Kal Tak NEws bulletin

Kal Tak NEws  bulletin Newspaper.

ایران جنگ، ٹرمپ اور پاکستانحیرت ہوتی ہے کہ امریکہ جیسے عالی دماغوں کے حامل ملک میں ڈونلڈ ٹرمپ جیسے شخص صدر بن گئے۔ صبح و...
16/04/2026

ایران جنگ، ٹرمپ اور پاکستان
حیرت ہوتی ہے کہ امریکہ جیسے عالی دماغوں کے حامل ملک میں ڈونلڈ ٹرمپ جیسے شخص صدر بن گئے۔ صبح و شام متضاد اور غیرسنجیدہ بیانات کی وجہ سے ان کا مسخرہ پوری دنیا میں مشہور ہو گیا ہے ۔ انکے بیانات اور وعدوں کو اب کوئی سنجیدہ نہیں لیتا۔

بدقسمتی سے انکی حرکتیں صرف زبانی بیانات تک محدود نہیں بلکہ عملاً بھی وہ نتائج کی پروا کئے بغیر اقدامات اٹھاتے ہیں۔ امریکہ کے اندر وہ جس قدر چیزوں کو الٹ پلٹ کر سکتے تھے وہ کردیا اور اب بدقسمتی سے بیرونی دنیا کی طرف متوجہ ہوگئے ہیں۔ وہ امن کے نوبل پرائز کے متمنی تھے لیکن باہر متوجہ ہوتے ہی الٹ سمت جانکلے ۔ آغاز وینزویلا سے کیا اور اس کے صدر کو اغوا کرکے نیویارک لے آئے۔

پھر نئے محاذ کی تلاش میں لگ گئے تو اپنے آپ کو عقل کل سمجھنے والے ڈونلڈ ٹرمپ کو اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اپنے دام میں پھانس لیا۔ انہیں یہ پٹی پڑھائی کہ ایران لٹک رہا ہے اور ہمارے ایک حملے سے ہی ہماری جھولی میں آگرے گا چنانچہ وہ اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر ایسے عالم میں حملہ آور ہوئے کہ اسکے ساتھ ثالثی کرنے والے عمان کے وزیر کے مطابق مذاکرات کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہے تھے۔ عقل سے عاری سپر پاور کے اس سربراہ نے کچھ عرصہ قبل ایران میں ہونیوالے مظاہروں کے تناظر میں یہ خواب دیکھا تھا کہ وہ ایران کے رہبر اعلیٰ کو شہید کرلیں گے تو پورا ایران بغاوت کرکے سڑکوں پر نکل آئے گا لیکن یہ نہیں سوچا کہ ایرانی عوام کے ہاں رہبر اعلیٰ کا مقام کیا ہے اور صرف ایرانی عوام ہی نہیں بلکہ باہر کی دنیا میں بھی کروڑوں لوگ انہیں اپنا روحانی رہبر سمجھتے ہیں۔

چنانچہ اسرائیل اور امریکہ کی اس حماقت نے ایرانی عوام کو یکجان کردیا اور اس سے قبل جو چند ایک اختلافی آوازیں اٹھ رہی تھیں وہ بھی دب گئیں جبکہ ایران سے باہر بھی اس کی حمایت میں ہمدردی پیدا گئی۔چنانچہ امریکہ اور اسرائیل کا ایران میںرجیم چینج کاخواب پہلےہفتےمیں ہی چکنا چور ہوگیا۔ امریکیوں نے سوچا تھا کہ ایران کی فضائیہ نہ ہونےکے برابر ہے اور جب اسکی فضاوں پر قبضہ ہو جائے گا تو ایران کے پاس جھکنے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہوگا لیکن ایران کے میزائل اور ڈرونز کے غیرمعمولی ذخیرے کی طرف دھیان ہی نہ دیاجسے ایران نے پانچ ہفتے بھرپور طریقے سےاستعمال کیا اور ہنوز اس کے پاس میزائلوں اور ڈرونز کی کوئی کمی نہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ یہ احمقانہ بات کررہے ہیں کہ انہیں یہ توقع نہیں تھی کہ ایران پڑوسی عرب ممالک پر حملے کرے گا حالانکہ ایران نے پہلے سے خبردار کیا تھا کہ اگر اس پر حملہ کیا گیا تو وہ جواب میں خلیجی ممالک کو نشانہ بنائے گا۔ ایران اس کیلئے یہ دلیل پیش کررہا ہے کہ چونکہ امریکی ان خلیجی ممالک کے اڈوں میں موجود ہیں اس لئے اُس کے یہ حملے بھی امریکہ کے خلاف ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک غلط اندازہ آبنائے ہرمز سے بھی متعلق لگایا تھا ۔ ان کے ذہن میں شاید یہ بات نہیں تھی کہ ایرانی اس پر اپنا کنٹرول مضبوط کرکے خلیجی ممالک کا راستہ بند کر دیں گے ۔ آبنائے ہرمز کی ساخت ایسی ہے کہ وہ قدرتی طور پر ایران کے حق میں ہے اور سمندر کی تنگ پٹی کو بند کرنا ایران کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے ۔

