29/05/2026
آج بھی سندھ کی بیٹی پریا کماری کا نام سن کر دل اُداس ہو جاتا ہے.
ایک معصوم بچی جو 2021 میں اپنے گھر کے قریب سے لاپتہ ہوئی، لیکن اتنے سال گزرنے کے بعد بھی اُس کا کوئی پتہ نہیں چل سکا.
اُس کے والدین آج بھی امید اور درد کے درمیان زندگی گزار رہے ہیں ہر دروازہ کھٹکھٹایا گیا، ہر اپیل کی گئی، ہر احتجاج میں ایک ہی آواز اُٹھی ہمیں ہماری بیٹی واپس چاہیے۔
حال ہی میں ہم نے دیکھا کہ ایک اور بچی کو صرف چند دنوں کے آپریشن میں محفوظ بازیاب کر لیا گیا۔ یہ دیکھ کر خوشی بھی ہوئی اور ایک سوال بھی پیدا ہوا
اگر ادارے چاہیں تو کیا پریا کماری کو بھی نہیں ڈھونڈا جا سکتا؟
یہ صرف ایک خاندان کا دکھ نہیں، یہ پورے سندھ کا درد ہے۔
ہر بچہ چاہے کسی بھی مذہب، ذات یا علاقے سے ہو برابر اہمیت رکھتا ہے۔ کسی ماں کی گود ہمیشہ کے لیے سونی نہیں رہنی چاہیے۔
ہم حکومت، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور تمام ذمہ دار حلقوں سے پُرزور اپیل کرتے ہیں کہ پریا کماری کے کیس کو دوبارہ سنجیدگی سے اٹھایا جائے۔ جدید ٹیکنالوجی، تحقیقات اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے اُس کی بازیابی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔
انسانیت کا تقاضا ہے کہ ہر لاپتہ بچے کو اُس کے گھر تک پہنچایا جائے۔
پریا کماری کو صرف ایک خبر نہ بننے دیں اُس کے والدین کو انصاف اور امید واپس دیں۔
Sindh Police