Vc Suraj Galli

Vc Suraj Galli Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Vc Suraj Galli, Social Media Agency, Kpk khanpur, Haripur.

01/03/2026
السلام علیکم!تحصیل خانپور کی وی سی سورج گلی کے عوام اس وقت شدید مسائل، ماحولیاتی آلودگی اور بنیادی سہولتوں کی کمی کا سام...
24/02/2026

السلام علیکم!
تحصیل خانپور کی وی سی سورج گلی کے عوام اس وقت شدید مسائل، ماحولیاتی آلودگی اور بنیادی سہولتوں کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔ علاقے میں قائم کرش پلانٹس اور بیسٹ وے سیمنٹ فیکٹری کی سرگرمیوں کے باعث گردوغبار، دھواں اور شور نے عوام کی روزمرہ زندگی کو انتہائی مشکل بنا دیا ہے۔ لوگوں کی صحت، ماحول اور روزگار سب متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ ترقیاتی کاموں کا فقدان بھی ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔
ہم مؤدبانہ اور پُرخلوص اپیل کرتے ہیں کہ معزز رکن صوبائی اسمبلی جناب ارشد ایوب خان اور معزز رکن قومی اسمبلی جناب بابر نواز خان اس معاملے کو سنجیدگی سے نوٹس میں لیں۔
وی سی سورج گلی کے عوام نے ہمیشہ آپ پر اعتماد کیا، انتخابی مہمات میں بھرپور ساتھ دیا، جلسے اور میٹنگز منعقد کروائیں اور اپنے ووٹ کے ذریعے آپ کو نمائندگی کا حق دیا۔

اب یہ آپ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اپنی عوام کی مشکلات کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کرتے ہوئے فوری عملی اقدامات کیے جائیں۔ گزارش ہے کہ علاقے کا دورہ کیا جائے، عوامی مسائل براہِ راست سنے جائیں اور کرش پلانٹس و فیکٹریوں سے پیدا ہونے والی ماحولیاتی اور معاشی مشکلات کا مستقل حل نکالا جائے۔
عوام صرف وعدوں نہیں بلکہ عملی اقدامات کی منتظر ہے۔ خدارا وی سی سورج گلی کے عوام کی آواز سنیے اور ان کے مسائل جلد از جلد حل کرنے میں اپنا کردار ادا کیجیے۔
Yousaf Ayub Khan Yousaf Ayub Khan
Arshad Ayub Khan
Babar Nawaz Khan
Omar Ayub Khan
Deputy Commissioner, Haripur
Voice Of Haripur
Voice Of Khanpur
Voice of Haripur Haraza
Bestway Cement Hattar

02/02/2026

بیسٹ وے انتظامیہ کے نام

انتہائی افسوس کے ساتھ یہ بات ایک بار پھر عوامی ریکارڈ پر لانا پڑ رہی ہے کہ بیسٹ وے فیکٹری انتظامیہ نے دوبارہ فیکٹری کے ٹرک عوامی سڑک پر کھڑے کرنا شروع کر دیے ہیں، جس کے نتیجے میں اہلِ علاقہ کو شدید مشکلات اور اذیت کا سامنا ہے۔ ابھی کوئلے (Coal) کا مسئلہ حل نہیں ہو سکا تھا کہ انتظامیہ نے دیگر مسائل کو بھی ازسرِ نو جنم دے دیا ہے، جو نہ صرف ناقابلِ قبول بلکہ انتظامی نااہلی اور عوامی مسائل سے بے حسی کا واضح ثبوت ہے۔

تیس سال گزر چکے ہیں۔ پاکستان کی سب سے بڑی سیمنٹ فیکٹری ہونے کا دعویٰ رکھنے والا یہ ادارہ آج بھی مقامی آبادی کے ساتھ وہی رویہ اپنائے ہوئے ہے جو کسی غیر ذمہ دار صنعتی یونٹ کا ہوتا ہے۔ فیکٹری کے سامنے روزانہ ٹریفک جام معمول بن چکا ہے، پیدل چلنا یا موٹر سائیکل پر گزرنا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے، اور پورے علاقہ کی مشترکہ سڑک مسلسل فیکٹری انتظامیہ کی لاپرواہی کی نذر ہو رہی ہے۔

