Media Research Cell

Media Research Cell Our goal is fight against black sheeps of society especially , in Pakistani media

16/05/2022

Copied from social media
آرمی کے پاس 2 فل جنرل, ‏30 لیفٹنٹ جنرل ‏اور ‏194 میجر جنرل ہیں. ‏اس وقت 9 کور فوج کے لیے 29 لیفٹننٹ جنرل ہیں۔ 18 ڈویژن کے لیے 166 میجر جنرل۔ باقی نیچے بریگیڈئر، کرنل، لیفٹننٹ کرنل، میجر کا حساب لگا لیں۔ اس کے علاوہ ڈی جی آیی ایس پی آر جو کہ ایک کرنل رینک کی آسامی تھی اس پہ اب میجر جنرل لگایا جاتا ہے۔ یعنی ٹوئیٹر چلانے کے لیئے بھی فوج جرنیل استعمال کرتی ہے.

ایک جرنیل سے لے کر بریگیڈیئر، لیفٹننٹ کرنل تک ہر ایک فوجی، پاکستانی عوام کو کتنے میں پڑتا ہے، کبھی اس بارے میں آپ نے سوچا ہے ؟

اگر حقیقت آپ کے سامنے آجائے تو۔۔۔۔
‏ عوام کی آنکھیں کھل جائیں گی اور سیاستدان فرشتے لگنے لگیں گے.

تنخواہ کے علاوہ مراعات جن میں دوران ملازمت مفت رہائشی بنگلہ، مفت بجلی، مفت پانی، مفت گیس، سی ۱۳۰ طیارے میں پورے ملک میں مفت سفری سہولت، پی آئ اے اور ریلوے سے رعایئتی ٹکٹ پر سفر کی سہولت، نوکر (bat man) کی سہولت، بریگیڈیئر اور اس سے اوپر والوں کے لیئے سٹاف کار (یعنی سرکاری گاڑی), بچوں کی آرمی پبلک اسکول، FWO اسکول، PAF انٹر کالجز، بحریہ اسکول و کالج، NUST یونیورسٹی، الیکٹرکل اینڈ مکینکل انجنیئرنگ یونیورسٹی (EME) میں مفت پیشہ ورانہ تعلیم، آرمی میڈیکل کالج میں مفت ڈاکٹری کی تعلیم، آرمی, ایئرفورس اور نیوی اسپتالوں میں فوجیوں کا اپنا، ان کے بچوں، بیوی اور والدین کا تا حیات مفت علاج، ریٹائیرمنٹ کے بعد تمام جائداد ویلتھ ٹیکس سے مستثنی، فلیٹ، ولاز، دکانیں، پلاٹ، مربعے اور نہ جانے کیا کیا ان فوجیوں کو دیا جاتا ہے۔۔۔
اس کے علاوہ ریٹائرمنٹ کے بعد کسی سرکاری ادارے کا سربراہ لگا دیا جاتا ہے.

حب الوطنی کا راگ الاپنے والے اکثر جرنیلوں کے بچے یورپ اور امریکہ میں مہنگی ترین یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں اور ریٹائر ہونے کے بعد یہ جرنیل خود بھی ملک سے باہر بھاگ جاتے ہیں. پچھلے چار آرمی چیف یعنی جہانگیر کرامت, مشرف, کیانی اور راحیل شریف ریٹائرمنٹ کے بعد ملک چھوڑ کر چلے گئے. سمجھ نہیں آتا کہ لاکھ دو لاکھ تنخواہ پانے والے یہ سرکاری ملازم اپنے بچوں کو یورپ اور امریکہ میں پڑھانے کا خرچہ کیسے اٹھاتے ہیں اور امریکہ یا یورپ کی شہریت اختیار کرنے کے لیئے لاکھوں ڈالر کا بینک بیلنس کیسے بنا لیتے ہیں.

