07/05/2026
ہمیں یہ غلط پڑھایا گیا ہے۔ کہ انصاف ہونا چاہیے حالانکہ قران میں اسکا کوئی تصور نہیں ہے،
اسلام ہمیں انصاف کا نہیں بلکہ عدل کا حکم دیتا ہے
انصاف دراصل ایک مہذب شکل میں ظلم ہے
یا یوں کہہ لیجۓ یہ ظلم کی ایک مہذب شکل ہے
جو صدیوں سے ہمیں نظام عدل کے نام پر لکھائی، پڑھائی اور نافظ کی گئی چیزیں ہیں۔
تین لوگ ہیں ایک طاقت ور ایک درمیانہ ایک کمزور اب تینوں، کو دس دس اینٹیں اٹھانے کو کہیں تو یہ انصاف ہوگا کیونکہ سب کو برابر دیا گیا ہے
لیکن طاقتور کو 15 درمیانے کو 10 کمزور کو 5 اینٹیں دی گئ ہیں تو یہ عدل ہوگا
تین آفراد آپکے پاس آتے ہیں ایک بچہ ایک بیمار اور ایک صحت مند والد آپکے پاس تین روٹیاں تین پیک دودھ اور تین جوس ہیں آپ تینوں کو ایک ایک چیز دینگے انصاف تو ہو جائیگا مگر نتیجہ ظلم ہوگا
عدل یہ ہے کہ بچہ دودھ مریض جوس اور صحت مند روٹیاں لے
میرے ملک میں ایک رکشے والا دو ہزار کا جرمانہ ادا کرے اور ایک مرسڈیز گاڑی والا بھی اتنا ہی دے تو یہ انصاف تو ہوگا لیکن درحقیقت یہ بھی ایک ظلم ہے
رکشے والا راشن کاٹ کر جرمانہ بھرے گا اور مرسڈیز والا جیب سے نوٹ نکال کر تو کہاں کا انصاف ہوگا ؟
اگر یہاں عدل ہوتا تو جرمانہ آمدنی کے مطابق ہوتا
فن لینڈ میں واقعی ایسا ہوتا ہے جرمانے آمدنی کے حساب سے ہوتے ہیں ایک امیر آدمی اگر تیزرفتاری کرے تو لاکھوں روپے جرمانہ ہوگا اور اگر کوئی غریب مزدور کرے تو چند روپوں کا چلان ہوتا ہے۔
یہی عدل سب پر قانون ایک ہو لیکن جزا سزا اسکی حثیت کے مطابق ہونی چاہیے
ہم سب کو ایک جیسا قانون ایک جیسا جرمانہ اور پھر حیران ہوتے ہیں یہ معاشرہ ظالم کیوں بن گیا ہے
یاد رکھیں برابری ضروری نہیں ضرورت کے مطابق دینا ضروری ہے 🌿