12/12/2025
ہِصّہ 19 — “اصل ہدف کون؟”
کمرے میں ابھی تک بارود کی بو باقی تھی۔
ٹریگر رک چکا تھا…
مگر خوف کی ٹک ٹک سب کے دلوں میں چل رہی تھی۔
عادل نے بم کے ڈس آرمر ڈسپلے پر لکھی لائن دوبارہ پڑھی:
“Round 1 Finished…
اب اصل جنگ شروع ہو گی، Adil.”
یہ واضح تھا —
دشمن ان کو مارنا نہیں چاہتا تھا…
بلکہ انہیں کھیلنا چاہتا تھا۔
---
کامران کا ہوش میں آنا
سارہ نے آہستہ سے اسے پانی پلایا۔
کامران ہانپتے ہوئے بولا:
“میں… میں غدار نہیں ہوں…
یہ سب… کسی نے مجھے فریم کیا ہے…”
عادل نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
“ہم جانتے ہیں، کامران۔ اب بتاؤ — کیا ہوا تھا؟”
کامران نے آنکھیں بند کیں، یاد کرنے لگا:
“مجھے اس رات ایک خفیہ میسج آیا تھا…
جس پر لکھا تھا: ’فوری لوکیشن شیئر کرو، مشن خطرے میں ہے۔‘
میسج… ڈائریکٹر حمزہ کے کوڈ سے آیا تھا۔
اسی لیے میں فیکٹری تک پہنچا…
لیکن پھر پیچھے سے کسی نے مجھے بے ہوش کر دیا۔
مجھے کچھ پتا نہیں کیسے میں مشتبہ بن گیا…”
ریحان نے حیرت سے کہا:
“یعنی ڈائریکٹر حمزہ کے ہی کوڈ استعمال ہوئے؟”
سارہ کا دل ایک لمحے کو رک گیا۔
اس نے آہستہ سے کہا:
“عادل… جو میں نے پرانی لوگز میں دیکھا تھا…
جو پاور کٹ ہوا تھا…
جس سے دروازے لاک ہوئے تھے…
وہ بھی اسی رسائی لیول سے ہوا تھا جو ڈائریکٹر کے پاس ہے!”
کمرے میں گہری خاموشی چھا گئی۔
عادل نے بے یقینی سے سر ہلایا:
“نہیں… ڈائریکٹر حمزہ ایسا نہیں ہو سکتا…
وہ میرے استاد کی طرح ہیں…”
مگر سچ یہی تھا —
تمام کڑیاں ایک ہی جگہ جا رہی تھیں۔
---
اچانک — پورے ہال میں گونجتی آواز
اسکرینیں ایک ایک کرکے خود بخود آن ہونے لگیں۔
تمام لائٹس ٹمٹمانے لگیں۔
پھر، کمرے میں وہی سرد، بے احساس آواز گونجی:
“تم لوگ بہت اچھا کھیلے…
لیکن ابھی تم لوگ صرف اندھیرے میں ہاتھ مار رہے ہو۔”
عادل نے اسکرین کی طرف بڑھتے ہوئے کہا:
“سامنے آؤ! تم کون ہو؟
ڈائریکٹر حمزہ کے کوڈ کیوں استعمال کر رہے ہو!؟”
آواز نے ہنسا:
“ہممم… تو تم نے اندازہ لگا لیا…”
اسکرین پر دھندلا سا چہرہ ظاہر ہوا۔
پورا چہرہ ابھر نہیں رہا تھا، صرف ایک سایہ۔
مگر آواز صاف تھی:
“حمزہ… بہت آسان ہدف ہوتا، عادل۔
نہیں… تم جس دشمن کو ڈھونڈ رہے ہو…
وہ تمہارے تصور سے کہیں زیادہ قریب ہے۔
تمہارے ہر قدم سے واقف…
ہر کمانڈ سے آگاہ…”
عادل نے تیزی سے کہا:
“اگر ڈائریکٹر نہیں… تو پھر کون!؟”
چند لمحوں کے لیے خاموشی رہی۔
