Hamara Chitral ہمارا چترال

Hamara Chitral ہمارا چترال This is a Platform where we Publish and Gather News and Views in the interest of ChiTral.

اپر چترال کے فرزند انجینئر تنویر حسن اعلیٰ تعلیم کے لیے جرمنی روانہ​اپر چترال، بریپ علی آباد سے تعلق رکھنے والے انجینئر ...
26/09/2026

اپر چترال کے فرزند انجینئر تنویر حسن اعلیٰ تعلیم کے لیے جرمنی روانہ
​اپر چترال، بریپ علی آباد سے تعلق رکھنے والے انجینئر تنویر حسن اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے جرمنی روانہ ہو گئے ہیں۔ وہ Technical University Dresden (TUD) سے Advanced Computational and Civil Engineering Structural Studies میں دو سالہ M.Sc کی تعلیم حاصل کریں گے۔
​حوالدار (ریٹائرڈ) اکرم جان کے فرزند تنویر حسن نے AKES بریپ، آکسفورڈ پبلک اسکول بونی، اور IIUI سے تعلیم حاصل کی اور مختلف اداروں میں بطور سول انجینئر خدمات انجام دی۔

کند یارخون، اپر چترال کے عمران خان کا روس کی معروف جامعہ میں اسکالرشپ پر داخلہاپر چترال: کند یارخون سے تعلق رکھنے والے ن...
26/09/2026

کند یارخون، اپر چترال کے عمران خان کا روس کی معروف جامعہ میں اسکالرشپ پر داخلہ
اپر چترال: کند یارخون سے تعلق رکھنے والے نوجوان عمران خان نے تعلیمی میدان میں نمایاں کامیابی حاصل کرتے ہوئے روس کی National Research University HSE Moscow میں M.Phil in Foreign Languages and Intercultural Communication کے لیے Fully Funded Scholarship حاصل کر لی۔
عمران خان نے اپنی بیچلر ڈگری اسلام آباد کی National University of Modern Languages (NUML) سے مکمل کی۔ محدود وسائل اور مختلف مشکلات کے باوجود انہوں نے اپنی تعلیمی جدوجہد جاری رکھی اور یہ اہم سنگِ میل عبور کیا۔
عمران خان کو ان کے حلقۂ احباب میں ایک محنتی، خوش اخلاق اور دوسروں کی مدد کرنے والے نوجوان کے طور پر جانا جاتا ہے۔ ان کے مطابق تعلیم کے ساتھ ساتھ انسانیت کی خدمت اور دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنا بھی ان کی ترجیحات میں شامل ہے۔
ان کی یہ کامیابی نہ صرف ان کے خاندان بلکہ اپر چترال کے نوجوانوں کے لیے بھی حوصلہ افزا مثال ہے۔ مقامی حلقوں نے عمران خان کو مبارک باد دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ وہ روس میں اپنی اعلیٰ تعلیم مکمل کرکے مستقبل میں علمی اور انسانی خدمت کے میدان میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

شفاف تحقیقات ضروری ہے،
26/09/2026

شفاف تحقیقات ضروری ہے،

خود کشی قرار دینے سے پہلے اس سوال کا بھی جواب لازمی ہے
دروازہ کھلا کیوں تھا؟
چھت کے پنکھے کے بجائے کھڑکی پر دوپٹہ کیوں ڈالا؟
سب سے پہلے کس نے دیکھا اور عین وقت کس کے کہنے پر وہاں گئی تھی؟؟

وجہ کچھ اور بھی ہوسکتی ہے مگر گیارہ بجے زندہ اہل خانہ سے بات کرنے کے بعد، بارہ بجے ایسا کرنا، اور عین وقت پر کسی کا وہاں پہنچنا یا خبر دینا بھی ایک سوال کھڑا کرتا ہے۔

کیس اتنا آسان نہیں ، غلط خبریں گڑھنے کی کوشش نہ کی جائے

آئی جی خیبرپختونخوا، سی سی پی پشاور سمیت تمام حکومت خیبرپختونخوا اس کیس کی شفاف تحقیقات کو یقنی بنائے

چترال نرسز فورم پاکستان اہل خانہ کیساتھ کھڑی ہے اور اس کیس کو غلط رنگ دینے کی کوشش کی گئی تو بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔

ہم نارتھ ویسٹ ہسپتال انتظامیہ سے بھی تواقع رکھتے ہیں وہ بھی کیس کو رفع دفع کرنے کے بجائے حقائق سے پردہ اٹھانے کا مطالبہ کریں گے

#چترال #نرسز #فورم #پاکستان
Chitral Updates Digital Chumarkhan چمرکھن Anwaz Media Network - AMN Chitraltimes Siraj Uddin

