26/08/2026
گلیشیئرز کی شادی! گلگت بلتستان کا وہ راز جس سے 500 گھر پانی پیتے ہیں
گلگت بلتستان میں لوگ گلیشیئرز کا انتظار نہیں کرتے۔
وہ ان کی شادی کروا دیتے ہیں۔
جی ہاں، آپ نے صحیح پڑھا۔ یہ کوئی افسانہ نہیں بلکہ سکردو کے قریب ایک علاقے "مناور" کی صدیوں پرانی روایت ہے۔ جہاں پانی کی قلت ہو، وہاں کے لوگ قدرت سے ہاتھ ملا کر خود اپنا گلیشیئر "پیدا" کرتے ہیں۔
عمل بہت سادہ لیکن حیران کن ہے۔
گاؤں والے 2 برف کے ٹکڑے لاتے ہیں، ہر ایک تقریباً 35 کلو۔
ایک کو "دلہا" کہا جاتا ہے - سرمئی رنگ کا، مٹی اور پتھروں سے بھرا ہوا۔
دوسرے کو "دلہن" - سفید، صاف اور شفاف۔
ان دونوں کو 2 دن تک کندھوں پر اٹھا کر پہاڑوں میں لے جایا جاتا ہے۔ شرط یہ ہے کہ یہ زمین پر نہ لگیں۔ پھر ایک گڑھے میں رکھ کر ان کے اوپر مٹی، راکھ اور پتھر ڈال کر دبا دیا جاتا ہے۔ پورا گاؤں دعا کرتا ہے۔ بس، یہی ان کی شادی ہے۔
10 سال کا انتظار
شادی کے بعد 10 سال انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اگر وہ برف وہیں جمی رہی تو آہستہ آہستہ ایک نیا گلیشیئر جنم لیتا ہے۔ اور وہ گلیشیئر اگلے کئی سالوں تک پانی دیتا ہے۔
سکردو کے قریب ایک گاؤں آج بھی 150 سال پہلے ہوئی شادی سے بننے والے گلیشیئر کا پانی پی رہا ہے۔ اس ایک گلیشیئر سے 500 گھرانے زراعت کرتے ہیں اور پانی استعمال کرتے ہیں۔
ماہرین اسے "Artificial Glacier" یا "Ice Stupa" کی قدیم شکل کہتے ہیں۔ راکھ اور پتھر اس لیے ڈالے جاتے ہیں تاکہ دھوپ کی تپش کم ہو اور برف آہستہ آہستہ پگھلے۔ کم درجہ حرارت + سایہ + دباؤ = نئی برف کا ذخیرہ۔
یعنی یہ صرف عقیدہ نہیں، یہ صدیوں کا سائنسی تجربہ بھی ہے۔
مناور ہمیں سکھاتا ہے کہ جب قدرت ساتھ نہ دے تو انسان ہار نہیں مانتا۔ وہ قدرت سے دوستی کر لیتا ہے۔ وہ انتظار نہیں کرتا، وہ حل پیدا کرتا ہے۔
آج جب دنیا Climate Change کی بات کر رہی ہے، گلگت بلتستان کے یہ لوگ 100 سال سے عملی حل کر رہے ہیں۔
آپ کو اس روایت کے بارے میں کیا لگتا ہے؟
کیا آپ کے علاقے میں بھی ایسی کوئی روایت ہے؟ کمنٹس میں ضرور بتائیں۔
_نوید حسین________