چنانچہ آبنائے ہرمز کی بندش سے خلیجی ممالک میں جہاںخوراک کی قلت کا خطرہ پیدا ہوگیا وہاں دوسری طرف ترسیل بند ہونے کی وجہ سے پوری دنیا اور بالخصوص ایشیائی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں نہ صرف غیرمعمولی حد تک بڑھ گئیں بلکہ قلت کا خطرہ بھی پیدا ہوگیا۔یوں خلیجی ممالک اور ایشیائی و یورپی ممالک کا بھی دباو بڑھنے لگا کہ آبنائے ہر مز کو کھول دیا جائے ۔ دوسری طرف ڈونلڈ ٹرمپ کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کریں تو کیا کریں ؟۔ انہوں نے دنیا کے اہم ممالک سے اپیل کی کہ وہ آبنائے ہرمز کھلوانے میں مدد کیلئے اپنے جہاز بھیجیں لیکن کسی نے بھی انکی کال پر کان نہ دھرا۔چنانچہ وہ حواس باختہ ہو گئے اور چند روز کی مہلت دے کر دھمکی دی کی اگر اس دوران ایران نے آبنائے ہرمز کو نہ کھولا تو ان کی افواج ایران کے تیل اور پانی کے ذخائر کو نشانہ بنائیںگی۔ اس کے جواب میں ایران نے دھمکی دی کہ اگر امریکہ اور اسرائیل نے ایسا کیا تو وہ جواب میں خلیجی ممالک کے تیل اور پانی کے ذخائر کو نشانہ بنائے گا ۔ ظاہر ہے یہ صورتحال خطے کیلئے قیامت صغریٰ سے کم نہیں ہوگی چنانچہ مختلف ممالک اور بالخصوص پاکستان، ترکی اور مصر نے نئی اور بھرپور سفارتی کوششیں شروع کردیں۔

مرکزی کردار پاکستان کا رہا،فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ڈونلڈ ٹرمپ سے بات کی اور شاید اسی وجہ سے وہ ایران کے ذخائر پر حملوں میں چند روز کی تاخیر پر آمادہ ہوئے ۔ ترکی اور مصری وزرائے خارجہ کیساتھ وزیر اعظم میاں شہباز شریف اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھرپور سفارتکاری کی اور پاکستان مرکز نگاہ بن گیا ۔

پاکستان اس مرحلے پر دونوں فریقوں کی براہ راست بات چیت تو نہ کروا سکا لیکن امریکہ اور ایران نے اپنے اپنے مطالبات اور شرائط کی فہرست پاکستان کے حوالے کی ،جسکا دونوں ممالک کے ساتھ تبادلہ کیا گیا ۔تاہم دونوں ممالک کے جو مطالبات ہیں وہ دوسرے فریق کیلئے قابل قبول نہیں ہوسکتے لیکن سفارتی ماہرین کہتے ہیں کہ ابتدا میں اسی طرح فریقین آخری حد تک مطالبات کرتے ہیں اور بعد میں زمینی حقائق کی طرف آتے ہیں اور شاید اسی لئے مذاکرات پر زور دینے والے سہولت کاروں نے اپنی کوششوں کو ترک نہیں کیا ۔ البتہ ایران کا مسئلہ یہ ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای اور علی لاریجانی کی شہادت کی وجہ سے ایران میں بہت جذباتی فضا ہے ۔

یہ بھی کہا جارہا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب مذاکرات کے حق میں نہیں جبکہ آبنائے ہر مز اور خلیجی ممالک کی پریشانی سے ایران میں یہ سوچ بھی موجود ہے کہ وہ فاتح ہے اور اس نے امریکہ کو گھیر لیا ہے ۔ ان وجوہات کی بنا پر ایران مذاکرات سے کترا رہا ہے ۔ دوسری طرف امریکہ کا رویہ غیرسنجیدہ اور کسی حد تک منافقانہ ہے ۔ ڈونلڈ ٹرمپ ایک طرف مذاکرات کی بات کررہا ہے اور دوسری طرف مزید فوج کو خلیج میں بھیج رہا ہے ۔ اسی طرح اس کا رویہ نہایت غیرسنجیدہ ہے ۔ وہ کبھی کہتا ہے کہ ایرانی ڈیل کیلئے منتیں کررہے ہیں اور کبھی کہتا ہے کہ مجھے تحفہ بھیجا ہے ۔

