Wahid واحد

Wahid واحد Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Wahid واحد, Social Media Agency, Haripur.

31/03/2026

اپنے حالات، لوگوں یا زندگی کی تلخیوں کو کبھی اتنی اجازت نہ دیں کہ وہ آپ کے حوصلوں کو توڑ سکیں۔ اپنی شخصیت کو اتنا مضبوط اور باوقار ضرور بنائیں کہ وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر بکھرنے والی نہ ہو۔
یاد رکھیں، ابھی بہت زندگی باقی ہے، بہت سے نئے لوگوں سے ملنا ہے اور کئی نئے حالات کا سامنا کرنا ہے۔ اپنی ہمت کو جوان رکھیں، اپنا سٹیمنا ٹوٹنے نہ دیں اور اپنے دل کو پہاڑ جیسا بنا لیں۔
سب سے خوبصورت اور سکون دینے والا احساس تو بس یہی ہے کہ 'میرا اللہ میرے ساتھ ہے' اور اس کے سوا کوئی بھی اس قابل نہیں کہ آپ کا بال بھی بیکا کر سکے۔ الحمدللہ علیٰ کل حال۔ 🖤

18/03/2026

"تم مجھے اپنا مذہب مت پڑھاؤ، میں تمہارا مذہب تمہارے کردار میں دیکھنا چاہتا ہوں."(لیوٹالسٹائی)

28/02/2026

" اگر تُم یہ جان جاؤ کہ تُم اپنا مقصد حاصل نہیں کر سکتے, تب بھی تُم اپنا مقصد تبدیل مت کرو, اپنے اعمال تبدیل کرو ."

کنفیوشس

28/02/2026

ایک شخص تھا
جس نے اپنی پوری زندگی سمندر کی موجوں میں ایک بڑی شارک کو پکڑنے کی جدوجہد میں گزار دی
برسوں کی محنت کے بعد جب آخرکار اس نے اسے پکڑ لیا تو سب نے اسے کامیاب کہا، مگر اگلے ہی دن وہ اسے خاموشی سے واپس سمندر میں چھوڑ آیا
دوستوں نے حیران ہو کر پوچھا تو اس نے دھیمی آواز میں کہا،
"کیونکہ اب میری زندگی کا مقصد مر چکا ہے، میں خالی سا محسوس کر رہا ہوں، سو میں اپنے مقصد کو دوبارہ تلاش کروں گا"
سبق : انسان کبھی کبھی جس کامیابی کیلئے جیتا ہے وہی کامیابی اسے اندر سے خالی کر دیتی ہے

23/02/2026

تم دوبارہ بچے نہیں بن سکتے۔ تم پچھلے قدموں نہیں چل سکتے۔تم دوبارہ ماں کے بطن میں نہیں جا سکتے۔ واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہے
وقت کی چال یہ نہیں ہے۔ وہ اگے کی ست بڑھتا ہے یہ کبھی بھی پیچھے کو نہیں چلتا۔
اس لیے تم پیچھے نہیں جا سکتے۔ واحد راستہ، واحد چال، اگے بڑھنا ہے، اس کے علاوہ کوئی اور بڑھنا نہیں ہے
اوشو

23/02/2026

مصر کے مشہور عالم اور ادیب شیخ علی طنطاوی رحمہ اللہ ایک جگہ بڑی قیمتی بات کہتے ہیں، فرماتے ہیں :

• جو لوگ ہمیں نہیں جانتے ان کی نظر میں ہم عام ہیں۔
• جو ہم سے حسد رکھتے ہیں ان کی نظر میں ہم مغرور ہیں۔
• جو ہمیں سمجھتے ہیں ان کی نظر میں ہم اچھے ہیں۔
• جو ہم سے محبت کرتے ہیں ان کی نظر میں ہم خاص ہیں۔
• جو ہم سے دشمنی رکھتے ہیں ان کی نظر میں ہم برے ہیں۔

ہر شخص کا اپنا ایک الگ نظریہ اور دیکھنے کا طریقہ ہے۔ لہذا دوسروں کی نظر میں اچھا بننے کے پیچھے اپنے آپ کو مت تھکائیے۔ اللہ آپ سے راضی ہو جائے یہی آپ کے لیے کافی ہے ۔ لوگوں کو راضی کرنا ایسا مقصد ہے جو کبھی پورا نہیں ہو سکتا۔ اللہ کو راضی کرنا ایسا مقصد ہے جس کو چھوڑا نہیں جا سکتا ۔

" جو چیز مل نہیں سکتی اسے چھوڑ کر وہ چیز پکڑیے جسے چھوڑا نہیں جا سکتا."

21/01/2026

if you will never taste a bad apple, you will never appreciate a good apple' you have to experience life to understand life..

