AA Builders

AA Builders consaltant

29/08/2026
30/07/2026

میری عمر اس وقت 47 سال ہے۔ میری عمر کے قریب ترین عمر کے لوگ اس پوسٹ کو لازمی پڑھیں اور دوسرے بھی پڑھیں۔
​یہ جو ہم 1978سے 1990 کے درمیان پیدا ہونے والے لوگ ہیں، ہمارا وقت آج کل واقعی بہت عجیب سا چل رہا ہے۔
​ہم لوگوں کی عمر اگرچہ چالیس پچاس کے قریب ہے مگر آئینے میں دیکھیں تو خود کو بیس سال کا دیکھتے ہیں۔
​اور ہمارا دل — ہاہاہا — ہمارا دل اب بھی خود کو سولہ سال کا سمجھتا ہے! ضدی، جذباتی اور خوابوں سے بھرا ہوا۔
​ہم وہ نسل ہیں جس کی جوانی اپنی نہیں تھی۔ کبھی گھر کی ذمہ داریاں تو کبھی معاشی دباؤ، کبھی اپنی ناکام و کامیاب محبت کا بوجھ، تو کبھی حالات کی مار۔
​اور اب جبکہ ذرا سکھ کا سانس لینے کا وقت آیا ہے، تو بڑھاپا دروازہ کھٹکھٹا رہا ہے جسے ہم ماننے کو تیار نہیں۔
​ہم حیرت انگیز طور پر باہر سے مضبوط اور اندر سے تھکے ہوتے ہیں۔
​ہم ایسے لوگ ہیں جو محفل میں سب کو ہنساتے ہیں اور رات کو تنہائیوں کو گلے لگا کر اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرتے ہیں۔
​ہمارے اندر احساسات ایسے ہیں کہ جیسے زندگی کے 80 سال جی چکے ہوں۔ ہر رشتہ پرخلوص نبھایا، اپنا ہر درد دنیا سے چھپایا، اور دوسروں کی خوشی کے لیے اپنی ہر خوشی کو قربان کر دیا۔
​اور اب دل جب کچھ مانگتا ہے، تو دل فوراً یاد دلا دیتا ہے کہ اب؟؟؟
اب تو بہت دیر ہو چکی دوست...
​ہائے... دل آج بھی خواب دیکھتا ہے...
اففف! مگر جسم اب آرام مانگتا ہے۔
نیند ہے کہ پوری نہیں ہوتی،
اور سکون ہے کہ کہیں ملتا نہیں۔
اور تھکن؟ — تھکن تو جیسے کبھی اتری ہی نہیں۔
​ہم وہ نسل ہیں کہ ہم نے "اینالاگ" سے "ڈیجیٹل" کا سفر طے کیا ہے۔ خط لکھنے سے چلے اور واٹس ایپ کے دور تک آ گئے، اور مزے کی بات تو یہ ہے کہ اس دوڑ میں سب سے زیادہ خود ہی گُم ہو گئے ہیں۔
​ذمہ داریاں ایسی ہیں کہ جیسے صدیوں کا بوجھ اٹھا رکھا ہو۔ اپنا گھر بھی سنبھالنا ہے، بچوں کا مستقبل بھی بنانا ہے، والدین کا سہارا بھی تو بننا ہے، اور اپنے اندر کے ٹوٹے ہوئے انسان کو بھی تو سہارا دینا ہے۔
​ہم وہ لوگ ہیں جو وقت سے لڑتے بھی ہیں اور وقت کے سامنے جھک بھی جاتے ہیں۔
مگر عجیب بات یہ ہے کہ ہر بات پہ مسکرا کے کہتے ہیں کہ:
"ہم ٹھیک ہیں، الحمدللہ سب ٹھیک ہے۔"
حالانکہ حقیقت میں کچھ بھی تو ٹھیک نہیں ہوتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہماری نسل ٹھیک نہیں ہے۔
ہم لوگ صرف مضبوط ہیں،
اور مضبوط لوگ اکثر اندر سے سب سے زیادہ ٹوٹے ہوئے ہوتے ہیں۔
​اگر آپ بھی اسی دور سے گزر رہے ہیں، اسی تھکن سے چور ہو کر، اسی خاموش تھکن اور ادھورے خوابوں کی چھپی ہوئی جنگ کو محسوس کر رہے ہیں، تو یقین رکھیے آپ اکیلے نہیں ہیں، میں بھی تو ہوں آپ کے ساتھ۔
​کبھی صرف یہ مان لینا کہ "ہاں، میں تھک گیا ہوں"، بڑی ہمت کی بات ہوتی ہے۔
​اگر میرے یہ الفاظ آپ کے دل تک پہنچے ہیں، اور آپ بھی عمر کے اس حصے میں میرے ساتھی ہیں تو آئیں...
​"مل کر دکھ شیئر کرتے ہیں"
کمنٹ سیکشن میں مجھے بتائیں۔
​کہتے ہیں کہ دکھ بانٹنے سے دکھ ہلکے ہوتے ہیں۔