فریقین کی ان پوزیشنوں کی وجہ سے بظاہر مذاکرات مشکل نظر آرہے ہیں ۔ ادھر اسرائیل کا مسئلہ ہے کہ جو نہ صرف جنگ کو شروع کرنے کا عامل بنا بلکہ اب بھی امن کے ہر عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ ان حالات میں پاکستان اپنے دوست ملکوں کے ساتھ مل کر کس طرح امریکہ اور ایران کو مذاکرات کی میز پر لاتا ہے ۔

ایران نے ’جنگ‘ کو نئے معنی دیدیئےسچ تو یہ ہے کہ جنگ سے جنگ بندی تک اور پھر ’’مذاکرات‘‘ کی میز تک ایرانی قیادت نے ’’جنگ‘‘...
16/04/2026

ایران نے ’جنگ‘ کو نئے معنی دیدیئے
سچ تو یہ ہے کہ جنگ سے جنگ بندی تک اور پھر ’’مذاکرات‘‘ کی میز تک ایرانی قیادت نے ’’جنگ‘‘ کو نئے معنی دے ڈالے کیونکہ یہ حملہ اس پر نہیں، اس کی تعلیم و تہذیب پرتھا، جسکی ابتدا ہی اسکول کی 170طالبات کی شہادت سے ہوئی اور امریکہ اور اسرائیل نے وہاں کی جامعات، کالجوں اور طلبہ و طالبات کو نشانہ بنایا، اس لحاظ سے یہ ایک منفرد لڑائی تھی اور پھر اس کا جواب بھی ویسا ہی آیا، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے پاور پلانٹ پر حملے کی دھمکی دی تو اسکی حفاظت کیلئے ایک فنکار نے اسی مقام پر کنسرٹ شروع کردیا۔ اسکے اہم پل پر حملے کی دھمکی دی تو لاکھوں لوگ اس کی حفاظت کیلئے وہاں پہنچ گئے اور پھر ’’بلی تھیلے سے باہر آ گئی‘‘ جب ٹرمپ نے ایران کی تہذیب کو تباہ و برباد کرنے کی دھمکی دی جو دراصل اعتراف تھا اس کی تعلیم اور تہذیب پر حملے کا۔

اس جنگ کی ابتدا ایک ایسے وقت ہوئی تھی جب ایران جوہری معاملے پر ’’مذاکرات‘‘ کررہا تھا اور دنیا کے میڈیا پر یہ خبریں چل رہی تھیں کہ ان میں خاصی پیش رفت ہوئی ہے۔ لہٰذا آج جب چھ ہفتے کی جنگ کے بعد کوئی یہ کہہ کر مذاکرات ختم کرے کہ ایران جوہری معاملے پر سمجھوتہ نہیں کررہا تو بات سمجھ سے بالاتر ہے۔

دراصل امریکہ کو ’’فیس سیونگ‘‘ نہیں مل رہی تھی اور سچ تو یہ ہے کہ زیادہ تر معاملے پر اتفاق رائے ہوگیا تھا اور جوہری معاملے پر بات کو وہیں سے شروع ہونا تھا جو جنگ سے پہلے ہوئی تھی، اسی لیے ایران نے امریکہ کو ’’غیر بھروسہ مند‘‘ قرار دیا اور جواب مانگا کہ اس پر اس وقت حملہ کیا گیا جب وہ سمجھوتے کے قریب تھا۔ یہ کہانی بھی جلد2003ء پر عراقی حملے کی وجوہات کی طرح کھل جائیگی۔ عراق پر یہ کہہ کر حملہ کیا گیا تھا کہ وہ مہلک ہتھیاربنا رہا ہے اور اسکے ایک سال بعد امریکہ کے تین بڑے اخبارات نے اعتراف کیا کہ انکو اس جنگ میں استعمال کیا گیا ’’ڈس انفارمیشن‘‘ پھیلانے کیلئے۔ دی ٹائمز نے تو معافی بھی مانگی اپنے ریڈرزسے۔ اس جنگ کے حوالے سےفیک نیوز اورڈس انفارمیشن اس لیے بھی زیادہ ہے کہ یہ سوشل میڈیا اور AI کا دور ہے۔ ہم تو خیر آزادی کے زمرے میں آتے ہی نہیں، مگر جس طرح غزہ کے معاملے پر مغربی میڈیا بے نقاب ہوا ہے۔

اسکی مثال جنگی تاریخ کی رپورٹنگ میں نہیں ملتی 9/11 سے لیکر عراق کی جنگ تک۔ البتہ جنگوں میں پہلی موت ہی سچ کی ہوتی ہے، پھر بھی ہزاروں صحافیوں کی ان جنگوں میں ہلاکتوں کی بڑی وجہ یہ ہوتی ہے کہ صحافی پھر بھی سچ کو تلاش کرتے ہیں اور وقت آنے پر یہ سچ سامنے آتا ہے، جیسا کہ عراق کے حوالے سے ’’مہلک ہتھیار‘‘ رکھنے کی خبر نہ صرف غلط ثابت ہوئی بلکہ کم از کم تیس امریکی اخبار اور رسائل نے اس کا اعتراف بھی کیا کہ انہوں نے اپنے عوام کو گمراہ کیا۔

