Abu Baker Graphic

Abu Baker Graphic I'm a professional graphic designer. for any design contact me

I'm a graphic designerbutNot free
08/08/2023

I'm a graphic designer
but
Not free

it's my work.if you want any graphics work contact me DMAbu Baker Graphic
05/08/2023

it's my work.
if you want any graphics work contact me DM

Abu Baker Graphic

My plane VS My budget
27/06/2023

My plane VS My budget

14/04/2023

یہ جو اِتنا خلوص لائے ہو
اَب میں اِس کا اچار ڈالوں کیا ؟

ٹھیک ہے ! عید ہے ! مگر بھائی !
اَب اُداسی کو مار ڈالوں کیا ؟
۔۔۔۔۔۔

10/04/2023

انیس روزے گزر گئے اور میں نے اب تک رمضان مبارک افطاری مبارک سحری مبارک وغیرہ کا اسٹیٹس نہیں لگایا پوچھنا یہ تھا کہ کیا میری بخشش ہو جائے گی؟

09/04/2023

میری زندگی میں موجود میرے چند بہترین دوستوں میں سے کُچھ ایسے بھی ہیں جو حفاظ ہونے کے ساتھ ساتھ فارغ التحصیل علماء بھی ہیں اور چند ایک تو باقاعدہ مفتیان بھی ہیں !!
اِن میں سے اکثر دوستیاں لڑکپن کے زمانے میں شروع ہوئیں جو اللہ کے فضل و کرم سے آج بھی قائم و دائم ہیں ! انہی دوستوں کے توسط سے زمانہ لڑکپن و جوانی میں مدارس عالیہ میں وقتاً فوقتاً مختلف مواقع پر مختلف وجوہات کی بنا پر آنا جانا رہا !!
مذاہب عالم کے تقابلی مطالعے کے حوالے سے ایک چالیس روزہ کُل وقتی کورس بھی ایک مدرسے ہی میں مکمل کرنے کی سعادت حاصل ہوئی !! ڈیڑھ سو شرکاء کورس میں واحد میں تھا جو ایک کالج میں زیر تعلیم بی ایس سی پارٹ ون کا اسٹوڈنٹ تھا !! باقی تمام شرکاء مُلک بھر کے مدارس سے ہی تشریف لائے تھے !! یہ سن انیس سو چورانوے کی بات ہے ! میں بی ایس سی پارٹ ون کے سالانہ امتحانات میں سے کیمسٹری کے آخری پیپر میں غیر حاضر ہو کر آمادہ سفر ہوا ! تا کہ چالیس روزہ کورس کا ایک دن بھی ضآئع نہ ہو !! اس کورس کی تفصیلات اور اساتذہ کا تعارف پھر کبھی سہی فی الوقت مدارس کے نظام کے حوالے سے کُچھ کہنا ہے !!!
حفظ کے دوران طالب علم کی طرف سے کی جانے والی محنت سے تو ہر خاص و عام کم و بیش آگاہ ہے لیکن درسِ نظامی کی تکمیل کے دوران ایک طالب علم کو کیا کشٹ اُٹھانے پڑتے ہیں اس کا ایک عام آدمی کہ جس نے کبھی بہ نفسِ نفیس کسی مدرسے میں پُورا ایک دن نہیں گزارا !! کے لیے تصور بھی محال ہے !!
