Binte Hawa

Binte Hawa لوگوں کو حقیقت سے آگاہ کرنا ہی ہمارا اصل مشن ہے

کسی ایسے مرد سے نکاح کرو جو کفالت کرنے والی سوچ رکھتا ہو۔ضروری نہیں کہ وہ بہت دولت مند ہو، لیکن یہ ضروری ہے کہ وہ ذمہ دا...
03/05/2025

کسی ایسے مرد سے نکاح کرو جو کفالت کرنے والی سوچ رکھتا ہو۔
ضروری نہیں کہ وہ بہت دولت مند ہو، لیکن یہ ضروری ہے کہ وہ ذمہ دار ہو اور راہنمائی کا ہنر جانتا ہو۔
ایسا مرد جو تمہاری ضروریات بغیر کہے پوری کرے، نہ کہ تمہیں بار بار یاد دلانا پڑے یا مانگنی پڑے۔
ایسا مرد جو اپنی خوشی سے تمہارے لیے موجود ہو، نہ کہ تمہارے کہنے پر۔
اس کے پاس لاکھوں کروڑوں نہ بھی ہوں، لیکن اس کے کردار میں اتنی مضبوطی ہو کہ تم اپنے دل اور ذہن دونوں لحاظ سے محفوظ محسوس کرو۔
ایسا مرد جو وعدے نبھائے، جو تمہاری عزت کرے، تمہارے جذبات کا خیال رکھے، تمہیں سنے، سمجھے اور اپنی موجودگی سے سکون دے۔

کیونکہ سچا محافظ مرد صرف بل ادا نہیں کرتا، وہ دل کو سکون دیتا ہے، عزت دیتا ہے، تحفظ دیتا ہے۔
ایسا مرد جس کے عمل، اس کی کم گوئی کے باوجود بھی، بلند آواز میں اس کی محبت کا اعلان کریں۔
ایموشنل میچورٹی دولت سے کہیں زیادہ قیمتی ہے۔
ایسا مرد جو جذباتی طور پر مضبوط ہو، تمہارے لیے ایسا ماحول بنائے گا جہاں محبت جنگ نہیں، بلکہ سکون کا گھر ہو۔

تم اس مرد کی حقدار ہو جو تمہاری روح کا خیال رکھے، نہ کہ صرف تمہاری ظاہری زندگی کا۔
جو تمہیں بہانے نہیں، کوشش دے؛ خاموشی نہیں، وقت دے؛ الجھن نہیں، تسلسل دے۔

سچا مرد صرف چیزیں نہیں دیتا،
وہ سکون دیتا ہے،
موجودگی دیتا ہے،
تحفظ دیتا ہے۔
اور یہی سب سے قیمتی چیز ہے۔

09/04/2025

ڈھوک عباسی میں بنا رجسٹریڈ سکول: بچوں کا مستقبل خطرے میں

اسلام آباد کے علاقے ترنول میں ڈھوک عباسی کے گرد مختلف جگہوں پر بنا رجسٹریڈ سکول غیر قانونی طور پر کھلے ہوئے پائے جا رہے ہیں۔ ان جعلی اداروں میں مناسب تعلیم یا تربیت کی کوئی گارنٹی نہیں دی جا رہی جس کی وجہ سے بچوں کا مستقبل سنگین خطرے میں ہے۔

معلومات کے مطابق، ان غیر مجاز تعلیمی اداروں کی تشکیل تعلیمی معیار کی پامالی کے ساتھ ساتھ، بچوں کی مستقبل سازی میں بھی رکاوٹ ڈال رہی ہے۔ ایسے سکول جہاں تعلیمی ضوابط کی پاسداری نہ ہونے کے برابر ہے، بچوں کے لیے ترقی اور معیاری تعلیم کا حصول مشکل بنا رہے ہیں۔

