TashHeer2016

TashHeer2016 Get jobs updates on every Sunday. Note: Apply any job at your own risk.

30/07/2026

فکرِ نو میگزین: فکری بیداری اور علمی و ادبی سفر کا آغاز

تعارف

عصرِ حاضر میں علم و ادب کا فروغ اور فکری صحت کا بقا معاشرے کی اہم ترین ضرورت بن چکی ہے۔ انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل میڈیا کے اس دور میں جہاں معلومات کی فراوانی ہے، وہیں معیاری، متوازن اور سنجیدہ مواد کی دستیابی ایک بڑا چیلنج بھی ہے۔ اسی ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے ادبی و فکری ای میگزین "فکرِ نو" کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ ان شاء اللہ، فکرِ نو کا پہلا شمارہ یکم ستمبر کو شائع کیا جائے گا، جو قارئین کے لیے علم، ادب اور مثبت فکر کا ایک نیا دریچہ ثابت ہوگا۔ یہ میگزین محض تحریروں کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک ایسی تحریک ہے جو مطالعے کے فروغ، فکری بیداری اور تعمیری سوچ کو عام کرنے کے لیے وقف ہوگی۔

مقاصد اور نظریاتی اساس

فکرِ نو کا بنیادی مقصد نوجوان نسل میں مطالعے کا شوق پیدا کرنا، تنقیدی اور تخلیقی صلاحیتوں کو نکھارنا اور معاشرتی اقدار کو فروغ دینا ہے۔ آج کے دور میں سوشل میڈیا نے اگرچہ معلومات تک رسائی آسان بنا دی ہے، لیکن سنجیدہ مطالعے کی روایت کمزور پڑتی جا رہی ہے۔ فکرِ نو اس خلا کو پُر کرنے کی کوشش کرے گا۔ اس کے صفحات میں ادب، مذہب، اخلاقیات، سائنس، تاریخ، معاشیات، حالاتِ حاضرہ، افسانے، ناول، شاعری، مضامین اور تحقیق پر مبنی معیاری مواد شامل کیا جائے گا تاکہ ہر عمر اور ہر ذوق کے قارئین مستفید ہو سکیں۔

نعیم ای بکس اینڈ کمپوزنگ سروسز کا کردار

نعیم ای بکس اینڈ کمپوزنگ سروسز اس ادبی منصوبے کی اشاعت اور تکنیکی تیاری کا بنیادی ادارہ ہے۔ یہ ادارہ ڈیجیٹل کتابوں کی تیاری، کمپوزنگ، کتابت، ای بکس کی اشاعت اور تعلیمی مواد کی تیاری کے میدان میں خدمات انجام دے رہا ہے۔ فکرِ نو میگزین کی ڈیزائننگ، کمپوزنگ، ترتیب، پروف ریڈنگ اور آن لائن اشاعت کے تمام مراحل اسی ادارے کی نگرانی میں مکمل کیے جائیں گے تاکہ قارئین کو اعلیٰ معیار کا مطبوعہ مواد فراہم کیا جا سکے۔

ڈیجیٹل دور اور علمی انقلاب

موجودہ دور ڈیجیٹل اشاعت کا دور ہے، جہاں ایک اچھی کتاب یا میگزین دنیا بھر کے قارئین تک چند لمحوں میں پہنچ سکتا ہے۔ فکرِ نو اسی جدید رجحان کو اپناتے ہوئے اردو زبان و ادب کو نئی نسل سے جوڑنے کی کوشش کرے گا۔ یہ میگزین اس بات کا ثبوت ہوگا کہ محدود وسائل کے باوجود اخلاص، محنت اور بہترین منصوبہ بندی کے ذریعے ایک مضبوط ادبی پلیٹ فارم قائم کیا جا سکتا ہے۔ امید ہے کہ یکم ستمبر سے شروع ہونے والا یہ سفر مستقبل میں اردو ادب کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا۔

