19/07/2025
خدا کے واسطے! عزاداری کی لغت، اس کے آداب اور اس کے تقدس کو برباد نہ کریں
عزاداری فقط ایک رسم نہیں، بلکہ یہ ایمان، وفا، عشق، شعور، اور صداقت کا وہ چراغ ہے جسے سیدہ زینبؑ نے کوفہ و شام کے اندھیروں میں بھی روشن رکھا۔ اس عزاداری کو تھیٹر یا عام محفلوں کی طرح پیش کرنا ایک سنگین غلطی ہے۔
یاد رکھیں:
پُرسہ پڑھا نہیں جاتا، پُرسہ دیا جاتا ہے۔ یہ دکھی دل کی آواز ہے، سیدہؑ کی بارگاہ میں اظہارِ ہمدردی ہے، کوئی تقریری مقابلہ نہیں۔
ماتم داری کی جاتی ہے، اسے شو یا پرفارمنس مت بنائیں۔ یہ سینے پر ہاتھ مار کر، دل سے نالہ بلند کرنے کا عمل ہے۔
مجلس برپا کی جاتی ہے، پروگرام منعقد نہیں ہوتا۔ پروگرام شادی، موسیقی یا تفریح کے لیے ہوتے ہیں، مجلس حسینیؑ ذکرِ حق، ذکرِ شہادت، اور ذکرِ اہلِ بیتؑ کے لیے ہوتی ہے۔
منبر کو اسٹیج مت کہیں۔ منبر وہ مقدس مقام ہے جہاں امام حسینؑ کا پیغام پہنچایا جاتا ہے، اسٹیج دنیاوی اداکاری کا مقام ہے۔
نیاز کو لنگر مت کہیں۔ لنگر کا مفہوم اور پس منظر سکھوں یا مزاروں سے جُڑا ہے، جبکہ نیاز نیت، عقیدت اور ثواب کا ذریعہ ہے، جو اہلِ بیتؑ کے ذکر کے ساتھ تقسیم کی جاتی ہے۔
ماتمی انجمن کو سنگت مت کہیں۔ سنگت قوالوں یا موسیقی کی محفلوں کا عنوان ہے، جبکہ ماتمی انجمنیں غمِ حسینؑ میں ڈوبے ہوئے دلوں کا مظہر ہوتی ہیں۔
یہ سب اصطلاحات صرف الفاظ نہیں، یہ ہماری عقیدت، نسبت، اور معرفت کا اظہار ہیں۔ جب ہم ان مقدس مواقع کے لیے عام دنیاداری کی زبان استعمال کرتے ہیں تو ہم نہ صرف عزاداری کے مفہوم کو کم کرتے ہیں بلکہ امام مظلومؑ کی قربانی کی روح سے دور ہو جاتے ہیں۔
سادگی اپنائیں، عظمت بچائیں
آج کل مجلسوں میں نمود و نمائش، لائٹنگ، بینر، اسٹیج کی آرائش، اور موسیقی جیسے ماحول کو شامل کرنا اس پاکیزہ عمل کے چہرے پر دھول ڈالنے کے مترادف ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم سادگی، خاموشی، ادب، اور وقار کو اپنا شعار بنائیں۔ مجلس شروع ہو تو دل سے سنا جائے، وقت پر بیٹھا جائے، موبائل بند کیے جائیں، اور امام زمانہؑ کی موجودگی کا یقین رکھتے ہوئے اپنی ہر حرکت و لفظ کو احتیاط سے ادا کیا جائے۔
یاد رکھیں! عزاداری ایک عبادت ہے، تماشہ نہیں۔ اس کی الفاظ، اس کے ماحول، اس کے انداز، سب کچھ باادب، باوقار اور بافہم ہونا چاہیے۔ ہم اگر زبانِ عزاداری کو بدلیں گے، تو کل کو روحِ عزاداری سے بھی ہاتھ دھونا پڑے گا۔
اصلاح فرض ہے
عزاداری میں موجود ہر لفظ، ہر عمل، ہر نیت کا محاسبہ ضروری ہے۔ ہمیں خود بھی سیکھنا ہے اور دوسروں تک بھی محبت، فہم، اور دلیل سے یہ پیغام پہنچانا ہے کہ امام حسینؑ کا غم، کھیل تماشہ نہیں۔ یہ ہمارے کردار، فکر، اور معاشرے کی اصلاح کا ذریعہ ہے۔ اگر ہم خود اس کے آداب کو نہ سمجھیں گے، تو آنے والی نسلیں صرف "فنکشن" دیکھیں گی، "پیغام" نہیں