مزید یہ کہ، یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ (PEIRA) اور ایسویشن کے ارکان ان جعلی اداروں کی معاونت میں شامل ہیں، جس سے ان اداروں کا پھیلاؤ تیزی سے ہو رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں تعلیمی شعبے میں غیر قانونی سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں اور والدین کے اعتماد پر بھی بھاری سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔

عوامی افسردگی اور خدشات کے پیش نظر انتظامیہ، ڈی ایس (ڈسٹرکٹ سینٹر) اور اے سی (ایڈمنسٹریٹو کمشنر) سے درخواست کی جا رہی ہے کہ فوری طور پر اس معاملے کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے اور سخت اقدامات کیے جائیں تاکہ بچوں کی تعلیمی اور مستقبل کی درست سمت کو یقینی بنایا جا سکے۔
تعلیم ہر فرد کا بنیادی حق ہے اور اس سلسلے میں ہونے والی کسی بھی بے ضابطگی یا دھوکہ دہی کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ امید کی جا رہی ہے کہ متعلقہ حکام فوری طور پر عملی قدم اٹھا کر اس غیر قانونی سرگرمی کو روکا جائے۔

غیرتمند مہاجرین — ایک خاموش سبقتحریر: ڈاکٹر عاصمہ ذوالفقار راجہچالیس برس قبل جب افغان مہاجرین خالی ہاتھ ہمارے ملک میں دا...
08/04/2025

غیرتمند مہاجرین — ایک خاموش سبق
تحریر: ڈاکٹر عاصمہ ذوالفقار راجہ

چالیس برس قبل جب افغان مہاجرین خالی ہاتھ ہمارے ملک میں داخل ہوئے، تو ان کے پاس نہ گھر تھے، نہ روزگار، نہ وسائل اور نہ آسائشیں۔ ان کے پاس فقط جنگ کی تباہی کے داغ اور دلوں میں اپنے وطن کی یادیں تھیں۔ لیکن انہوں نے ہاتھ پھیلانے کے بجائے ہنر کو اپنایا، عزتِ نفس کو اپنی ڈھال بنایا، اور خودداری کو اپنی پہچان۔

انہوں نے سڑک کنارے چھوٹے چھوٹے اسٹالز پر چشمے، ٹوپیاں، جوتے، قالین اور کپڑے بیچے۔
دفاتر میں مزدوری کی، جوتے پالش کیے، چوکیداری کی، ہر وہ کام کیا جو ان کی بقاء اور خودداری کا تقاضا تھا۔
انہوں نے محنت کو ذریعہِ نجات سمجھا، اور کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے کو اپنی توہین۔

ان کی خواتین نے بھی وقار کا دامن نہ چھوڑا۔ کبھی انہیں بے پردہ نہیں دیکھا گیا، ان کے بچوں میں بے راہ روی نظر نہیں آئی۔ ان کا ہر قدم تربیت، تہذیب اور غیرت کی گواہی دیتا رہا۔

آج جب وہ واپس جا رہے ہیں، تو ہمیں ان کی موجودگی کے مثبت اثرات کا احساس ہو رہا ہے۔
انہوں نے ہمارے معاشرے کو بغیر کچھ کہے سکھایا کہ کیسے باعزت زندگی گزاری جاتی ہے،
کہ محنت کبھی شرمندگی کا سبب نہیں بنتی، بلکہ باعثِ افتخار بنتی ہے۔

یہ کالم ان غیرتمند اور باوقار مہاجرین کے لیے ایک خراجِ تحسین ہے،
جو نہ صرف خود جئے، بلکہ ہمیں جینے کا سلیقہ بھی سکھا گئے۔

اللہ تعالیٰ ان کے مستقبل کو روشن کرے، اور انہیں ان کے وطن میں امن، سکون اور عزت عطا فرمائے۔ آمین۔

07/04/2025

تحریر: ضمیر کی آواز

السلام علیکم ورحمة الله وبرکاته!