ریٹائرڈ فوجیوں اوران کے خاندانوں کی فلاح کے نام پر ٹرسٹ اور فلاحی ادارے کی آڑ میں بینک, انشورنس کمپنیاں, فرٹیلائزر, سیمنٹ, سریئے کی فیکٹریاں, ڈیری فارمز, شوگر اور ٹیکسٹائل ملیں, مرچ مسالحے کی فیکٹریاں اور یہاں تک کہ پیٹرول پمپ اور شادی ہال تک چلائے جا رہے ہیں. ملک کی معیشت مسلسل زوال پزیر ہے, لوگوں کے کاروبار بند ہو رہے ہیں, سرمایہ ڈوب رہا ہے لیکن 1953 میں ملنے والے 18 لاکھ ڈالر سے چیرٹی کے نام پر شروع کیا جانے والا کاروبار ترقی کرتے آج اربوں ڈالر کا سرمایہ بن گیا ہے. کیا وجہ ہے کہ سولین سرمایہ کاروں کے 60 اور 70 کی دھائیوں میں شروع کیئے گئے سارے کاروبار زوال کا شکار ہوئے لیکن فوجیوں کے کاروبار ترقی کر کھ اربوں ڈالر تک پہنج گئے? کیا اس کی وجہ فوجیوں کی کاروباری مہارت ہے? بالکل نہیں بلکہ وجہ صرف یہ کہ جن لائسنسوں اور پرمٹوں کے لیئے عام سرمایہ کاروں کو کروڑوں روپوں کی ضمانتیں جمع کروانی پڑتی ہیں, اپنی اہلیت ثابت کرنے کے لیئے جتن کرنے پڑتے ہیں, سالوں دفتروں کے چکر کاٹنا اور ذلیل و خوار ہونا پڑتا ہے وہ ان فوجیوں کو بغیر چوں چراں کیئے دے دیئے جاتے ہیں. مزید یہ کہ اگر کسی کاروبار میں نقصان ہوتا ہے تو سرکاری بجٹ سے بھرپائی بھی کر دی جاتی ہے.

دکھ کا مقام ہے کہ دفاعی بجٹ کا آڈٹ کرنے کی جرات آج تک کسی سولین حکومت نے نہیں کی. فوج نے شہدا کے ورثاء کے نام پر لاکھوں ایکڑ شہری زمینیں لے کر ان پر ہاوسنگ سوسائٹیاں بنا ڈالیں اور شہریوں کو مہنگے داموں بیچ کر اربوں کما لیئے لیکن کسی کی جرات نہیں کہ سوال کر سکے. پاکستان میں اگر عام شہری کوئی فلاحی این جی او کھولنا چاہے تو دفاعی ایجنسیوں سے این او سی لینی لازمی ہوتی ہے. عام طور پر ایجنسیوں والے فنڈنگ کے زرائع کو غیر تسلی بخش قرار دے کر درخواستیں مسترد کر دیتے ہیں یا پھر درخواست گزار کو اتنا تنگ کرتے ہیں کہ وہ فلاح بہبود کے کام سے توبہ کر لیتا ہے جبکہ خود ریٹائرڈ فوجیوں کی فلاح بہبود کے نام پر ادارے بنا کر کاروبار کر رہے ہیں.

دنیا پھر میں ریاست کا قیام اپنے عوام کی فلاح بہبود اور سماجی معاشی ترقی کے لئے کیا جاتا ہے - لیکن اس ملک میں فلاح بہبود صرف فوجی ملازمین کے لیئےہے. فوج پچھلے ستر سال سے پاکستان کی غریب عوام کے منہ کا نوالہ چھین کر اپنا پیٹ بھر رہی ہے اور ساتھ میں آپ پر یہ احسان بھی جتا رہی ہے کہ آپ کو رات کو سکون کی نیند فوج کی وجہ سے آتی ہے یا یہ کہ اگر فوج نہ ہوتی تو ملک عراق, شام یا افغانستان بن چکا ہوتا. یعنی 1971 میں بنگلہ دیش میں ہتھیار ڈالنے والے اور 2011 میں امریکیوں کے آگے لیٹ جانے والے اگر نہ ہوتے تو ملک عراق بن چکا ہوتا. کوئ قوم بھی بھلا اتنی کم عقل اور نادان ہو سکتی ہے، جتنی کہ پاکستانی قوم ہے۔ بنگالی اس فوج سے جان چھڑانے کے بعد آج ایک خوشہال قوم بن چکے ہیں. محدود فوج رکھنے کے باوجود نہ ان کو بھارت سے خطرہ ہے نہ اسرائیل سے. آخر کیوں?

