Zarb e Momin - ضرب مومن

Zarb e Momin - ضرب مومن Dedicated to those who fought with Character, Knowledge, Pen and Sword with the true identity of a Momin. In this Mission, Muhammad Ali Jinnah (R.A.)

To enlighten the community of Muslim Ummah with the knowledge I have; to revive the glory we lost centuries ago. and Allama Muhammad Iqbal (R.A.) will stay as a continuous source of inspiration.

06/11/2022

سلطان محمد فاتح کو قسطنطنیہ کے محاصرے کے وقت ہر طرف سے شکست ہو رہی تھی، اوپن گراؤنڈ، مسلسل شہادتوں اور محاصرہ طویل ہونے کی وجہ لشکر کے دل بھی پژمردہ ہو چکے تھے اور وہ واپس جانا چاہتے تھے، حتیٰ کہ ان کا وزیر اعظم بھی غدار تھا۔ لیکن سلطان محمد فاتح نے ہمت نہیں ہاری، سپاہیوں کو جنگ پر مائل رکھا حکمت عملی تبدیل کرتے رہے، اس جنگ میں سلطان محمد فاتح خود زخمی ہو چکے تھے لیکن جنگ جاری رکھی۔

سلطان محمد فاتح کے کچھ کے قریب ترین وفادار افراد جوان تھے، ویسے جیسے آج عمران خان کے سپاہی مراد سعید اور آپ جیسے ہیں۔ پھر تاریخ نے دیکھا کہ وہ قلعہ جو ایک ہزار سال سے زائد کی تاریخ رکھتا تھا وہ ایک نوجوان نے فتح کیا۔

تاریخ میں آج ترک قوم کا کہیں ذکر نہیں، اس لشکر کا ہے جو سلطان محمد فاتح کے ساتھ تھا۔ مستقبل میں بھی جب تاریخ لکھی جائے گی تو اس لشکر کا ذکر ہو گا جو عمران خان کے ساتھ گیا اور لوگ ان کے لیے دعائیں کریں گے کیونکہ یہ جنگ ظالم بادشاہ کے خلاف ہے۔

23/04/2022

مداخلت یکطرفہ اور سازش دو طرفہ ہوتی ہے۔

امریکی خط مداخلت، جبکہ خط سے پہلے اور بعد کی سہولت کاری سازش ہے۔ اس لیے سہولت کاروں کے کسی بھی بیانیے کو قبول کرنے سے قبل پہلے اور بعد کے منظرنامے کو سامنے رکھیں۔

یہ کھلم کھلا سازش ہے، سازش میں سہولت کاری بھی غداری ہے۔

22/04/2022

گزشتہ سے پیوستہ

خان صاحب کا شروع سے مؤقف رہا ہے کہ سازش ہے۔ جبکہ حکومت و اسٹبلشمنٹ کا ایک ہی مؤقف ہے کہ سازش نہیں مداخلت ہے۔ اس کو کلیئر کر لیتے ہیں۔

𝟭. مداخلت تب ہوتی اگر امریکہ صرف اپنی ایماء پر خط لکھتا کر حکم دیتا۔ اور یہی اس گروہ کی توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔

𝟮. سازش تب ہوتی، اگر یہاں کے کرتا دھرتا امریکہ سے ساز باز کرتے، اور پھر امریکہ خط لکھتا۔ اور خان صاحب کے لفظ سازش پر زور دینے کا مقصد ہی یہی ہے کہ ساز باز پہلے یہاں سے ہوئی۔

𝟯. خط کوڈڈ تھا، اسے ڈی کوڈ کرنا تھا آئی ایس آئی نے۔ یعنی جنرل باجوہ کو براہ راست شامل کیا گیا۔

𝟰. خط سفیر کو دیا گیا، ساتھ دھمکی بھی دی گئی، چونکہ خط کوڈڈ تھا تو وہ انٹیلی جنس کے حوالے کر دیا گیا۔ اور ممکنہ طور پر خفیہ طور پر نقل حکومت کو بھی پہنچائی۔

𝟱. خط لکھا گیا غالباً گزشتہ سال اکتوبر نومبر میں، ٹھیک اسی وقت جب جنرل فیض حمید کو ٹرانسفر کیا گیا۔ اور ان کی ٹرانسفر کی غالباً یہی وجہ تھی کہ خط لیک ہو کر حکومت تک چلا گیا۔

𝟲. کوڈڈ خط، ڈی کوڈ آئی ایس آئی نے کرنا تھا۔ ڈی کوڈ کر کے اتنے ماہ چپ بیٹھے رہے۔ کوئی ڈیمارچ نہیں کیا۔

𝟕. خان صاحب نے مکمل انتظار کے بعد، جب انہیں نظر آ گیا کہ اب کوئی راہ نہیں بچی، بالآخر خط کے متعلق عوام کو بتا دیا۔