میری تمام بہنوں اور بھائیوں سے دلی گزارش ہے کہ براہِ کرم توجہ فرمائیں۔

ہم سب جانتے ہیں کہ فلسطین میں ہمارے مسلمان بھائی، بہنیں، اور بچے ظلم و ستم کا شکار ہیں۔ ان کے دکھ، درد، اور قربانیوں کو دنیا کے سامنے لانا یقیناً ایک نیک عمل ہے۔ لیکن اگر ہم یہ عمل صرف سوشل میڈیا پر ویوز، لائکس، اور مونیٹائزیشن کے مقصد سے کر رہے ہیں، تو ہمیں اپنا دامن جھانکنے کی ضرورت ہے۔ کیا ہم واقعی مظلوموں کی آواز بن رہے ہیں، یا ان کے زخموں پر نمک چھڑک رہے ہیں؟

ہم بطور اُمت پہلے ہی بے حسی کی حدوں کو چھو چکے ہیں۔ اب مزید گرنے کی گنجائش نہیں۔ ہمارے حکمران ہوں یا ہم خود، صرف الفاظ کے گولے داغنے میں ماہر ہیں۔ عملی طور پر کچھ کرنا تو جیسے ہمارا مسئلہ ہی نہیں۔

ہمیں سوچنا ہوگا کہ روزِ قیامت ہم اللہ تعالیٰ، رسولِ اکرم ﷺ، اور قبلۂ اول کے ان شہداء کو کیا منہ دکھائیں گے؟ کیا ہم یہی کہیں گے کہ ہم نے آپ کی قربانیوں کو سوشل میڈیا کے چند پیسوں، فالوورز اور ویوز میں بدل دیا تھا؟

یہ پیغام کسی کی دل آزاری کے لیے نہیں، بلکہ دل جگانے کے لیے ہے۔ اگر میری کسی بات سے کسی کو دکھ پہنچا ہو، تو میں دل سے معذرت خواہ ہوں۔

آئیے! ہم سب سچے دل سے نیت کریں کہ جو بھی عمل کریں، صرف اللہ کی رضا، انسانیت کی بھلائی، اور مظلوموں کی سچی آواز بننے کے لیے کریں۔
نہ کہ دنیاوی فائدے، شہرت یا لائکس کے لیے۔

اللہ ہمیں اخلاص، غیرت، اور صحیح سمت عطا فرمائے۔
آمین۔
ڈاکٹر عاصمہ زوالفقار راجہ

07/04/2025

عالمی یوم صحت
صحت، انسان کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔
اپنی صحت کا خاص خیال رکھیں، کیونکہ ایک تندرست جسم ہی پُرسکون ذہن اور خوشحال زندگی کی ضمانت ہے۔
خاص طور پر معدہ اور دانتوں کی حفاظت کریں، کیونکہ یہ ہماری مجموعی صحت کی بنیاد ہیں۔
سادہ، متوازن اور قدرتی غذا کو اپنائیں – یہی صحت مند زندگی کی کنجی ہے۔

— عاصمہ ذوالفقار راجہ

07/04/2025
06/04/2025

اے غ-ز-ہ تم یوسف کی طرح خوبصورت ہو
اور عالم اسلام نے بھائیوں کی طرح د ھو کہ دیا😢

06/04/2025

حیا اور تربیت – ایک سماجی ذمہ داری
تحریر:- ڈاکٹر عاصمہ زوالفقار راجہ

معاشرتی اخلاقیات اور اقدار کسی بھی قوم کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں، اور ان کی بنیاد گھریلو تربیت پر ہوتی ہے۔ آج جب ہر دوسری خاتون یہ شکایت کرتی نظر آتی ہے کہ مرد انہیں گھورتے ہیں، تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ یہ رویہ کہاں سے جنم لیتا ہے؟ کیا یہ صرف باہر کے ماحول کا اثر ہے، یا اس کی جڑیں گھر کے اندر پوشیدہ ہیں؟

