06/11/2022
سلطان محمد فاتح کو قسطنطنیہ کے محاصرے کے وقت ہر طرف سے شکست ہو رہی تھی، اوپن گراؤنڈ، مسلسل شہادتوں اور محاصرہ طویل ہونے کی وجہ لشکر کے دل بھی پژمردہ ہو چکے تھے اور وہ واپس جانا چاہتے تھے، حتیٰ کہ ان کا وزیر اعظم بھی غدار تھا۔ لیکن سلطان محمد فاتح نے ہمت نہیں ہاری، سپاہیوں کو جنگ پر مائل رکھا حکمت عملی تبدیل کرتے رہے، اس جنگ میں سلطان محمد فاتح خود زخمی ہو چکے تھے لیکن جنگ جاری رکھی۔
سلطان محمد فاتح کے کچھ کے قریب ترین وفادار افراد جوان تھے، ویسے جیسے آج عمران خان کے سپاہی مراد سعید اور آپ جیسے ہیں۔ پھر تاریخ نے دیکھا کہ وہ قلعہ جو ایک ہزار سال سے زائد کی تاریخ رکھتا تھا وہ ایک نوجوان نے فتح کیا۔
تاریخ میں آج ترک قوم کا کہیں ذکر نہیں، اس لشکر کا ہے جو سلطان محمد فاتح کے ساتھ تھا۔ مستقبل میں بھی جب تاریخ لکھی جائے گی تو اس لشکر کا ذکر ہو گا جو عمران خان کے ساتھ گیا اور لوگ ان کے لیے دعائیں کریں گے کیونکہ یہ جنگ ظالم بادشاہ کے خلاف ہے۔