عربی گرامر یعنی صرف و نحو ، فقہ ، منطق ، اصولِ حدیث و تفسیر درس نظامی کے نصاب میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں !! اور ان کو سمجھنے کے لیے جہاں اُستاذ کی بے لوث محنت درکار ہوتی ہے وہیں یہ مضامین طالب علم سے بھی تھکا دینے والی دماغی مشقت کا تقاضا کرتے ہیں !!
پُورے دِن میں سوائے عصر تا مغرب اور چند لمحات بعد از ظہر کے علاوہ ایک طالب علم کو ذرہ برابر فرصت میسر نہیں ہوتی !!
طلبا کی اکثریت چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں بٹی بعد از عشاء بھی اُس دِن کے اسباق کی گردان یعنی دہرائی میں مصروف رہتی ہے !!
درس نظامی کے سالانہ امتحانات میں نقل کرنا تو دُور کی بات نقل کا تصور ہی نہیں پایا جاتا !! نقل نہ کرنے کا یہی کلچر سو فیصد صرف کیمبرج کے او اور اے لیول امتحانات میں موجود ہے !! باقی مقامی تعلیمی نظام میں سوائے چارٹرڈ اکاؤنٹینسی کے کسی اور شعبے میں امتحانات کا یہ معیار موجود نہیں !! اگر کسی اور شعبے میں کوئی نقل نہیں کرتا یا اُس نے نہیں کی تو یہ اُس کا ذاتی فعل ہے یہاں بات نظام کی ہو رہی ہے !!!
اب ایسی مشقت بھری علمی زندگی کمال تسلسل اور استقامت کے ساتھ گزار کر جب ایک بچہ عالم بن کر معاشرے میں آتا ہے تو اُس کے سامنے سوائے دو چار آپشنز کے کُچھ نہیں ہوتا !!
اِن علماء میں سے وہ حضرات جن کا کوئی خاندانی کاروبار ہو اُنہیں تو کوئی خاص چیلنج درپیش نہیں ہوتا البتہ ایسے علماء جو معاشی اعتبار سے کسی بہت مضبوط خاندان سے تعلق نہیں رکھتے وہ شدید احساس کمتری کا شکار ہونے لگتے ہیں !!
اُن کے میٹرک کے زمانے کے کلاس فیلوز مختلف حیثیتوں میں کہیں نہ کہیں اپنے کیرئیر کا آغاز کر چُکے ہوتے ہیں !!
اگر یہ علماء واپس انہی مدارس میں تدریس کی طرف لوٹتے ہیں تو انہیں انتہائی واجبی سا مشاہرہ پیش کیا جاتا ہے !!
اگر یہ کسی مسجد کے منبر پر بیٹھنا چاہیں تو وہاں بھی تنخواہ کے نام پر وظیفہ اُن کا منتظر ہوتا ہے !!
حکومتی سطح پر اِن علماء کی سند کو ایم اے کے برابر تو مانا جاتا ہے لیکن عملاً یہ کاغذ کی حد تک ہی محدود ہے !!
عوام میں عربی سیکھنے کا کوئی حقیقی ذوق نہیں کہ یہ عربی لینگویج سینٹر ہی کھول لیں !!
مجبوراً کُچھ احباب تو اپنے آپ کو نکاح خواں رجسٹر کروا لیتے ہیں !! کامیاب نکاح خواں ہونے کے لیے بھی چرب زبان ہونا بنیادی شرط ہے لہزا اِس محاذ پر بھی بھی مخلص و متقی علماء پِٹ جاتے ہیں !!
