10/05/2026
پولیس مقابلے اور پولیس والوں کے احساسات : پنڈی بھٹیاں میں تعینات اس پولیس افسر کی سچی کہانی جو ذات کا کمہار تھا لیکن خود کو چیمہ بتاتا تھا ۔۔ش س م ۔۔ 2000 کا واقعہ ہے فرضی نام تیمور چیمہ یہاں تھانے میں تعینات ہوا ، پڑھا لکھا نوجوان افسر تھا ، میک اپ کا شوقین ، یونیفارم کے علاوہ پینٹ شرٹ میں رہتا ، باہر جاتا تو ہمیشہ چشمہ لگاتا ، دن میں متعدد بار چہرے پر کریم لوشن لگانا نہ بھولتا تھا ۔ اسکی ایک اور عادت یہ تھی کہ باتوں کا بڑا شوقین تھا اور اپنے کیرئیر میں پولیس مقابلوں اور اپنے کارناموں کی لمبی گپیں ہانکتا ۔۔ اب یہ کانسٹیبل تو تھا نہیں کہ تھانیدار جھڑک دیتے ، بہر حال برداشت کرتے اور اسکے قصے سنتے رہے ۔ ایک روز چیمہ صاحب بغیر یونیفارم کہیں سے آرہے تھے کہ کچھ ڈا۔کؤؤں نے انہیں لوٹ لیا ۔ سب کچھ چاپ چاپ ڈا۔کو بھائیوں کے حوالے کرکے اور انہیں رخصت کرکے چیمہ صاحب نے تھانے اطلاع کروائی۔ تھانے کی نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی ۔ ابتدائی شواہد اور معلومات اکٹھی کر لی گئیں سب افسران اور پولیس نفری حیران تھے کہ چیمہ صاحب تو اتنے دلیر افسر تھے سرکاری پستو۔ل بھی انکے پاس تھا مگر وہ ڈا۔کوؤں کے ہاتھوں کتنے آرام سے لٹ گئے ۔ چیمہ صاحب نے اپنے ہی تھانے میںاس واردات کا پرچہ کٹوا دیا , کئی دن گزر گئے لیکن ڈا۔کو گرفتار نہ ہو سکے چیمہ صاحب ان دنوں چپ چپ رہتے محکمے کی بے حسی کا شکوہ کرتے اور بتاتے کہ جس ملک میں تھانیدار محفوظ نہیں عوام کا کیا ہوگا ۔۔۔۔ اللہ کی کرنی ایسی ہوئی کہ لگ بھگ 20 دن بعد مخبری کی بناء پر کچھ ڈا۔کو گرفتار ہوئے ، انہیں تھانے لایا گیا تو چیمہ صاحب نے سب سے پہلے خود انکی شناخت پریڈ کی اور انکشاف کیا کہ یہی وہ ڈا۔کو ہیں جنہوں نے انکے ساتھ لوٹ مار کی ۔۔۔۔ ڈا۔کو بھی مان گئے لیکن مسئلہ یہ تھا کہ ڈا۔کو بہت سخت جان تھے ہر تھانیدار نے ہر حربہ آزما لیا لیکن ڈا۔کؤؤں کا کہنا تھا کہ اس ایک واردات کے علاوہ انہوں نے کچھ نہیں کیا یہی انکی پہلی واردات تھی ۔۔۔ جب کہ اس علاقے میں 2 ماہ کے دوران 12 ڈکیتیاں ہوئی تھی اور اکثر وارداتوں میں بتایا گیا حلیہ ان ڈا۔کؤؤں کا تھا بلکہ کئی لٹنے والوں نے تھانے آکر انکی شناخت بھی کر ڈالی ۔۔۔۔۔ لیکن ڈا۔کو ڈٹے رہے کئی راتوں کی خاطر تواضع کے بعد بھی انہوں نے کچھ نہ مانا ۔۔۔۔ اب ایک تھانیدار کو ایک چٹے ان پڑھ حوالدار کا خیال آیا جو ضلع حافظ آباد پولیس میں نوکری کررہا تھا ایک روز تفتیشی افسر نے چدھڑ حوالدار کو چائے پر بلایا اور کہا ڈا۔کو اپنی وارداتیں نہیں مان رہے سب حربے استعمال کرلیے لیکن سارا تھانہ فیل ہو چکا ہے اب ہماری عزت کا سوال ہے انکا کچھ کرو ۔۔۔۔۔ رات ہوئی تو حوالدار مالخانے گیا وہاں سے ایک لمبی ڈانگ نکالی۔ ملزمان کو تھانے کے کھلے صحت میں لایا گیا اور الٹا لیٹنے کا حکم دیا گیا ۔ چدھڑ حوالدار انکے سر پر جا کھڑا ہوا دونوں ہاتھوں پر تھوک لگا کر ڈانگ پکڑ کر بولا : بچو آج تک تمہارا واسطہ پڑھے لکھے افسروں سے پڑا تھا مگر اب ایک ان پڑھ حوالدار کے ہتھے چڑھے ہو ۔ جو کیا وہ تو مانو گے ۔ جو نہیں کیا وہ بھی قبول کرو گے ۔۔۔۔۔۔ صرف ایک ملزم کو پیٹھ پر ایک ڈانگ پڑی وہ ہاتھ جوڑتے ہوئے کھڑا ہو گیا ۔۔۔ جناب معافی دے دیو ۔۔۔ ہم ساری وارداتیں بتا دیتے ہیں ۔۔۔۔۔ ملزمان نے اپنی سب وارداتوں کا اعتراف کر لیا جو پچھلے چند سال میں درجنوں نکلیں ۔۔۔۔ مزید چند دن گزرے تو ایک روز پتہ چلا کہ اوپر سے ان چاروں ڈا۔کؤؤں کو پولیس مقابلے میں پار کرنے کا حکم آیا ہے ۔ انچارج تھانہ نے تیمور چیمہ کی ڈیوٹی لگائی کہ آج رات پولیس جوانوں کے ساتھ ملزمان کو فلاں جگہ لے جاؤ ۔ انہیں پار کردینا اور ہتھکڑیاں انہیں مارنے کے بعد کھولنا ۔ اسکے بعد اندھا دھند ہوائی فائیر۔نگ کرنا اور پھر تھانے اطلاع کرنا ۔۔۔ تیمور چیمہ نے ہاتھ جوڑ دیے کہ مجھ سے یہ کام نہیں ہو گا ۔۔۔ ایس ایچ او نے کہا آپ کی ایس پی صاحب سے بات کروا دیتا ہوں ۔ تیمور چیمہ ایس ایچ او کے پیروں میں بیٹھ گئے اور کہا جناب میں ذات کا کمہار ہوں ۔ بس رعب داب کے لیے چیمہ بنا ہوا ہوں ۔ میں نے تو کبھی مکھی نہیں ماری بندہ کیا خاک مارونگا ۔ آپ اس مصیبت کو میرے سر سے ٹالیں ۔۔۔۔۔ حقیقت جان کر ایس ایچ او نے تیمور چیمہ کو معافی دے دی اور ملزمان کو ضلع شیخوپورہ کی پولیس کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا گیا جہاں سے انہیں جوڈیشل کرکے جیل بھیج دیا گیا ۔۔۔۔ اسکے بعد جب تک چیمہ صاحب تھانے میں رہے انہوں نے اپنے کیرییئر کے پولیس مقابلوں اور اپنی بہادری کا کوئی قصہ نہیں سنایا۔۔۔۔
یہ سچا واقعہ سابق پولیس افسر سید امجد حسین شاہ کے یو ٹیوب چینل سے لیا گیا ہے