اب آئیں موجودہ صورتحال پر۔ اس جنگ کا مختصر پس منظر یہ ہے کہ ایران پر امریکہ ، اسرائیل کا حملہ اس وقت ہوا جب ایران مذاکرات کی میز پر تھا اور وہاں سے اچھی خبریں آ رہی تھیں۔ یاد رہے کہ یہ بات چیت جوہری معاملے پر ہی تھی، جس کو آج بنیاد بناکر امریکی نائب صدر اور انکے ساتھی بنا معاہدہ واپس چلے گئے۔

حقیقت یہ ہے کہ ایران پر ایٹمی ہتھیار بنانے کا بین الاقوامی فورم پر الزام لگا ہی نہیں بلکہ امریکہ وہی کھیل کھیل رہا ہے جو عراق کے معاملے پر کھیلاتھا، بس فرق یہ ہے کہ ایران نے سرنڈرنہیں کیااور نہ ہی ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے کسی بنکر میں پناہ لی۔ 2003ء میں عراق پر حملے کے معاملے پر اسرائیلی لابی نے امریکہ کو یہ مشورہ دیا تھا کہ عراق کے بجائے ایران پر حملہ کرکے وہاں رجیم چینج لایا جائے۔ تاہم اس وقت امریکی عزائم کچھ اور تھے۔ ان تمام سازشوں کے پیچھے دراصل اسرائیل تھا۔ جو پہلے دن سے ایرانی انقلاب کو اپنے لیے خطرہ سمجھتا رہا ہے۔ لہٰذا ’’رجیم چینج‘‘ کا یہ خواب نیا نہیں، اب تو عراق کے معاملے پر بھی ٹرمپ اپنے من پسند کو صدر بنانا چاہتے ہیں۔

اسلام آباد مذاکرات اور بھارتاسلام آباد میں امریکا اور ایران کے مابین 21 گھنٹے طویل مذاکرات کا فی الحال کوئی نتیجہ نہیں...
16/04/2026

اسلام آباد مذاکرات اور بھارت
اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے مابین 21 گھنٹے طویل مذاکرات کا فی الحال کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ بھارتی میڈیا مذاکرات کا نتیجہ نہ نکلنے پر خوشی کے شادیانے بجا رہا ہے لیکن کچھ بھارتی صحافی ایسے بھی ہیں جو پاکستان کو ان مذاکرات کی میزبانی پر مبارکباد دے رہے ہیں۔

میرے سامنے دو بھارتی صحافیوں کی آپس میں گفتگو ہے ۔ اس گفتگو میں دونوں صحافی خواتین اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونیوالے تاریخی مذاکرات پر اپنی حکومت اور بھارتی میڈیا کے رویے پر سخت افسوس کا اظہار کرتی ہیں اور اپنے ہم وطنوں کو یہ سمجھانے کی کوشش کرتی ہیں کہ ان مذاکرات کی کامیابی کا دنیا میں سب کو فائدہ ہوگا جس میں بھارت بھی شامل ہے ۔ اسلام آباد میں پاکستان کی کوششوں سے امریکا اور ایران کے درمیان 1979 ء کے بعد ہونیوالے پہلے انتہائی اعلیٰ سطحی مذاکرات کا پوری دنیا میں چرچا رہا لیکن بھارت کے کئی ٹی وی چینلز پر ان مذاکرات کا صرف اس لئے مذاق اڑایا گیا کہ یہ مذاکرات پاکستان میں کیوں ہو رہے تھے۔

بھارتی میڈیا کے اس غیر ذمہ دارانہ اور غیر پیشہ وارانہ رویے پر’’دی وائر ‘‘ کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی نے ایک اور سینئر صحافی نیروپوما سبرامنین سے گفتگو کی۔ اس گفتگو کا لنک مجھے ماہنامہ ترجمان القرآن کے ایڈیٹر جناب سلیم منصور خالد نے بھیجا ۔ حیرت ہوئی کہ دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے سلیم منصور خالد بائیں بازو کی عارفہ خانم شیروانی کو اتنی اہمیت دیتے ہیں ۔ جب میں نے اس لنک میں نیروپوما کی تصویردیکھی تو اس انٹرویو کو سننا شروع کر دیا ۔ نیرو پوما کافی سال پہلے اسلام آباد میں ’دی ہندو‘ کے نامہ نگار کی حیثیت سے مقیم تھیں ۔

پاکستان کو بہت اچھی طرح سمجھتی ہیں اور گزشتہ سال بھی ایک کانفرنس میں شرکت کیلئے اسلام آباد آئی تھیں ۔ نیروپوما’دی ہندو‘ کے علاوہ انڈین ایکسپریس اور دیگر بھارتی اخبارات سے بھی وابستہ رہی ہیں اور آج کل ’دی ٹریبیون‘ میں کالم لکھتی ہیں ۔

