02/01/2026
رنگیلا ہری پور میں ایری گیشن سسٹم کا نام ہے جسے عام لوگ رنگیلے والا کٹھہ یا نہر کے نام سے جانتے ہیں اور وہ ایریا جہاں سے ہری پور شہر کا کٹھہ گزرتا وہ رنگیلا روڈ کے نام مشہور ہے۔ سکھوں کے زمانے میں درویش گاؤں کے ایک رنگیلا کھتری نامی انجینئیر نے اس منصوبے کا بیڑہ اٹھایا۔ سکھ ایمپائر میں شاید ہی کوئی دوسرا شہر ہوا رہا ہو گا جس کی گلیوں میں ندی کا پانی گھوم کر شہر کو آئینہ بنا دیتا ہو۔ باغوں میں گھرے ہونے شہر کے پھل اور غلے کی فراوانی انسان کو حیرت میں ڈال دیتی ہو۔ متحدہ پنجاب کا لیفٹیننٹ گورنر اپنی ایک رپورٹ میں لکھتا ہے ہری پور کے باغباں یہاں کے باغوں میں سے وہ کچھ اگاتے ہیں دہلی تک پنجاب میں کہیں اور نہیں۔ گویا یہاں کی مٹی سونا اگلتی ہے اور شہر اک شان سے آباد ہے۔ رنگیلا ایریگیشن سسٹم کے تحت دریائے دوڑ کا پانی لیفٹ بینک کے دیہی موضع جات اور ہری پور شہر کو پہنچایا گیا ہے۔
لیفٹ بینک پر رنگیلا ایریگیشن سسٹم ایک چھوٹا سا بیراج ہے اسکے تحت دریائے دوڑ سے پانی لینے والے
21 مواضعات ہیں۔ اس سسٹم کے 9 چینلز جن کے ذریعے پورے شہر کے ہر ہر گھر تک پانی تقسیم کیا جاتا ہے اس کے علاوہ لیفٹ بینک کے تمام موضع جات کو پانی سپلائی کیا جاتا ہے۔ اس سسٹم کے تحت دوڑ کے پانی کو آب پاشی، پن چکیاں، پیکو اور آب نوشی کے لئے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔
رنگیلا ایریگیشن سسٹم کے نو چینلز ہیں جو یکساں نہیں ہیں۔ ان تمام چینلز کے دھانے حسب ذیل ہیں۔
( 1 )- کھیوہ 24 انچ
( 2 )- ڈھیری، قاضیاں 27 انچ
( 3 )- کھلابٹ 24 انچ
( 4 )- سکندر پور، ملکیار 44 انچ
( 5 )- چھوہر، ڈھینڈہ، کالس 35 انچ
( 6 )- جاگل، میلم، آلم، کالس داخلی 45 انچ
( 7 )- ہری پور 21 آنچ
( 8 )- درویش، پانڈک، ڈوئیاں 46 انچ
( 9 )- تلوکر 14 انچ
اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا لیفٹ بینک پر سارا پانی رنگیلا ایریگیشن سسٹم کے تحت ہی سیرابی کرتا ہے۔ نہیں ایسا ہر گز نہیں۔ تحصیل ہری پور میں مختلف چینلز کے ذریعے 55 دیہات کو دریائے دوڈ کا پانی فراہم ہوتا چلا آ رہا ہے جو سیرابی اراضی، پن چکیوں (جندر) اور پیکو جات کے لیے ہے۔ تحصیل میں سب سے پہلے کھولیاں اور دوبندی بالا کا کٹھہ، اس کے بعد بگڑہ (خیبر مل) کا زیر زمین چینل جو شاہ مقصود (ٹھنڈا چوآ) تک پانی کی کی فراہمی کا ذریعہ رہا ہے۔ اس کے بعد سرائے صالح (پکی ڈوہلی) والی چینل جو 1913 میں ریلوے پٹڑی بچھنے کے بعد ریلوے لائن کرآس کر کے سرابی کرتآ ہے۔ پھر سرائے صالح کے بعد علی خان والی نہر سیرابی کا ذریعہ ہے حتیٰ کہ رنگیلا ایریگیشن سسٹم کا مل جاتا ہے۔
زمانہ گزرنے ساتھ لیفٹ بینک پر بگڑہ والا چینل غیر فعال ہو چکا ہے۔ اسی طرح تربیلا ڈیم کی وجہ سے آب رسانی کی سہولت غیر فعال ہو چکی ہے۔ اسی طرح اب 1960 کے بعد کھولیاں، بگڑہ اور چک شاہ محمد میں ٹیوب ویلز کی سہولت نے ضرورت کی شدت نے کسی قدر کم کر دیا ہے۔
تحقیق و تحریر محبوب کالس ایڈووکیٹ