نتیجہ

فکرِ نو صرف ایک ای میگزین نہیں بلکہ ایک مثبت ادبی اور فکری تحریک ہے۔ اس کا مقصد نئے اور تجربہ کار لکھاریوں کو ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے جہاں ان کی تخلیقات وسیع حلقۂ قارئین تک پہنچ سکیں۔ ہم تمام اہلِ قلم، محققین، شعرا اور قارئین کو دعوت دیتے ہیں کہ اس سفر میں ہمارا ساتھ دیں اور علم، ادب اور مطالعے کے فروغ میں اپنا کردار ادا کریں۔ ہمیں یقین ہے کہ فکرِ نو اردو ادب کے افق پر ایک روشن اضافہ ثابت ہوگا اور معاشرے میں مثبت فکری تبدیلی کی بنیاد رکھنے میں اپنا حصہ ادا کرے گا۔

ترتیب و پیشکش: نعیم ای بکس اینڈ کمپوزنگ سروسز

30/07/2026

دورِ حاضر ٹیکنالوجی کا دور ہے، جہاں معلومات کی فراوانی تو ہے لیکن علم کی گہرائی ناپید ہوتی جا رہی ہے۔ اسمارٹ فونز اور سوشل میڈیا کے اس عہد میں، ہماری نوجوان نسل کتابوں سے اس قدر دور ہو چکی ہے کہ کتاب کو دیکھنا بھی اب ایک اجنبی عمل محسوس ہوتا ہے۔ مطالعے سے یہ دوری محض ایک وقتی رجحان نہیں بلکہ ایک قومی المیہ بنتی جا رہی ہے، جس کے دور رس اثرات ہماری تہذیبی اور فکری بقا کے لیے خطرہ ہیں۔ اسی خلا کو پر کرنے اور ایک مثبت علمی تبدیلی لانے کے لیے ہم نے "فکرِ نو" کے نام سے ایک ای میگزین کا آغاز کرنے کا عزم کیا ہے۔ یہ میگزین محض تحریروں کا مجموعہ نہیں، بلکہ یہ ان چار بنیادی ستونوں پر کھڑا ہے جن کا مقصد ہماری نوجوان نسل کی فکری آبیاری اور علمی بیداری ہے۔

پہلی وجہ: نوجوان نسل میں مطالعہ کا شوق بیدار کرنا:
مطالعہ انسان کی سوچ کو جِلا بخشتا ہے، مگر بدقسمتی سے آج کا نوجوان "شارٹ کٹ" اور سطحی معلومات کا عادی ہو چکا ہے۔ "فکرِ نو" کا سب سے اہم مشن نوجوانوں میں مطالعے کا شوق دوبارہ بیدار کرنا ہے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ جب تک نوجوانوں کو ایسے مواد تک رسائی نہیں ملے گی جو ان کی دلچسپی کا بھی ہو اور ان کی فکر کو مہمیز بھی کرے، تب تک مطالعے کی عادت کو فروغ نہیں دیا جا سکتا۔ ہمارا میگزین پیچیدہ علمی مباحث کو سادہ، دلکش اور جدید اسلوب میں پیش کرے گا تاکہ مطالعہ ایک بوجھ نہیں بلکہ ایک خوشگوار مشغلہ بن جائے۔

دوسری وجہ: نئی نسل تک علمی، تحقیقی، ادبی اور اسلامی معلومات پہنچانا:
آج کا دور نظریاتی جنگ کا دور ہے۔ ہماری نئی نسل اکثر مغالطوں اور نیم پختہ معلومات کا شکار ہو جاتی ہے۔ "فکرِ نو" اس بات کا اہتمام کرے گا کہ نوجوانوں تک مستند علمی، تحقیقی، ادبی اور اسلامی معلومات پہنچائی جائیں۔ ہم ایسی تحریروں کو ترجیح دیں گے جو نوجوانوں کے دل و دماغ کو روشن کریں، انہیں اپنی تاریخ سے جوڑیں، اور اسلامی اقدار کی روشنی میں عصری تقاضوں کو سمجھنے کی بصیرت فراہم کریں۔ تحقیق اور ادب کا حسین امتزاج ہی وہ راستہ ہے جس سے ہم اپنی نسل کو فکری انتشار سے بچا کر ایک مستحکم راستے پر گامزن کر سکتے ہیں۔