گستاخِ اھلبیت ع و گستاخِ سادات ، بدنام زمانہ، لُچّا و لٙفٙنگا , عامر لیاقت کو لیگل نوٹس ۔ زندہ باد ایڈووکیٹ سید سفیر عبا...
15/05/2022

گستاخِ اھلبیت ع و گستاخِ سادات ، بدنام زمانہ، لُچّا و لٙفٙنگا , عامر لیاقت کو لیگل نوٹس ۔ زندہ باد ایڈووکیٹ سید سفیر عباس سبزواری صاحب

12/05/2022

مظفرآباد: وزیراعظم آزادکشمیر نے وزرائے حکومت کو قلمدان سونپ دئیے, نوٹیفیکشن جاری

مظفرآباد: خواجہ فاروق احمد وزیر لوکل گورنمنٹ و دیہی ترقی ہونگے۔

مظفرآباد:سردار میر اکبر امورحیوانات, زراعت, ڈیری ڈویلپمنٹ, آبپاشی و سمال انڈسٹری کے وزیر ہونگے۔

مظفرآباد:دیوان علی چغتائی کو ایلمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن جبکہ چوہدری علی شان سونی خوراک و مدنی وسائل کا قلمدان دیا گیا۔

مظفرآباد: چوہدری میر اکبر ایس۔ڈی۔ایم۔اے, سول ڈیفنس اور بحالیات کے وزیر ہونگے۔

مظفرآباد: چوہدری رشید کو وزیر منصوبہ بندی, ترقیات, پاور ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کا قملدان سونپا گیا۔

مظفرآباد: عبدالماجد خان خزانہ, امداد باہمی اور ان لینڈ ریونیو کے وزیر ہونگے۔

مظفرآباد: چوہدری ارشد حسین کو توانائی, آبی وسائل اور میرپور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا چارج دیا گیا۔

مظفرآباد: چوہدری اخلاق ریونیو, اسٹیمپس, اور کسٹوڈین کے وزیر ہونگے۔

مظفرآباد: اظہر صادق کو وزیر مواصلات وتعمیرات عامہ کی ذمہ داری سونپی گئی۔

مظفرآباد: ظفر اقبال وزیر ہائیر ایجوکیشن ہونگے۔

مظفرآباد: نثار انصر وزیر صحت عامہ ہونگے۔

مظفرآباد: سردار فہیم اختر ربانی کو وزیر قانون و انصاف کی ذمہ داریاں سونپی گئیں۔

مظفرآباد: محمد اکمل سرگالہ کو وزیر جنگلات اور وائلد لائف و فیشریز کا قملدان سونپا گیا۔

مظفرآباد: مقبول احمد کو صنعت, کامرس, لیبر ویلفئیر, اوزان و پیمائش کا قلمدان سونپا گیا۔

مظفرآباد: چوہدری یاسر سلطان وزیر فزیکل پلاننگ و ہاوسنگ ہونگے

10/05/2022

پاکستان کی تاریخ کے وہ اوراق جو ہمیں کتابوں میں نہیں پڑھاۓ جاتے

🚷 قیامِ پاکستان کے کچھ عرصے بعد سردار عبدالرب نشتر نے ایوب خان کے بارے میں ایک فائل قائد اعظم کو بھجوائی تو ساتھ نوٹ میں لکھا کہ ایوب خان مہاجرین کی بحالی اور ریلیف کے بجائے سیاست میں دلچسپی لیتا ہے

