05/05/2026
کیا آپ جانتے ہیں کہ 1947 میں پاکستان انڈیا کی سرحدی لائنز کھینچنے والا ریڈکلف اس خطے کی جغرافیہ تک سے واقف نہیں تھا
جغرافیہ تو کیا وہ اس خطے کی زبان و کلام، تہذیب و تمدن حتی کہ ثقافت و قومیت تک سے اس کی کسی قسم کی کوئی واقفیت نہیں تھی
جہاں اسلام کے نام پہ بننے والے ملک میں سب سے زیادہ مسلمان ہی اس ملک میں ٹھہر گئے جو اسلام کے نام پہ تقسیم ہوا ہی نہیں تھا یعنی انڈیا میں تو اسکی اصل تو اسی دن ختم ہوگئی تھی
اب اقوام و مذاہب کے درمیان کی یہ لکیر نا صرف مسائل کا انبار پیدا کرتی گئی بلکہ تجارتی امور، رشتہ داریاں، نہری نظام سمیت درختوں کی موجودگی کہاں زیادہ کہاں کم تک کے مسائل کو بھی اجاگر کر گئی
ریڈکلف کی اس خطے سے جغرافیائی عدم واقفیت تو اپنی جگہ وہ تو اس سے پہلے برصغیر آیا بھی نہیں تھا۔
اور بہت سی الجھنوں کیساتھ ہمیں ایک دیرینہ پیچیدگی یہ دیکر گیا کہ جب سرحدی لائنیں کھینچی گئیں تو بعد میں پتہ چلا کہ پاکستان کے حصے میں تو محض چھ فیصد جنگلات آئے ہیں جو کہ اب کم ہوکر دو فیصد رہ گئے ہیں
جبکہ انڈیا میں اس وقت بھی سبزہ, جنگلات، زراعت کا کوئی حساب ہی نہیں تھا وہ بے شمار میں شامل معاملہ تھا
آپ نقشے میں واضح دیکھ سکتے ہیں کہ پاکستان کی سبز پٹی جو انڈس ریور سے ہوتی آرہی ہے محض ایک یہی لائن ہے جہاں ہم کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان سرسبز ہے
باقی ہر جگہ خشک سالی و قحط کا منظر ہے بشمول کراچی۔۔
جبکہ انڈیا میں ہر گلی میں ہزاروں درخت قدرتی ماحول کیساتھ ملیں گے اور اب تو وہاں انکے تحفظ کیلئے قانون سازی بھی ہے
لیکن یہ سب ہوتے دیکھ کر بھی نہرو اور بابائے قوم نے پھر بھی ریڈکلف کو لائنیں کھینچ دیکھ کر معمولی احتجاج کے سوا کچھ نا کیا
اور یوں اگلے دن دنیا کی تاریخ نے سب سے بڑی ہجرت کا منظر دیکھا کہ ایک ہی مسلم گھرانے کو یہ تک نہیں پتہ تھا کہ انکا اگلا ٹھکانہ کیا ہوگا
اسی طرح درختوں(ہریالی) کی تقسیم بھی افسوسناک حد تک ہمیں متاثر کرگئی جسکا خمیازہ ہم آج تک بھگت رہے ہیں
✍️ جی ایم شیخ #الخّ