یہ وہی علاقہ ہے جہاں بیسٹ وے کا پہلا پلانٹ قائم ہوا، اور اب اسی علاقے میں ایک مزید پلانٹ بھی موجود ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس علاقے کے بدلے میں مقامی عوام کو کیا ملا؟ کون سی بنیادی سہولت فراہم کی گئی؟ کس حد تک صحت، ماحول، تعلیم یا انفراسٹرکچر کے لیے کوئی مؤثر اقدام کیا گیا؟ حقیقت یہ ہے کہ بیماریوں کا بوجھ مقامی لوگوں نے اٹھایا، آلودگی کے اثرات یہاں کے بچوں اور بزرگوں نے سہے، جبکہ سہولیات اور تحفظ کا کوئی واضح نظام آج تک فراہم نہیں کیا گیا۔

یہ صورتحال اس وقت مزید تشویشناک ہو جاتی ہے جب یہ
معلوم ہو کہ ادارے کے مالکان بیرونِ ملک کروڑوں اور اربوں روپے کے عطیات دیتے ہیں، مگر جس علاقے نے زمین، ماحول اور انسانی صحت کی قربانی دی، وہ آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ بار بار یاد دہانیوں، ملاقاتوں اور تحریری مطالبات کے باوجود حالات کا جوں کا توں رہنا انتظامیہ کی سنجیدگی پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔

واضح کیا جاتا ہے کہ اگر یہی طرزِ عمل برقرار رہا تو اہلِ علاقہ خاموش نہیں رہیں گے۔ عوام اب اپنے بنیادی حقوق کے لیے قانونی، آئینی اور عوامی سطح پر مؤثر آواز بلند کرنے پر مجبور ہوں گے۔ یہ انتباہ نہیں بلکہ ایک سنجیدہ حقیقت ہے کہ عوامی صبر کی بھی ایک حد ہوتی ہے، اور اس حد کو بار بار آزمانا کسی کے مفاد میں نہیں۔

اب وقت آ چکا ہے کہ بیسٹ وے انتظامیہ محض زبانی دعووں اور رسمی یقین دہانیوں سے نکل کر فوری، واضح اور قابلِ عمل اقدامات کرے۔ عوامی سڑکوں کو بلا تاخیر ٹرکوں سے خالی کیا جائے، فیکٹری ٹریفک کے لیے ایک منظم اور محفوظ نظام نافذ کیا جائے، اور کوئلے (Coal) کے مسئلے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے اس کے پھیلاؤ کو فوری طور پر روکا جائے۔ مقامی آبادی کو مزید مشکلات میں مبتلا کرنے کے بجائے ان کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔ یہ بات دو ٹوک انداز میں واضح کی جاتی ہے کہ مزید غفلت اور تاخیر ناقابلِ قبول ہوگی۔ عوام کا صبر اپنی حد کو پہنچ چکا ہے، اور اب خاموشی کسی صورت ممکن نہیں رہی۔

پبلک فورم وی سی سورج گلی

اہلِ علاقہ کے نام اہم عوامی پیغاماب وقت آ چکا ہے کہ ہم سب ذاتی اختلافات، وقتی ناراضگیوں اور غیر ضروری تقسیم کو ایک طرف ر...
20/01/2026

اہلِ علاقہ کے نام اہم عوامی پیغام
اب وقت آ چکا ہے کہ ہم سب ذاتی اختلافات، وقتی ناراضگیوں اور غیر ضروری تقسیم کو ایک طرف رکھ کر یکجا ہوں۔ یہ لمحہ خاموش رہنے یا حالات کو تماشائی بن کر دیکھنے کا نہیں، کیونکہ اس مرحلے پر خاموشی اختیار کرنا ناانصافی ہی نہیں بلکہ اجتماعی نقصان کا باعث بن رہا ہے۔
آج ہمارے ماحول، ہماری زمین، ہماری صحت اور ہمارے بچوں کے مستقبل پر جو اثرات مرتب ہو رہے ہیں، وہ کسی ایک فرد یا خاندان کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے علاقے کا مشترکہ المیہ ہیں۔ ایسے حالات میں ضروری ہو چکا ہے کہ ہم متحد ہو کر ان عناصر اور مافیا کے سامنے کھڑے ہوں جو ہمارے بنیادی حقوق کو مسلسل پامال کر رہے ہیں۔
یہ جدوجہد انتشار سے نہیں بلکہ اتفاق، اتحاد اور اجتماعی شعور سے جیتی جاتی ہے۔ اپنے حق کے لیے بولنا، سوال اٹھانا اور منظم انداز میں آواز بلند کرنا ہر باشعور شہری کی ذمہ داری ہے۔ اگر آج ہم نے اپنی ذمہ داری ادا نہ کی تو وہ وقت دور نہیں جب اس خاموشی کی قیمت ہمیں اور ہماری آنے والی نسلوں کو چکانا پڑے گی۔
لہٰذا آئیے عہد کریں کہ ہم اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے باخبر، متحد اور پرعزم رہیں گے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم صرف باتوں تک محدود نہ رہیں بلکہ عملی طور پر آگے بڑھ کر یہ ثابت کریں کہ ہم اپنے علاقے، اپنی زمین اور اپنے مستقبل کا دفاع کرنا جانتے ہیں۔
پبلک فورم وی سی سورج گلی
تحفظِ ماحولیات فورم، حطار