اس گفتگو میں عارفہ نے نیروپوما سے پوچھا کہ ہم تو پاکستان کو دہشت گردی کا اسپانسر ثابت کرنے میں لگے رہتے ہیں اور پاکستان کو سفارتی طور پر تنہا کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اسلام آباد مذاکرات کے ذریعہ پاکستان پوری دنیا کی توجہ کا مرکز کیسے بن گیا اور امریکی نائب صدر جے ڈی ونیس ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف سے ملاقات کیلئے اسلام آباد کیسے پہنچ گئے ؟ نیرو پوما سبرامنین نے اس اہم سوال کا وہ جواب دیا جو پاکستانی میڈیا پر میں نے نہیں سنا لیکن یہی اصل حقیقت تھی ۔ نیرو پوما نے کہا کہ جے ڈی ونیس کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد بھیجا اور ٹرمپ کے پاکستان پر اس اعتماد کی وجہ بھارت کا آپریشن سیندور ہے ۔

اس بہادر خاتون صحافی نے کہا کہ گزشتہ سال بھارت نے پاکستان کیخلاف آپریشن سیندور کے نام پر جنگ شروع کی تو ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے سیز فائر کروایا تھا۔ پاکستان نے ٹرمپ کے اس دعوے کی تصدیق کردی لیکن بھارتی حکومت اس دعوے کی تردید کرتی رہی ۔ یہی وہ موقع تھا جب ٹرمپ اور پاکستان کی سیاسی و فوجی قیادت ایک دوسرے کے بہت قریب آگئے ۔ پھر پاکستان کی حکومت نے ٹرمپ کو نوبل امن انعام کیلئے نامزد کر کے اسکا دل جیت لیا اور یوں پاکستان چین کے ساتھ ساتھ امریکا کے بھی بہت قریب ہو گیا ۔ مئی 2025ء کی پاک بھارت جنگ کے بعد اسرائیل اور امریکا نے ایران پر حملہ کیا تو پاکستان نے اس جنگ کی مذمت کی ۔یوں پاکستان نے اپنے ہمسائے ایران کا دل بھی جیت لیا جبکہ بھارتی حکومت اسرائیل کے ساتھ دوستی کی پینگیں بڑھاتی رہی۔ 28 فروری 2026 ء کو اسرائیل اور امریکا نے ایک دفعہ پھر ایران پر حملہ کیا تو پاکستان نے یہ جنگ رکوانے کی کوشش شروع کردی ۔

نیرو پوما سبرامنین نے پاکستان کو یہ جنگ رکوانے اور پھر اسلام آباد میں امریکا و ایران کے مذاکرات کرانے پر مبارکباد دی تو عارفہ خانم شیروانی بھی حیران رہ گئیں ۔ میری ناقص رائے میں نیروپوما سبرامنین کی طرف سے اسلام آباد مذاکرات پر پاکستان کو دی جانیوالی مبارکباد بہت اہم ہے اور یہ مبارکباد بتاتی ہے کہ بھارت کا میڈیا پوری بھارتی قوم کی ترجمانی نہیں کرتا۔ جس طرح ہمیں پاکستانی میڈیا پر خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی کچھ مقبول آوازیں سنائی نہیں دیتیں اسی طرح بھارتی میڈیا پر بھی پاکستان کے ساتھ امن کی بات کرنے والوں کی آوازیں کم سنائی دیتی ہیں ۔ نیرو پوماسبرامنین نے بہادری اور فکری دیانت کا مظاہرہ کرتے ہوئے امن مذاکرات کرانے پر پاکستان کو مبارکباد دیکر اپنے لئے کئی خطرات مول لے لئے ۔

آر ایس ایس اور بی جے پی والے انہیں غدار کہیں گے ۔ پاکستان میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے ۔ ریاست کو پسند نہ آنے والاسچ بولنے والوں کو بھارتی ایجنٹ قرار دیدیا جاتا ہے۔ امریکا اور ایران میں مذاکرات کرانے پر مقبوضہ جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی نے بھی پاکستان کی تعریف کی ہے ۔ان دو کشمیری رہنماؤں کی طرف سے پاکستان کی تعریف نئی دہلی میں کچھ لوگوں کو اچھی نہیں لگی کیونکہ نئی دہلی میں ڈاکٹر جے شنکر جیسے چھوٹے ذہن کے لوگوں کو خدشہ ہے کہ اگر پاکستان کا سفارتی قد مزید بلند ہوتا گیا توبہت جلدپاکستان مسئلہ کشمیر کو بھی عالمی ایجنڈے کاحصہ بنادے گا۔ آنیوالے وقت میں اگر مشرقِ وسطیٰ میں مستقل امن کا کوئی راستہ نکل آئے تو ایک دن مسئلہ کشمیر کے حل کا راستہ بھی ضرور نکل سکتا ہے ۔ امریکا اور ایران میں تنازعے کا ایک اہم فریق اسرائیل ہے ۔

