23/05/2026
وفاداریوں کے بوجھ سے بکھرے ہوئے احساسات!
انسانی احساسات کی پوری کائنات میں شاید سب سے زیادہ جاں گسل احساس “ندامت” ہے… مگر وہ ندامت نہیں جو کسی گناہ یا بدکرداری کے بعد دل پر اترتی ہے، بلکہ وہ ندامت جو انسان کو اپنی ہی بے پناہ اچھائی، اپنی حد سے بڑھی ہوئی وفاداری، اور ضرورت سے زیادہ خلوص پر ہونے لگتی ہے۔
یقین کیجیے، خود اپنے آپ پر افسوس کرنا روح کے لیے نہایت تلخ عذاب ہے…
یہ احساس کہ تم نے کسی تعلق کو اُس وقت تک تھامے رکھا جب اسے بہت پہلے چھوڑ دینا چاہیے تھا…
کہ تم ایک ٹوٹتے ہوئے رشتے میں وقفے ڈالتے رہے، حالانکہ وہاں مدتوں پہلے ایک آخری نقطہ ثبت ہو جانا چاہیے تھا…
کہ تم نے اُس ہاتھ کو محبت سے تھامے رکھا جسے حقیقت آشکار ہو جانے کے بعد خاموشی سے جھٹک دینا لازم تھا…
کتنی مرتبہ تمہارے سامنے سچ بولا گیا، کتنی بار حقیقت نے تمہارا دروازہ کھٹکھٹایا، مگر تم نے ہر تلخ جملے کو “زبان کی لغزش” کہہ کر ٹال دیا…
تم سب کچھ دیکھ رہے تھے، ہر منظر تمہاری آنکھوں کے سامنے واضح تھا، مگر تم نے دانستہ اپنی بینائی پر دھند ڈال لی، صرف اس لیے کہ دل اُس حقیقت کو ماننے پر آمادہ نہ تھا جسے روح بہت پہلے پہچان چکی تھی۔
تم ہر بار معاف کرتے رہے…
ہر زخم کے بعد خود کو یہ تسلی دیتے رہے کہ شاید اب کی بار حالات بدل جائیں گے، شاید محبت اپنی کھوئی ہوئی حرارت واپس پا لے، شاید ٹوٹا ہوا بھروسا پھر سے جڑ جائے…
حالانکہ تم دل ہی دل میں جانتے تھے کہ جن کشتیوں میں شگاف پڑ جائیں، وہ سمندر کا سفر مکمل نہیں کیا کرتیں۔
اور یہی انسان کا سب سے بڑا المیہ ہے…
وہ بعض اوقات حقیقت سے نہیں ہارتا، بلکہ اپنی امیدوں سے ہار جاتا ہے۔
وہ دوسروں کے ظلم سے اتنا نہیں ٹوٹتا جتنا اپنی خاموش وفاداریوں کے بوجھ سے بکھر جاتا ہے۔
تو اے میرے دوست…
اگر تمہیں ابتدا ہی سے معلوم تھا کہ یہ کشتی شکستہ ہے، اس کے تختے پانی چھوڑ رہے ہیں، اور اس کا انجام غرق ہونا ہے…
تو پھر آخر تم اتنی دیر تک اس میں سوار کیوں رہے؟
د۔ أدهم الشرقاوي
ترجمہ: امتیاز احمد سندھی