🚷 اس پر قائد اعظم نے فائل پر یہ آرڈر لکھا:
’’ میں اس آرمی افسر (ایوب خان) کو جانتاہوں۔ وہ فوجی معاملات سے زیادہ سیاست میں دلچسپی لیتا ہے ۔ اس کو مشرقی پاکستان ٹرانسفر کیا جاتا ہے۔ وہ ایک سال تک کسی کمانڈ پوزیشن پر کام نہیں کرے گا اور اس مدت کے دوران بیج نہیں لگائے گا۔ ‘‘

⏪ بحوالہ:
👈 کتاب: قائد اعظم بحیثیت گورنر جنرل
👈 مصنف: قیوم نظامی

🚷 قائد اعظم کا ایوب خان کے بارے میں غصہ بعد میں بھی ٹھنڈا نہ ہوا اور جب وہ ڈھاکہ گئے اور انھیں فوجی سلامی دی گئی تو انھوں نے ایوب خان کو اپنے ساتھ کھڑے ہونے سے روک دیا۔

⏪ بحوالہ:
👈 کتاب: گوہر گزشت
👈 مصنف: الطاف گوہر

🚷 دراصل تقسیم کے زمانے میں امرتسر میں ہندومسلم فسادات پر قابو پانے کے لیے ایوب خان کو ذمہ داری سونپی گئی تھی مگر وہ وہاں جا کر مہاراجہ پٹیالہ کی محبوبہ پر عاشق ہو گئے اور اپنا بیشتر وقت اسکے ساتھ گزارنے لگے اور فسادات پہ کوئی توجہ نہیں دی۔ جس پر قائد آعظم نے سزا کے طور پر انکو ڈھاکہ بھیجا تھا۔

⏪ بحوالہ:
👈 کتاب: گوہر گزشت
👈 مصنف: الطاف گوہر

🚷 اپنی اس تنزلی پر ایوب خان بہت رنجیدہ ہوئے اور انہوں نے قائد آعظم کے احکامات کے برخلاف اسوقت کے فوجی سربراہ سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا اور اس حوالے سے انہوں نے اپنے دوست بریگیڈیئر شیر علی خان پٹودی سے مدد مانگی۔ شیر علی خان پٹودی پہلی فرصت میں کراچی سے راولپنڈی گئے اور کمانڈر انچیف سر فرینک میسروی سے اپنے دوست کی سفارش کی لیکن بات بنی نہیں۔

⏪ بحوالہ:
👈 کتاب: گوہر گزشت
👈 مصنف: الطاف گوہر

🚷 لیکن بد نصیبی یہ ہے کہ جس ایوب خان سے قائداعظم اسقدر نالاں تھے اسی ایوب خان کو لیاقت علی خان نے اسوقت کے سینئرترین جنرل، جنرل افتخار پر فوقیت دے کر فوج کا سربراہ بنا دیا۔ کہا جاتا ہے کہ اس حوالے سے بھی انکے دوست بریگیڈیئر شیر علی خان پٹودی اور دیگر رفقاء نے اہم کردار ادا کیا۔

🚷 اور بد نصیبی دیکھئے، وہی ایوب خان پاکستان کا پہلا مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بنا اور پاکستان پر گیارہ سال گک حکومت کرتا رہا۔

⏪ بحوالہ:
👈 کتاب: The Crossed Sword
👈 مصنف: شجاع نواز

🚷 قائد آعظم خاص جمہوری انداز میں مملکت چلانا چاہتے تھے۔ اور اسی حوالے سے کسی کی مداخلت پسند نہیں کرتے تھے۔ اس حوالے سے قائد اعظم نے ایک اور فوجی افسر اکبر خان کے مشوروں سے زچ ہو کر اس سے کہا تھا کہ آپ کا کام پالیسی بنانا نہیں، حکومت کے احکامات کی تعمیل کرنا ہے۔

🚷 اور بعد زاں وہی جنرل اکبر لیاقت علی خان کے خلاف بغاوت کے جرم میں گرفتار ہوا اور تقریباََ پانچ سال جیل میں رہا