𝟴. پھر اسٹبلشمنٹ حرکت میں آتی ہے، ان کے سفیر کو بلا کر ڈیمارچ کرتی ہے کہ بھائی صاحب سخت زبان کیوں استعمال کی۔

𝟵. اب اگر خان صاحب لفظ سازش پر زور دے رہے ہیں تو ظاہر ہے ان کے پاس اس دوطرفہ کمیونیکیشن کے بھی ثبوت ہیں۔ لیکن صرف ایک چیز انہیں روک رہی ہے، وطن کی سالمیت، فوج کی ساکھ۔ کہ اگر یہ نہ رہی تو پاکستان کو یہ مزید ایک اور جنگ میں دھکیل دیں گے۔

𝟭𝟬. اب اس گروہ کا متفقہ مؤقف اور کوشش ہے کہ عوام کی توجہ سازش سے ہٹا کر مداخلت پر لائی جائے کیونکہ سازش کا مطلب واضح غداری ہے۔ جبکہ مداخلت پر ڈیمارچ کر کے معاملہ کھو کھاتے ڈالا جا سکتا ہے۔ یہ غداری عمران خان کی حکومت کے خلاف بالکل نہیں تھی، یہ اس حلف سے غداری تھی کہ ہم پاکستان کی سالمیت کا تحفظ کریں گے۔ اور آرٹیکل 6 پارلیمنٹ کو یہ حق دیتا ہے کہ غداروں کی سزا کا تعین کرے۔

خان صاحب پہلے ہی بتا چکے ہیں کہ ان کیمرہ اجلاس اور پبلک کیے بغیر وہ سلامتی کمیٹی کی کسی کارروائی کو نہیں مانیں گے، تا کہ عوام کو پتہ چلے۔ اس لیے ہم بھی نہیں مانتے کیونکہ یہ واقعی سازش تھی، اگر چیف ملوث نہیں بھی ہے تب بھی اسے معلوم تھا، اور اگر براہ راست ملوث ہے تو اس ادارے کی ساکھ کوئی اور کیا تباہ کرے گا۔

لو آئی جے ویگو!

22/04/2022

خان صاحب شروع سے اینٹی اسٹبلشمنٹ رہے ہیں، جمہور پر یقین رکھتے ہیں۔ اسٹبلشمنٹ کو بندہ بھی نسبتاً کلین چاہیے تھا، اور اتنا طاقتور بھی نہیں چاہیے تھا کہ ان کے خلاف کھڑا ہو جائے۔

نواز شریف کی بیرون ملک روانگی سے، بے لاگ احتساب کے مطالبے سے ہی عمران خان اور اسٹبلشمنٹ میں اختلاف پیدا ہونے شروع ہو گئے تھے۔ پیزے والے باجوے کا کیس سامنے آنے کے بعد یہ مزید بڑھے اور جنرل فیض حمید کو عہدے سے ہٹانے پر یہ اختلاف شدید تر ہو گئے۔

مجھے یہی لگتا ہے کہ اس خط کے پس پردہ میمو گیٹ جیسی ہی سازش کی بنیاد رکھی گئی ورنہ جب عام پاکستانی کا خون کھول سکتا ہے تو ایک آرمی چیف کا کیوں نہیں کھولا؟ شائد اسے پہلے سے معلوم تھا۔


اسٹبلشمنٹ نے یہ سب پس پردہ کرنا تھا، اسی لیے آئی ایس آئی چیف کو ہٹا کر اپنی مرضی کا بندہ لایا گیا۔ لیکن پاکستانی سفیر نے خط حکومت کو تھما دیا۔ اور خان صاحب نے پورے انتظار کے بعد پبلک کر دیا۔ ورنہ شائد خط کا مقصد حکومت کے علم میں لائے بغیر اسٹبلشمنٹ کی مدد سے اپوزیشن جماعتوں کا گٹھ جوڑ بنا کے چپکے سے فارغ کرنا تھا۔

یہ صرف ایک تھیوری ہے، کیونکہ امریکہ اتنی کھلے عام سازش نہیں کرتا۔ سازش کا لفظ اگر یہ سلامتی کمیٹی اور آئس پیار اپنی کانفرنس میں قبول کر لیں، تو ان پر آرٹیکل 6 لگتا ہے، چاہے کسی بھی ادارے کا چیف ہو یا پارلیمنٹیرین۔ اور اب جو یہ کر رہے ہیں، یہ صرف ادارے میں اپنی ساکھ بچانے کے لیے کر رہے ہیں۔

18/04/2022

حقیقی آزادی کی جنگ نہ باجوہ کے خلاف ہے، نہ سپریم کورٹ کے خلاف ہے، نہ کسی اور پارٹی کے۔

