Jalalpur Jattan Media House

Jalalpur Jattan Media House Jalalpur Jattan Daily News Update and also Government of Pakistan and Punjab Related News

08/05/2026

شہید کنٹسیبل فیاض علی شاہ کی نمازِ جنازہ امروز مورخہ 08.05.2026 بروز جمعہ 12 بجیدن پولیس لائن گجرات میں ادا کی جائے گی.

علاقہ تھانہ کڑیانوالہ اور علاقہ تھانہ ککرالی (ضلع گجرات) کے سرحدی علاقہ پہوچھ اور ڈوئیاں میں پولیس مقابلہ دو طرفہ فائرنگ...
01/04/2026

علاقہ تھانہ کڑیانوالہ اور علاقہ تھانہ ککرالی (ضلع گجرات) کے سرحدی علاقہ پہوچھ اور ڈوئیاں میں پولیس مقابلہ
دو طرفہ فائرنگ کے تبادلے میں پولیس ملازم عمر آفتاب موقع پر شہید ہو گیا۔
ذرائع کے مطابق ملک پور مرزا کا رہائشی ڈکیت بھی مارا گیا۔
ذرائع کے مطابق موٹر سائیکل سوار ڈکیت خاتون سے بالیاں چھین کر فرار ہوئے تھے جس پر پولیس چوکی جلالپور صوبتیاں میں تعینات ملازم عمر آفتاب اور ساتھی نے پیچھا کیا تو پہوچھ کے قریب ڈاکووں سے سامنا ہو گیا۔
اطلاع ملتے ہی تھانہ ککرالی اور تھانہ کڑیانوالہ و ضلعی اور سی سی ڈی گجرات بھاری نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچ گئی۔
بتایا جا رہا ہے کہ کنسٹیبل عمر آفتاب 5 بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا۔
دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن جاری

25/03/2026
بریکنگ نیوز ⛽🚨پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 55/55 روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا گیا۔!نئی قیمتوں کا اطلاق ہو گیا۔!...
06/03/2026

بریکنگ نیوز ⛽🚨
پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 55/55 روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا گیا۔!
نئی قیمتوں کا اطلاق ہو گیا۔!
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ آبنائے ہرمز کی ایران کی طرف سے بندش اور میڈل ایسٹ میں جنگ کی صورتحال کی وجہ سے انٹرنیشنل مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ جیسے ہی جنگ کی صورتحال ختم ہو گی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کر دی جائے گی اگر صورتحال بدستور یہی رہی تو قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔!