🚷 اور بد نصیبی دیکھئیے، عدالت سے غداری کی سزا کاٹنے والے، اسی جنرل اکبر کو 1973 میں بھٹو صاحب، قومی سلامتی کونسل کا رکن نامزد کر دیتے ہیں

⏪ بحوالہ:
👈 کتاب: قائد اعظم بحیثیت گورنر جنرل
👈 مصنف: قیوم نظامی

🚷 بانی پاکستان جون 1948 میں سٹاف کالج کوئٹہ گئے تو وہاں گفتگو کے دوران انکو اندازہ ہوا کہ اعلیٰ فوجی افسران اپنے حلف کے حقیقی معنوں سے واقف نہیں ہیں۔ اس موقع پر انھوں نے اپنی لکھی ہوئی تقریر ایک طرف رکھ کے فوجی افسران کو یاددہانی کے طور پر ان کا حلف پڑھ کر سنایا، اور انہیں احساس دلایا کہ انکا کام حکم دینا نہیں صرف حکم ماننا ہے۔

⏪ بحوالہ:
👈 کتاب: قائد اعظم بحیثیت گورنر جنرل
👈 مصنف: قیوم نظامی

🚷 بعد کے ادوار میں فوجی جرنیلوں نے اس حلف کی اتنی خلاف ورزی کی کہ ائیر مارشل اصغر خان کو لکھنا پڑا کہ🔹میری تجویز ہے کہ اگر ہم پر جرنیلوں ہی نے حکمرانی کرنی ہے تو یہ الفاظ حلف سے حذف کردیے جائیں: ’’ْمیں کسی قسم کی سیاسی سرگرمیوں میں، خواہ ان کی نوعیت کچھ بھی ہو، حصہ نہیں لوں گا۔‘‘ 🔹

⏪ بحوالہ:
👈 کتاب: جنرل اور سیاست
👈 مصنف: اصغر خان

حاصلِ کلام: 👈❤👉
جس دن ہم نے اپنی نئ نسل کو پاکستان کی اصل تاریخ پڑھانا شروع کردی اسی دن سے پاکستان ترقی کرنا شروع کر دے گا۔ copied

29/04/2022

*ﺍﻣﺮﯾﮑﮧ ﮐﮯ ایئر ﭘﻮﺭٹس ﭘر مُسافروں کی ﺍﯾﺴﮯ ﺗﻼﺷﯽ لی ﺟﺎﺗﯽ ہے کہ ﺟﯿﺴﮯ ﭘُﻮﺭﯼ ﺩُﻧﯿﺎ ﭼﻮﺭ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﺻِﺮﻑ ﺍﻣﺮﯾﮑﻦ ﻣُﻌﺰّﺯ ﮨﻮﮞ۔ ﺑﮩﺖ ﻋﺮﺻﮯ ﺳﮯ برازِیل کا ﺍﯾﮏ ﺗﺎﺟﺮ ﺍﻣﺮﯾﮑﮧ ﺁﺗﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ـ ﺍُﺱ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺣﺎﻟﺖ ﺩﯾﮑﮭﯽ ﺗﻮ ﺑﮩُﺖ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﮨُﻮﺍ ﮐﮧ ﮨﺮ ﺑﻨﺪﮮ ﮐﯽ ﭨﻮﭘﯽ، ﭨﺎﺋﯽ، ﺟُﻮﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﺟُﺮﺍﺑﯿﮟ ﺍُﺗﺎﺭ ﮐﺮ ﺗﻼﺷﯽ ﻟﯽ ﺟﺎ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ ـ ﻭﮦ ﺍِﺱ ﺻُﻮﺭﺕِ ﺣﺎﻝ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﮨُﻮﺍ، ﻟﻤﺒﯽ ﻗﻄﺎﺭ ﻟﮕﯽ ﮨﻮﺋﯽ تھی، ﺗﻼﺷﯽ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐا ﺍﯾﺴﺎ ﻣﻨﻈﺮ ﺍُﺱ ﻧﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ ـ*
*ﺟﺐ ﺍُﺳﮑﯽ ﺑﺎﺭﯼ ﺁﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺍِﻣِﯿﮕﺮﯾﺸﻦ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻧﮯ ﺍُﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺟُﻮﺗﮯ ﺍُﺗﺎﺭﻧﮯ ﮐﺎ ﺣُﮑﻢ ﺩِﯾﺎ تو ﺍُﺱ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺁﺭﮈﺭ ﻣﺎﻧﻨﮯ ﺳﮯ ﺍِﻧﮑﺎﺭ ﮐﺮ ﺩِﯾﺎ۔ ﺍِﻣِﯿﮕﺮﯾﺸﻦ آﻓﺴﺮ ﻧﮯ ﺍُﺳﮑﺎ ﭘﺎﺳﭙﻮﺭﭦ ﻟِﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍُﺱ ﭘﮧ ﮈﯼ ﭘﻮﺭﭦ ﮐﯽ ﻣُﮩﺮ ﻟﮕﺎ ﺩﯼ، ﻭﮦ ﺍﮔﻠﯽ ﻓﻼﺋﯿﭧ ﺳﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﺑﺮﺍﺯِﯾﻞ ﭘﮩُﻨﭻ ﮔﯿﺎ ۔*