یہ اس سسٹم کے خلاف ہے جس نے امریکہ کو یہ شہہ دی کہ ملک کا سربراہ ہوتے ہوئے "کسی اور" کو اسے ہٹانے کی ہدایت دے۔

جس نے ججوں کو یہ سکھایا کہ قانون غریب اور امیر کے لیے مختلف ہوتا ہے اور یہ تکبر دیا کہ وہ آئین بھی پامال کر سکتے ہیں،

جن سیاسی پارٹیوں اور افراد کو سکھایا کہ ذاتی فائدے کے لیے ملک سے غداری بھی قابل معافی ہے۔ جس نے صحافیوں کو یہ سکھایا کہ میڈیا کی آزادی سے زیادہ ملک و قوم کی آزادی ضرورت ہے۔

جنہوں نے مل کر قائد عوام کو نکالا، کیا وہ واپس اتنی آسانی سے آنے دیں گے؟ نہیں۔ اس کے لیے نہ صرف ڈپلومیسی، بلکہ پریشر دونوں ضروری ہیں۔ عوام کا کام دباؤ ڈالنا ہے تا کہ واضح پیغام بھی چلا جائے اور یہ مقتدر حلقے اپنی حدود میں رہیں کہ یہ آخری لائن تھی، ڈپلومیسی قائد کے لیے چھوڑ دیں۔

جنرل فیض حمید اور شاہ محمود قریشی کی گردش کرنے والی ویڈیو نومبر 2021 کی ہے جب وہ جنرل فیض حمید عہدہ چھوڑ رہے تھے۔ نہ کوئ...
17/04/2022

جنرل فیض حمید اور شاہ محمود قریشی کی گردش کرنے والی ویڈیو نومبر 2021 کی ہے جب وہ جنرل فیض حمید عہدہ چھوڑ رہے تھے۔

نہ کوئی معاملات طے پا رہے ہیں اور نہ آئندہ ہوں گے۔ جو بھی طے کرنا ہے عوام نے طے کرنا ہے اور سب کے سامنے ہو گا۔ جس سسٹم کے خلاف یہ جنگ ہے اسٹبلشمنٹ اسے ختم کرنے کی پوری کوشش میں ہے لیکن ان شاء اللہ ایسا نہیں ہو گا۔


17/04/2022

باجوہ صاحب اب اندرون خانہ چاہے جتنی صفائیاں پیش کریں اور خان کے ساتھ اپنی سپورٹ ظاہر کریں، لیکن حقیقت ہم جانتے ہیں۔

1. خان صاحب پہلے ہی بتا چکے ہیں کہ اسٹبلشمنٹ نے تین پیشکش کی تھیں۔

2. جب وزیراعظم میں تھا تو کس کو ہدایات دی جا رہی تھیں کہ اسے ہٹاؤ

ایک اور بات، یہ ہم ڈبل گیم والی کہانیاں مشرف دور کے پالشیوں سے سنتے آ رہے ہیں، اس جنگ میں ہم نے اپنے لاکھوں شہری اور فوجی کھوئے، اس بار خودمختاری!

16/04/2022

فوج بہت ڈسپلنڈ ہوا کرتی تھی، افسر نے جو کہہ دیا بلا چوں چراں مان لیا، سوال کرنا ممنوع تھا۔

پھر ایک چیف نے ملک کی خودمختاری سے زیادہ اپنی اور حواریوں کی خودمختاری اور مبینہ طور پر مالی خودمختاری کو ترجیح دی اور ایسے شخص کے خلاف چلے گئے جس کا اوڑھنا بچھونا پاکستان تھا۔

فوج اب بھی ڈسپلنڈ ہے، لیکن اب وہ سوال کرنا سیکھ چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ٹاپ براس کے چہرے آج کل ہوائیاں اڑا رہے ہیں، آواز لڑکھڑاتی ہے، کور کمانڈرز کی میٹنگ بلا کر کہنا پڑتا ہے کہ تمام کور کمانڈرز چیف صیب سے متفق ہیں۔

لیکن فوج اب سوال پوچھنا سیکھ چکی ہے، شہیدوں کے سودے کرنے والوں سے، خواہ وہ چیف ہی ہو!