26/09/2026

ریاست کی بے حسی ۔۔۔۔اٹک پل پل صراط بن چکا ہے شہریوں کی ذندگی غذاب بن چکی ہے۔

اسلام آباد کو سیاسی کشمکش کا میدان بنا کر آخر نقصان کون اٹھا رہا ہے؟گزشتہ چند دنوں سے اسلام آباد کے تقریباً ہر داخلی اور...
24/09/2026

اسلام آباد کو سیاسی کشمکش کا میدان بنا کر آخر نقصان کون اٹھا رہا ہے؟

گزشتہ چند دنوں سے اسلام آباد کے تقریباً ہر داخلی اور خارجی راستے پر کنٹینرز کھڑے ہیں۔ 20 تاریخ سے ہی اس خوف کی وجہ سے کہ شہر بند ہو جائے گا، لوگ اسلام آباد آنا چھوڑ چکے ہیں، اور جو لوگ یہاں موجود تھے، ان میں سے بہت سے لوگ شہر سے باہر چلے گئے۔

نتیجہ یہ ہے کہ اسلام آباد جیسے مصروف شہر کی سڑکیں، بازار اور کاروباری مراکز غیر معمولی طور پر سنسان دکھائی دے رہے ہیں۔

کہا جا رہا ہے کہ 27 تاریخ کو احتجاج کے لیے لوگ اسلام آباد آئیں گے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر 27 کو نہیں آئے تو 28، 29 یا 30 تاریخ؟ اور اگر معاملہ مزید آگے بڑھ گیا تو پھر اس کا ذمہ دار کون ہوگا؟

سیاسی جماعتیں اپنی سیاست کریں، احتجاج کریں، اپنے مطالبات رکھیں، یہ ان کا سیاسی حق ہے۔ لیکن ایک سوال ضرور پوچھنا چاہیے:

اس پوری سیاسی کشمکش کی قیمت آخر غریب آدمی کیوں ادا کرے؟

وہ بائیکیا رائیڈر جو روزانہ چند ہزار روپے کما کر گھر کا چولہا جلاتا ہے، وہ چھوٹا دکاندار جس کی روز کی آمدنی ہی اس کے گھر کا خرچ ہے، وہ رکشہ اور آن لائن ڈرائیور، ہوٹل اور گیسٹ ہاؤس کا ملازم، ریسٹورنٹ کا کارکن، چھوٹا کاروباری شخص اور دیہاڑی دار مزدور... ان لوگوں کا کیا قصور ہے؟

میں ایک بائیکیا رائیڈر سے ملا۔ اس نے بتایا کہ اس کے پاس گھر کی کل بچت صرف 5 ہزار روپے تھی۔ گزشتہ چند دنوں کے حالات میں وہ رقم بھی خرچ ہو گئی۔ اس نے اپنا نمبر بھی اس امید پر دیا کہ اگر گھر میں کھانے پینے کی ضرورت پڑی تو شاید کسی سے مدد مانگ سکے۔

سوچیے!

ایک محنت کش انسان جو کل تک اپنے گھر کا خرچ اپنی محنت سے چلا رہا تھا، آج اس خوف میں مبتلا ہے کہ اگر یہی صورتحال مزید جاری رہی تو وہ اپنے بچوں کو کیا کھلائے گا؟

یہ صرف ایک شخص کی کہانی نہیں۔ ایسے ہزاروں لوگ اسلام آباد میں روزانہ کی آمدنی پر زندہ ہیں۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ صرف تین چار دن کا مسئلہ نہیں رہا۔ بار بار کے احتجاج، دھرنے، راستوں کی بندش اور سیاسی کشیدگی نے کاروباری طبقے اور دیہاڑی دار طبقے کو مسلسل غیر یقینی صورتحال میں مبتلا کر دیا ہے۔

اسلام آباد کسی ایک جماعت کا شہر نہیں۔

یہاں ہر سیاسی جماعت کے کارکن آتے ہیں، ہر صوبے کے لوگ روزگار کے لیے آتے ہیں، یہاں چھوٹے کاروبار کرنے والے ہزاروں خاندان آباد ہیں، اور لاکھوں لوگ اپنے روزگار سے وابستہ ہیں۔

ہماری انتہائی عاجزانہ گزارش ہے کہ موجودہ حکومت، ریاستی ادارے اور تمام سیاسی جماعتیں اس مسئلے کا ایسا مستقل اور آئینی حل نکالیں کہ احتجاج بھی ہو، سیاسی اختلاف بھی ہو، مگر عام آدمی کا روزگار بند نہ ہو۔

ہم کسی حکومت کے حامی یا مخالف بن کر یہ بات نہیں کر رہے۔

ہم صرف یہ کہہ رہے ہیں کہ اقتدار کسی کے پاس بھی ہو، نقصان غریب کا نہیں ہونا چاہیے۔

آج اگر کوئی پارٹی اقتدار میں ہے تو کل کوئی دوسری پارٹی ہو سکتی ہے۔ لیکن غریب آدمی کے گھر کا چولہا سیاسی حکومتوں کے بدلنے سے نہیں، روزانہ کی محنت سے جلتا ہے۔