*ﺍُﺱ ﻧﮯ ﭘﺮﯾﺲ ﮐﺎﻧﻔﺮینس ﺑُﻼﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﺎﻡ ﻣﺎﺟﺮﺍ مُلک کی عوام ﮐﻮ ﺳُﻨﺎﯾﺎ۔ ﺍُﺱ ﭘﺮﯾﺲ ﮐﺎﻧﻔﺮینس ﻧﮯ ﻃُﻮﻓﺎﻥ ﺑﺮﭘﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ۔ ﺣﮑُﻮﻣﺖ ﻧﮯ ﺍﻣﺮﯾﮑﮧ ﮐﮯ ﺳﻔِﯿﺮ ﮐﻮ ﺑُﻼ کے بازپُرس کی، ﺍﻣﺮﯾﮑﮧ ﻧﮯ ﺍِﺳﮯ ﻣﻌﻤُﻮﻝ ﮐﯽ ﮐﺎﺭﻭﺍﺋﯽ قرار دِیا، ﻣُﻌﺎﻣﻠﮧ ﭘﺎﺭﻟِﯿﻤﻨﭧ ﻣﯿﮟ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ ۔ ﭘﺎﺭﻟِﯿﻤﻨﭧ ﻧﮯ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐِﯿﺎ ﮐﮧ ﺟﻮ ﺑﮭﯽ ﺍﻣﺮﯾﮑﯽ ﺑﺮﺍﺯِﯾﻞ ﻣﯿﮟ ﻗﺪﻡ ﺭﮐّﮭﮯ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺗﻔﺼِﯿﻠﯽ ﺗﻼﺷﯽ ﻟﯽ ﺟﺎﺋﮯ گی۔ ﺍﮔﻠﮯ ﺩِﻥ ﺍِﺱ ﻗﺎﻧُﻮﻥ ﭘﺮ ﻋﻤﻠﺪﺭآﻣﺪ ﺷُﺮﻭﻉ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ۔ ﺍﻣﺮﯾﮑﯽ ﺣﮑُﻮﻣﺖ ﻧﮯ ﺍِﺱ ﭘﺮ ﺷﺪِﯾﺪ ﺍﺣﺘﺠﺎﺝ ﮐِﯿﺎ، ﺑﺮﺍﺯِﯾﻞ ﻧﮯ بڑا ﺧُﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺟﻮﺍﺏ ﺩِﯾﺎ کہ ﯾﮧ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﻣﻌﻤُﻮﻝ ﮐﯽ ﮐﺎﺭﻭﺍﺋﯽ ﮨﮯ۔ 2002ء ﺳﮯ 2006ء ﺗﮏ ﺑﺮﺍﺯﯾﻞ ﺩُﻧﯿﺎ ﮐﺎ ﻭﺍﺣﺪ ﻣُﻠﮏ ﺗﮭﺎ ﺟِﺲ ﮐﮯ ﺍیئر ﭘﻮﺭﭨﺲ ﭘﺮ ﺻِﺮﻑ ﺍﯾﮏ ﻣُﻠﮏ ﮐﮯ ﺷﮩﺮﯾﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻼﺷﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﻣُﻠﮏ ﺗﮭﺎ ﺍﻣﺮِﯾﮑﮧ..... ﺍﻣﺮِﯾﮑﮧ ﻧﮯ بالآخِر ﻣُﻌﺎﻓﯽ ﻣﺎﻧﮕﯽ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺳِﻠﺴﻠﮧ ﺧﺘﻢ ﮨُﻮﺍ ۔*