12/08/2025

"ایک شخص کے لیے اپنے اوپر فتح حاصل کرنا ایک عظیم فتح ہے، جو کہ میدان جنگ میں ہزاروں آدمیوں پر فتح سے بڑی ہے۔"

➖ گوتم بدھ 🪷
📖 کتاب سے: بدھا کی تعلیمات

10/08/2025

" خدا سے آسان زندگی نہ مانگو بلکہ ایک مضبوط دل مانگو جو کانٹوں پر بھی اس کی طرف چلتا ہو ۔"

شمس التبریزی

05/08/2025

اوشو کے ایک دوست نے اوشو سے کہا کہ میں آپ کو اپنی والدہ سے ملوانا چاہتا ہوں، کیوں کہ میری والدہ بہت مذہبی ہیں۔
اوشو نے کہا :’’ٹھیک ہے، میں آپ کی والدہ سے ملوں گا، کیوں کہ مجھے مذہبی لوگوں سے ملنا پسند ہے۔‘‘
جب اوشو اپنے دوست کی والدہ سے ملا تو اس کے دوست کی والدہ نے اوشو سے پوچھا کہ تم بہت کتابیں پڑھتے ہو، ان دنوں کیا پڑھ رہے ہو؟
اوشو نے کہا:’’ آج کل میں قرآن پڑھ رہا ہوں۔‘‘
یہ سن کر میرے دوست کی والدہ غصے میں آگئیں اور کہنے لگیں کہ تم کس قسم کے ہندو ہو جو قرآن پڑھتے ہو؟ تم اپنے مذہب کی کتابیں پڑھو۔
بعد میں اوشو نے اپنے دوست سے کہا کہ تم کہتے تھے کہ تمھاری ماں مذہبی ہے، لیکن وہ مذہبی نہیں بلکہ فرقہ پرست ہے۔
آج کل آپ کو بہت سے لوگ ملیں گے جو خود کو مذہبی کہتے ہیں، لیکن وہ فرقہ پرست ہیں، ’’مذہبی‘‘ ہونے اور ’’فرقہ پرست‘‘ ہونے کے درمیان بہت باریک لکیر ہے

04/07/2025

افلا طون اپنے استاد سقراط کے پاس آیا اور اس سے کہنے لگا آپ کا نوکر بازار میں کھڑے ہو کر آپ کے بارے میں ہرزہ سرائی کر رہا تھا‘ سقراط نے مسکرا کر پوچھا ’’ وہ کیا کہہ رہا تھا؟‘‘

افلاطون نے جذباتی لہجے میں جواب دیا ’’ آپ کے بارے میں کہہ رہ تھا…‘‘ سقراط نے ہاتھ کے اشارے سے اسے خاموش کروایا اور کہا ’’
آپ یہ بات سنانے سے پہلے اسے تین کی کسوٹی پر رکھو‘ اس کا تجزیہ کرو اور اس کے بعد فیصلہ کرو کیا تمہیں یہ بات مجھے بتانی چاہیے۔
‘‘ افلاطون نے عرض کیا ’’ یا استاد تین کی کسوٹی کیا ہے‘‘؟
سقراط بولا ’’ کیا تمہیں یقین ہے تم مجھے جو بات بتانے لگے ہو یہ بات سو فیصد سچ ہے‘‘ افلاطون نے فوراً انکار میں سر ہلا دیا۔
سقراط نے ہنس کر کہا ’’ پھر یہ بات بتانے کا تمہیں اور مجھے کیا فائدہ ہوگا‘‘ افلاطون خاموشی سے سقراط کے چہرے کی طرف دیکھنے لگا‘ سقراط نے کہا ’’ یہ پہلی کسوٹی تھی‘
ہم اب دوسری کسوٹی کی طرف آتے ہیں۔ ’’مجھے تم جوبات بتانے لگے ہو کیا یہ اچھی بات ہے؟‘‘ افلاطون نے انکار میں سر ہلا کر جواب دیا ’’ جی نہیں یہ بری بات ہے‘‘ سقراط نے مسکرا کر کہا ’’ کیا تم یہ سمجھتے ہو تمہیں اپنے استاد کو بری بات بتانی چاہیے؟‘‘
افلاطون نے انکار میں سر ہلا دیا‘ سقراط بولا ’’گویا یہ بات دوسری کسوٹی پر بھی پورا نہیں اترتی‘‘ افلاطون خاموش رہا‘ سقراط نے ذرا سا رک کر کہا ’’
اور آخری کسوٹی‘ یہ بتائو وہ بات جو تم مجھے بتانے لگے ہو کیا یہ میرے لیے فائدہ مند ہے؟‘‘ افلاطون نے انکار میں سر ہلایا اور عرض کیا ’’ یا استاد یہ بات ہر گز ہرگز آپ کے لیے فائدہ مند نہیں‘‘ سقراط نے ہنس کر کہا ’’ اگر یہ بات میرے لیے فائدہ مند نہیں تو پھر اس کے بتانے کی کیا ضرورت ہے؟‘‘
سقراط نے گفتگو کے یہ تین اصول آج سے چوبیس سو سال قبل وضع کر دیے تھے‘ سقراط کے تمام شاگرد اس پر عمل کرتے تھے‘ وہ گفتگو سے قبل بات کو تین کسوٹیوں پر پرکھتے تھے‘
کیا یہ بات سو فیصد درست ہے‘
کیا یہ بات اچھی ہے اور
کیا یہ بات سننے والوں کے لیے مفید ہے؟
اگر وہ بات تینوں کسوٹیوں پر پوری اترتی تھی تو وہ بے دھڑک بات کر دیتے تھے اور اگر وہ کسی کسوٹی پر پوری نہ اترتی یا پھر اس میں کوئی ایک عنصر کم ہوتا تو وہ خاموش ہو جاتے تھے‘

کاپیڈ

01/07/2025

" اگر آپ بے وقوف سے لڑنے کی کوشش کر رہے ہیں تو آپ سے بڑا بے وقوف کوئی نہیں....

Address

Haripur
22620

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Wahid واحد posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share