پھر سائے نے ایک جملہ کہا —
جس سے سب کی سانسیں رک گئیں:
“میں وہ ہوں…
جس پر تم سب سے زیادہ بھروسہ کرتے ہو۔”
سارہ کا ہاتھ کانپ گیا۔
ریحان کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔
کامران نے آنکھیں کھول دیں۔
عادل نے دھڑکتے دل کے ساتھ کہا:
“کیا مطلب…؟ ہمارا کوئی ساتھی؟
ہمارے اندر سے کوئی؟”
اسکرین پر سایہ آگے جھکا:
“ہاں عادل… یہ اندر سے ہے۔
اور تمہیں جان کر حیرت ہو گی…
یہ تمہاری ٹیم کا ہی حصہ ہے۔”
سب نے ایک دوسرے کی جانب دیکھا —
شک، خوف، اور بے اعتمادی رات میں گھل گئی۔
---
آواز کا دوسرا انکشاف
سیاہ سایہ بولا:
“تمہیں لگتا ہے بم میں نے بند کیا؟
نہیں عادل…
میں تمہیں ختم نہیں کرنا چاہتا تھا…
ابھی نہیں۔
اصل کھیل… ابھی شروع ہونے جا رہا ہے۔”
اس نے آہستہ آہستہ اگلا جملہ کہا:
“Round 2 کا آغاز…
آج رات ہو گا۔
اور اس بار نشانہ… کوئی ایک نہیں۔
بلکہ… پورے شہر کی نیند ہوگی۔”
عادل نے پہلی بار خوف محسوس کیا۔
"پورا شہر؟"
آواز ختم ہونے سے پہلے آخری جملہ بولا:
“اور یاد رکھنا…
غدار تمہارے بیچ چلتا ہے۔
اسے تلاش کرو —
یا پھر… سب ختم ہو جائے گا۔”
اسکرین بند ہو گئی۔
---
عادل — ٹوٹتا ہوا بھروسہ
عادل نے تینوں طرف دیکھا۔
لیفٹنگ روڈ، گودام کی ٹمٹماتی لائٹس، زخمی کامران…
اور ریحان اور سارہ کے بے یقینی بھرے چہرے۔
اس نے آہستہ کہا:
“مجھے… ہم میں سے کسی پر شک نہیں کرنا چاہیے۔
مگر دشمن واضح کہہ رہا ہے کہ غدار اندر ہی ہے۔
ہمیں سچ جلد سے جلد جاننا ہوگا۔”
سارہ نے دھیرے سے کہا:
“عادل… اگر یہ سچ ہے…
تو ہمارا ہر قدم، ہر بات…
دشمن تک پہلے سے پہنچ رہی ہوگی۔”
ریحان نے کہا:
“تو پھر پہلی اگلی چیز کیا ہے؟”
عادل نے شہر کی روشنیاں دور سے دیکھیں۔
ٹائمر اس کے ذہن میں خود بخود چلنے لگا۔
Round 2…
پورے شہر کی نیند…
غدار اندر…
اس نے آہستہ مگر مضبوط لہجے میں کہا:
“ہم اب ایک ٹیم نہیں رہے…
ہم ایک دوسرے کی جانچ بن گئے ہیں۔
اصل جنگ اب شروع ہوتی ہے…
اور میں غدار کو بے نقاب کیے بغیر نہیں رکوں گا۔”
اس نے آخر میں سر اٹھا کر کہا:
“چلتے ہیں —
Round 2 شروع ہو چکا ہے۔”
---
— جاری ہے…
اگلے حصے (ہِصّہ 20) میں:
🔸 سیاہ کوٹ والا پہلی بار حقیقی شکل میں نظر آئے گا
🔸 ٹیم میں پہلا بڑا شگاف پیدا ہوگا
🔸 شہر پر حملے کی منصوبہ بندی سامنے آئے گی
🔸 اور عادل کو ایک ایسا ثبوت ملے گا جو اسے…
اپنی ہی ٹیم پر شک کرنے پر مجبور کر دے گا