06/01/2024
کیا آپکی عمر آپکی زندگی قیمتی ہے۔۔؟
آپ سمجھتے بھی ہیں اسے قیمتی۔۔؟
تو حساب کیوں نہیں کرتے۔۔۔ ہر قیمتی چیز کا حساب رکھا جاتا ہے، پیسے کا رکھتے ہیں نا اپ کتنے دیے کتنے لیے کتنے خرچے کتنے کمائے۔۔۔!!
تو ایسے ہی وقت کا بھی رکھنا ضروری ہے، وقت آپکی عمر ہی تو ہے، آپکی زندگی وقت ہی تو ہے کہ اتنے دن اتنے گھنٹے آپ نے رہنا ہے دنیا میں، یہ ایک کاونٹ ڈاون ہے، جو ایک سیکنڈ بھی گزرتا وہ آپکی زندگی کم کر دیتا ہے۔۔۔!!
تو یہ الٹی گنتی چل رہی مسلسل اگر آپ چاہتے کہ اس کو اچھے سے اچھا بنا سکیں پروڈکٹو بنا سکیں، اور صحت مند اور خوشحال بنا سکیں، یہ قیمتی چیز ضائع نہ ہو جائے۔۔بلکہ اسے انویسٹ کر کے اپنا مستقبل بہتر کر سکیں، تو آپکو اس قیمتی چیز کا حساب رکھنا ہوگا۔۔۔ آج سے ابھی سے حساب رکھنا شروع کر دیں، یہ جو سال شروع ہوا اس کا حساب ہونا چاہییے دسبمر 2024 میں آپکے پاس کہ کیسا گزرا۔۔۔ پلانڈ وے میں وقت گزاریں تاکہ آپکو اسکا بہترین اوٹ پٹ نظر آئے۔۔۔
کرنا کیا ہے۔۔۔؟؟
جسٹ نوٹ پیڈ کا استعمال کرنا ہے اپنے موبائل فون کے۔۔۔
ہر رات آپ نے اگلے دن کے کام لکھنے ہیں کہ یہ یہ کرنے مجھے۔۔۔ اور اور جو دن گزرا اس کا حساب کرنا کہ جو دن گزرا اس کے جو کام نوٹ کیے تھے وہ مکمل ہوئے یا نہیں۔۔۔
دو مثالیں دے دیتا ہوں۔۔۔
کل کا آپ نے لکھ لیا 5 نمازیں پوری کرنی
ایک گھنٹہ ورک اوٹ کرنا
ایک گھنٹہ اپنے کاروبار یا سروس کی مارکیٹنگ کرنی
ایک گھنٹہ کسی سائڈ ہسل کو دینا ہے(ایکسٹرا انکم سٹریم کے لیے)
یہ یہ کھانا پینا ہے(فروٹس اور سمتھنگ ایلس)
اب یہ چند چیزیں میں نے لکھی ہیں یہاں اب صرف یہ سوچیں کہ اگر 365 دن آپ یہ سب کرتے روزانہ یاد سے لکھ کر ۔۔۔ تو سال کے آخر میں رزلٹ کیا ہوگا۔۔؟؟
اور اگر نہیں کرتے تو پھر بھی رزلٹ آپکو پتہ ہی گزشتہ سال 2023 کا۔۔۔
تو فرق صرف حساب کا ہے، اگر ہر دن پلانڈ وے میں گزاریں گے، کہ یہ یہ لازمی کرنا اور یہ یہ نہیں کرنا۔۔۔ تو اپ ایک ڈسپلنڈ پرسن بن جائیں گے۔۔۔ اور اچیومنٹس ہمیشہ ڈسپلن سے آتی ہیں۔۔۔
تو اپنی عمر/وقت کی قدر کیجیے، اسے ضائع کرنے کے بجائے، انویسٹ کرنا شروع کریں تاکہ جو وقت لگے اس سے آپکو فائدہ ہو۔۔نقصان نہیں۔۔۔
چلیے ابھی نوٹ پیڈ اوپن کریں اور سال 2024 کے گولز لکھیں۔۔۔ پھر اسے بریک ڈاون کریں ہفتوں میں۔۔ پھر اسے بریک ڈاون کر کے کل کے دن کے کام نوٹ کر لیں۔۔۔ اور اس نوٹ پیڈ کو اپنے فون کا وال پیپر لگا لیں۔۔۔ تاکہ آپکو یاد رہے۔۔۔وقتاً فوقتاً دیکھتے رہیں۔۔۔
تحریر: ماسٹر محمد فہیم امتیاز