تیسری وجہ: رائٹرز کو مالی فائدے پہنچانا
تحریر ایک مقدس مشغلہ ہے، مگر ادب اور تحقیق سے وابستہ بہت سے افراد مالی مشکلات کے باعث اپنا کام جاری نہیں رکھ پاتے۔ ہم "فکرِ نو" کے ذریعے ایک ایسی فضا قائم کرنا چاہتے ہیں جہاں لکھاریوں کی محنت کی قدر کی جائے۔ اس ای میگزین کا ایک اہم مقصد اپنے لکھنے والے ساتھیوں کو مالی طور پر مستفید کرنا بھی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جب تک لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی نہیں ہوگی، تب تک معیاری ادب تخلیق نہیں ہو سکے گا۔ یہ میگزین اپنے قلم کاروں کے لیے ایک ایسا پلیٹ فارم ثابت ہوگا جہاں تخلیق کاروں کو نہ صرف پذیرائی ملے گی بلکہ انہیں ان کی علمی خدمات کا معاوضہ بھی مل سکے گا، جس سے قلم کی حرمت برقرار رہے گی۔

چوتھی وجہ: پی ڈی ایف اور ڈیجیٹل کتابوں کی اہمیت و افادیت سمجھانا:
جدید دور میں ڈیجیٹل مطالعہ وقت کی ضرورت ہے۔ بہت سے لوگ اب بھی کاغذ کی کتاب اور ڈیجیٹل کتاب (پی ڈی ایف) کے درمیان تضاد پیدا کرتے ہیں، حالانکہ پی ڈی ایف کتابیں علم کو ہر خاص و عام تک پہنچانے کا سب سے آسان اور سستا ذریعہ ہیں۔ "فکرِ نو" کے ذریعے ہم اس حقیقت کو اجاگر کریں گے کہ کس طرح ڈیجیٹل لائبریریاں علم کے پھیلاؤ میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں۔ پی ڈی ایف فارمیٹ میں مواد کی دستیابی کا مطلب یہ ہے کہ ایک طالب علم دنیا کے کسی بھی کونے میں بیٹھ کر چند سیکنڈز میں اپنی مطلوبہ معلومات حاصل کر سکتا ہے۔ ہم نوجوانوں کو یہ سکھائیں گے کہ ٹیکنالوجی کو محض تفریح کے لیے نہیں، بلکہ اپنے تعلیمی سفر کو آسان اور مؤثر بنانے کے لیے کیسے استعمال کیا جائے۔

اختتامیہ:
"فکرِ نو" کا یہ سفر ایک ایسی تحریک کا آغاز ہے جس کی بنیاد مطالعے کے شوق، علمی بصیرت، قلم کاروں کی تکریم اور جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے درست استعمال پر رکھی گئی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ قومیں تب ہی ترقی کرتی ہیں جب وہ پڑھنے اور سوچنے کا عمل نہیں چھوڑتیں۔ ہم امید رکھتے ہیں کہ "فکرِ نو" نوجوان نسل کے لیے ایک مشعلِ راہ ثابت ہوگا اور ہماری قوم کو دوبارہ کتاب سے جوڑنے میں کامیاب ہوگا۔

نعیم ای بکس اینڈ کمپوزنگ سروسز، اس عزم کے ساتھ پرعزم ہے کہ ہم اپنی نسلوں کو تاریکی سے نکال کر علم کی روشنی کی طرف لے جائیں گے، کیونکہ جو قومیں کتاب سے ناطہ توڑ لیتی ہیں، وہ تاریخ کے دھارے میں گم ہو جاتی ہیں۔ آئیے، مل کر "فکرِ نو" کے اس کارواں کو آگے بڑھائیں اور مطالعے کے اس روشن مستقبل کو یقینی بنائیں۔

26/07/2026

آج کا دور ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل میڈیا کا دور ہے۔ دنیا بھر میں علم و ادب کا دائرہ کاغذی صفحات سے نکل کر ڈیجیٹل سکرینز تک پھیل چکا ہے۔ کتابیں اب الیکٹرانک شکل یعنی ای بکس (E-Books) کی صورت میں لاکھوں قاریوں تک لمحوں میں پہنچ جاتی ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں مصنفین نے اس جدید رجحان کو خوش آمدید کہا ہے اور وہ اپنی تخلیقات کو ڈیجیٹل فارمیٹ میں شائع کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ لیکن یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں کے مصنفین ای بک لکھنے اور ڈیجیٹل پبلشنگ کی طرف آنے سے شدید کتراتے ہیں اور خوف محسوس کرتے ہیں۔