السلام علیکم اج پنڈ گجراں کے لیے خصوصی طور پر جبکہ پوری وی سی  سورج گلی کے لیےخوش ائند نوید ہے کہ پنڈ گجراں کے بوائے سکو...
19/01/2026

السلام علیکم اج پنڈ گجراں کے لیے خصوصی طور پر جبکہ پوری وی سی سورج گلی کے لیےخوش ائند نوید ہے کہ پنڈ گجراں کے بوائے سکول کو ہائر سیکنڈری کا درجہ انشاءاللہ مل چکا ہے اسی طرح محلہ کنڈ کے لیے جو کافی عرصے سے پانی کا مسئلہ چلا ا رہا تھا اس کے لیے1500فٹ پائپ لائن اور محلہ بری کے لیے جو ہمارے ڈیرے والی گلی ہے یہ تمام کام اج کی تاریخ میں ہمارے محترم جناب یوسف ایوب خان صاحب کے حکم پر ہو چکے ہیں جو عنقریب ان پر کام شروع ہو جائے گا محترم یوسف ایوب خان صاحب اور ارشد ایوب خان صاحب کے ہم بے حد مشکور و ممنون ہیں کہ یہ کام پنڈ ٹ کی عوام کا درینہ مطالبہ تھا جو انہوں نے مہربانی کرتے ہوئے ان کاموں کی منظوری دے دی ہے جو ہم تمام اہلیان پنڈ گجراں ان کے مشکور و ممنون ہیں اور ہمیشہ ان کے یہ کارنامے یاد رکھے جائیں گے شکریہ

سورج گلی کی عوام کو مشکلات کا سامنا ضلعی انتظامیہ خاموش تماشائی
07/01/2026

سورج گلی کی عوام کو مشکلات کا سامنا ضلعی انتظامیہ خاموش تماشائی

اہلیانِ پنڈگجراں گاؤں اور ویلج کونسل سورج گلی کی جانب سے بنیادی سہولیات کے دیرینہ مسائل کے حل کے لیے ایک اہم اور بامقصد ...
05/01/2026

اہلیانِ پنڈگجراں گاؤں اور ویلج کونسل سورج گلی کی جانب سے بنیادی سہولیات کے دیرینہ مسائل کے حل کے لیے ایک اہم اور بامقصد پیش رفت سامنے آئی۔ اس سلسلے چوہدری سعید احمد صاحب جنرل کونسلر چوہدری عادل بشیر صاحب چوہدری حمزہ بشیر صاحب یوتھ کونسلر اور چوہدری شیر بہادر صاحب چوہدری شکیل احمد صاحب اور دیگر معززین علاقہ کی معزز رکنِ قومی اسمبلی بابر نواز خان سے باضابطہ ملاقات کی گئی، جس میں گیس، بجلی اور پینے کے صاف پانی جیسے بنیادی اور ناگزیر مسائل کو تفصیل کے ساتھ ان کے سامنے رکھا گیا۔
ملاقات کے دوران علاقہ مکینوں نے عوام کو درپیش مشکلات، روزمرہ زندگی پر پڑنے والے منفی اثرات اور فوری اقدامات کی ضرورت پر بھرپور انداز میں روشنی ڈالی۔ ایم این اے بابر نواز خان نے نہایت توجہ اور سنجیدگی سے مسائل سنے اور یقین دہانی کروائی کہ اہلیانِ پنڈگجراں اور سورج گلی کے جائز مطالبات کو متعلقہ محکموں تک پہنچا کر ان کے فوری اور دیرپا حل کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔
اہلیانِ علاقہ نے معزز ایم این اے کے تعاون، دلچسپی اور مثبت یقین دہانیوں پر دلی شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ ان کوششوں کے نتیجے میں جلد ہی علاقے میں سہولیات کی بہتری ممکن ہو سکے گی۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ یہ کاوشیں بارآور ثابت ہوں اور پنڈگجراں گاؤں و ویلج کونسل سورج گلی ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہوں۔