یہ کہنا کہ مردوں کے بگڑنے کا سبب صرف خواتین کی بے پردگی ہے، ایک سطحی سوچ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بچوں کی ذہن سازی میں والدین، تعلیمی ادارے، معاشرتی رویے، میڈیا اور دوست احباب سب برابر کے شریک ہوتے ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے حیا دار ہوں تو ہمیں ایک متوازن اور مکمل حکمتِ عملی اپنانا ہوگی۔

حیا کی تربیت کیسے دی جائے؟

1. گھر کا ماحول: گھر میں والدین دونوں کو مہذب لباس اور باوقار رویہ اپنانا چاہیے تاکہ بچوں کے ذہنوں میں مثبت اثرات مرتب ہوں۔

2. تعلیم و شعور: بچوں کو مذہبی، اخلاقی، اور سماجی اقدار سکھانے کی ذمہ داری صرف ماؤں پر نہیں بلکہ والدین دونوں پر عائد ہوتی ہے۔

3. نظریں جھکانے کی تعلیم: اسلام نے مرد و عورت دونوں کو نظریں جھکانے کا حکم دیا ہے۔ اگر گھر میں باپ، بھائی، اور دیگر مرد حضرات خود اس اصول پر عمل کریں، تو نوجوان بھی اسی روش کو اپنائیں گے۔

4. میڈیا اور انٹرنیٹ کا کردار: بچوں کی اخلاقی تربیت میں سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کے اثرات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کے انٹرنیٹ کے استعمال پر نظر رکھیں اور انہیں مثبت مواد کی طرف راغب کریں۔

5. روحانی اور اخلاقی تربیت: بچوں کو جسمانی خوبصورتی پر زور دینے کے بجائے روحانی و اخلاقی قدروں کی تعلیم دی جائے تاکہ وہ دوسروں کو ظاہری انداز سے نہیں بلکہ ان کے کردار سے جانچنے کے عادی ہوں۔

ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟

یہ ذمہ داری صرف خواتین کی نہیں، بلکہ پورے معاشرے کی ہے۔ مردوں کو اپنی نظریں جھکانے، خود کو پاکیزہ رکھنے اور اپنی بہنوں، بیٹیوں، اور بیویوں کی عزت کرنے کی تربیت بھی دی جانی چاہیے۔ صرف عورتوں کے لباس کو تنقید کا نشانہ بنانا اور مردوں کی تربیت کو نظر انداز کرنا ایک غیر متوازن رویہ ہے۔

اگر ہم معاشرے میں حقیقی معنوں میں اخلاقی بلندی اور باحیا نسل کی تشکیل چاہتے ہیں تو ہمیں گھر، اسکول، اور سماج میں متوازن اور منصفانہ تربیت کے اصول اپنانا ہوں گے۔ شکایتیں کرنے سے کچھ نہیں بدلے گا، عملی اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ ہمیں اپنے بچوں کو اپنے جسم سے زیادہ اپنی روح کی پہچان کروانی ہوگی۔ یہی وہ راستہ ہے جو ایک مہذب اور اخلاقی معاشرے کی تشکیل میں مددگار ثابت ہوگا۔

06/04/2025

بہن بیٹی کو نہ بگاڑیں — سسرال میں رہنا سکھائیں
تحریر: [عاصمہ راجہ]

ماں کی گود میں پلنے والی بیٹی جب رخصت ہو کر کسی اور گھر کی بہو بنتی ہے تو وہ صرف لباس، زیور اور برتن ساتھ نہیں لے کر جاتی، وہ ماں باپ کی تربیت اور سلیقہ بھی ساتھ لے کر جاتی ہے۔ سسرال میں بیٹی کا رویہ، اُس کے لب و لہجے کی نرمی یا سختی، برداشت یا بے صبری — یہ سب کچھ بتاتا ہے کہ ماں باپ نے اُسے کیا سکھایا۔