آخر وہ کون سی وجوہات ہیں جو ہمارے لکھاریوں کو ڈیجیٹل کتابیں لکھنے سے روکتی ہیں؟ آئیے ان کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں:

۱۔ روایتی سوچ اور کاغذی کتاب کا سحر

ہمارے بیشتر مصنفین روایتی اندازِ تحریر اور پبلشنگ کے عادی ہیں۔ ان کے نزدیک کتاب صرف وہی ہے جو ہاتھ میں پکڑی جا سکے، جس کے ورق الٹے جا سکیں اور جس پر پرنٹنگ کی خاص مہک ہو۔ وہ ڈیجیٹل سکرین پر کتاب پڑھنے یا لکھنے کو کتاب کا نعم البدل تسلیم کرنے سے گریزاں ہیں، جس کی وجہ سے وہ اس جدید انقلاب سے دور ہیں۔

۲۔ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے ناواقفیت

ہمارے کئی نامور اور کہنہ مشق مصنفین جدید کمپیوٹر سافٹ ویئر، فارمیٹنگ، پی ڈی ایف میکنگ، ای پب (EPUB) فارمیٹس اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے استعمال سے پوری طرح آگاہ نہیں ہیں۔ ٹیکنالوجی کا یہ استعمال انہیں ایک مشکل اور الجھا ہوا کام معلوم ہوتا ہے، جس کی وجہ سے وہ اس میدان میں قدم رکھنے سے ڈرتے ہیں۔

۳۔ کاپی رائٹ اور چوری کا خوف

ہمارے لکھاریوں میں یہ ڈر بہت زیادہ پایا جاتا ہے کہ اگر انہوں نے اپنی کتاب ای بک کی شکل میں شائع کر دی، تو انٹرنیٹ پر اس کی پائریسی (Piracy) ہو جائے گی۔ لوگ مفت میں اس کی کاپیاں ڈاؤن لوڈ کر لیں گے، پی ڈی ایف شیئر کر دیں گے اور اس طرح ان کی محنت اور معاشی حقوق محفوظ نہیں رہیں گے۔

۴۔ مارکیٹنگ اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا فقدان

روایتی پبلشرز کتاب کو خود مارکیٹ کرتے ہیں، جب کہ ای بک کے معاملے میں مصنف کو خود ہی پلیٹ فارمز (جیسے ایمیزون کینڈل یا دیگر ویب سائٹس) پر کتاب کی تشہیر کرنا پڑتی ہے۔ آن لائن پیمنٹ گیٹ وے اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ کا نظام ہمارے ہاں پیچیدہ اور عام مصنف کی پہنچ سے باہر محسوس ہوتا ہے، جو خوف کا ایک بڑا سبب ہے۔

۵۔ معاشی منافع کا عدم اعتماد

ہمارے معاشرے میں ڈیجیٹل کتابیں خریدنے کا رجحان ابھی تک اس سطح پر نہیں پہنچا جہاں مصنف کو خاطر خواہ مالی منافع مل سکے۔ مصنفین یہ سوچتے ہیں کہ ڈیجیٹل کتاب لکھ کر بھی انہیں کوئی خاص مالی فائدہ نہیں ہوگا، اس لیے وہ بلاوجہ کی محنت سے بچتے ہیں۔

---

مصنفین سے ایک پرخلوص گزارش

اے قلم کے سپاہیو! اور علم و ادب کے معمارو! وقت کا تقاضا ہے کہ ہم فرسودہ خیالات اور روایتی خوف کو بالائے طاق رکھ کر ڈیجیٹل دنیا کا رخ کریں۔

خرچے کی بچت:روایتی کتاب کی چھپائی (Printing) اب انتہائی مہنگی ہو چکی ہے، جس پر کاغذ، بائنڈنگ اور پریس کے اخراجات کا پہاڑ جیسا بوجھ ہوتا ہے۔ ای بک لکھنے سے آپ کے یہ تمام اخراجات صفر ہو جاتے ہیں اور آپ کم لاگت میں اپنی بات دنیا تک پہنچا سکتے ہیں۔
نئی نسل کی ترغیب: آج کا نوجوان اور نئی نسل کتب خانوں کے طاقچوں کے بجائے موبائل فون اور ٹیبلیٹ کی سکرین پر مطالعہ کرنا زیادہ پسند کرتی ہے۔ اگر آپ ڈیجیٹل کتابیں نہیں لکھیں گے، تو نئی نسل کتابوں سے کٹ کر محض اسکرین کے بے مقصد مواد میں الجھ کر رہ جائے گی۔