ہری پور کے عوامی نمائندے، خواہ وہ کسی بھی سیاسی جماعت سے تعلق رکھتے ہوں، نیز مرکزی اور صوبائی حکومتیں یہ حقیقت سنجیدگی س...
22/12/2025

ہری پور کے عوامی نمائندے، خواہ وہ کسی بھی سیاسی جماعت سے تعلق رکھتے ہوں، نیز مرکزی اور صوبائی حکومتیں یہ حقیقت سنجیدگی سے سمجھ لیں کہ پانچ سو بستروں پر مشتمل، جدید طبی آلات اور سہولیات سے آراستہ ایک بڑا ہسپتال ہری پور کی بنیادی اور ناگزیر ضرورت بن چکا ہے۔ یہ کوئی عارضی خواہش نہیں بلکہ ضلع ہری پور کے عوام کا جائز، آئینی اور بنیادی حق ہے۔

بدقسمتی سے موجودہ سرکاری ہسپتال عوامی تقاضوں، بڑھتی ہوئی آبادی اور جدید طبی ضروریات پر پورا نہیں اترتے۔ دور دراز پہاڑی اور دیہی علاقوں سے آنے والے مریض پہلے ہی طویل، مشکل اور مہنگا سفر طے کر کے ہری پور پہنچتے ہیں، مگر یہاں آ کر انہیں علاج کے بجائے اسلام آباد یا ایبٹ آباد ریفر کر دیا جاتا ہے۔ یوں ایک بیمار کے زخم پر مرہم رکھنے کے بجائے اس کی اذیت، پریشانی اور بے بسی میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔

یہ مطالبہ کسی سیاسی پوائنٹ اسکورنگ یا وقتی فائدے کے لیے نہیں اٹھایا جا رہا، بلکہ یہ ایک ایسی بنیادی انسانی ضرورت ہے جس پر عوام کی آواز دن بہ دن مضبوط ہوتی جا رہی ہے۔ قبل اس کے کہ عوام اپنے اس حق کے لیے سڑکوں پر آنے پر مجبور ہوں، لازم ہے کہ اس مطالبے پر عملی اقدامات کا فوری آغاز کیا جائے۔

عوامی نمائندے یہ بات یاد رکھیں کہ ہری پور کے عوام باشعور، تعلیم یافتہ اور حالات کو سمجھنے والے لوگ ہیں۔ آج جو لوگ آپ کو عزت و اعتماد کے ساتھ اپنے سر آنکھوں پر بٹھاتے ہیں، اگر ان کے جائز مطالبات کو مسلسل نظرانداز کیا گیا تو وہ اپنے رویّے میں تبدیلی لانے کی طاقت اور حق بھی رکھتے ہیں۔

لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ ہری پور میں ایک جدید، مکمل سہولیات سے لیس تمام ڈیپارٹمنٹ )پر ر مشتمل 500 بستروں کا سرکاری ہسپتال قائم کیا جائے تاکہ عوام کو ان کی دہلیز پر معیاری علاج میسر آ سکے اور انہیں علاج کے لیے دوسرے شہروں کی خاک نہ چھاننی پڑے۔

یہ مطالبہ عوام کی آواز ہے، اور عوام کی آواز کو نظرانداز کرنا تاریخ کبھی معاف نہیں کرتی۔

پوسٹ کو لازمی شیئر کریں تاکہ ہمارے تمام عوامی نمائندوں تک پہنچ جائے شکریہ ❣️💞👍

وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف کی ہری پور یونیورسٹی آمد ۔ نمایاں پوزیشنز لینے والے طلباء طالبات میں لیب ٹاپ تقسی...
17/12/2025

وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف کی ہری پور یونیورسٹی آمد ۔ نمایاں پوزیشنز لینے والے طلباء طالبات میں لیب ٹاپ تقسیم، ممبر قومی اسمبلی بابر نواز خان کے مطالبہ پر چکہائی پل ، خواتین کیلئے علیحدہ یونیورسٹی کیمپس ، بچوں اور بچیوں کیلئے علیحدہ علیحدہ دانش سکولز ، متاثرین تربیلہ ڈیم کو میرٹ پر پلاٹس دینے سمیت ہری پور میں جدید آئی اے لیب بنانے کا اعلان کر دیا ۔۔۔