آج کل شادی شدہ زندگی میں بگاڑ کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ بیٹی کو صرف پڑھانا، پہنوانا، گھمانا اور بظاہر آزاد خیال بنانا تو سکھا دیا گیا، مگر یہ نہ بتایا گیا کہ سسرال میں کیسے رہا جاتا ہے؟

ہم بیٹی کو ساس سے بچنے کے طریقے سکھاتے ہیں، لیکن ساس کو ماں سمجھنے کا تصور نہیں دیتے۔
ہم اُسے خودداری کا درس تو دیتے ہیں، لیکن شوہر کی مجبوریوں کو سمجھنے کا شعور نہیں دیتے۔
ہم اُسے یہ سکھاتے ہیں کہ تمہارے حقوق سب سے مقدم ہیں، مگر یہ نہیں بتاتے کہ ہر رشتہ فرائض کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔

ساس کو ماں نہ سہی، لیکن ماں جیسا درجہ دیا جا سکتا ہے۔ اگر بہو ادب و لحاظ سے بات کرے، ہر بات پر شکایت نہ کرے، تو ساس بھی دل سے اپناتی ہے۔ اصل میں یہ دل جیتنے کا فن ہے، اور یہ فن تربیت سے آتا ہے — نہ کہ صرف اسکول، کالج یا یونیورسٹی کی تعلیم سے۔

شوہر کے ساتھ تعلقات میں سب سے اہم عنصر اعتماد اور برداشت ہے۔ شوہر روبوٹ نہیں کہ ہر وقت بیوی کی مرضی پر چلے، نہ ہی وہ دشمن ہے جو ہر بات پر جواب دہ ہو۔ شوہر کو قید کرنے کے بجائے اُس کے دل میں جگہ بنائی جائے — محبت، نرمی، خاموشی اور عقل مندی سے۔

اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ نئی نویلی دلہن کسی چھوٹی بات پر سسرال سے میکے آ بیٹھتی ہے۔ اور ماں باپ بھی بغیر تحقیق کیے بیٹی کی ہر بات کو سچ مان کر سسرال والوں پر انگلیاں اٹھانے لگتے ہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے بگاڑ کی ابتدا ہوتی ہے۔ سسرال کے گھر میں جہاں سب نئے چہرے ہوں، وہاں تھوڑا جھکنا پڑتا ہے، تھوڑا برداشت کرنا پڑتا ہے۔ یہ سب کچھ اگر شادی سے پہلے بیٹی کو سمجھا دیا جائے تو بعد میں پچھتانے کی نوبت نہیں آتی۔

ماؤں سے گزارش ہے کہ بیٹی کو ضدی نہ بنائیں، اُسے سنواریں۔ اُسے یہ نہ سکھائیں کہ "تمہارے ساتھ کچھ غلط ہو تو فوراً گھر واپس آ جانا"۔ بلکہ اُسے صبر، حکمت، اور وقت دینے کی عادت ڈالیں۔ اُسے بتائیں کہ ہر رشتہ آزمائشوں سے گزرتا ہے۔ رشتے نبھانے میں عظمت ہے، توڑنے میں نہیں۔

آج کے دور میں سوشل میڈیا، ماڈرن خیالات اور جھوٹی آزادی نے گھروں کو اجاڑ دیا ہے۔ بہو ساس کو دشمن، شوہر کو قیدی، اور میکہ کو پناہ گاہ سمجھتی ہے۔ حالانکہ اصل کامیابی اُس عورت کی ہے جو گھر کو جوڑتی ہے، شوہر کا دل جیتتی ہے، اور سسرال کو اپنوں جیسا مان لیتی ہے۔

آخر میں یہی گزارش ہے کہ خدارا، اپنی بہن بیٹی کو بگاڑنے کے بجائے اُسے سمجھائیں، سکھائیں، اور ایسا بنائیں کہ وہ جہاں بھی جائے، وہاں محبت، عزت اور سکون بکھیر دے۔

Address

Islamabad
44000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Binte Hawa posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Binte Hawa:

Share