*👈 ﺍِﺱ ﮐﻮ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻏﯿﺮﺕ .....*
*👈 اِس کو کہتے ہیں عظمت ۔۔۔۔۔*
*👈 اِس کو کہتے ہیں زِندہ قوم ۔۔۔۔ـ*
*.... اور ایسی باتیں، ایسے واقعات قوموں کے ضمِیر کو جھنجوڑنے کے کام آتی ہیں ۔۔۔ـ*
*اور ہمارے عام شہری تو دُور کی بات وزِیر، وزِیرِاعظم اور سینیٹر کے کپڑے اُتار کر تلاشی لی جاتی ہے ۔

(اس پوسٹ کا کسی قسم کی سیاست سے کوئی تعلق نہیں) copied from social media

🙏🙏🙏🙏🙏🙏

20/04/2022

سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کو وزیر قانون و انصاف کا قلمدان سونپ دیاگیا
مفتاح اسماعیل کو وزیر خزانہ کا قلمدان سونپ دیا گیا
احسن اقبال کو وزیر منصوبہ بندی کا قلمدان سونپ دیا گیا
رانا ثنااللہ کو وزارت داخلہ کا قلمدان سونپ دیا گیا
شاہ زین بگٹی کو انسداد منشیات کا قلمدان سونپ دیا گیا
مفتی عبدالشکور کو وزارت وزارت مذہبی امور کا قلمدان سونپ دیا گیا
اسرارترین کو دفاعی پیداوار کا قلمدان سونپ دیا گیا
خواجہ سعد رفیق کو ٹرانسپورٹ کا وزیر بنادیا گیا
امین الحق نے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کا چارج سنبھال لیا
مریم اورنگزیب نے وفاقی وزیر اطلاعات کا قلمدان سنبھال لیا
طارق بشیر چیمہ کو فوڈ سیکورٹی کا قلمدان سونپ دیا گیا
عابد حسین بھیو کو وزیر نجکاری کا قلمدان سونپ دیا گیا
احسان مزاری کو وزارت بین الصبوبائی رابطہ تعینات کردیا گیا
ساجد حسین طوری کووزیر اوورسیز تعینات کردیا گیا
مرتضیٰ محمود کو انڈسٹری کا وزیر بنادیا گیا
شازیہ مری چیئرپرسن بے نظیر انکم اسپورٹ پروگرام تعینات
عبدالقادر پٹیل کو وزیر صحت تعینات کردیا گیا
شیری رحمان کو موسمیاتی تبدیلی کا قلمدان سونپ دیا گیا
سید نوید قمر کو وزیر تجارت کا قلمدان سونپ دیا گیا
خورشید شاہ کو وزارت آبی وسائل کا قلمدان سونپ دیا گیا
وزیرمملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی کھر نے عہدے کا چارج سنبھال لیا
وزرائے مملکت میں ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا اور عبدالرحمان کانجو شامل

17/04/2022

TOSHA KHANA.. IMPORTED GOVT MUST DISCLOSE ALL..