غربت کی  15 حیران کرنے والی وجوہات۔ہمارے معاشرے کے گریبان میں جھانکتی ہوئی ۱۵ بے رحم وجوہات، جو بتاتی ہیں کہ یہاں کا عام...
14/12/2025

غربت کی 15 حیران کرنے والی وجوہات۔
ہمارے معاشرے کے گریبان میں جھانکتی ہوئی ۱۵ بے رحم وجوہات، جو بتاتی ہیں کہ یہاں کا عام آدمی غربت کے دلدل سے کیوں نہیں نکل پاتا۔ یہ میٹھی باتیں نہیں، کڑوی گولیاں ہیں۔اس کو پڑھنے سے پہلے دل پر ہاتھ رکھ لیں۔

۱۔ "سرکاری نوکری" کا نشہ
پاکستانی نوجوان کی جوانی کے بہترین ۱۰ سال "سرکاری نوکری" کے انتظار میں گل سڑ جاتے ہیں۔ وہ پچیس ہزار کی پرائیویٹ نوکری یا چھوٹا کاروبار کرنے کو توہین سمجھتے ہیں اور ۳۰ سال کی عمر تک والدین کے ٹکڑوں پر پلتے ہیں۔ نتیجہ؟ جب ہوش آتا ہے تب تک وقت اور عمر دونوں ہاتھ سے نکل چکے ہوتے ہیں۔

۲۔ دکھاوے کی شادیاں (امیروں کی نقل)
جیب میں پھوٹی کوڑی نہیں، مگر شادی پر ۱۰ لاکھ کا کھانا اور ۵ لاکھ کا جہیز دینا "ناک" کا مسئلہ ہے۔ یہ قوم اپنی زندگی کی کل جمع پونجی صرف ۴ گھنٹے کی تقریب میں لوگوں کو کھانا کھلا کر برباد کر دیتی ہے، اور پھر اگلے ۵ سال قرضہ اتارتی رہتی ہے۔

۳۔ ڈگری زدہ جاہل
ہاتھ میں ماسٹرز کی ڈگری ہے مگر ایک پروفیشنل ای میل لکھنی نہیں آتی۔ ہمارے تعلیمی نظام نے صرف "نوکر" پیدا کیے ہیں، ہنر مند نہیں۔ ڈگری کو قابلیت سمجھنا سب سے بڑی بیوقوفی ہے، کیونکہ مارکیٹ ڈگری کو نہیں، "سکل" (Skill) کو پیسے دیتی ہے۔

۴۔ ایک کمائے، دس کھائیں
مشترکہ خاندانی نظام (Joint Family) کی یہ کڑوی سچائی ہے کہ اگر ایک بھائی کمانے لگ جائے تو باقی سب "پیر پسار" کر لیٹ جاتے ہیں۔ یہاں "Parasite" (مفت خورے) بننے کا رواج ہے، جس کی وجہ سے کمانے والا بھی کبھی امیر نہیں ہو پاتا کیونکہ اس کا پیسہ سرمایہ کاری میں نہیں، دوسروں کا پیٹ بھرنے میں لگ جاتا ہے۔

۵۔ کمیٹی کلچر (مردہ پیسہ)
پاکستانیوں کو انویسٹمنٹ سے ڈر لگتا ہے مگر "کمیٹی" ڈالنے کا شوق ہے۔ کمیٹی "مردہ پیسہ" (Dead Money) ہے۔ دو سال بعد جو ایک لاکھ ملے گا، مہنگائی کی وجہ سے اس کی قدر ۶۰ ہزار رہ چکی ہوگی۔ یہ بچت نہیں، اپنے پیسے کی قدر گرانے کا طریقہ ہے۔

۶۔ انا کا بت (میں یہ کام کروں گا؟)
"میں چوہدری کا بیٹا ہوں، میں ریڑھی لگاؤں گا؟"
اس جھوٹی انا نے لاکھوں گھر اجاڑ دیے۔ یہاں لوگ بھوکے مر جائیں گے لیکن کوئی چھوٹا کام شروع کرنے میں شرم محسوس کریں گے۔ یاد رکھیں، کام چھوٹا نہیں ہوتا، بندے کی سوچ چھوٹی ہوتی ہے۔