آئیے، اپنے خوف کو توڑیے، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو اپنائیے، اور ای بکس کی دنیا میں قدم رکھیے تاکہ آپ کا علم کم خرچ میں دنیا کے ہر کونے تک پہنچ سکے اور ہماری آنے والی نسل دوبارہ کتابوں کے قریب آ سکے۔

نعیم ای بکس اینڈ کمپوزنگ سروسز

23/07/2026

1. روایتی کتابیں وزنی ہوتی ہیں، جنہیں سفر کے دوران اٹھانا تھکا دینے والا ہو سکتا ہے۔
2. کتابیں گھر میں بہت زیادہ جگہ لیتی ہیں اور الماریوں یا شیلفز کی بڑی ضرورت پڑتی ہے۔
3. عام طور پر انسان سفر میں ایک یا دو سے زیادہ کتابیں ساتھ نہیں لے جا سکتا۔
4. بڑی اور وزنی کتابوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا (خصوصاً شفٹنگ کے وقت) انتہائی مشکل کام ہے۔
5. پرنٹنگ، کاغذ اور بائنڈنگ کے اخراجات کی وجہ سے کاغذی کتابیں اکثر ڈیجیٹل ورژنز کے مقابلے میں مہنگی ہوتی ہیں۔
6. کاغذ کی تیاری کے لیے بڑے پیمانے پر درخت کاٹے جاتے ہیں جو ماحول کے لیے نقصان دہ ہے۔
7. کاغذ بنانے کے عمل میں پانی کا بے دریغ استعمال اور آلودگی پیدا ہوتی ہے۔
8. استعمال شدہ کتابیں عموماً بہت کم قیمت پر بکتی ہیں یا ضائع کرنی پڑتی ہیں۔
9. روایتی کتاب میں کسی مخصوص لفظ، جملے یا موضوع کو تلاش کرنے کے لیے پورا صفحہ یا انڈیکس دیکھنا پڑتا ہے۔
10. کتاب کا پرنٹ شدہ سائز فکس ہوتا ہے؛ بصارت کے کمزور حامل افراد یا بزرگوں کے لیے چھوٹا فونٹ پڑھنا مشکل ہوتا ہے۔
11. اندھیرے یا رات کے وقت روشنی کے بغیر روایتی کتاب نہیں پڑھی جا سکتی، جس سے دوسروں کو بھی خلل پڑ سکتا ہے۔
12. کتاب کے حاشیے محدود ہوتے ہیں، تفصیلی نوٹس لکھنے کے لیے الگ سے کاپی کی ضرورت پڑتی ہے۔
13. پرانی کتابوں کو دیمک، گھن یا دیگر کیڑے بہت جلد نقصان پہنچاتے ہیں۔
14. بارش یا مرطوب موسم میں کاغذ گلنے لگتا ہے اور اس پر پھپھوندی لگ جاتی ہے۔
15. بار بار استعمال یا لاپرواہی سے صفحات پھٹ سکتے ہیں یا کتاب کا شیرازہ بکھر سکتا ہے۔
16. آگ لگنے کی صورت میں کتابیں پل بھر میں راکھ ہو جاتی ہیں، اور پانی پڑنے سے ناقابلِ استعمال ہو جاتی ہیں۔
17. کتاب کو پرنٹنگ پریس سے گزار کر مارکیٹ تک پہنچنے میں مہینوں یا سالوں کا طویل وقت لگتا ہے۔
18. کتاب کو ایک شہر سے دوسرے شہر یا ملک بھیجنے کے لیے بھاری شپنگ اور پوسٹل چارجز دینے پڑتے ہیں۔
19. ایک بار کتاب چھپ جانے کے بعد اس میں غلطی کی اصلاح یا نئی معلومات کا اضافہ اگلے ایڈیشن تک ممکن نہیں ہوتا۔
20. بہت سی کتب کے ایڈیشنز آؤٹ آف پرنٹ ہو جاتے ہیں اور مارکیٹ میں بالکل دستیاب نہیں رہتیں۔

