09/04/2023
میری زندگی میں موجود میرے چند بہترین دوستوں میں سے کُچھ ایسے بھی ہیں جو حفاظ ہونے کے ساتھ ساتھ فارغ التحصیل علماء بھی ہیں اور چند ایک تو باقاعدہ مفتیان بھی ہیں !!
اِن میں سے اکثر دوستیاں لڑکپن کے زمانے میں شروع ہوئیں جو اللہ کے فضل و کرم سے آج بھی قائم و دائم ہیں ! انہی دوستوں کے توسط سے زمانہ لڑکپن و جوانی میں مدارس عالیہ میں وقتاً فوقتاً مختلف مواقع پر مختلف وجوہات کی بنا پر آنا جانا رہا !!
مذاہب عالم کے تقابلی مطالعے کے حوالے سے ایک چالیس روزہ کُل وقتی کورس بھی ایک مدرسے ہی میں مکمل کرنے کی سعادت حاصل ہوئی !! ڈیڑھ سو شرکاء کورس میں واحد میں تھا جو ایک کالج میں زیر تعلیم بی ایس سی پارٹ ون کا اسٹوڈنٹ تھا !! باقی تمام شرکاء مُلک بھر کے مدارس سے ہی تشریف لائے تھے !! یہ سن انیس سو چورانوے کی بات ہے ! میں بی ایس سی پارٹ ون کے سالانہ امتحانات میں سے کیمسٹری کے آخری پیپر میں غیر حاضر ہو کر آمادہ سفر ہوا ! تا کہ چالیس روزہ کورس کا ایک دن بھی ضآئع نہ ہو !! اس کورس کی تفصیلات اور اساتذہ کا تعارف پھر کبھی سہی فی الوقت مدارس کے نظام کے حوالے سے کُچھ کہنا ہے !!!
حفظ کے دوران طالب علم کی طرف سے کی جانے والی محنت سے تو ہر خاص و عام کم و بیش آگاہ ہے لیکن درسِ نظامی کی تکمیل کے دوران ایک طالب علم کو کیا کشٹ اُٹھانے پڑتے ہیں اس کا ایک عام آدمی کہ جس نے کبھی بہ نفسِ نفیس کسی مدرسے میں پُورا ایک دن نہیں گزارا !! کے لیے تصور بھی محال ہے !!
عربی گرامر یعنی صرف و نحو ، فقہ ، منطق ، اصولِ حدیث و تفسیر درس نظامی کے نصاب میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں !! اور ان کو سمجھنے کے لیے جہاں اُستاذ کی بے لوث محنت درکار ہوتی ہے وہیں یہ مضامین طالب علم سے بھی تھکا دینے والی دماغی مشقت کا تقاضا کرتے ہیں !!
پُورے دِن میں سوائے عصر تا مغرب اور چند لمحات بعد از ظہر کے علاوہ ایک طالب علم کو ذرہ برابر فرصت میسر نہیں ہوتی !!
طلبا کی اکثریت چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں بٹی بعد از عشاء بھی اُس دِن کے اسباق کی گردان یعنی دہرائی میں مصروف رہتی ہے !!
درس نظامی کے سالانہ امتحانات میں نقل کرنا تو دُور کی بات نقل کا تصور ہی نہیں پایا جاتا !! نقل نہ کرنے کا یہی کلچر سو فیصد صرف کیمبرج کے او اور اے لیول امتحانات میں موجود ہے !! باقی مقامی تعلیمی نظام میں سوائے چارٹرڈ اکاؤنٹینسی کے کسی اور شعبے میں امتحانات کا یہ معیار موجود نہیں !! اگر کسی اور شعبے میں کوئی نقل نہیں کرتا یا اُس نے نہیں کی تو یہ اُس کا ذاتی فعل ہے یہاں بات نظام کی ہو رہی ہے !!!
اب ایسی مشقت بھری علمی زندگی کمال تسلسل اور استقامت کے ساتھ گزار کر جب ایک بچہ عالم بن کر معاشرے میں آتا ہے تو اُس کے سامنے سوائے دو چار آپشنز کے کُچھ نہیں ہوتا !!
اِن علماء میں سے وہ حضرات جن کا کوئی خاندانی کاروبار ہو اُنہیں تو کوئی خاص چیلنج درپیش نہیں ہوتا البتہ ایسے علماء جو معاشی اعتبار سے کسی بہت مضبوط خاندان سے تعلق نہیں رکھتے وہ شدید احساس کمتری کا شکار ہونے لگتے ہیں !!
اُن کے میٹرک کے زمانے کے کلاس فیلوز مختلف حیثیتوں میں کہیں نہ کہیں اپنے کیرئیر کا آغاز کر چُکے ہوتے ہیں !!
اگر یہ علماء واپس انہی مدارس میں تدریس کی طرف لوٹتے ہیں تو انہیں انتہائی واجبی سا مشاہرہ پیش کیا جاتا ہے !!
