Malik Muhammad Ramzan

Malik Muhammad Ramzan Sad poetry 💔

19/10/2025
🤎*زمین پر انسان بننا۔۔۔۔ایک انتہائی خاص کام ہے۔۔۔۔۔*
18/10/2025

🤎

*زمین پر انسان بننا۔۔۔۔ایک انتہائی خاص کام ہے۔۔۔۔۔*

وہ دلاور جو سیہ شب کے شکاری نکلےوہ بھی چڑھتے ہوئے سورج کے پجاری نکلےسب کے ہونٹوں پہ مرے بعد ہیں باتیں میریمیرے دشمن مرے ...
02/10/2025

وہ دلاور جو سیہ شب کے شکاری نکلے
وہ بھی چڑھتے ہوئے سورج کے پجاری نکلے

سب کے ہونٹوں پہ مرے بعد ہیں باتیں میری
میرے دشمن مرے لفظوں کے بھکاری نکلے

اک جنازہ اٹھا مقتل میں عجب شان کے ساتھ
جیسے سج کر کسی فاتح کی سواری نکلے

ہم کو ہر دور کی گردش نے سلامی دی ہے
ہم وہ پتھر ہیں جو ہر دور میں بھاری نکلے

عکس کوئی ہو خد و خال تمہارے دیکھوں
بزم کوئی ہو مگر بات تمہاری نکلے

اپنے دشمن سے میں بے وجہ خفا تھا محسنؔ
میرے قاتل تو مرے اپنے حواری نکلے

✍ محسن نقوی

شاعر : راکب مختارلگتا ہے اپنے عہد و بیاں سے مکر گئےاے شہر وہ دلوں کے جواری کدھر گئےمحسوس کر کے سوچا مجھے ایک شخص نےمیرے ...
28/09/2025

شاعر : راکب مختار

لگتا ہے اپنے عہد و بیاں سے مکر گئے
اے شہر وہ دلوں کے جواری کدھر گئے

محسوس کر کے سوچا مجھے ایک شخص نے
میرے دل و دماغ چراغوں سے بھر گئے

پھولوں نے تیرے جُوڑے میں آ کر پناہ لی
گجرے کلائیوں کی نفاست پہ مر گئے

کوئی وفا شعار نہ بُھولے گا عمر بھر
آنکھوں کے ساتھ راہ میں ہم دل بھی دھر گئے

وہ کچے گھر میں آج بھی رہتی ہے مطمئن
شہزادے جس کی چاہ میں جاں سے گزر گئے

پہلے بھی کوئی کم تو نہ تھے شہر میں شریف
افسوس کا مقام ہے تم بھی سُدھر گئے؟

کم ظرف لوگ آئے تھے جاگیرِ قیس میں
واپس پلٹ کے دشت کی توہین کر گئے

اتنا لُٹے ہیں مہر و مروت کی آڑ میں
ہم سے کسی نے ہاتھ ملایا تو ڈر گئے

کرتا اُسے بے قرار کچھ دیرہوتا اَگر اختیار کچھ دیرکیا روئیں فریبِ آسماں کواپنا نہیں اعتبار کچھ دیرآنکھوں میں کٹی پہاڑ سی ...
16/09/2025

کرتا اُسے بے قرار کچھ دیر
ہوتا اَگر اختیار کچھ دیر

کیا روئیں فریبِ آسماں کو
اپنا نہیں اعتبار کچھ دیر

آنکھوں میں کٹی پہاڑ سی رات
سو جا، دلِ بے قرار کچھ دیر

اے شہرِ طرب کو جانے والو
کرنا مِرا انتظار کچھ دیر

بے کیفیٔ روز و شب مسلسل
سر مستیٔ انتظار کچھ دیر

تکلیفِ غمِ فراق دائم
تقریبِ وصالِ یار کچھ دیر

یہ غُنچہ و گُل ہیں سب مُسافِر
ہے قافلۂ بہار کچھ دیر

دُنیا تو سدا رہے گی ناصرؔ
ہم لوگ ہیں یادگار کچھ دیر

شاعر : ناصرؔ کاظمی
مجموعۂ کلام : ( برگِ نَے)

‏محسن نقوی کی غزل بھڑکائیں میری پیاس کو اکثر تیری آنکھیںصحرا  مرا  چہرہ  ہے،  سمندر  تیری آنکھیںپھر  کون  بھلا  داد  تبس...
14/09/2025

‏محسن نقوی کی غزل

بھڑکائیں میری پیاس کو اکثر تیری آنکھیں
صحرا مرا چہرہ ہے، سمندر تیری آنکھیں

پھر کون بھلا داد تبسم انہیں دے گا
روئیں گی بہت مجھ سے بچھڑ کر تیری آنکھیں

بوجھل نظر آتی ہیں بظاہر مجھے لیکن
کھلتی ہیں بہت دل میں اتر کر تیری آنکھیں

اب تک میری یادوں سے مٹائے نہیں مٹتا
بھیگی ہوئی اک شام کا منظر تیری آنکھیں

ممکن ہو تو اک تازہ غزل اور بھی کہہ لوں
پھر اوڑھ نہ لیں خواب کی چادر تیری آنکھیں🌹

سنا ہے ہجر بھا گیا ہے تم کوسنا ہے خوبصورت ہو گئے ہو✨🤍❣️...
08/09/2025

سنا ہے ہجر بھا گیا ہے تم کو
سنا ہے خوبصورت ہو گئے ہو✨🤍

❣️...

08/09/2025

I got over 50 reactions on my posts last week! Thanks everyone for your support! 🎉

ALHAMDULILLAH...
04/09/2025

ALHAMDULILLAH...

‏سمجھ گیا ہوں کوئی نہیں سمجھے گا مجھے سو زمانے سے میں نے گفتگو مختصر کر لی
04/09/2025

‏سمجھ گیا ہوں کوئی نہیں سمجھے گا مجھے
سو زمانے سے میں نے گفتگو مختصر کر لی

Address

Islamabad

Telephone

+923438497937

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Malik Muhammad Ramzan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share