26/01/2026

فرنٹ ڈیسک کے قیام کے دس سال: پنجاب پولیس کی اصلاحات کا خاموش مگر نظرانداز شدہ ستون
آئی جی پنجاب،جناب عثمان انور صاحب!یہ چند سطور کسی ذاتی شکوے یا ادارے پر تنقید برائے تنقید کے لیے نہیں، بلکہ پنجاب پولیس کے اُس شعبے کی نمائندہ آواز ہیں جو گزشتہ ایک دہائی سے خاموشی کے ساتھ نظام کو سنبھالے ہوئے ہے—اور اس کے باوجود آج بھی شناخت، اسٹرکچر اور مستقبل کی واضح سمت سے محروم ہے۔ بات ہو رہی ہے پنجاب پولیس فرنٹ ڈیسک کی۔
فرنٹ ڈیسک کو قائم ہوئے تقریباً دس سال ہونے کو ہیں،مگر افسوس کہ آج تک اس کے لیے کوئی واضح سروس اسٹرکچر مرتب نہیں کیا جا سکا۔ پانچ سال بعد مستقل کرنے کا اعلان ضرور ہوا،مگر وہ مستقل حیثیت بھی ابہام کی دھند میں لپٹی ہوئی ہے۔نہ واضح رولز، نہ پروموشن کا معیار،نہ گریڈ کی ترتیب—حتیٰ کہ خود فرنٹ ڈیسک پر کام کرنے والوں کو بھی معلوم نہیں کہ وہ کس راستے پر کھڑے ہیں اور آگے ان کے لیے کیا ہے۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پنجاب پولیس کی تقریباً تمام برانچز میں ترقیوں کا عمل جاری ہے۔کہیں پروموشنز ہو رہی ہیں،کہیں گریڈ اپ گریڈ کیے جا رہے ہیں،کہیں نئی پوسٹیں تخلیق کی جا رہی ہیں۔مگر فرنٹ ڈیسک،جو عملی طور پر پورے نظام کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے، ہر بار اس فہرست سے باہر کیوں رہ جاتا ہے؟کیا فرنٹ ڈیسک پولیس کا حصہ نہیں، یا اسے صرف ایک عارضی انتظام سمجھ لیا گیا ہے؟
فرنٹ ڈیسک وہ پلیٹ فارم ہے جس نے پولیس اور عوام کے درمیان فاصلے کم کیے۔ پولیس کا وہ تاریخی امیج،جو خوف،بداعتمادی اور طاقت کے غلط استعمال سے جڑا رہا، کسی سے پوشیدہ نہیں۔عام شہری کے لیے تھانے کا دروازہ ہمیشہ ایک ڈراؤنا تجربہ رہا ہے۔اس فضا کو بدلنے میں فرنٹ ڈیسک نے بنیادی کردار ادا کیا۔آج اگر ایک سائل تھانے میں آ کر عزت کے ساتھ بات کر سکتا ہے،اپنی درخواست درج کرا سکتا ہے،اور جواب کی امید رکھتا ہے تو اس کے پیچھے فرنٹ ڈیسک کی مسلسل محنت ہے۔
یہ کوئی معمولی تبدیلی نہیں تھی، بلکہ ایک خاموش اصلاح تھی—ایسی اصلاح جس پر نہ کبھی باقاعدہ داد دی گئی، نہ اسے ادارہ جاتی سطح پر تسلیم کیا گیا۔فرنٹ ڈیسک نے پنجاب پولیس کے عوامی تشخص کو بہتر بنانے میں جو کردار ادا کیا، وہ محض اعداد و شمار میں نہیں بلکہ عوامی اعتماد میں نظر آتا ہے۔حقیقت یہ بھی ہے کہ پنجاب پولیس کے تمام ڈیجیٹل اقدامات کی بنیاد فرنٹ ڈیسک ہے۔ کرائم ریکارڈ مینجمنٹ ہو،ڈیٹا کی ڈیجیٹائزیشن ہو، یا سی سی ڈی جیسے جدید یونٹس کی کارروائیاں—یہ سب اسی وقت ممکن ہیں جب فرنٹ ڈیسک درست،مکمل اور شفاف ریکارڈ فراہم کرے۔آج سی سی ڈی کی جانب سے جن ریکارڈ یافتہ ملزمان کے خلاف مؤثر کارروائیاں ہو رہی ہیں،وہ دراصل فرنٹ ڈیسک کی برسوں کی محنت کا نتیجہ ہیں۔ اس سے پہلے کے ادوار میں کتنے ہی ریکارڈ یافتہ افراد شواہد موجود ہونے کے باوجود نظام کی کمزوریوں کی وجہ سے آزاد گھومتے رہے۔اس سب کے باوجود فرنٹ ڈیسک کو عملاً لاوارث چھوڑ دیا گیا۔نہ اس کا نام پالیسی میں ہے،نہ اس کی شناخت کسی سروس رول میں، نہ ترقی کا کوئی راستہ،اور نہ ہی وہ عزت جو کسی بھی ادارے میں کام کرنے والے کا بنیادی حق ہوتی ہے۔یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ محدود تنخواہوں اور شدید دباؤ کے باوجود فرنٹ ڈیسک پر آج تک کوئی نمایاں کرپشن کیس سامنے نہیں آیا۔دیانت داری یہاں محض دعویٰ نہیں بلکہ عملی حقیقت ہے۔اس کے برعکس وردی میں ملبوس عملہ آئے دن اخلاقی یا مالی بدعنوانی کے الزامات میں نظر آتا ہے۔اگر دیانت داری کو واقعی ادارہ جاتی قدر بنانا مقصود ہے تو فرنٹ ڈیسک اس کی عملی مثال ہے۔تلخ سچ یہ ہے کہ فرنٹ ڈیسک کو زیادہ تر پبلک فیس سیونگ کے لیے استعمال کیا گیا۔عوام کے سامنے ایک مہذب،نرم اور شفاف چہرہ رکھا گیا،اور جب یہ تجربہ کامیاب ہو گیا تو اسے پس منظر میں دھکیل دیا گیا۔نہ اعتراف،نہ تحفظ،نہ مستقبل کی ضمانت۔جنابِ آئی جی صاحب!یہ تحریر کسی تصادم کی دعوت نہیں، بلکہ ایک مؤدبانہ گزارش ہے۔فرنٹ ڈیسک وہ لوگ ہیں جو روزانہ عوام کا سامنا کرتے ہیں،شکایات سنتے ہیں،دباؤ برداشت کرتے ہیں، اور پھر بھی ادارے کی عزت کو مقدم رکھتے ہیں۔اگر انہیں واضح سروس اسٹرکچر،دیگر برانچز کی طرح پروموشن کا حق،اور باعزت شناخت دے دی جائے تو اس سے نہ صرف ان کے حوصلے بلند ہوں گے بلکہ پنجاب پولیس کے اصلاحی عمل کو بھی حقیقی مضبوطی ملے گی۔امید ہے کہ اس آواز کو شکایت نہیں بلکہ ایک مخلصانہ التجا سمجھا جائے گا،اور فرنٹ ڈیسک کو وہ مقام دینے پر سنجیدگی سے غور کیا جائے گا جس کا وہ برسوں سے انتظار کر رہا
Maryam Nawaz Sharif

