31/05/2024
السلام علیکم وحمۃ اللہ وبرکاتہ!
جمعہ کی چھٹی کیوں ضروری ہے؟
اس بات کی اہمیت ہم آپ کو اپنے آج کے اور بلکہ ہر جمعہ کے واقعہ سے سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں، یہ سمجھانے کی کوشش تمام قارئین کے لیے ہے نا کہ آخری پہرہ کے مطابق مخصوص اشخاص کے لیے۔
عمومی طور پر جب بھی جمعرات کا دن آتا ہے، دل کو ایک بے چینی سی لاحق ہو جاتی ہے کہ کل جمعہ کہاں ادا کیا جائے؟ آفس کی مسجد میں تو رسمی سا جمعہ ہوتا ہے حالانکہ جمعہ کا مقصد ہوتا ہے کہ گزرے ہفتے میں آئے ہوئے فتنے اور آئیندہ ہفتہ میں آنے والے متوقع فتنوں کے متعلق قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق اپنے دل و دماغ کو علم سے منور کیا جائے، اسی کہ ساتھ ساتھ اپنے دینی معاملات کے متعلق تعلیمات سمیٹی جائیں۔ جب کہ اس کے برعکس آفسز میں موجود مساجد میں ایک مخصوص سا خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا جاتا ہے جو کہ ہماری ہفتہ وار تعلیمی ضروریات تو درکنار دو دن بعد آنے والی عید کے متعلق بھی تعلیمات سے عاری ہوتا ہے، بس ایک فرض کی ادائیگی ہوتی ہے۔
اس منا سبت سے پھر سوچنا پڑتا ہے کہ اپنے پسند کے خطیب کا انتخاب کیا جائے کہ فلاں خطیب کا انداز بیاں دل کو بھاتا ہے اور وہ مستند عالم بھی ہے تو ہماری اچھی رہنمائی ہو جائے گی۔
جب ایسا سوچا جاتا ہے تو پھر دو ہی آپشنز موجود ہوتی ہیں، ایک یہ کہ جمعہ کو ازخود چھٹی کی جائے۔ اگر چھٹی کرنا ممکن نا ہو تو پھر کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح جمعہ سے پہلے پہلے چھٹی لی جائے۔ یہ بھی نا ہو سکے تو پھر نزدیکی مسجد میں جاکر جلدی جلدی میں جمعہ کی ادائیگی کر کے فورًا آفس واپسی کرنی پڑتی ہے۔
آج کے دن بھی ایسا ہوا کہ آفس سے 12 بجے نکل کر مسجد / مرکز میں پہنچتے ہوئے اتنا وقت ہو چکا تھا کہ اپنی پسندیدہ جگہ نا مل سکی۔ پسندیدہ جگہ سے مراد یہ ہوتی ہے کہ خطیب کے ساتھ آنکھیں ملانے (آئی کانٹیکٹ) سے بات کو سننے اور سمجھنے میں بھی آسانی ہوتی ہے اور ذہنی چستی بھی برقرار رہتی ہے۔ اور اسی طرح کا ہی واقعہ تقریبا ہر ملازمت والے کے ساتھ پیش آتا ہے۔
ہم صدرِ جمعیت اہلحدیث اور لیڈران کو یوم تاسیس کے موقع پر یہ دعا دیتے ہیں کہ وہ وقت اللہ جلد سے جلد دکھائے کہ جمعیت کے نمائندگان اسمبلیوں میں کلیدی کردار ادا کریں اور اوپر بیان کی گئی التجاء بھی کرتے ہیں کہ اس کو اپنی ترجیحات کا حصہ بنائیں۔ آمین