اگر یہ کسی مسجد کے منبر پر بیٹھنا چاہیں تو وہاں بھی تنخواہ کے نام پر وظیفہ اُن کا منتظر ہوتا ہے !!
حکومتی سطح پر اِن علماء کی سند کو ایم اے کے برابر تو مانا جاتا ہے لیکن عملاً یہ کاغذ کی حد تک ہی محدود ہے !!
عوام میں عربی سیکھنے کا کوئی حقیقی ذوق نہیں کہ یہ عربی لینگویج سینٹر ہی کھول لیں !!
مجبوراً کُچھ احباب تو اپنے آپ کو نکاح خواں رجسٹر کروا لیتے ہیں !! کامیاب نکاح خواں ہونے کے لیے بھی چرب زبان ہونا بنیادی شرط ہے لہزا اِس محاذ پر بھی بھی مخلص و متقی علماء پِٹ جاتے ہیں !!
چند علماء ہمت کر کے اپنا مدرسہ بھی کھول لیتے ہیں !! لیکن اُس کے بعد وہی چندہ مہم !! اب چندے سے اپنے اخراجات منہا کرنا بھی اُن کے تقویٰ اور للٰہیت کے خلاف ہوتا ہے سو اس میدان میں بھی معاشی آسُودگی ضمیر کا سودا کیے بغیر ممکن نہیں !!
دُنیا سمٹ رہی ہے !! ثقافتی تنوع شدید ترین خطرے میں گھرا ہے !! لباس ، زبان ، رہن سہن غرضیکہ ہر شعبہ عالمی سطح پر یکسانیت کی طرف رواں دواں ہے !!
اب ایسے میں ڈیڑھ دو سو سالہ پُرانے نصاب میں چند ایسی تبدیلیاں کر دینا کہ جس سے ایک عالمِ دین دورانِ تعلیم بے شک غالب وقت خالص دینی علوم کی تحصیل میں لگائے لیکن ساتھ ایک آدھ اختیاری شعبہ ایسا چلتا رہے کہ جو بعد میں بغرض معاش کام آ سکے !! کون سی دینی غیرت اور حمیت کا قتل ہے !!
دُنیا کی چند بڑی غیر مُلکی زبانوں کو متوازی طور پر خالص درس نظامی کی تعلیم کے ہمراہ اختیاری مضامین کے طور پر چلایا جا سکتا ہے !! اِن میں سرِ فہرست انگریزی ، فرنچ ، اٹالین ، جرمن ، چائینیز ، رشین وغیرہ ہیں !! اس ایک قدم سے علماء پر باعزت روزگار کے درجنوں مواقع کُھل سکتے ہیں !!
ایک آدھ جگہ صحافت کے شارٹ کورس علماء کے لیے چل رہے ہیں جن کا بھرپور فائدہ معاشرے کو دینی اقدار سے جُڑے صحافیوں کی صورت میں مِل رہا ہے !!
جب علماء کی کھپت بعض دوسرے شعبوں میں بڑھے گی تو لامحالہ مساجد و مدارس کے لیے علماء کی دستیابی کم پڑنے لگے گی !! یہاں ڈیماند اور سپلائی کا اصول اپنا جادو دکھائے گا اور مساجد و مدارس میں بھی علماء کو اُن کے شایانِ شان مرتبہ و منزلت سے نوازا جائے گا !!
لیکن یہ محض ایک خواب اور دیوانے کی بڑ ہے !!
علماء معاشی مسائل سے دو چار ہی کب ہوتے ہیں !! اُن کی نُصرت کے لیے تو فرشتے بیتاب رہتے ہیں !! وہ تو ایمان بالغیب کے پیغام کے سفیر ہیں !! جب دنیاوی یونیورسٹیوں میں دینی علوم نہیں پڑھائے جاتے تو مدارس سے ایسا تقاضا تو سراسر نا انصافی اور دین سے بغض کی علامت ہے !!
ٹھیک ہے جناب !! آپ کی ایک ایک بات سے صد فیصد اتفاق ہے !! لیکن پھر بنوری ٹاؤن سے احساسِ کمتری کی کھاد چُگ کر کوئی امرود عالمِ الحاد کی گود مں گِرتا ہے تو اُس کے انتخاب پر ماتم بھی جائز نہیں اور اُس کے دماغی عارضے کو اُس کی ذات سے جوڑنا بھی ظلم ہے !! وہ تھوڑا بہادر ہے اس لیے سامنے آ گیا !! ورنہ کتنے جُبہ و قُبہ و دستار سے عاجز ہیں !! دُرست ڈیٹا نہ آپ کے پاس اور نہ ہی میرا کیلکولیٹر اس کا حساب لگا سکتا ہے !!!
۔۔۔۔۔۔
عابی مکھنوی