اسرائیل کے ساتھ پاکستان کے سفارتی تعلقات نہیں ہیں اس لئے ابتدا میں پاکستان کی سفارت کاری کا مقصد صرف امریکا اور ایران میں سیز فائر کرانا تھا ۔ بھارتی میڈیا نے پاکستان کو امریکا کا پوسٹ مین اور وزیر خارجہ جے شنکر نے پاکستان کو دلال قرار دیکر اپنی حسرتوں پر خوب آنسو بہائے لیکن پاکستان چند دنوں کے اندر اندر سہولت کار سے ثالث بن گیا ۔ اسلام آباد مذاکرات کا کوئی نتیجہ سامنے نہیں آ سکا امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے مذاکرات کا اہتمام کرنے پر پاکستان کی دل کھول کر تعریف کی- انہوں نے اتوار کو واپسی سے قبل کہا کہ ہم کسی ڈیل کے بغیر واپس جا رہے ہیں۔

ایران کا کہنا ہے کہ امریکا نے مذاکرات میں لچک نہیں دکھائی۔ بہرحال 21 گھنٹے ایک دوسرے کی بات سنی گئی اور یہ پاکستان کی بہت بڑی کامیابی ہے۔ پاکستان کی کوشش ہوگی کہ فریقین کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر بٹھایا جائے ۔ افسوس کہ 21 گھنٹے کے مذاکرات میں کوئی معاہدہ نہ ہو سکا لیکن اس قسم کے مذاکرات تو 21 دن یا 21 ہفتے میں بھی نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوتے۔ یہ مذاکرات کئی کئی ہفتے اور کئی مہینے جاری رہتے ہیں اور جب کسی معاہدے پر دستخط ہو جاتے ہیں تو پھر اس معاہدے پر عمل درآمد میں بھی بڑی مشکلات درپیش ہوتی ہیں۔

میرے پاس موجود اعداد وشمار کے مطابق 1990 ء کے بعد سے اب تک دنیا کے مختلف ممالک نے اپنے باہمی تنازعات کے حل کیلئے 2146 معاہدے کئے ان میں سے آج تک صرف چھ فیصد معاہدوں پر عمل درآمد ہوا ہے ۔ پاکستان نے 2020 ء میں امریکا اور افغان طالبان میں دوحہ معاہدہ کرایا جس پر ابھی تک عمل درآمد نہیں ہو سکا۔ امریکا اور ایران کو چاہئے کہ دو ہفتے کے سیز فائر میں توسیع کریں ۔ لبنان کو بھی سیز فائر میں شامل کریں اور کہیں نہ کہیں بات چیت جاری رکھیں۔

یہ بات چیت اور اسکی کامیابی ایران سے زیادہ امریکا کی ضرورت ہے جو سپر پاور ہونے کے باوجود سفارتی و سیاسی تنہائی کا شکار ہے۔ امریکی رائے عامہ بھی ایران کیساتھ امن چاہتی ہے ۔ پاکستان نے سیز فائر کو ایک امن معاہدے میں تبدیل کرنے کیلئے جو بھرپور کوشش کی اسکی تعریف بھارت میں بھی کی جا رہی ہے ۔ پاکستان کو اپنی کوشش جاری رکھنی چاہئے اور مشرق وسطیٰ میں قیام امن کیلئے مزید اسٹیک ہولڈرز کو اس کوشش میں شامل کرنا چاہئے۔ آج نہیں تو کل امریکا اور ایران کو ایک امن معاہدہ تو کرنا ہی پڑے گا۔

پاکستانعمران خان کی بہنیں سیاسی معاملات کو نہیں سمجھتیں، علیمہ خان کی باتوں سے شدید اختلاف ہے: سلمان راجہ\پاکستان تحریک ...
16/04/2026

پاکستانعمران خان کی بہنیں سیاسی معاملات کو نہیں سمجھتیں، علیمہ خان کی باتوں سے شدید اختلاف ہے: سلمان راجہ\
پاکستان تحریک انصاف کے جنرل سیکرٹری سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اور دیگر بہنیں سیاسی معاملات کو نہیں سمجھتیں۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں سلمان اکرم راجہ کا کہناتھاکہ بانی پی ٹی آئی کے بہنیں میرے پاس آئی تھیں اور کہا کہ آپ ہمارے ساتھ کام کریں۔

انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے عہدے کی ذمہ داری مجھ پر ڈالی ہے، میری جب بانی پی ٹی آئی سے میٹنگ ہوگی تو میں استعفیٰ دے دوں گا اور میں خواہش کروں گا کہ بانی پی ٹی آئی میری بات مانیں۔

سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھاکہ علیمہ خان اور بہنیں سیاسی معاملات کو نہیں سمجھتیں، سیاست کو تجربہ کار لوگ سمجھتے ہیں، وہ لوگ جن کے کئی سال پرمحیط سیاسی تجربے ہیں، علیمہ خان اور مجھ میں دوریاں نہیں، یہ وقتی ری ایکشن یا ردعمل ہے، علیمہ خان نے 10 ہزار لوگ بلائے شاید وہ نہیں آئے اس لیے انہیں کچھ ہوا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ علیمہ خان نے جو باتیں کیں اُن سے شدید اختلاف ہے، عہدہ چھوڑنے کو تیار ہوں مگر بانی پی ٹی آئی نے اس عہدے پر بٹھایا، یہ نہیں ہوسکتا کہ سیاسی فیصلے سیاسی شخصیات نہ کریں، سیاسی کمیٹی کا فیصلہ درست اور پنڈی جلسہ منسوخ کرنا اچھا عمل تھا، ہم نے پاکستان کی خاطر فیصلے کیے، کسی کا دباؤ برداشت نہیں کریں گے۔

انہوں نے کہاکہ علامہ ناصرعباس اور محمود اچکزئی کو جان بوجھ کر خائف کیا گیا، ہم نے علامہ ناصرعباس اور محمود اچکزئی کو ساتھ لے کرچلنا ہے۔

پی ایس ایل: پشاور زلمی نے کوئٹہ کو شکست دیدی، 6 کامیابیوں کیساتھ ٹیبل پر پہلی پوزیشن برقرارکراچی: پاکستان سپر لیگ(پی ایس...
16/04/2026

پی ایس ایل: پشاور زلمی نے کوئٹہ کو شکست دیدی، 6 کامیابیوں کیساتھ ٹیبل پر پہلی پوزیشن برقرار
کراچی: پاکستان سپر لیگ(پی ایس ایل) 11 میں پشاور زلمی نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو با آسانی 8 وکٹوں سے شکست دے کر ایونٹ میں چھٹی فتح حاصل کرلی۔

کراچی میں کھیلے گئے میچ میں پشاور زلمی نے ٹاس جیت کر کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی پوری ٹیم 20 اوورز میں 154 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی۔حسن نواز 37 اور رائلی روسو 26 رنز بناکر نمایاں رہے۔اس کے علاوہ خواجہ نافع نے 20 اور کپتان سعود شکیل نے 16 رنز بنائے۔

پشاور زلمی کی جانب سے سفیان مقیم اور محمد باسط نے 3،3 وکٹیں حاصل کیں۔

جواب میں پشاور زلمی نے بابر اعظم کی شاندار اننگز کی بدولت 155 رنز کا ہدف با آسانی 9 گیندوں قبل ہی پورا کرلیا۔

بابر اعظم 71 رنز بناکر ناقابل شکست رہے۔ محمد حارث نے 35، کوشل مینڈس نے 21 اورایرون ہارڈی نے 18 رنز بنائے۔

آئی ایم ایف کی پاکستانی اصلاحات اور معاشی استحکام کی تعریفعالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا...
16/04/2026

آئی ایم ایف کی پاکستانی اصلاحات اور معاشی استحکام کی تعریف
عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے پاکستان کی اصلاحات اور معاشی استحکام کی تعریف کی ہے۔

آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے بہار اجلاس 2026 کے موقع پر وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب سے ملاقات کے دوران پاکستان کی معاشی اصلاحات میں پیش رفت کو سراہا۔

سوشل میڈیا پر جاری بیان میں آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے اصلاحاتی پروگرام پر مؤثر عملدرآمد کے باعث معاشی استحکام برقرار رکھنے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مضبوط معاشی پالیسیوں کے ساتھ ساتھ گہری ساختی اصلاحات کا تسلسل معاشی ترقی کو برقرار رکھنے اور عوامی فلاح و بہبود بہتر بنانے کے لیے اہم ہوگا۔

امریکا ایران مذاکرات آگے بڑھانے، خطے میں پائیدار امن و استحکام کیلئےکوششیں جاری رکھیں گے: وزیراعظموزیراعظم شہباز شریف نے...
16/04/2026

امریکا ایران مذاکرات آگے بڑھانے، خطے میں پائیدار امن و استحکام کیلئےکوششیں جاری رکھیں گے: وزیراعظم
وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا کہ پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کو آگے بڑھانے اور خطے میں پائیدار امن اور استحکام کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

وزیراعظم نے سعودی ولی عہد سے جدہ میں طویل ملاقات کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری پیغام میں کہا کہ انہوں نے سعودی ولی عہد سے ملاقات کی جس میں باہمی دلچسپی کے امور اور خطے کی صورتحال پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔

وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کیا اور مشکل حالات میں سعودی قیادت کی دانشمندانہ حکمت عملی، صبر و تحمل کو سراہا۔