09/07/2026

خربوزے بیچنے والی ایک کم سن خانہ بدوش لڑکی نے دو بھائیوں کے درمیان سالوں سے جاری جائیداد کا تنازعہ ختم کروا دیا ۔۔۔ وانا کی معروف علمی شخصیت ڈاکٹر طاہر قیوم نے سبق آموز سچا واقعہ بیان کردیا ۔ ہر پاکستانی ضرور پڑھے۔۔۔۔ ہمارے علاقے میں دو بھائیوں کے درمیان والد کی وفات کے بعد گھر زمین اور بنک بیلنس پر جھگڑا ہو گیا ، بات خاندانی بزرگوں ، جرگے اور عدالت تک جا پہنچی ، ایک تنازعہ گھر کے ایک حصے کا تھا جس پر بڑا بھائی اپنا حق جتاتا تھا ، دوسرا معاملہ قیمتی زرعی زمین کے کچھ قطعات کا تھا اور تیسرا جھگڑا والد کے بنک اکاؤنٹ پر تھا ، بڑا بھائی ہر چیز پر حصے سے زیادہ حقدار بن رہا تھا ۔۔ دونوں بھائی اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہ تھے ۔ جرگہ اور عدالت میں بھی ہٹ دھرمی اور ضد کی وجہ سے کوئی تصفیہ نہ ہو پارہا تھا ، ایک روز چھوٹا بھائی اپنے بیوی بچوں کے ساتھ کار پر سوار بازار گیا ، اس کا بڑا بیٹااگلی سیٹ پر والد کے ساتھ بیٹھا تھا جبکہ بیوی اور دو چھوٹے بچے پچھلی سیٹ پر بیٹھے تھے ، بازار میں ایک جگہ خربوزوں والی ریڑھی کھڑی تھی چھوٹے بچے مچل گئے اور خربوزوں کی فرمائش کی ، والد نے گاڑی روکی اور خربوزے بیچنے والی خانہ بدوش لڑکی کو اشارے سے پاس بلایا ، لڑکی دو خربوزے لائی ، بچوں کی ماں نے پیسے پوچھے ، لڑکی نے کہا 50 روپے ، مگر عورت بھاؤ تاؤ کرنے لگی ۔ 10 روپے کم کروا کے ماں نے بچوں کے لیے خربوزے خرید لیے ۔۔۔ لڑکی پیسے لے کر واپس اپنی ریڑھی پر چلی گئی ، اسی اثناء میں اگلی سیٹ پر بیٹھے بڑے بیٹے نے اپنے لیے الگ خربوزہ خریدنے کی فرمائش کی ، پھر لڑکی کو بلایا گیا ۔ لڑکی آئی تو عورت نے اپنے بیٹے کی طرف اشارہ کرکے خربوزہ فروش لڑکی کو کہا بیٹا اپنے بھائی کے لیے بھی ایک خربوزہ لے آؤ ۔ خانہ بدوش لڑکی بھاگی ہوئی گئی اور ایک خربوزہ لے کر آئی مگر گاڑی کے پاس پہنچتے ہی اسکا پیر پھسلا وہ گری اور خربوزہ بھی گر کر خراب ہو گیا ۔ اس پر وہ دوبارہ بھاگی گئی اور ایک اچھا سا خربوزہ اٹھا لائی اور اگلی سیٹ پر بیٹھے لڑکے کو تھما دیا ۔۔۔۔ بچوں کی ماں بولی جو خربوزہ ٹوٹ گیا وہ تمہارا قصور تھا اسکے پیسے نہیں دونگی ۔ یہ لو دوسرے خربوزے کے پیسے ۔۔۔ یہ سن کر خانہ بدوش لڑکی بولی : خالہ : نہ میں تم سے ٹوٹے خربوزے کے پیسے لوں گی اور نہ اس کے جو اب لائی ہوں ۔۔۔۔ عورت نے حیران ہو کر پوچھا ۔ کیوں بھئی ؟ لڑکی بولی : آپ نے کہا بھائی کے لیے خربوزہ لاؤ اور میرا حقیقی بھائی کوئی نہیں ہے آج اس کو اپنا بھائی سمجھ کر خربوزہ دے رہی ہوں ۔ مجھے میرا نصیب مل جائے گا ، بھلا بھائیوں سے حساب کتاب کیسا ؟۔ یہ جان کر عورت کی آنکھوں میں آنسو آگئے اس نے اپنے پرس سے سارے پیسے نکالے ، اپنی کلائیوں سے دو کنگن اتارے اور لڑکی کو دینا چاہے لیکن لڑکی نے انکار کردیا ۔ کہنے لگی پہلی بار بھائی کو پیار سے کچھ دیا ہے اس کے بدلے کچھ نہیں لونگی لیکن عورت بھی بضد رہی اور اس نے کچھ پیسے اور کنگن لڑکی کو تھما دیے ۔۔۔ آگے بیٹھا شوہر سارا ماجرہ دیکھ کر حیران تھا ۔ کہاں اسکی بیوی 10، 20 روپے کے لیے بھاؤ تاؤ کررہی تھی اور کہاں اب ہزاروں روپے اور قیمتی کنگن لڑکی کو دے دیے تھے ۔۔۔ یہ لوگ گھر واپس پہنچے تو چھوٹے بھائی نے اپنے بڑے بھائی کو فون کیا ، سلام دعا کے بعد کہا ، بھائی جان آج سے زمین جائیداد اور پیسوں پر میرا آپ سے کوئی جھگڑا نہیں ، جیسا آپ کہیں گے مجھے وہی قبول ہے ، کل صبح میں کچہری جاکر اپنی درخواستیں بھی واپس لے لونگا ، آپ بھی جرگے اور بزرگوں کو کہہ دیں ہمارا جھگڑا گھر میں ہی نمٹ گیا ہے ۔ بڑا بھائی حیران تھا کہ آج چھوٹے کو کیا ہو گیا ہے ۔۔ اس نے پھر پوچھا کیا بات ہے خیر تو ہے ، لاکھوں کروڑوں کی جائیداد زمین اور پیسوں کا معاملہ مجھ پر کیوں چھوڑ رہے ہو کہیں بعد میں پچھتاتے نہ پھرنا ۔ لیکن چھوٹے نے کہا ۔۔ بھائی جان میرا جھگڑا کسی اور کے ساتھ نہیں سگے بھائی کے ساتھ تھا اور آج مجھے ایک خانہ بدوش بچی نے درست سبق دیا ہے کہ بھائیوں کے ساتھ کوئی حساب کتاب نہیں ہوتا ۔ ۔۔۔ یاد رہے کہ بڑے بھائی نے بعد میں تقسیم کے دوران چھوٹے بھائی کے 70 فیصد مطالبات مان کر اسکا حصہ اسکے حوالے کردیا تھا ، گویا خانہ بدوش لڑکی سے ملی نصیحت بڑے بھائی تک بھی پہنچ چکی تھی ۔۔۔۔

