس طریقے سے زیادہ باریکی سے ناپ نہی کی جا سکتی بس تقریباً کی حد تک اندازہ لگایا جا سکتا ہے
دونوں لمبائیوں کے کرم گن کر دو سے تقسیم کریں
دونوں چوڑائیوں کے کرم گن کر دو سے تقسیم کریں
ان دونوں کے جواب کو آپس میں ضرب دیں
اب ضرب سے ملنے والے جواب کو 9 سےتقسیم کریں
جواب مرلے کی شکل میں حاضر ہے
( ایک کرم سے مراد نارمل قد کے آدمی کے دو قدم )
اپنی زمین کی ناپ خود کریں اور دوستوں سے شیر کرنا نہ بھولیں اور مجھے دعاؤں میں یاد رکھیں۔۔

شجرہ (زمین)

شجرہ (زمینوں کے سیاق میں) پاکستان میں کسی گاؤں کے اُس نقشے کو کہتے ہیں جسے گاؤں کے کھیتوں یا دوسری زمینوں کی پٹیوں کے قانونی مالکان اور حکومتی کاموں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

گاؤں کا شجرہ پورے گاؤں کو زمین کی پٹیوں میں تقسیم کرتا ہے، ان تمام پٹیوں کو مختلف نمبر دیے جاتے ہیں۔ گاؤں کا پٹواری ہر پٹی کے لیے ایک خسرہ بھی رکھتا ہے جس میں متعلقہ پٹی کے مالک کا نام اور اگائی جانے والی فصل کا اندراج کیا جاتا ہے۔۔

27/12/2019

زمین خریدنے پہلے کن باتوں کا رکھیں خیال؟


شہروں میں مکان بنانے قابل زمین کم بچی ہے، اس لیے زیادہ تر لوگ اپنے آشیانے کے لئے علیحدہ یا بلڈر فلیٹ کا انتخاب کرتے ہیں۔ لیکن وہ لوگ جو ڈبہ کی طرح نظر آنے والے فلیٹ میں رہ کر تھک گئے ہیں، یا پھر کھلی جگہ پر آزادانہ مکان چاہتے ہیں وہ اپنے لئے پلاٹ کا ہی انتخاب کرتے ہیں. فلیٹ کے مقابلے کم قیمت ہونے اور تعمیر کی آزادی کے چلتے کئی طریقوں میں پلاٹ کی خریداری ہی بہتر مانی جاتی ہیں۔ اسی لئے کئی بلڈروں شہر سے 20 سے لے کر 50 کلومیٹر کے دائرے میں پلاٹ کا اختیار بھی پیش کر رہے ہیں۔ لیکن فلیٹ کی بجائے اپنا پلاٹ ہونا جتنا آ رامدہ ہے، زمین خریدنا اتنا ہی مشکل ہوتا ہے۔ کیونکہ پلاٹ کے ساتھ بہت سے خطرے منسلک ہوتے ہیں۔ جنہیں خریداری سے پہلے آپ کو جان لینا بہت ضروری ہوتا ہے۔
اس کے علاوہ اگر آپ طویل مدت کے لئے پراپرٹی میں سرمایہ کاری کرنے کے خواہشمند ہیں تو زمین میں سرمایہ کاری کرنا فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔ زمین میں کی گئی سرمایہ کاری طویل مدت میں کافی اچھا ریٹرن دیتی ہے لیکن ضروری ہے کہ اپ زمین میں پیسہ لگانے سے قبل کچھ امور پرتوجہ دیں۔.

زمین کی تاریخ معلوم کریں.....

اگر آپ زمین میں سرمایہ کاری کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں تو اس کا ٹائٹل کلیئر ہونا چاہئے ۔ آپ کو زمین کا دس سے پندرہ سال کا ریکاڑد معلوم کرلینا چاہئے ۔اس سے آپ کو یہ پتہ چل سکے گا کہ زمین کا ٹائیٹل کلیئر ہے یا نہیں۔اس پر کوئی تنازع یا مقدمہ تو نہیں ہے۔ ساتھ ہی آپ کو یہ بھی معلوم ہوجائے گا کہ جو زمین آپ خریدنے جارہے ہیں اس پر کوئی قرض تو نہیں لیا گیا ہے۔

ٹاون شپ میں زمین خریدنے پردیں توجہ..