#

بچوں کو اکیلے جی ٹی روڈ پر نہ بھیجا کریں!!تقریباً 5 بجے لالہ موسی سے گجرات آتے ہوئے جیلانی ، ڈھیرو گھنہ کے پاس حادثہ پیش...
25/01/2026

بچوں کو اکیلے جی ٹی روڈ پر نہ بھیجا کریں!!

تقریباً 5 بجے لالہ موسی سے گجرات آتے ہوئے جیلانی ، ڈھیرو گھنہ کے پاس حادثہ پیش آیا ہے جس میں ٹویوٹا ہائی ایس کے سامنے اچانک چھوٹی بچی ہاتھ میں 20 روپے پکڑے جی ٹی روڈ کراس کر کے دوکان سے چیز لینے جا رہی تھی جس نے مین جی ٹی روڈ کی تیز ٹریفک کو ان دیکھا کرتے ہوئے سڑک کراس کرنے کی کوشش کی مگر تیز ٹریفک کے بہاؤ میں ٹویوٹا ہائی ایس سے ٹکرا گئی۔ ہائی ایس والے نے چھوٹی بچی کو بچانے کی پوری کوشش کی اور اپنا سواریوں سے بھرا ٹویوٹا ہائی ایس درخت کے ساتھ جا لگا اگر وہاں درخت نہ ہوتا تو چھوٹی بچی تو زخمی ہوئی ساتھ ہی ہائی ایس بھی الٹ سکتا تھا۔

اللہ کے فضل سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کو اکیلے سڑک کراس نہ کرنے دیں۔
ضلعی انتظامیہ کو بھی چاہیے کہ سکولوں میں روڈ سیفٹی کے حوالے سے سیمینار کا انعقاد کروائیں تاکہ بچوں کی راہنمائی ہو سکے۔

23/01/2026

سوک کلاں جلالپور جٹاں کے پاس رات گئے طوفانی بارش کے بعد بجلی کا پول گر گیا جس سے علاقے میں بجلی کی فراہمی معطل ہے۔
اسی طرح جلالپور جٹاں شہر میں بھی مختلف علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہے۔
واپڈا والوں سے رابطہ کرنے پر بتایا گیا کہ طوفانی بارش کی وجہ سے فیڈر میں فنی خرابی آئی ہے جس کو دور کیا جا رہا ہے اور جلد بجلی بحال ہو جائے گی۔

GEPCO Gujranwala

22/11/2025
15/11/2025

فری میڈیکل کیمپ!

Address

Jalalpur Jattan
50780

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Jalalpur Jattan Media House posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share