۷۔ صحت کی تباہی (خودکشی)
ہم وہ قوم ہیں جو ۴۰ سال کی عمر تک تیل اور چینی ٹھونس کر اپنا جسم برباد کرتے ہیں اور پھر ۵۰ سال کی عمر کے بعد اپنی ساری کمائی ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کو دے دیتے ہیں۔ صحت کو نظر انداز کرنا غربت کا سیدھا راستہ ہے۔

۸۔ شارٹ کٹ کی تلاش
ہمیں امیر بننا ہے، لیکن محنت کے بغیر۔ کبھی ڈبل شاہ، کبھی کرپٹو کے فراڈ اور کبھی لاٹری۔ پاکستانی قوم پروسیس (Process) پر یقین نہیں رکھتی، اسے "معجزہ" چاہیے۔ اور معجزے کے انتظار میں نسلیں غریب رہ جاتی ہیں۔

۹۔ الزام تراشی (Victim Mentality)
"حکومت خراب ہے، نواز شریف کھا گیا، عمران خان نے کیا کر لیا، فوج نہیں چھوڑتی۔۔۔"
یہ وہ چُورن ہے جو ناکام لوگ روز بیچتے ہیں۔ یہ ماننے کے بجائے کہ "میں نالائق ہوں"، وہ اپنی ناکامی کا ملبہ سسٹم پر ڈال کر بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔

۱۰۔ ادھار پر عیاشی
ہم وہ لوگ ہیں جو "آئی فون" قسطوں پر لیتے ہیں تاکہ ان لوگوں کو متاثر کر سکیں جو ہمیں پسند بھی نہیں کرتے۔ غیر ضروری چیزوں (Liabilities) کے لیے قرض لینا مالی خودکشی ہے، جو یہاں کا ہر دوسرا بندہ کر رہا ہے۔

۱۱۔ سیکھنا بند (The Know-it-all)
ڈگری ملتے ہی کتاب بند۔ پاکستانی اوسطاً سال میں ایک کتاب بھی نہیں پڑھتا۔ جب آپ اپنے دماغ پر انویسٹ کرنا بند کر دیتے ہیں، تو آپ کی جیب خود بخود خالی ہونا شروع ہو جاتی ہے۔

۱۲۔ اولاد بطور انشورنس پالیسی
غربت کی ایک بڑی وجہ "بے تحاشا بچے" ہیں۔ غریب آدمی بچے اس لیے پیدا کرتا ہے کہ "یہ بڑے ہو کر کمائیں گے"۔ وہ یہ نہیں سوچتا کہ وسائل کے بغیر پلنے والے بچے "سرمایہ" نہیں، معاشرے اور والدین پر "بوجھ" بنتے ہیں۔

۱۳۔ رسک فوبیا (Risk Aversion)
"پیسہ ڈوب نہ جائے"۔ اس ڈر سے لوگ پیسہ بینک میں سڑنے دیتے ہیں یا پلاٹ لے کر چھوڑ دیتے ہیں۔ کاروبار کرنے کا، رسک لینے کا حوصلہ ہی نہیں ہے۔ اور جو رسک نہیں لیتا، وہ کبھی ترقی نہیں کرتا۔

۱۴۔ حاسدانہ رویہ
امیر آدمی کو دیکھ کر یہ سیکھنے کے بجائے کہ "یہ کیسے امیر ہوا؟"، ہم کہتے ہیں "ضرور حرام کا کمایا ہوگا۔" امیروں سے نفرت کر کے آپ کبھی امیر نہیں بن سکتے، کیونکہ لاشعوری طور پر آپ وہ بننا ہی نہیں چاہتے جسے آپ برا سمجھتے ہیں۔

۱۵۔ وقت کا قتلِ عام
چائے کے ڈھابوں پر گھنٹوں سیاست پر بحث، ٹک ٹاک پر اسکرولنگ اور فضول محفلیں۔ غریب آدمی کے پاس پیسے کے علاوہ سب سے قیمتی چیز "وقت" ہوتی ہے، اور وہ اسی کو سب سے زیادہ بے دردی سے ضائع کرتا ہے۔

اپنی بدحالی کا ملبہ حکومت یا تقدیر پر ڈالنا بند کریں، کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ آپ کی جیب خالی نہیں بلکہ آپ کا دماغ بنجر ہے۔ جب تک آپ اپنی ”جھوٹی انا“ اور ”سستی“ کا جنازہ نہیں نکالیں گے، غربت آپ کی نسلوں کو اسی طرح چاٹتی رہے گی۔

Address

Kpk Khanpur
Haripur

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Vc Suraj Galli posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share