حکومت توشہ خانہ کا 30 سال کا ریکاڈ پبلک کرے
1997 نواز شریف ترکمانستانی حکومت کا دیا ھوا قالین صرف 50 روپے دے کر گھر لے گۓ
قطر کے ولی عہد کا دیا ھوا بریف کیس 875 روپے دےکر گھر لے گے
1999 سعودی عرب سے ملنے والی 45لاکھ کی مر سڈیز میاں صاحب 6 لاکھ میں لے گے
سعودی حکومت کی دی راٸفل جو 1لاکھ سے اوپر کی تھی میاں صاحب 14ھزار میں گھر لے گے
ابو ظہبی کے حکمران کی طرف سے نواز شریف مریم نواز بیگم کلثوم نواز مرحومہ کو 3 گھڑیاں تحفے میں دی گی 2 گھڑیاں توشہ خانہ میں جمع کروا دی 1 گھڑی مریم نواز نے 45 ھزار میں نکلوا لی اس گھڑی کی قیمت 1999 میں 10 لاکھ سےاوپر تھی
اس کے بعد شوکت عزیز نے 26 کڑوڑ کے تحفوں کی قیمت 7 کڑور لگوا کر ڈھاٸی کڑوڑمیں گھر لے گے اس کے بعد یوسف رضا گیلانی2011میں سعودی حکومت سے ملنے والے20 لاکھ اوپر کے تحاٸف گھڑی پن خنجر کف لنک صرف 2 لاکھ 83 ہزار میں گھر لے گے اور گیلانی صاحب کی اہلیہ 30لاکھ کا جیولری سیٹ 3 لاکھ میں گھر لے گٸیں
2009 میں زرداری کو معمر قزافی نے 3 کڑوڑ کی گاڈی گفٹ کی زرداری صاحب 40 لاکھ میں لے اڑے
2009 میں uaeکے حکمران نے زردادی صاحب کو12 کڑوڑ کی لکسیز گاڈی گفٹ کی زردادی صاحب 1کڑوڑ60 لاکھ میں لے گے
اس کے بعد پرویز مشرف نے 4کڑوڑ کے تحفے 55لاکھ میں گھر لے گے ان میں 2 پسٹل بھی تھے جو امریکی وزیر دفاع رمیز فلیڈ نے مشرف کو گفٹ کیے صرف 19 ھزار میں مشرف صاحب نے وہ پسٹل لے اڑے اس میں 1 پسٹل امیر مقام کو گفٹ کیا تھا مشرف صاحب نے.
کاپیڈ

13/04/2022

سابق پرنسپل سیکرٹری ہمراہ نواز شریف ریٹائرڈ بیوروکریٹ فواد حسن فواد معاون خصوصی برائے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن تعینات۔

پاکستان ایڈمنسٹریٹیو سروسز کے سینیئر ترین بیوروکریٹ ڈاکٹر توقیر شاہ، شہباز شریف کے پرنسپل سیکرٹری تعینات۔

ڈاکٹر توقیر شاہ اس سے قبل شہباز شریف کے ساتھ پنجاب میں بطور سپیشل سیکرٹری کام کر چکے ہیں۔

مظفرآباد آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے برگیڈیئر عدنان کشفی شہباز شریف کے ملٹری سیکریٹری تعینات۔

آصف زرداری صدر پاکستان ہونگے۔

راجہ پرویز اشرف اسپیکر اسمبلی۔

یوسف رضا گیلانی چئیرمن سینیٹ۔

قمر زمان کائرہ گورنر پنجاب جبکہ اکرم درانی گورنر خیبر پختونخوا ہونگے۔

وسیم اختر گورنر سندھ ہونگے۔
حال ہی میں عمران حکومت کی طرف سے امریکہ میں تعینات کئے گئے پاکستانی سفیر، سابق صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان فارغ۔

پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان امریکہ میں نئی سفیر تعینات۔ copied

Address

Islamabad
47000

Telephone

00923139144844

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Media Research Cell posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Media Research Cell:

Share