وزیراعظم نے بتایا ملاقات کے دوران سعودی ولی عہد کو پاکستان کی جانب سے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں کردار اور اسلام آباد میں ہونے والے تاریخی امن مذاکرات سے متعلق حالیہ پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا۔

شہباز شریف نے اس عزم کا بھی اعادہ کیاکہ پاکستان، امریکا اور ایران کے درمیان پائیدار امن معاہدے کیلئے اپنی کاوشیں جاری رکھےگا تاکہ خطے میں دیرپا امن یقینی بنایا جا سکے۔

وزیراعظم نے سعودی ولی عہد کی جانب سے پاکستان کی امن کوششوں کی حمایت پر اظہار تشکر کیا۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران پہنچ گئےپاکستان کے آرمی چیف کی قیادت میں اعلیٰ سطح کا وفد تہران میں ایرانی حکومت کے اعلیٰ تری...
16/04/2026

فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران پہنچ گئے
پاکستان کے آرمی چیف کی قیادت میں اعلیٰ سطح کا وفد تہران میں ایرانی حکومت کے اعلیٰ ترین حکام سے ملاقات کرے گا
فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران پہنچ گئے، پاکستان کے آرمی چیف کی قیادت میں اعلیٰ سطح کا وفد تہران میں ایرانی حکومت کے اعلیٰ ترین حکام سے ملاقات کرے گا۔ تفصیلات کے مطابق امریکا ایران جنگ کے خاتمے کیلئے مذاکرات کو کامیاب کروانے کے سلسلےمیں پاکستان کی کوششوں میں مزید تیزی آ گئی ہے۔ اس سلسلے میں فیلڈ مارشل عاصم منیر بدھ کے روز تہران پہنچ گئے۔


الجزیرہ ٹی وی کے مطابق پاکستان سے آنے والا طیارہ تہران پہنچ گیا جس میں فیلڈ مارشل عاصم منیر وفد کے ہمراہ موجود ہیں۔ پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں اعلیٰ سطح کا وفد ایرانی حکومت کے اعلیٰ ترین حکام سے ملاقات کرے گا جس میں مذاکرات کے دوسرے دور کی تیاری کے بارے میں تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

بتایا گیا ہے کہ وزیر داخلہ محسن نقوی بھی فیلڈ مارشل کے ہمراہ تہران پہنچے ہیں۔ دوسری جانب خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی مذاکرات کا دوسرا دور آئندہ چند دنوں میں پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ہونے کا امکان ہے۔ اس حوالے سے گزشتہ روس امریکی صدر کا بھی اہم بیان سامنے آیاتھا۔ انہوں نے ایران مذاکرات سے متعلق نیویارک پوسٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایران سے بات چیت کیلئے ہمارے وفد کا پاکستان جانے کا امکان ہے، ایران سے مذاکرات کا اگلا دورآئندہ 2 روز میں پاکستان میں ہوسکتا ہے۔
پاکستان میں مذاکرات کا اگلا دور ہونے کی وجہ یہ ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر بہت اچھا کام کررہے ہیں، فیلڈ مارشل عاصم منیر زبردست ہیں اس لئے امکان ہے کہ ہم دوبارہ پاکستان جائیں۔ ہم ایسے ملک میں کیوں جائیں جس کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں، پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر بہت اچھا کام کررہے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے صحافی کو مشورہ دیا کہ آپ کو وہاں رہنا چاہیئے اگلے دو دنوں میں کچھ ہوسکتا ہے، ٹرمپ نے کہا کہ مذاکرات کیلئے پاکستان جانے کا امکان زیادہ ہے ، پتا ہے کیوں؟ کیونکہ پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر بہت اچھا کام کررہے ہیں۔

آج کا اقوال زریںصوفی وہ ہے جس کے ایک ہاتھ میں قرآن مجید دوسرے ہاتھ میں سنت رسول ﷺ۔(حضرت داتا گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ)
16/04/2026

آج کا اقوال زریں
صوفی وہ ہے جس کے ایک ہاتھ میں قرآن مجید دوسرے ہاتھ میں سنت رسول ﷺ۔(حضرت داتا گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ)

آج کی حدیث مبارک´یحییٰ بن یزید ہنائی کہتے ہیں کہ` میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نماز قصر کرنے کے متعلق پوچھا تو آپ ...
16/04/2026

آج کی حدیث مبارک
´یحییٰ بن یزید ہنائی کہتے ہیں کہ` میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نماز قصر کرنے کے متعلق پوچھا تو آپ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تین میل یا تین فرسخ (یہ شک شعبہ کو ہوا ہے) کی مسافت پر نکلتے تو دو رکعت پڑھتے ۱؎۔(سنن ابی داؤد۔باب نمبر4۔حدیث نمبر1201)

Address

Islamabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Kal Tak NEws bulletin posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share