27/06/2026

Office D18

26/06/2026

اے اے بلڈرز اسلام آباد

مضبوط بنیاد، معیاری تعمیر، پائیدار اعتماد

کیا آپ اپنے خوابوں کا گھر خریدنا چاہتے ہیں؟

اے اے بلڈرز اسلام آباد آپ کے لیے ایسے گھر تعمیر کرتا ہے جو صرف خوبصورت ہی نہیں بلکہ مضبوط، محفوظ اور جدید معیار کے مطابق بھی ہوتے ہیں۔

ہمارے ہر گھر کی تعمیر کا آغاز مضبوط اور انجینئرنگ اصولوں کے مطابق فاؤنڈیشن سے کیا جاتا ہے۔ معیاری سریا، بہترین سیمنٹ، اعلیٰ درجے کی اینٹیں اور جدید تعمیراتی طریقوں کا استعمال ہماری اولین ترجیح ہے تاکہ آنے والی نسلیں بھی اس مضبوطی کا اعتماد محسوس کریں۔

ہماری تعمیر کے نمایاں مراحل

✅ انجینئر کی نگرانی میں مضبوط فاؤنڈیشن

✅ معیاری سریا، سیمنٹ اور اینٹوں کا استعمال

✅ مضبوط لینٹر اور بہترین RCC اسٹرکچر

✅ اعلیٰ معیار کی پلمبنگ اور واٹر سپلائی لائن

✅ محفوظ اور معیاری الیکٹریکل وائرنگ

✅ نمی سے محفوظ واٹر پروفنگ

✅ نفیس ٹائلز، ماربل اور جدید فلورنگ

✅ اعلیٰ معیار کے دروازے، الماریاں اور کچن کیبنٹس

✅ جدید ڈیزائن کی سیلنگ اور خوبصورت لائٹنگ

✅ برانڈڈ سینیٹری فٹنگز

✅ بہترین پینٹ اور پریمیم فنشنگ

ہماری خصوصیات

✔ شفاف کام

✔ وقت کی پابندی

✔ بہترین کوالٹی کنٹرول

✔ ہر مرحلے پر معائنہ

✔ جدید ڈیزائن

✔ مناسب قیمت

✔ مکمل کسٹمر سیٹسفیکشن

ہمارا مقصد صرف ایک گھر بیچنا نہیں بلکہ اپنے ہر کلائنٹ کو ایسا گھر دینا ہے جس پر وہ زندگی بھر فخر کر سکے۔

اگر آپ ایسا گھر خریدنا چاہتے ہیں جہاں مضبوطی، خوبصورتی اور معیار ایک ساتھ موجود ہوں تو اے اے بلڈرز اسلام آباد آپ کے اعتماد کا بہترین انتخاب ہے۔

اے اے بلڈرز اسلام آباد

“ہم صرف گھر نہیں بناتے، ہم اعتماد تعمیر کرتے ہیں۔”

Address

Islamabad
143001

Telephone

+923434634598

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when AA Builders posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to AA Builders:

Shortcuts

Share