عام طور پر جو پلاٹ ٹاون شپ کے اندر ہوتے ہیں ان میں تنازع کا خطرہ کم رہتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہیکہ ٹاون شپ کے لئے زمین خریدنے کی ذمہ داری بلڈر کی ہوتی ہے ۔ ایسے میں وہ زمین سے متعلق تمام ضروری ضابطوں کو پورا کرنے کے بعد ہی پلاٹ کاٹتا ہے۔ اس کے باوجود آپ کو زمین سے متعلق دستاویزات کو اچھی طرح جانچ لینی چاہئے۔ ماہرین کے مطابق اگر آپ ٹاون شپ سے باہر کسی زمین میں سرمایہ کاری کررہے ہیں اس صورت میں زیادہ چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔.

ڈیولپمنٹ پروجیکٹوں کے بارے میں معلوم کریں

کئی مرتبہ بلڈر ٹاون شپ ڈیولپ کرنے کے لئے زمین خرید کر پلاٹ تو نکال دیتے ہیں لیکن اسے ڈیولپ نہیں کرتے۔ ایسے بلڈر کسٹمرس سے وعدہ تو کرتے ہیں کہ وہ ٹاون شپ میں سڑکیں‘ سیور ‘ اسٹریٹ لائٹنگ اور سوئمنگ پل جیسی سہولیات دیں گے لیکن پراپرٹی فروخت کردینے کے بعد اس پر عمل نہیں کرتے ۔ اس لئے کسی ٹاون شپ میں پلاٹ خریدنے سے قبل پراپرٹی کے دستاویزات بھی جانچ لیں۔ اگر ان ڈیولپمنٹ پروجیکٹوں پر کام شروع ہوگیا ہے تو یہاں کی پراپرٹی میں سرمایہ کاری کرنے میں فائدہ ہے۔

اپارٹمنٹ کے مقابلے میں زمیں کی خریداری زیادہ پیچیدہ ہے۔زمین خریدنے میں دھوکہ دہی کا خطرہ زیادہ رہتا ہے۔ اس لئے زمین میں سرمایہ کاری سے پہلے لینڈ یوز کی جانکاری حاصل کرلینی چاہئے ۔ا یسا نہ ہو کہ آپ جس زمین میں سرمایہ کاری کررہے ہیں وہ بعد میں ایگری کلچرل لینڈ نکل آئے ۔ ایسی صورت میں آپ کو پریشانی پیش آسکتی ہے۔اس سلسلے میں معلومات کے لئے آپ مقامی اتھارٹی کی مدد لے سکتے ہیں۔۔

بہت قیمتی بات
پیمنٹ چیک سے کریں
جب آپ پراپرٹی خریدرہے ہیں تو تمام ادائیگی چیک میں کرنا ممکن نہیں ہوتا ہے ا س کے باوجود آپ کی کوشش یہی ہونی چاہئے کہ آپ خریداری کے لئے زیادہ سے زیادہ ادائیگی چیک کے ذریعہ سے کریں۔ اس سے مستقبل میں کوئی پریشانی ہونے کی صورت میں آپ کے پاس ادائیگی کا دستاویز موجود ہوگا۔۔

معروف بلڈروں سے ہی خریدیں زمین
جب بھی آپ زمین میں سرمایہ کاری کرنے کا ارادہ کریں تو اچھا یہی ہوگا کہ کسی معروف بلڈر کے پروجیکٹ میں ہی سرمایہ کاری کریں۔ جن بلڈروں کی ساکھ اچھی رہی ہے ان سے زمین خریدنے میں دھوکہ دہی کا خطرہ کم رہتا ہے

Address

Faisalabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sitara Marketing posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Sitara Marketing:

Share