چند علماء ہمت کر کے اپنا مدرسہ بھی کھول لیتے ہیں !! لیکن اُس کے بعد وہی چندہ مہم !! اب چندے سے اپنے اخراجات منہا کرنا بھی اُن کے تقویٰ اور للٰہیت کے خلاف ہوتا ہے سو اس میدان میں بھی معاشی آسُودگی ضمیر کا سودا کیے بغیر ممکن نہیں !!
دُنیا سمٹ رہی ہے !! ثقافتی تنوع شدید ترین خطرے میں گھرا ہے !! لباس ، زبان ، رہن سہن غرضیکہ ہر شعبہ عالمی سطح پر یکسانیت کی طرف رواں دواں ہے !!
اب ایسے میں ڈیڑھ دو سو سالہ پُرانے نصاب میں چند ایسی تبدیلیاں کر دینا کہ جس سے ایک عالمِ دین دورانِ تعلیم بے شک غالب وقت خالص دینی علوم کی تحصیل میں لگائے لیکن ساتھ ایک آدھ اختیاری شعبہ ایسا چلتا رہے کہ جو بعد میں بغرض معاش کام آ سکے !! کون سی دینی غیرت اور حمیت کا قتل ہے !!
دُنیا کی چند بڑی غیر مُلکی زبانوں کو متوازی طور پر خالص درس نظامی کی تعلیم کے ہمراہ اختیاری مضامین کے طور پر چلایا جا سکتا ہے !! اِن میں سرِ فہرست انگریزی ، فرنچ ، اٹالین ، جرمن ، چائینیز ، رشین وغیرہ ہیں !! اس ایک قدم سے علماء پر باعزت روزگار کے درجنوں مواقع کُھل سکتے ہیں !!
ایک آدھ جگہ صحافت کے شارٹ کورس علماء کے لیے چل رہے ہیں جن کا بھرپور فائدہ معاشرے کو دینی اقدار سے جُڑے صحافیوں کی صورت میں مِل رہا ہے !!
جب علماء کی کھپت بعض دوسرے شعبوں میں بڑھے گی تو لامحالہ مساجد و مدارس کے لیے علماء کی دستیابی کم پڑنے لگے گی !! یہاں ڈیماند اور سپلائی کا اصول اپنا جادو دکھائے گا اور مساجد و مدارس میں بھی علماء کو اُن کے شایانِ شان مرتبہ و منزلت سے نوازا جائے گا !!
لیکن یہ محض ایک خواب اور دیوانے کی بڑ ہے !!
علماء معاشی مسائل سے دو چار ہی کب ہوتے ہیں !! اُن کی نُصرت کے لیے تو فرشتے بیتاب رہتے ہیں !! وہ تو ایمان بالغیب کے پیغام کے سفیر ہیں !! جب دنیاوی یونیورسٹیوں میں دینی علوم نہیں پڑھائے جاتے تو مدارس سے ایسا تقاضا تو سراسر نا انصافی اور دین سے بغض کی علامت ہے !!
ٹھیک ہے جناب !! آپ کی ایک ایک بات سے صد فیصد اتفاق ہے !! لیکن پھر بنوری ٹاؤن سے احساسِ کمتری کی کھاد چُگ کر کوئی امرود عالمِ الحاد کی گود مں گِرتا ہے تو اُس کے انتخاب پر ماتم بھی جائز نہیں اور اُس کے دماغی عارضے کو اُس کی ذات سے جوڑنا بھی ظلم ہے !! وہ تھوڑا بہادر ہے اس لیے سامنے آ گیا !! ورنہ کتنے جُبہ و قُبہ و دستار سے عاجز ہیں !! دُرست ڈیٹا نہ آپ کے پاس اور نہ ہی میرا کیلکولیٹر اس کا حساب لگا سکتا ہے !!!
۔۔۔۔۔۔
عابی مکھنوی