22/07/2026

1. پورٹیبلٹی اور پورٹیبل لائبریری (ہزاروں کتابیں ایک ہی ڈیوائس میں محفوظ کی جا سکتی ہیں)
2. کم لاگت (اکثر ای بکس پرنٹڈ کتابوں سے سستی ملتی ہیں)
3. فوری رسائی اور ڈاؤن لوڈ (انٹرنیٹ کی مدد سے کتاب کو چند سیکنڈز میں حاصل کیا جا سکتا ہے)
4. ماحول دوست (کاغذ کی بچت کے ذریعے درختوں کی کٹائی میں کمی)
5. فونٹ سائز اور اسٹائل کی تبدیلی (پڑھنے میں آسانی کے لیے متن کو اپنی پسند کے مطابق ایڈجسٹ کرنا)
6. بلٹ ان ڈکشنری اور سرچ فیچر (کسی بھی لفظ کا معنی تلاش کرنا یا مخصوص مواد منٹوں میں ڈھونڈنا)
7. رات کو پڑھنے کی سہولت (نائٹ موڈ اور ایڈجسٹ ایبل برائٹنس کی وجہ سے اندھیرے میں بھی پڑھنا ممکن ہے)
8. زیادہ پائیداری (کاغذ کی طرح پھٹنے، گلنے یا خراب ہونے کا کوئی خطرہ نہیں ہوتا)
9. شیئرنگ اور ٹرانسفر کی آسانی (ایک ہی فائل کو آسانی سے دوسرے لوگوں کے ساتھ شیئر کیا جا سکتا ہے)
10. ملٹی میڈیا فیچرز (کچھ ای بکس میں آڈیو، ویڈیو اور ہائپر لنکس شامل ہوتے ہیں جو سیکھنے کا عمل بہتر بناتے ہیں)
11. جگہ کی بچت (گھر میں بڑی الماریوں یا بک شیلف کی ضرورت نہیں رہتی)
12. پرنٹنگ کی سہولت (ضرورت پڑنے پر کسی بھی صفحے یا پوری کتاب کا پرنٹ نکالا جا سکتا ہے)
13. پاس ورڈ پروٹیکشن (پی ڈی ایف فائلز کو پاس ورڈ لگا کر محفوظ بنایا جا سکتا ہے تاکہ غیر متعلقہ افراد تک رسائی نہ ہو)
14. آف لائن استعمال (ایک بار ڈاؤن لوڈ کرنے کے بعد انٹرنیٹ کے بغیر بھی مطالعہ جاری رکھا جا سکتا ہے)
15. نوٹس اور ہائی لائٹنگ (اہم حصوں کو ہائی لائٹ کرنے اور حاشیہ پر نوٹس لکھنے کی سہولت)
16. عالمی سطح پر رسائی (دنیا کے کسی بھی کونے سے چند سیکنڈز میں کتاب منگوائی یا بھیجی جا سکتی ہے)
17. لچکدار فارمیٹ (مختلف اسکرین سائزز جیسے موبائل، لیپ ٹاپ اور ٹیبلٹ کے مطابق خود کو ڈھال لیتا ہے)
18. مستقل مزاجی (پی ڈی ایف فارمیٹ ہر ڈیوائس پر ایک جیسا دکھائی دیتا ہے اور اس کا لے آؤٹ خراب نہیں ہوتا)
19. پبلشنگ میں آسانی (مصنفین کے لیے کم خرچ میں اپنی کتاب دنیا بھر میں شائع کرنے کا بہترین ذریعہ)
20. بک مارکنگ کی سہولت (آخری بار پڑھے گئے صفحے کو یاد رکھنے کے لیے ڈیجیٹل بک مارک کا استعمال)

8 مارچ 2026ء بروز اتوار کی جنگ کراچی، لاہور اور راولپنڈی کی اہم نوکریاں
08/03/2026

8 مارچ 2026ء بروز اتوار کی جنگ کراچی، لاہور اور راولپنڈی کی اہم نوکریاں

02/03/2026

Address

Karachi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when TashHeer2016 posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to TashHeer2016:

Shortcuts

Share