خدارا اس مسئلے کو صرف سیاسی مسئلہ نہ سمجھیں۔

یہ ایک معاشی اور انسانی مسئلہ بھی ہے۔

اسلام آباد کو بار بار بند کرنے کی سیاست کا سب سے بڑا بوجھ ان لوگوں پر پڑتا ہے جو پہلے ہی مشکل سے اپنے گھر چلا رہے ہیں۔

ہماری اپیل صرف اتنی ہے:

سیاست ضرور کریں، اختلاف ضرور کریں، احتجاج ضرور کریں، لیکن ایسا راستہ اختیار کریں جس میں غریب کی روزی، مزدور کی دیہاڑی اور چھوٹے کاروبار کا پہیہ بند نہ ہو۔

کیونکہ سیاسی لڑائیاں ختم ہو جاتی ہیں، حکومتیں بدل جاتی ہیں، دھرنے ختم ہو جاتے ہیں۔

مگر جس غریب کی کئی دن کی روزی چلی جائے، اس کے گھر کا چولہا دوبارہ جلنے میں بہت وقت لگتا ہے۔

76 سال کی عمر میں شادی…! 😲❤️لوگ حیران رہ گئے، مگر اس کہانی میں عمر سے کہیں زیادہ خوبصورت ایک پیغام چھپا ہے۔آغا خان یونیو...
24/09/2026

76 سال کی عمر میں شادی…! 😲❤️
لوگ حیران رہ گئے، مگر اس کہانی میں عمر سے کہیں زیادہ خوبصورت ایک پیغام چھپا ہے۔

آغا خان یونیورسٹی کے معروف پروفیسر ڈاکٹر آغا ذوالفقار خان نے 76 سال کی عمر میں شادی کر کے ثابت کر دیا کہ زندگی میں خوشی اور محبت کے لیے کوئی عمر مقرر نہیں ہوتی۔

کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ ایک خاص عمر کے بعد زندگی میں نئی شروعات کی گنجائش نہیں رہتی۔ مگر شاید زندگی کا اصل حسن ہی یہی ہے کہ انسان جب چاہے، اپنے لیے خوشی کا ایک نیا باب کھول سکتا ہے۔

ڈاکٹر خان کی یہ نئی شروعات بہت سے لوگوں کے لیے ایک خوبصورت مثال بن گئی ہے۔

زندگی چاہے 20 سال کی ہو یا 76 سال کی…
اگر دل میں امید باقی ہے تو نئی شروعات ہمیشہ ممکن ہے۔ ❤️

اللہ تعالیٰ ڈاکٹر آغا ذوالفقار خان اور ان کی شریکِ حیات کو محبت، سکون اور بے شمار خوشیوں سے نوازے۔ آمین۔ 🤲

محبت کی کوئی عمر نہیں ہوتی۔
اور خوش رہنے کے لیے کبھی دیر نہیں ہوتی۔ ❤️

21/09/2026

جو آپ سوچ رہے ہو وہ بھی ٹھیک ہے۔۔

اشرافیہ اور غریب عوام کی اس سے اچھی تعریف نہیں ہو سکتی۔محنت کس کی اور فاٸیدہ کون اٹھا رہا ہے،
21/09/2026

اشرافیہ اور غریب عوام کی اس سے اچھی تعریف نہیں ہو سکتی۔
محنت کس کی اور فاٸیدہ کون اٹھا رہا ہے،

ایک طرف علیمہ خان کی گرفتاری پر PTI کارکنان احتجاج کر رہے ہیں، اور دوسری طرف چترال کی ایم پی اے کی گرفتاری کو 27 ستمبر ک...
20/09/2026

ایک طرف علیمہ خان کی گرفتاری پر PTI کارکنان احتجاج کر رہے ہیں، اور دوسری طرف چترال کی ایم پی اے کی گرفتاری کو 27 ستمبر کے اعلان کردہ لانگ مارچ سے جوڑا جا رہا ہے۔ کارکنان کا کہنا ہے کہ چترال سے مارچ میں خاطرخواہ لوگ نہ نکلنے کی صورت میں ہونے والی سیاسی سبکی سے بچنے کے لیے گرفتاری کو حکمتِ عملی بنایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب عوام سے کیے گئے وعدوں کے مطابق ابھی تک ایک ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر تک نہیں دیا جا سکا تو باقی کاموں کی بات ہی کیا کی جائے۔ انہیں معلوم ہے کہ 27 ستمبر کو چترال سے بندہ نہیں نکلے گا، اس لیے اس شرمندگی سے بچنے کے لیے خود کو گرفتار کروا لیا گیا ہے۔

20/09/2026

عمران خان کی بہن علیمہ خان کو گرفتار کر لیا گیا

Address

Islamabad
44000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hamara Chitral ہمارا چترال posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Hamara Chitral ہمارا چترال:

Shortcuts

Share