09/04/2023

A

‏یہ آٹھ پہروں شمار کرنا
کہ سات رنگوں کے اس نگر میں
جہات چھ ہیں
حواس، خمسہ، چہار، موسم
زماں، ثلاثہ، جہاں دو ہیں
خدائے واحد !
یہ ترے بےانت وسعتوں کے
سفر پہ نکلے ہوئے مسافر
عجیب گنتی میں کھو گئے ہیں

سید مبارک شاہ

کافی عرصے سے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر ایک تصویر دکھائی جارہی ہے جس میں چاند پر موجود ایک دراڑ ہے اور اس کے اوپر لکھا ہے...
07/04/2023

کافی عرصے سے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر ایک تصویر دکھائی جارہی ہے جس میں چاند پر موجود ایک دراڑ ہے اور اس کے اوپر لکھا ہے کہ ناسا نے اس بات کو تسلیم کرلیا ہے کہ چاند واقعی کسی زمانے میں دو ٹکڑے ہوا تھا اور چاند پر موجود یہ دراڑ پورے چاند پر پھیلی ہوئی ہے لہذا یہ واقعہ شق قمرکا سائنسی ثبوت ہے ۔

کیا واقعی یہ بات درست ہے ؟؟

ہماری تحقیق کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ ناسا نے ایسا کوئی اعلان جاری نہیں کیا ہاں البتہ یہ تصویر ایک حقیقی دراڑ کی تصویر ہے جو چاند پر واقعی موجود ہے یہ تصویر ناسا کی جانب سے چاند پر بھیجے گئے مشن اپولو 10 نے کھینچی ہے لیکن یہ دراڑ پورے چاند پر پھیلی ہوئی ہے ایسا نہیں یہ دراڑ صرف 300 کلومیٹر تک ہے (پوسٹ میں لگائی گئی تصویر دیکھیں اس دراڑ کے دونوں کنارے صاف دکھائی دے رہے ہیں) اور اس دراڑ کو Rima Ariadaeus کا نام دیا گیا ہے ۔ چاند پر مختلف اقسام کے گرہے موجود ہیں اس طرح کی دراڑوں کو Rille کہا جاتا ہے جس کا معنیٰ ہے پتلی اور لمبی دراڑ اسی کو لاطینی زبان میں Rima کہا جاتا ہے۔
اس کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ چاند کی تہیں (پرت) بعض اوقات زمین میں بیٹھ جاتی ہیں یا دھنس جاتی ہیں اگر وہ تہ لکیر کی شکل میں ہوتو چاند پر اس طرح کی دراڑ نمودار ہوجاتی ہے۔
اور ناسا کا یہ بھی کہنا ہے کہ اب تک چاند پر ایسا کوئی سائنسی ثبوت نہیں ملا جس سے یہ معلوم ہوکہ کسی زمانے میں چاند دو ٹکڑے ہوا تھا۔
(یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ چاند کے دو ٹکڑے ہونے کے بعد وہ ایسا جڑگیا ہو کہ اس پر اس واقعے کا کوئی نشان باقی نہ رہا ہو اسی کو تو معجزہ کہتے ہیں جو عقل اور سائنس سے بالاتر ہو)
جہاں تک بات ہے واقعہ شق قمر کی تو اس بات کی تصدیق تو قرآن نے کردی ہے کہ یہ واقعہ ہوا ہے اس پر یقین کرنے کے لئے ہمیں ناسا کی طرف سے ثبوت کی ضرورت نہیں ہم مسلمانوں کا اللہ اور اس کے رسول پر ایمان ہے اللہ اور اس کے رسول نے جو کہا سچ کہا چاہے سائنس اس بات کو ثابت کرے یا نہ کرے۔
لیکن اس طرح کی تصاویر کو کھینچا تانی کرکے کسی قرآنی واقعے کا سائنسی ثبوت زبردستی نکالنے کی کوشش کرنا اور بغیر تحقیق کے اس کو پھیلانا یہ ایک مسلمان کے شایان شان نہیں۔
اس دراڑ کے بارے میں تفصیل دیکھیں :
https://en.wikipedia.org/wiki/Rima_Ariadaeus

اگر آپ واقعہ شق قمر پڑھنا چاہیں تو اس لنک پر سن سکتے ہیں :
https://www.youtube.com/watch?v=iOSbhMDzrLo

اس طرح کی دیگر اچھی اور مفید معلومات کےلئے ہمارا پیج لائک کرنا نہ بھولیں :
https://www.facebook.com/profile.php?id=100086645737094&mibextid=ZbWKwL

08/12/2022

Address

28 Street
Karachi
74500

Opening Hours

Monday 12:00 - 23:00
Tuesday 12:00 - 23:00
Wednesday 12:00 - 23:00
Thursday 12:00 - 23:00
Friday 16:00 - 22:00
Saturday 12:00 - 23:00
Sunday 16:00 - 21:00

Telephone

+923152586618

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Abu Baker Graphic posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Abu Baker Graphic:

Share