22/06/2026
یادوں کی ریڑھیاں
گوجر کوٹلہ گاؤں کے بورڈ پر نظر پڑتے ہی اچانک ماضی کے دریچے کھل گئے۔ ذہن برسوں پیچھے اس زمانے میں جا پہنچا جب میں گورنمنٹ پرائمری سکول منگلیہ کا طالب علم تھا۔ منگلیہ، ضلع گجرات کا وہ قدیم گاؤں ہے جس کے بارے میں مقامی روایت ہے کہ اسے کشمیر کی جانب جاتے ہوئے منگولوں یا مغلوں نے آباد کیا تھا۔
میں خود کو غیر معمولی ذہین طالب علم تو نہیں کہہ سکتا، البتہ سکول کا کام ہمیشہ باقاعدگی سے کرتا تھا اور امتحانات میں بھی اچھے نمبر حاصل کر لیتا تھا۔ جہاں تک یاد پڑتا ہے، سبق یاد نہ کرنے کی وجہ سے شاید کبھی مار نہیں کھائی، لیکن ہمارے استاد محترم ماسٹر ولایت صاحب کی سوٹی سے بچنا کسی کے بس میں نہ تھا۔
ماسٹر ولایت صاحب کا تعلق گوجر کوٹلہ سے تھا۔ ان کے ہاتھ میں شہتوت کی باریک مگر مضبوط سوٹی ہر وقت موجود رہتی۔ وہ جب کلاس میں یا ٹاٹ پر بیٹھے بچوں کے درمیان سے گزرتے تو طلبہ فوراً اپنی پشت سیدھی کر لیتے کہ شاید اس بار سوٹی ذرا ہلکی پڑ جائے۔ لیکن اکثر ایسا نہ ہوتا۔ سوٹی کا وار ایسا ہوتا کہ اس کا نشان کم از کم دو دن تک یاد دلاتا رہتا کہ استاد ابھی قریب ہی ہیں۔ مجھے بھی کبھی شرارت اور کبھی ماسٹر ولایت صاحب کے پاس سے گذرنے کی وجہ سے اس سوٹی کا سامنا کرنا پڑتا۔ آج سوچتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ وہ سختی بھی دراصل ہمارے بچپن کا ایک لازمی حصہ تھی، جو اب ایک میٹھی یاد بن چکی ہے۔
اس دور کی خوشیاں بھی کتنی سادہ اور خالص ہوا کرتی تھیں۔ دوستیاں مفاد سے پاک اور رشتوں جیسی مضبوط تھیں۔ کلاس فیلوز کے گھروں میں یوں آنا جانا ہوتا جیسے اپنا ہی گھر ہو۔ غربت تھی، سہولتیں کم تھیں، مگر دلوں میں وسعت بہت تھی۔ دوستوں کی مائیں اور دادیاں دن بھر کھیلنے والے بچوں کو، چاہے وہ اپنے ہوں یا کسی اور کے، محبت سے اچار کے ساتھ روٹی کھلانے پر اصرار کرتی تھیں۔
میرے بچپن کے دوستوں میں ریحان، ثاقب، عرفان، ملک مصطفیٰ، افراہیم، قیصر اور میرا ہر وقت کا ساتھی، چچا زاد بھائی ہارون شامل تھے۔ آج وقت کی تیز رفتاری نے سب کو اپنی اپنی منزلوں میں مصروف کر دیا ہے۔ کبھی کبھار صرف سلام دعا ہو جاتی ہے، مگر ایک وقت تھا جب سکول سے واپسی پر بستہ گھر میں رکھ کر فوراً دوستوں کی تلاش شروع ہو جاتی۔ کبھی ریحان کے گھر، کبھی ثاقب کے، کبھی ملک مصطفیٰ کے، جبکہ زیادہ تر وقت عرفان، قیصر اور ہارون کے ساتھ کھیل کود میں گزرتا۔ شام کی اذان ہمارے لیے گھر واپسی کا اعلان ہوا کرتی تھی۔
اس زمانے میں نہ موبائل فون تھے، نہ انٹرنیٹ، نہ سوشل میڈیا اور نہ ہی جدید تفریحات۔ ہماری دنیا دوستوں کی رفاقت، کھیلوں، شرارتوں اور بے فکری کے چند گھنٹوں پر مشتمل تھی۔ آج جب زندگی کی پیچیدگیوں میں گھرا ہوا انسان ان دنوں کو یاد کرتا ہے تو محسوس ہوتا ہے کہ حقیقی خوشی شاید انہی چھوٹی چھوٹی باتوں میں پوشیدہ تھی۔
مجھے آج بھی اپنے گاؤں کے بیچوں بیچ واقع پرائمری سکول کے قریب شاملات کی وہ جگہ یاد ہے جسے مقامی زبان میں "ریڑھیاں" کہا جاتا تھا۔ عصر کے وقت وہاں ایک الگ ہی رونق ہوا کرتی تھی۔ پورا گاؤں گویا ایک میدان میں سمٹ آتا۔ بچے کھیلوں میں مگن ہوتے، بڑے بیٹھے ان کی شرارتیں دیکھ کر لطف اندوز ہوتے، ہر طرف زندگی کی چہل پہل محسوس ہوتی۔
بچوں کی بھاگ دوڑ، قہقہوں اور شور کی آوازیں، بڑوں کی گفتگو، سائیکلوں اور پیدل چلنے والوں کی آمد و رفت، سکول کے دروازے کے سامنے واقع خانقاہ، اور اس کے قریب موجود کنواں، جس کے ساتھ ایک گھنا اور سایہ دار درخت اپنی ٹھنڈی چھاؤں بکھیرے کھڑا رہتا تھا، یہ سب مل کر ایک ایسا منظر تخلیق کرتے تھے جو آج بھی یادوں کے کینوس پر پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہے۔
مگر وقت ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا۔ گاؤں کی کچی گلیاں پختہ گلیوں و سڑکوں میں بدل گئیں، کنواں بند ہو گیا، ریڑھیاں گندہ پانی جمع ہونے سے چھپڑ بن گیا اور بچوں نے وہاں کھیلنا چھوڑ دیا۔ زندگی کی رفتار پہلے سے کہیں زیادہ تیز ہو گئی اور انسان مشینوں کے درمیان کہیں کھو سا گیا۔
شاید یہی زندگی کا دستور ہے۔ وقت آگے بڑھ جاتا ہے، منظر بدل جاتے ہیں، لوگ بچھڑ جاتے ہیں اور مقامات اپنی شکل تبدیل کر لیتے ہیں، مگر کچھ یادیں ایسی ہوتی ہیں جو دل کے کسی گوشے میں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔ گوجر کوٹلہ کے اس بورڈ نے مجھے ایک بار پھر انہی یادوں کی گلیوں میں پہنچا دیا، جہاں آج بھی بچپن اپنی پوری معصومیت کے ساتھ میرا انتظار کر رہا ہے۔
تحریر: فیصل مرزا