02/04/2022

آپ نے تین سال رہنا ہے ہم نے ہمیشہ رہنا ہے، ہم آپ کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے، آصف زرداری 2015

یہ 65 کی شکست کو بھی فتح کہتے ہیں، سیاچن میں بھی ہارے ہیں، کارگل میں انہوں نے ہماری پیٹھ میں چھرا گھونپ کر انڈیا پر حملہ کیا۔ مانتا ہوں ممبئی حملوں کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ تھا۔ نواز شریف

چاہتا ہوں ہماری افواج مضبوط رہیں، کسی نے فوج پر کوئی تنقید نہیں کرنی۔ ہماری افواج بہترین کام انجام دے رہی ہیں ہمیں انہیں مضبوط بنانا ہے۔ عمران خان

فرق دیکھیے، ایک لیڈر اور دو غداروں میں۔ غداروں پر مشکل پڑی تو لگے اپنے ہی ملک کو کمزور کرنے، لیڈر پر مشکل آئی تو وہ اس سوچ میں تھا کہ میں رہوں نہ رہوں، ملک شاد رہے دفاع مضبوط رہے۔ دشمن کہیں فائدہ نہ اٹھا لے۔ یہ وہ لیڈر ہے جس نے انڈیا جا کر کبھی اپنے سیاسی مخالفین کے متعلق بھی کچھ نہیں کہا کہ یہ ہمارا اندرونی معاملہ ہے۔

ہم چاہے کسی جرنیل سے لاکھ سیاسی اختلاف رکھیں، کسی سیاستدان سے اختلاف رکھیں، لیکن دشمنوں اور غداروں کے خلاف ہم ہمیشہ اکٹھے رہیں گے (غدار اور بھکاری اس میں شامل نہیں)۔

31/03/2022

جنرل مشرف اور جنرل باجوہ میں زیادہ فرق نہیں، ایک فون کال پر ڈھیر ہو گیا دوسرا خط پر۔

22/06/2019

چند دن پہلے پنجاب کا بجٹ بھی اناؤنس ہو گیا، کیا زرعی زمین پر ٹیکس لگا؟ نہیں لگا۔

کیونکہ یہ معیشت اور حکومت ابھی بھی عمران خان کے ہونے کے باوجود فیوڈل اور لینڈ لارڈز کے مشوروں اور پالیسیز سے چل رہی ہے۔ یہ سینکڑوں ایکڑوں کے مالکان کیونکر ایسی پالیسی بننے دیں گے؟

ہونا تو یہی چاہیے تھا کہ زرعی زمین کو بھی پراپرٹی ٹیکس کے تحت لایا جاتا لیکن یہ نہیں ہو گا۔ کیونکہ ٹیکس دینے کے لیے عوام اور تنخواہ دار طبقہ جو موجود ہے۔

آپ 6 لاکھ سالانہ کمانے والے تو ٹیکس لینا چاہتے ہیں لیکن لینڈ لارڈز اور فیوڈل لارڈز سے نہیں۔ یہ بھی بالکل واضح ہو چکا ہے کہ بجٹ سے بالکل پہلے اسد عمر کو کیوں ہٹایا گیا۔ اس کی وجہ تحریک انصاف کے اپنے لارڈز بھی ہیں۔

14/01/2018

پورے پنجاب میں صرف 6 ایس ایچ او ایسے تھے جن پر کوئی کیس نہیں تھا، ان میں سے ایک کو ہی کیس دے دیں وہ 24 گھنٹوں میں مجرم کی نشاندہی کر دے گا اور عین ممکن ہے گرفتار بھی کر لے۔ لیکن یہ سب اس لیے نہیں کریں گے کہ کیس دب جائے۔

حکومت کی سرپرستی کے واضح ثبوت ملنے پر بھی اس پر اعتماد اور حمایت نہ صرف جرم ہے بلکہ آپ اپنے بچوں کو خود جانوروں کے حوالے کر رہے ہیں۔

مجرم کی شناخت کیا اتنا بڑا مسئلہ ہے؟ میرا پولیس سے کوئی تعلق نہیں لیکن اتنا ضرور پتہ ہے کہ تفتیش کرنا کتنا آسان ہے۔ آپ کے پاس اس کی تصویر ہے، نادرا ریکارڈ میں ڈالیں اور مشابہہ اور ممکنہ لوگوں کو سارٹ آوٹ کر لیں۔ اس کے بعد جیوفینسنگ کے ذریعے ان مشکوک افراد کی موجودگی چیک کریں کہ وہ ان دنوں کن علاقوں میں تھے کن جگہوں پر تھے۔ یہ موبائل کمپنیز آرام سے فراہم کر سکتی ہیں۔۔۔ اگر وہ شخص مارا بھی جا چکا ہو تب بھی پس پشت مجرموں تک بہ آسانی پہنچا جا سکتا ہے۔

ایک ایماندار پولیس اہلکار آپ کو اتنا آسان کیس حل کر کے دے سکتا ہے لیکن اس میں شہباز شریف واضح طور پر ملوث ہے اس لیے کچھ نہیں کیا جا رہا۔ اور لوگوں کا کیس کو بھولنا اسے مزید دبا رہا ہے۔ یہ جھوٹی گواہی کے کی مترادف ہے

Address

Islamabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Zarb e Momin - ضرب مومن posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Zarb e Momin - ضرب مومن:

Share